قبرستان کی لکڑی بیچ کر مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں



اعلی حضرت زندہ باد گروپ میں سوال پوچھیں گئے اور ان کا جواب

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

قبرستان کی لکڑی بیچ کر مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں۔ سائل ۔۔؟؟؟؟
________________________________________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم*الجواب بعون الملک الوھاب*

قبرسان میں لگائے ہوئے درختوں کی دو حیثیت ہے یا تو اس کو لگانے والے معلوم ہونگے۔یا وہ بہت

 قدیم ہیں کہ مالک کا پتہ نہیں ۔پہلی صورت میں اسکے مالک وہی افراد معلوم ہوںگے جنہوں نے

 لگایا۔

فتاوی قاضی خان میں ہے

مقبرة فيهااشجار ان اعلم كانت للغارس 
بحوالہ فتاوی رضویہ ۔ج۔٦۔ص۔٤٩٢.رضااکیڈمی ممبئ

اب اگر وہ افراد اپنی خوشی سے بیچ کر رقم مسجد کے کام میں دے دیں تو جائزو درست بلکہ مستحسن ہے

 ورنہ جائز نہیں دوسری صورت میں جب کہ مالک معلوم نہیں یا درخت خود رو ہیں تو ان کے مالک عام

 مسلمان ہیں جس کارخیر میں چاہیں لگا سکتے ہیں ۔
فتاوی رضویہ میں ہے

قبرسان میں پیڑ جس نے لگائے ان کی لکڑی اورمقبرہ جس نے بنوایا اسکی اینٹیں اس لگانے بنوانے۔والے کی

 ملک ہے وہ جو چاہے کرے اور اگر مالک کا پتہ نہیں یا درخت خود روہیں تو مسجد میں صرف کر سکتے ہیں

ج۔٤۔ص۔١١٠۔رضااکیڈمی

واضح رہے کہ اگر گاؤں والوں نے ملکر پیڑ لگایا ہے اور قبرستان میں وقف کردیا تویہ وقف درست نہیں اور ان

 پیڑوں کے مالک گاؤں والے ہی رہیں گے۔فتاوی رضویہ میں ہے قبرسان اگرچہ وقف ہو مگر درخت جو اس میں

 لگائے جائیں اگر لگانے والا تصریحا یہ کہہ بھی دے کہ میں نے ان کو قبرستان پر وقف کیا جب بھی وقف نہ

 ہوں گے اور لگانے والے ہی کی ملک رہیں گے۔
ج۔٦۔ص۔٣٥١.رضااکیڈمی ۔لہذا صورت مسؤلہ میں

 قبرسان کے درختوں کو گاؤں کے لوگوں نے لگایا تھا اور سب نے باتفاق رائے اسے بیچ کر اس کی رقم مسجد میں

 لگایا تو بلا شبہ جائزو درست ہوا۔
ماخوذاز۔مصدقات محدث کبیر۔صفحہ۔نمبر۔٦٦/٦٧

واللـــــــــہ تعالــی اعلـــم بالصـــــــــــــواب

کتبہ فقیرمحمدالطاف حسین قادری عفی عنہ الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان۔امجدی قادری رضوی عفی عنہ انڈیا
1/21/2021/


بہتر بنانے کے لئے ہم آپ کے مشورے کا منتظر رہتے ہیں آپ کا اپنا بلوگ امجدی گروپ
_____________________________________

کسی بھی کامل پیر کی بیعت کو بلا وجہ توڑنا ناجائز وحرام ہے ؟



السلام عليكم ورحمۃاللہ وبرکاتہ*

سوال:- کیافرماتے ہیں علماےدین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں
کہ  زید سلسلہ رضویہ سے بیعت تھا مگر چند سال کے بعد سلسلہ رضویہ سے الگ ہوکر(بیعت توڑ کر) سلسلہ اشرفیہ سے منسلک ہو گیا
تو آیا کہ زید کا ایسا کرنا عندالشرع کیساہے بحوالہ جواب بصواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں،،،

*🖌️المستفتی:-محمد شاکر رضا پٹنہ بہار،
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب

کسی بھی کامل پیر کی بیعت کو بلا وجہ توڑنا ناجائز وحرام ہے 

جس کا مل پر شیخ نے آپ کو نجات کا راستہ بتایا شریعت مصطفی پر چلنے کے لیے اور ہر برائی سے بچنے کے لیے تلقین کی تاکہ گمراہ جیسے لوگوں سے اور بد مذہبوں سے بچیں اور دور رہیں ۔ایسے پیر کا مل کی باتوں کو عمل میں لانے اور شکریہ ادا کرنے کے بجائے ناشکری شرعاً ممنوع ہے۔حدیث شریف میں ذکر ہے من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ۔جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس نے اللہ عزوجل کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ترمذی جلد3 حدیث 1962

لہذا کسی بھی کامل پیر سے مرید ہونے والا شخص جب مرید ہو جاتا ہے تو فیض کا  سلسلہ جاری ہوجاتا ہے اگرچہ مرید ہونے والا شخص نا دیکھتا ہو چاہیے کہ ہر وہ شخص جو بیعت ہو چکے ہیں اپنے پیرِ کامل کی باتوں کو عمل کریں ۔فرمان مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔من رزق فی شئیء فلیلزمه ۔یعنی جس کو کسی شے سے رزق ملے وہ اسے لازم پکڑ لے
۔شعب الایمان جلد 2 حدیث 1241

 تجدید بیت جائز بلکہ مستحب ہے  کہ ـ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں نہ ہوا ہو  اور اپنے شیخ سے بغیر انحراف کئے اس سلسلۂ عالیہ میں بیعت   کرے یہ تبدیل بیعت نہیں بلکہ تجدید ہے کہ جمیع سلاسل اس سلسلۂ اعلیٰ کی طرف راجع ہیں

حوالہ سوانح اعلیٰ حضرت صفحہ ۳۳۷/ بحوالہ الملفوظ اول صفحہ ۱۱

 اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ جوشخص ایک پیر سے مرید ہے دوسرے  پیر سے مرید نہیں ہوسکتا-
-البتہ طالب ہوسکتا ہے 
فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص428
ان تمام حوالہ جات حدیث کی روشنی میں جس پیر کامل سے فیض مل رہا ہے چاہے وہ رضویہ سلسله ہو یا  قادریہ ہر حال میں پیر کامل کا دامن پکڑے رہنا ضروری ہے۔بلاوجہ بیعت توڑنا سخت حرام ہے۔پیر کی بیعت توڑ کر دوسرے پر سے مرید ہونا کہ یہ پیر اچھا نہیں ہے وہ پیر اچھا ہے جو جاہلوں میں مشہور ہے غلط ہے فقط گمراہی کا راستہ شریعت میں اس کی کوئی حکم نہیں ۔
ہاں کوئی بھنگی پیر جس کا عمل سنت مصطفی پر نہ ہو ناجائز کاموں سے پرہیز نہ کرتا ہوں فلم دیکھنے والا وغیرہ وغیرہ تو ایسے  پیروں سے بیعت توڑنااشد ضروری ہے اور جو نہ توڑے گا اس کے ایمان جانے کا اور گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے 
واللہ اعلم بالصواب.کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا 9113471871. ۔الجواب۔صحیح۔فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ۔گونڈہ یوپی۔الہند۔29/1/2021۔
______________________________________
جواب پڑھنے کے بعد اپنے دوستوں میں ضرور شئیر کریں کوئی کمی نظر آئے تو میرے پرسنل پر ضرور خبر کریں یا میسج باکس میں ٹائپ کریں ہم آپ کے سوالوں کا جواب اسی طرح لاتے رہیں گے ان شاء اللہ تعالی
_________________________________________

عورتوں کا فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟



اسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ بعد سلام عرض ہے کہ کیا عورت بھی فاتحہ کرسکتی ہیں حوالے کے ساتھ

 جواب عنایت فرمائیں  بڑھی مہربانی ہوگی
المستفتی سید فرمان الحق چشتی
________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب 

فاتحہ وایصال ثواب جس طرح مردوں کےلئے جائز ہے اسی طرح بلا شک عورتوں کےلئے بھی جائز ہے ،لیکن

 بعض عورتیں بلا وجہ پریشان ہوتی ہیں اور فاتحہ کےلئے بچوں کو ادھر اُدھر دوڑاتی ہیں حالانکہ وہ خود

 بھی فاتحہ پڑھ سکتی ہیں کم از کم الحمد شریف اور قل ہو اللہ شریف اکثر عورتوں کو یاد ہوتی ہے اس کو

 پڑھ کر خدائے تعالی سے دعا کریں کہ یا اللہ اس کا ثواب فلاں فلاں اور فلاں جس کو ثواب پہونچا نا

 ہواسکا نام لیکر کہیں ،اس کی روح کو عطا فرمادے یہ ہوگئی اور بالکل درست اور صحیح ہوگئی ۔ 

بعض عورتیں اور لڑکیاں کچھ جاہل مردوں اور کٹھ ملاؤں سے زیادہ پڑھی لکھی اور نیک پارسا ہوتی ہیں یہ

 اگر ان جاہلوں کے بجائے خود ہی قرآن پڑھ کر ایصال ثواب کریں تو بہتر ہے ۔

کچھ عورتیں کسی بزرگ کی فاتحہ دلانے کے کھانا وغیرہ کونے میں رکھ کر تھوڑی دیر میں اٹھا لیتی ہیں

 اور کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی فاتحہ خودہی پڑھ لی ان سب تو ہمات اور خواہ مخواہ کی باتوں کے بجائے

 انہیں قرآن کی جو بھی آیت وسورت یاد ہو  اسکو پڑھ کر ایصال کردیں تو یہی بہتر ہے اور یہ باقاعدہ فاتحہ ہے ۔

لہذا ان تمام مذکور عبارت سے صاف ظاہر وباہر ہوگیا کہ عورتیں  بھی فاتحہ پڑھ سکتی ہیں ۔ 


بحوالہ غلط فہیما اور ان اصلاح صفحہ ۶۱/۶۲
ھکذا فتاوی بحرالعلوم جلددوم صفحہ ۲۸

 
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ 
 فقیر محمد مشاہد رضا قادری الرضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا
الجواب صحیح
احقر العباد محمد صادق عالم رضوی دیناج پور 
الجواب صحیح 
 فقیر محمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا :28/1/2021
____________________________________________

Peace be upon you and mercy be upon you. Peace be upon you. Is it possible

 for a woman to be victorious?
Mustafa Syed Farmanul Haq Chishti

 __________________________________

 Peace be upon you too, and Allah's benevolence and mercy

 The answer is with Al-Mulk Al-Wahab

 The Fatiha and the reward are just as permissible for men as they are for

 women, but some women get upset for no reason and run their children

 around for Fatiha even though they can recite the Fatiha themselves, at

 least Alhamdulillah and  Qul Ho Allah Sharif is often remembered by women.

 Read it and pray to God Almighty that either Allah rewards her so-and-so and

 so-and-so to whom the reward has not been delivered, may He grant her soul. 

 And that's right.


 Some women and girls are more educated and pious than some

 ignorant men and puppets. It is better if they recite the Qur'an themselves

 instead of these ignorant people.

 Some women pick up the food for the Fatiha of an elderly person in the

 corner and pick it up in a short time and say that they have recited their

 Fatiha themselves. Instead of saying all these things, they memorize every

 verse and Surah of the Qur'an  It is better to read it and deliver it, and this

 is a regular Fatiha.


 Therefore, it has become clear from all these verses that women can also recite

 the Fatiha.


 Reference to misunderstandings and corrections page 2/3

 This is the fatwa of Bahr-ul-Uloom, vol



 Allah and His Messenger know best


 کتبہ

 Faqir Muhammad Mushahid Raza Qadri Al-Rizvi Afi Anah Gonda Poppy

 India

 The answer is correct

 Ahqar-ul-Ibad Mohammad Sadiq Alam Rizvi Dinajpur

 The answer is correct

 Faqir Muhammad Ismail Khan Amjadi Qadri Rizvi Afi Anah Gonda uP India: 28/1/2021

کیابالغ لڑکی باپ کا پاؤں دبا سکتی ہے نیز ساتھ سو سکتی ہے یا نہیں




السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکا تہ علمائے کرام اس سوال پر نظر فرمائیں کہ کیا بیٹی 12سال کی عمر ہونے
 پر اپنے باپ کے ساتھ ایک بستر سو سکتی ہے اور اپنے باپ کی پیر یاسر دبا سکتی ہے سائل توصیف رضا مینائی
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب
اگر ایسا ہی ہے جیسا آپ نے لکھا ہے سوال میں تو باپ کو بیٹی کے ساتھ یا بیٹی کو باپ کے ساتھ بلوغ کے
 بعد سونا منع ہے بلکہ ناجائز۔ ہاں شہوت کا غلبہ نہ ہو تو پاؤں دبانے میں حرج نہیں مگر بہتر ہے کہ بچیں کہ
 فتنہ کا اندیشہ ۔حضور اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا
 لڑکی باپ کے پاؤں اور پیر کے پاؤں دبا سکتی ہے یانہیں ا۔فتاویٰ رضویہ میں تحریر فرماتے ہیں۔اگر
 سامنے آنا بے ستری سے ہے کہ کپڑے باریک ہیں جن سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بال یا گلے یا کلائیوں کا کوئی
 حصہ کھلا ہے تو سب کو, حرام ہےاور ستر ۔کامل کے ساتھ ہو,۔ اور خلوت نہ ہو اور احتمال, فتنہ نہ ہو
 توحرج نہیں
ج 22 صفحہ 245
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ-الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل
 خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی۔
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری
 رضوی عفی عنہ بلرام پور۔الجواب صحیح العبد ابوالفیضان محمد عتیق اللہ فیضی یارعلوی ارشدی
 عفی عنہ۔26/1/2021
__________________________________________
Scholars look at the question of whether a daughter can sleep in a bed
 with her father when she is 12 years old and can press her father's feet
 Yasir Taseef Raza Meenai
 ___________________________________

 Peace be upon you too, and Allah's benevolence and mercy
 The answer is with Al-Mulk Al-Wahab
 If this is the case as you have written in the question, then it is forbidden for
 a father to sleep with his daughter or for a daughter to sleep with her father
 after puberty.  Yes, if lust does not prevail, then there is no harm in
 pressing the feet, but it is better to avoid the fear of sedition.  A. He writes
 in Fatwa Rizviyah. If it is obvious that the clothes are thin which makes the
 body shine or the hair of the head or the neck or any part of the wrists is
 open, then it is haraam for everyone and it should be with seventy-seven.  ,
 ۔  And if there is no solitude and there is no possibility of fitnah, then there is
 no harm
 Volume 22 Page 245
 And Allaah knows best
 Faqeer Mohammad Imtiaz Qamar Rizvi Amjadi Afi Anah Giridih
 Jharkhand-Answer Sahih Faqir Mohammad Ismail Khan Amjadi Qadri
 Rizvi Afi Anah Gonda u.p.  26/1/2021


کیا مسجد میں قضا نماز پڑھ سکتے ہیں اور کن کن وقتوں میں پڑھنا منع ہے



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 السوال مسجد کے اندر قضا نماز پڑھ سکتے ہیں اگر
 پڑھ سکتے ہیں تو کب پڑھ سکتے ہیں وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائے دلیل کے ساتھ سائل محمد شمشیر
 رضا نوری گھر بہار  کٹیہار
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مسؤلہ میں مسجد کے اندر نماز قضاء پڑھنے میں حرج نہیں مسجد کے کسی اعتراف گوشہ کو اختیار
 کریں  تاکہ باہر سے آنے والے نمازیوں کو آنے جانے میں پریشانی نہ ہو جماعت سے پہلے یا جماعت کے بعد نماز
 قضاء پڑھ سکتے ہیں ہاں کچھ وقتوں میں پڑھنا نہیں ہے۔جیسے نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب سے قبل۔اور
 نماز عصر کے بعد غروب آفتاب سے پہلے نماز مکروہ ہے۔اور نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز
 نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ  قضاء نہ سجدہ تلاوت ہاں اگر روزے کی حالت میں ہو اور نماز
 عصر چھوٹ رہی ہو یہاں تک کہ آفتاب ڈوبتاہو پڑھ لے
 مگر اتنی دیر کرنا حرام ہے ۔حدیث شریف میں عن ابی
 سعید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا صلوٰۃ بعد الغدوۃ حتی تطلع الشمس ء لا بعد صلوٰۃ
 العصر حتی تغیب ولا ینام ھذان الیومان الاضحی والفطر ولا تشد الرجال الاالی ثلثتہ مساجد الی المسجد
 الحرام والمسجد الاقصی والی مسجد ھذاو لاتسافرالمرأۃ یومین الا مع ذی محرم۔ابو سعید رضی
 اللہ تعالی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کے نماز فجر کے بعد کوئی نماز
 نہیں جب تک سورج طلوع نہ ہو اور نہ نماز عصر کے بعد نماز ھے جب سورج غروب نہ ہو جائے اور عید
 الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن روزہ نہ رکھا جائے اور سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کے طرف یعنی
 مسجد حرام۔ مسجد اقصی اور میری اس مسجد یعنی مسجد نبوی کے طرف اور نہ سفر کرے عورت دو دن کا
 مگر محرم کے ساتھ۔
اس حدیث میں کئی اہم مسائل بیان ہوئے ہیں پہلا
 مسئلہ نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب سے قبل اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب سے پہلے نماز مکروہ ہے اس
 امر کی وضاحت کے ان لوگوں کا قول رد ہوا جو عصر کے بعد دو رکعتیں جائز قرار دیتے ہیں یا اس نماز فجر
 کے قائل ہیں جس میں سورج نکل آئے یا جو نماز فجر کے بعد سنتوں کی قضا جائز جانتے ہیں یا جو جمعہ کے
 روز مکروہ اوقات میں نماز نفل کے جواز کے قائل ہیں 
بحوالہ مسند امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ صفحہ 78
فتاویٰ رضویہ میں ہے
زوال کے قریب مکروہ وقت کی مقدار میں اختلاف ہے۔بعض نے کہا کہ نصف النہار سے زوال تك ہے،کیونکہ
 ابوسعید رضی الله تعالی عنہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ نے نصف النہار سے زوال تک
 نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے
*وتفصیل ذلک یطول جدا*
فتاویٰ رضویہ جدید جلد 5 رسالہ حاجزالبحرین الواقی عن جمع الصلاتین۔129
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ۔گریڈیہ جھارکھنڈ۔ الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل
 خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا۔ 25/1/2021/

*شوہر جب تین طلاق دے چکا ھے تو بیوی کے لیۓ کیا حکم ھے*

  


السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 
کیافرماتے فرماتے مفتیان دین اس سوال کے جواب میں کہ 
ہندہ کہتی ہے کہ میرے شوہر نے مجھے تینوں طلاق دے دی ہیں، جب کہ ہندہ کا شوہر انکار کرتا ہے کہتا ہے کہ
 میں نے طلاق نہیں دی، آپ رہنمای فرمایں کہ طلاق ہوی یا نہیں،جواب سے سرفراز فرما کر عنداللہ ماجور
 ہوں،
فقط والسلام  
سائل،ا قادری 
دہرہ دون اتراکھنڈ
_________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب 
صورت مسٶلہ میں ہندہ *مدعیہ* ھے اس لیۓ ہندہ پر ضروری ھے کہ دو شخص ثقہ عادل شرعی پیش کرے
 جو طلاق کی گواہی دیں اگر گواہی مل گٸ تو شوہر کے قول کا کوٸ اعتبار نہ ہوگا  “ ہاں اگر ہندہ گواہان پیش
 نہ کر سکے تو شوہر  چونکہ *مدعا علیہ* ھے اس لیۓ شوہر پر اب قسم ھے ،  جس طرح شوہر قسم کھاۓ گا
 اسی طرح حکم دیا جاۓ گا 
*الدلیل علی المدعی و الیمین علی ما انکر* 
ھکذا قال الامام احمد رضا فی الجزء الخامس من الفتاوی الرضویة فی مقام عدیدة ، 
(غیر مترجم رضا اکیڈمی ممبٸ)
*ایضا* : *فرماتے ہیں ” پہر اگر ہندہ اپنے ذاتی یقین علم سے جانتی ھے کہ زید نے اسے تین طلاق دی ہیں تو
 اسے جاٸز نہ ہوگاکہ زید سے ساتھ رہے ناچار اپنا مہر یا مال دیکر جس طرح ممکن ہو طلاق باٸن لے اور یہ بھی
 نہ ممکن ہو تو زید سے دور بھاگے اور یہ بھی نہ ممکن ہو تو وبال زید پر ھے جبتکہ ہندہ راضی نہ ہو انتہی “*
المرجع السابق 
واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ رامپور کمیری یوپی انڈیا۔الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان
 امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا۔
25/1/2021

وہ کونسی آیتیں ہیں جن کو بعض نمازوں میں پڑھنا مکروہ ہے



السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتےہیں علمائےکرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کےبارےمیں
وہ کونسی آیتیں ہیں جن کو بعض نمازوں میں پڑھنا مکروہ ہے
اس کاجواب دیں کرکرم فرمائیں عین نوازش ہوگی
سائل ۔۔۔عفان۔رامگڑھ ۔۔۔جھارکھنڈ
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب_____؛!!!
فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ اس کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ؛-----!
سجدہ کی آیتیں عیدین و جمعہ اور ہر وہ نماز کی جن میں قرأت آیات کی جاتی ہے،، امام کو پڑھنا مکروہ ہے،
 جیساکہ غنیۃ صفحه 473 میں ہے کہ-----!
«یکرہ للامام أن یقرأ اٰیه السجدۃ فی الصلوٰۃ یخافت فیھا وکذا فی نحو الجمعۃ والعید لانه ان ترک السجود
 لما فقد ترک واجبا وان سجد یشتبه علی المقتدیین الا ان تکون السجدۃ فی اٰخر السورۃ او قریباً منه بحیث
 نؤدی برکوع الصلوٰۃ او سجودھا»
«ماخوذ؛ فقہی پہلیاں صفحه 91 شبیر برادرز اردو بازار لاہور»
واللہ اعلم بالصواب
«کتبہ فقیر محمد عمر ان رضا ساغر عفی عنہ کشن گنج بہار۔الجواب صحیح فقیر۔محمد۔اسماعیل خان امجدی۔
قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی!
24/1/2021

کافروں کے لیے دعاۓ خیرومغفرت کرنا کفرہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سوال
کافروں کے لیے دعائے خیر ومغفرت کرنا کیساہے
جواب جلدی چاہیے علماء اکرام نظر کرم فرمایئں
 سائل حافظ شہادت
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب
کافروں کے لئے دعائے خیر یعنی مغفرت کرنا کفر ہے یا نہیں اس بارے میں علماء کے مابین اختلاف ہے کچھ
 علماء نے فرمایا کفر نہیں ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ کفر ہے۔فتاویٰ شامی میں ہے ۔وقد علمت ان الصحیح
 خلافه فالدعاء به كفر.
آپ کو معلوم ہے کہ مذہب صحیح اس کے برخلاف ہے تو مرتد کے لئے دعائے مغفرت کرنا کفر ہے۔/
وقار الفتاوی میں ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے امم سابقہ کا کوئی اہل کتاب یہودی ونصرانی وغیرہ جب تک نبی
 آخر الزماں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے گا کافر رہے گا اگرچہ اپنے مذہب پر قائم ہوں اور
 کفروشرک نہ کرتا ہو لہذا صورت مسئولہ میں اگر وہ ایسا ہی تھا تو جب  وہ کافر ہی تھا کافر قابل مغفرت
 نہیں ہے ۔اس لئے اس کے لئے ایصال ثواب حرام اور دعائے مغفرت کرنا کفر ہے جلد 1ص279
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبہ فقیر ,محمد امتیاز قمر رضوی امجدی/عفی عنہ 
گریڈیہ جھارکھنڈ۔
الجواب .صحیح فقیر,محمد اسماعیل خان امجدی, قادری رضوی عفی عنہ ,گونڈہ پوپی انڈیا
الجواب۔صحیح۔فقیر۔محمد علاؤالدین القادری جا معہ 
عظیمیہ فیض البر کا ت دھنباد۔جھارکھنڈانڈیا
23/1/2021

مسجد سے اونچا مکان بنا سکتا ہے یانہیں؟



السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسجد کی دیوار سے ملا کر گھر اونچا گھر بنانا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی سائل پرویز اختر بریلوی
_____________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
الجواب بعون الملک الوھاب 

مسجد سے اونچا مکان بنا سکتا ہے کوئی حرج نہیں ۔ 
جیساکہ فتاوی فقیہ ملت میں ہے کہ ۔
بنا سکتا ہے کوئی حرج نہیں ۔
اس لئے کہ حقیقت میں کوئی مکان مسجد سے اونچا نہیں ہوسکتا اگر چہ بظاہر اونچا نظر آتا ہو ۔ کیوں مسجد ظاہری دیوار کا نام بلکہ اتنی جگہ کہ جتنی میں مسجد بنی ہوئی ہے ۔ تحت الثریٰ سے ساتوں آسمان تک سب مسجد ہی ہے ۔
درمختار مع شامی جلد اول صفحہ ۴۸۵میں ہے ۔
انہ مسجد الی عنان السماء ۔ اھ 
ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ۵۸۸میں ہے ۔ 

ماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۱۹۰

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیرمحمد مشاہد رضا قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی

✅✅الجواب صحیح 
مفتی اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ
21/1/2021

جمعہ اور رمضان میں انتقال کرنے والا شخص سے قبر میں سوال و جواب ہوتا ہے یا نہیں



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

السوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کیا جمعہ کے دن
اور ماہ رمضان میں انتقال

 فرمانے والے سے قبر کے سوالات نہیں ہوتے

سائل؟؟؟؟

____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب اللھم ہدایۃ الحق والصواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کسی مومن کا انتقال رمضان المبارک یا جمعہ کے دن ہوجائے تووہ عذاب قبر و منکر نکیر کے سوال سے محفوظ رہے گا،
جیسا کہ بہارشریعت میں ممتاز الفقہا حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی خان اعظمی علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں
ہاں یہ حدیث سے ثابت ہے جو مسلمان شب جمعہ یا روز جمعہ یا رمضان المبارک کے کسی دن رات میں مرےگا سوال نکیرین و عذاب قبر سے محفوظ رہےگا۔
قال رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم۔من مات یوم الجمعۃ أو لیلۃ الجمعۃ وقي فتنۃ القبر۔اھ۔
بہار شریعت حصہ اول صفحہ 111
اور فتاویٰ رضویہ میں امام احمد رضا علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں
۔جمعرات کے لئے کوئی حکم نہیں آیا شب جمعہ اور روز جمعہ اور رمضان مبارک میں ہر روز کے واسطے یہ حکم ہے کہ جو مسلمان ان میں مرےگا سوال نکیرین و عذاب قبر سے محفوظ رہےگا۔
*واللہ اکرم ان یعفو من شئ ثم یعود فیہ*
اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ ایک شئ کو معاف فرماکر پھر اس پر مواخذہ کرے اھ
ماخوذ فتاویٰ رضویہ ج9 صفحہ661
مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبـــــــہ
محمدعارف رضوی قادری انٹیاتھوک بازار گونڈہ یوپی

الجواب صحیح فقیرمحمد۔اسماعیل خان امجدی۔قادری رضوی عفی عنہ۔گونڈہ یوپی۔21/1/2021

اگر کمپنی بیاض والا پیسہ دے تو ملازمت کرنا درست ہے یا نہیں؟



اسلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
سوال: زید بجاج فائنانس کی کمپنی میں کام کرتا ہے اور وہ کمپنی کے پاس جو پیسہ آتا ہے وہ بیاض کا رہتا ہے اور وہی پیسہ وہاں کے ورکر میں بانٹا جاتا ہے تو کیا اب زید کو جو۔ کمپنی سیلری دیتی ہے وہ پیسہ حرام کا رہے گا؟؟؟
سائل اسلم رضا 
______________________________
 وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں زید کو اگریقین کے ساتھ معلوم ہو کہ وہی پیسہ دیتا ہے تو لینا حرام ہے - 
فتاویٰ رضویہ میں ہے ملازمت دو قسم ہے، ایک وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے ، جس میں سود کا لین دین ، اس کا لکھنا پڑھنا ، تقاضہ کرنا اس کے ذمہ ہو ، ایسی ملازمت خود حرام ہے ، اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے ، وہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہے ، اور مال حرام ہے تو حرام در حرام ، دوسرے یہ کہ وہ ملازمت فی نفسہ امر جائز کی ہو ، مگر تنخواہ دینے والا وہ جس کے پاس مال حرام آتا ہے ، اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ جو کچھ اسے تنخواہ میں دیا جارہا ہے بعینہٖ مال حرام ہے ، نہ بدلا نہ مخلوط ہوا نہ مستہلک ہوا تو اس کا لینا حرام ورنہ جائز   قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیاحراما بعینہٖ 
(ج : 8، ص : 173) قدیم 
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 
کتبہ : عبدالستار رضوی فیضی عفی عنہ خادم ارشدالعلوم عالم بازار کلکتہ
5، جمادی الثانی 1442ھ
الجواب صحیح۔فقیرمحمد معصوم رضا نوری۔ عفی عنہ
الجواب صحیح فقر ۔محمد اسماعیل خان۔امجدی 
قادری رضوی۔عفی عنہ ۔گونڈہ پوپی۔
21/1/2021

جس دواکے ڈبے میں تصویر ہو بیچنا یا گھر میں رکھنا شرعا کیسا ہے ؟



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ، جیسے ڈاکٹر وغیرہ دوا بیچتے ہیں، اس پر لڑکی یا لڑکا کی
 تصویر رہتی ہے تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے آتے ہیں کہ نہیں، اور کوئ شخص بیمار ہو جاتا ہے تو دوالے کر گھر پر آتا ہے اور دوا پر تصویر رہتی ہے تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے آتے ہیں کہ نہیں، جواب بحوالہ عنایت فرمائیں 
المستفتی محمد محبوب آزاد نگر الہند
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب ۔۔۔ہر وہ اشیاء جن پر جاندار کی تصویر موجود ہو مگر ان تصویروں کی خریدوفروخت مقصود نہ ہو تو ایسی اشیاء کی خرید وفروخت شرعاً جائز ہے اور ان چیزوں کو اپنے گھر میں رکھنا لانا جائز ہے ہاں بہتر یہ ہے کہ اگر تصویر اوپر سے پکڑ سکتے ہے تو اس کو اکھاڑ کر پھینک دیں رحمت کے فرشتے مومنوں کے گھر ضرور تشریف لائیں گے  ایسی دوائی کے ڈبے یا ششی گھر میں لانا کوئی حرج نہیں ہاں دوائی ختم ہوجائے تو اس ڈبے کو پھینک دے مفتی وقار الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں جس کتاب میں تصاویر لگی ہو ان کتابوں کا بیچنا جائز ہے یہ کتابوں کی خرید و فروخت کرنا ہے نہ کی تصویر کی البتہ علیحدہ سے تصویر کا بیچنا حرام ہے وقارالفتاوی ج اول ص 218
لہذا گھر میں دوائی کے ڈبے کو رکھتے ہیں تو تصاویر  سمجھ کر نہیں رکھتے  بلکہ دوائی سمجھ کر رکھتے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ جس ڈبے میں تصویر لگی ہو اور نکالنے سے نکل نہیں سکتی ہے تو اس کو پردے میں رکھیں چھپا کر 
واللہ اعلم
کتبہ ۔فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی۔عفی عنہ۔گریڈیہ۔جھارکھند
الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان 
امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی-20/1/2021

آیت سجدہ میں سجدہ کو ترک کرنا یعنی واجب کا چھوڑ دینا کیسا ہے



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔کیا فرماتے ہیں علماء اکرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ  مدرسے کے طلباء گھروں پر قرآن خوانی کرنے جاتے  ہیں اور قرآن  مجید میں سجدے بھی ہیں جو طلباء قرآن کریم پڑھتے ہیں اور سجدے نہيں کرتے اور سجدے کرنا واجب ہیں تو اس کی صورتحال قرآن اور حدیث کی روشنی میں مدلل وضاحت فرمائے
المستفتی عالم رامپوری
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ

الجواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صورت مسئولہ میں طالب علم کے اوپر سجدہ واجب ہے  اور اگر برابر چھوڑ دینے کی عادت ہے تو گناہ کبیرہ ہے۔واجب ہونے  کی صورت یہ ہے کے پڑھنے یا سننے والا طالب علم  بالغ ہو نابالغ کے اوپر واجب نہیں لیکن سجدہ کر لینا بہتر ہے 

فتاویٰ عالمگیری میں ہے ولوتبدل مجلس السامع دون المتالی یتکررالوجوب علیہ ۔ولو تبدل مجلس التالی دون السامع یتکررالوجوب علیہ لا علی السامع علی قول اکثر المشائخ وبه نأخذ كذافى العتابيه.
فتاوی فیض الرسول میں ہے جب کہ سجدہ کی ایک ہی آیت کو بار بار پڑھا اور اگر سجدہ کی چند آیتوں کو پڑھا یا سنا خواہ ایک ہی مجلس میں تو جتنی آیتوں کو پڑھے گا یا سنے گا اتنی ہی بار سجدہ واجب ہوگا طالب علم نے آیت سجدہ پڑھی اور معلم نے پڑھائی یا سنی اور دونوں نے سجدہ کرلیا پھر اسی مجلس میں طالب علم نے وہی آیت پڑھی اور معلم نے پڑھائی یا سنی تو وہی پہلا سجدہ کافی ہوگا ھکذا فتاوی فیض الرسول ج اول صفحہ 392
بہار شریعت حصہ دوم میں حضور صدر الشریعہ علیہ رحمہ تحریر فرماتے ہیں کسی واجب کا ایک بار بھی قَصْداً چھوڑنا گناہِ صغیرہ ہے اور چند بار ترک کرنا کبیرہ۔/
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری

18/1/2021/پیر

مُردے کو برا بھلا کہنا کیسا ہے ؟



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
السوال۔کیا فرماتے ہیں علمائے دین۔ کہ زید کسی کا دل دکھایا تھا یعنی کسی خاتون سے کچھ وعدہ کیا تھا اب وہ پورا کرنے سے پہلے انتقال کر گئے اب وہ خاتون زید کو برا بھلا کہتی ہے اس کو سمجھانے کے بعد اب وہ توبہ کر لی ہے جاننا یہ ہے اس خاتون  پر شریعت کا کیا حکم لگے گا کہ مردے کو برا بھلا کہتی تھی جواب عنایت فرمائیں۔
سائلہ رضویہ۔۔۔۔۔
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں خاتون کو حق نہیں برا بھلا کہنے کا کسی کے اوپر حکم چلانا حاکم کا کام ہے موت کے بعد سزا دینے یا برا بھلا کہنے کا کوئی اختیار  نہیں خاتون سے زید نے کچھ وعدہ کیا تھا اور وعدہ پورا کرنے سے پہلے انتقال کر گیا تو خاتون کو چاہیے زید مرحوم کے حق میں برائے ایصال ثواب قرآن خوانی وغیرہ کردےتاکہ اجر و ثواب ملے نہ کہ برا بھلا کہے  ۔سنن نسائی کتاب الجنائز میں ہے سرکارِ دوعالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں لاتسبوا الاموات فانھم قد افضوا الی ماقدموا 
رواہ احمدوالبخاری والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہا
مردوں کو برا مت کہو کہ وہ اپنے کیے کو پہنچ چکے،اسے امام احمد اور نسائی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی اللہ عنہا سے روایت کیا

سنن النسائی کتاب الجنائز المکتبہ السلـفیہ لاہور ١/٢٢٢

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں اپنے مردوں کو یاد نہ کرو مگر بھلائی کے ساتھ کہ اگر وہ جنتی ہیں تو برا کہنے سے تم کو گنہگار ہوں گے اور اگر دوزخی ہیں تو انہیں وہ عذاب ہی بہت جس میں وہ ہیں
ایسے نسائی نے حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بسند جید روایت کیا

سنن النسائی کتاب الجنائز 

سنن ابوداؤدمیں ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔جب تمہارا ساتھی مرجائے تواسے معاف رکھو اور اس پر طعن نہ کرو۔ اسے ابوداؤد نے ام المومنین صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا سے بسند صحیح 

سنن ابوداؤدباب فی النہی عن سب الموتی مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ٢/٣١٥

فتاویٰ رضویہ جلد 9میں ہے ۔سزا دینا توحاکمِ شرح کا کام ہے ہرکس وناکس کو اُس کا اختیار نہیں اور موت کے بعد تو سزا دینے کے کوئی معنی ہی نہیں، سزا درکنار موت کے بعد بُرا بھلا کہنے سے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا 
ص 167 جدید
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری
18/1/2021/

جاری جماعت میں مقتدی ثنا کب پڑھے

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 علماء کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اگر جماعت شروع ہے تو اگر مقتدی شامل ہو تو ثناء پڑھے یہ ایسے ہی نیت کر کے کھڑا ہو جائے جواب عنایت فرمائیں 
سائل ؟؟؟؟؟؟؟
__________________________________

الجواب بعون اللہ التواب 
، وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ ، عام قاعدہ ہے کہ قرآن کی تلاوت ہوتو سامع خاموش رہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے : 
وَاِذَا قُرِئَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‏ ۞ (   اعراف 204) 
ترجمہ:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 
صورت مسئولہ میں اگر امام جہری قراء ت میں مشغول ہو، تو اس وقت مقتدی کو نیت باندھ کر خاموش کھڑا ہوجانا چاہیے، ثنا نہ پڑھنی چاہیے، اور اگر امام نے ابھی قراء ت شروع نہیں کی ہے یا امام سری قراء ت میں مشغول ہو تو ثنا پڑھ لینی چاہیے۔فقہائے اسلام فرماتے ہیں : وقرا سبحانک اللّھم الا اذا شرع الإمام فی القراء ة وفی رد المحتار: ولو ادرک الامام بعد ما اشتغل بالقراء ة، قال ابن الفضل: لا یثنی وقال غیرہ: یثنی، وینبغی التفصیل، إن کان الإمام یجھر لا یثنی، وإن کان یسر یثنی۔ 
( کتاب الصلاۃ،الدر المختار مع رد المحتار) 
اعلیٰ قدس سرہ القدسی فرماتے ہیں کہ ” *سبحٰنک الٰھم* اسی وقت تک پڑھ سکتے ہیں جب تک امام قرأت بآواز نہ شروع کر لے جب قرأت جہری شروع کردی اب خاموش رہنا اور سننا فرض ھے الخ 

فتاوی رضویہ ج ٣ ص ٦١ رضا اکیڈمی ممبٸ 

اب اگر مقتدی پہلے ہی رکعت میں شامل ہوا ھے تو اسکو پوری نماز میں کہیں نہیں پڑھنا ھے اور اگر اسکی ایک رکعت ترک ہوٸ ھے تو جب امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ رکعت متروکہ پوری کریگا جو در اصل میں پہلی رکعت ہوگی اس لیۓ اسکی ابتداء میں ثناء پڑھے اس لیۓ کہ ثناء پڑھنا سنت ھے اور عادة ترک کرنا گناہ ھے 

کما قال الامام احمد رضا قدس سرہ القدسی فی المرجع السابق
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبہ۔ محمد اختر علی واجد القادری۔ عفی عنہ خادم شمس العلما دار الافتاء والقضاء،جامعہ  اسلامیہ ۔میراروڈ ممبئی

الجواب صحیح و المجیب نجیح 
فقط فقیر مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ خادم التدریس جامعتہ ریاض الجنتہ
17/1/2021

سوتیلی ماں کی لڑکی سے شادی کرنا شرعاً کیسا ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے. کرام .مسئلہ ذیل میں کہ ہندہ کی ایک بیٹی ہے اور ہندہ نے دوسری شادی یعنی بکر سے کی ہے او بکر کے پاس پہلے سے ایک بیٹا ہے تو اب ہندہ کی جو پہلی بیٹی تھی جو پہلے شوہر سے تھا اور بکر کا ایک بیٹا جو پہلی بیوی سے تھی تو اب ان دونوں کی شادی کر رہا ہے یعنی بکر اپنے بیٹے سے ہندہ کی بیٹی سے شادی کروا رہا ہے تو اس طرح شادی کروانا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

سائل عبدالرحیم مدینہ محلہ مدھوپور جھارکھنڈ
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسؤلہ میں نکاح جائز ہے اس صورت کے ساتھ کے ہندہ کا شوہر انتقال ہوگیا اور اس کی ایک بچی تھی بعد مدت ہندہ نے دوسرے مرد کے ساتھ شادی کیا اس مرد کے بیوی کا بھی ایک لڑکا ہے تو ان دونوں کے ساتھ نکاح جائز ہے۔فتاوی فیض الرسول میں ہے مدخولہ بیوی کی اولاد جو دوسرے شوہر سے ہو ان سے اپنی اولاد کےنکاح کرنے میں شرعاً کوئی خرابی نہیں جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول مصری ص 321 کی اس عبارت میں ظاہر ہے الاخ لاب اذاکانت له اخت من امه يحل لاخيه من ابيه ان يتزوجها كذا فى الكافى هذا اما عندى
وھکذا فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ 571
سوتیلی ماں کی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے ایسا ہی بہار شریعت حصہ ہفتم صفحہ 31 میں ہے کسی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کے لڑکے نے عورت کی لڑکی سے کیا، جو دوسرے شوہر سے ہے تو حرج نہیں یوہیں اگر لڑکے نے عورت کی  ماں سے نکاح کیا جب بھی یہی حکم ہے۔ عالمگیری۔
درمختار میں ہے بنت زوجة ابيه حلال اھ ج دوم ص 302۔
فتاویٰ فقیہ ملت ج 1 ص 403
احسن الفتاوی المعروف فتاویٰ خلیلیہ
سوتیلی ماں کی بیٹی سے کہ کسی اور کہ نطفہ سے پیدا ہوئی نہ کہ اپنے باپ سے اسے نکاح جائز ہے اگرچہ وہ اپنے باپ کی منکوحہ کی بیٹی ہے۔
رد المختار میں ہے لا تحرم ام زوجة الاب ولا بنتها
ج اول صفحہ 557
واللہ اعلم بالصواب
فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح العبد ابوالفیضان محمد عتیق اللہ فیضی صدیقی یارعلوی ارشدی عفی عنہ
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ
16/1/2021

غلط مسائل بتانے والےپر شريعت كاحكم



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سوال👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇?
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسںٔلے میں کے زید لوگوں کے مسائل کے جواب بہت  غلط بتاتا ہے اس کے بارے میں کچھ تفصیل جواب تحریر کریں حضرت آپ کی عین نوازش ہوگی؟
السائل_محمد شاہ رخ رضـا قادری سـوار ضلع رام پـور یوپی 
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب 
کوئی عالم ہے اور مسائل بتانے میں وہ کمال رکھتا ہے باوجود اسکے اگر کیہں سے خطا سرزد ہو جائے تو اسے معلوم ہونے پر حکم یہ ہے کہ فوراً رجوع کریں پر اگر اس کے اکثر مسائل غلط ہوتے ہیں تو اسے ظاہر ہے کہ فقہ کی کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتا ہے اور مسائل میں بھی مہارت نہیں رکھتا زبردستی مسئلہ بتاتا ہے ۔ہاں اگر کوئی عالم دین ہے اسے اتفاقاً ایسی غلطی ہو جا رہی ہے یعنی کبھی کبھی ایسی غلطی ہو جاتی ہے اور بغیر بحث و مباحث کے رجوع کر رہا ہے تو اسے کوئی مواخذہ نہیں ہو گا ۔حدیث شریف میں ہے۔حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے جو بغیر علم کے فتویٰ دیں گے خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے رسالت مآب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یہ بھی فرمان مبارک ہے تم میں سے جو فتوی دینے میں زیادہ جرات کرے گا وہ جہنم میں جانے میں زیادہ جرات مند ہوگا۔یہ تمام بھی بطور استخراج ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ اس میں کوئی مخالفت نہیں کرے گا اللہ ہی ثواب کی طرف رہنمائی فرمانے والا ہے۔
صحیح مسلم باب رفع العلم قدیمی  فتاویٰ رضویہ ج 10ص 458 جدید۔
البتہ اگر جان بوجھ کر بغیر علم کا مسئلہ بتاتا ہے تو وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے اس پر لازم ہے کہ توبہ کرے اللہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا .
فرمودمن افتی بغیرعلم لعنته ملئكته السماء والارض۔جس نے علم کے بغیر فتوی دیا اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں
قال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اتخذ الناس رؤوسا جہالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا 
حوالہ فتاویٰ رضویہ ج11 ص 490
واللہ تعالی اعلم
كتبه فقير محمد امتياز قمر رضوى امجدى عفى عنه گريڈيه جهاركهنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری

الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی
15/1/2021جمعہ

مسجد کے چاپا کل سے گھر کے لئے پانی لے جانا عندالشرع کیساہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل میں کہ مسجد کے چاپا کل سے گھر کے لئے پانی لے جانا اور جو نماز نہیں پڑھتا ہے یعنی بے نمازی کو اس چاپا کل پہ آ کر غسل کرنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

سائل محمد معراج قادری پتھلجور مدھوپور جھارکھنڈ الہند
____________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
مسجد میں وقف کردہ شخص اگر یہ اجازت دے دیا ہو کہ اس کنوے سے پانی نمازی لوگ اپنے گھر لے جا سکتے ہیں یا چاپا نل لگانے والا شخص اجازت دیا ہو کہ دیگر لوگ بھی اس سے استفادہ حاصل کریں تو پانی گھر لے جانے میں حرج نہیں یا بے نمازی کو نہانے میں حرج نہیں ورنہ جائز نہیں اسی طرح فتاوی مرکز ترتیب افتاء میں ہے۔نل یا کنواں بنوانے والے نے اگر اجازت دے دی ہو تو لینے میں حرج نہیں اور اگر بنوانے والے کی نیت یہ ہو کہ اسے وضو غسل وغیرہ نماز کے لیے طہارت ہی کے کام میں لیا جائے یا وہ مسجد کے مال سے بنوایا گیا ہو تو مقتدیوں کو اپنے گھر یا دوکانوں میں لے جانا جائز نہیں۔ اسی طرح فتاوی مصطفویہ میں ہے ۔لے سکتے ہیں جبکہ نل لگانے والے کی کنواں بنانے والے کی طرح سب کو لینے کی اجازت ہو اور اگر نل لگانے والے کی خاص مسجد ہی کے لیے نیت ہو کے وضو غسل وغیرہ نماز کے لیے طہارت ہی کے کام میں لیا جائے یا اس نل کے پانی کی قیمت مسجد کے مال سے ادا کی جاتی ہو تو گھروں کو لے جانا جائز نہیں۔اھ صفحہ269۔
حوالہ فتاویٰ مرکز تربیت افتاء  جلد اول صفحہ 259
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی
15/1/2021

کافروں کو مسجد کے اندر لے جانا کیسا ہے جبکہ اس کام کو کرنے والا اپنا مومن بھائی بھی ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ کسی کام کے وجہ سے کافروں کو مسجد کے اندر لے جانا کیسا ہے جبکہ اس کام کو کرنے والا اپنا مومن بھائی بھی ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل محمد شمیم القادری رضا نگر گریڈیہ جھارکھنڈ
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
مسلم مستری کے ہوتے ہوۓ کافر سے کام نہ کراٸیں
اس لیۓ کہ جب کافر کام کریگا تو اسکا فاٸدہ ہوگا  تو اسکے بجاۓ اپنے دینی بھاٸ کا فاٸدہ کرایا جاۓ

سیدی اعلیٰ حضرت قدس سرہ القدسی ایک مقام پر فرماتے ہیں

جب مسلمان حلواٸ بھی موجود ہو  تو خواں مخواں ہنود کی طرف جھکنے کی وجہ کیا ھے - یہ کیسا فاٸدہ ھے کہ اپنے مال کا نفع اپنے مسلمان بھاٸ ہی کو پہنچا اھ

فتاوی رضویہ ج 9 ص 35 رضا اکیڈمی ممبٸ

کافر سے کام کرانے میں حاصل حکم فقط اتنا ھے کہ فتویٰ جواز پر تقویٰ احتراز پر
*کما فی الرضویة*

فتاویٰ اکرمی میں ہے مسجد خدا کا گھر ہے اس کا احترام ہر حال میں مسلمانوں پر لازم ہے کہ غیر مسلم کو پاکی اور ناپاکی سے کوئی مطلب نہیں رہتا اور نہ اس سے حرمت مسجد کا لحاظ ہے اور پھر غیر مسلم سے کام کروانے پر وہ اپنی برتری سمجھے گا گویا یہ ایک قسم کا احسان ہوگا لہذا جہاں تک ممکن ہو مسجد کی تعمیر میں کافر مستری کو نہ لگایا جائے یعنی بچنا بہتر ہے کماوردفی احسن الفتاویٰ المجلد الثانی صفحہ 554
حوالہ فتاویٰ اکرمی ص 262
واللہ اعلم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ رامپور کمیری یوپی ۔

15/1/2021/جمعہ

آپریشن کروانے والی عورت کیا حج وعمرہ کو جا سکتی ہے



السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ آپ حضرات کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ اگر کوئی عورت بچے کی پیدائش کو روکنے کے لئے آپریشن کیا اور پھر حج بیت اللہ کے لئے جانا چاہتی ہے اس کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں
_____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب ۔
اگر کوئی عذر شرعی نہ ہو تو آپریشن کے ذریعے بچے کو روکنا یا حمل ضائع کرنا ناجائز حرام ہے۔
فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم۔
اگر عورت مذکورہ نے بغیرعذر شرعی ایساکیاہے توبھی اسے حج بیت اللہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے گنہگار وفاسق ضرور ہے لیکن مشرک نہیں اس لئے وحج وعمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر استطاعت رکھتے ہے تواس پر حج فرض ہے
لیکن اس پر لازم ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے اپنےگناہوں پر نادم وشرمندہ ہوکر علانیہ توبہ واستغفار کرے 
قال اللہ تعالیٰ
الا من تاب و آمن وعمل عملا صالحا فاولئک یبدل اللہ سیآتھم حسنات وکان اللہ غفورارحیما
مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائےاور اچھا کام کرےتوایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے کنزالایمان سورہ فرقان ٧٠

واللہ تعالی اعلم بالصواب
 کتبہ فقیر محمدامتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری
14/1/2021

بغیر علم کے فتوی دینے والے پر حکم



السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسںٔلہ کے بارے میں کہ زید بغیر جانے کو مسئلہ بتاتا ہے ، لوگوں کے مسائل کے جواب بہت غلط بتاتا ہے اس کے بارے میں از روئے شرع کیا حکم ہوگا؟ 
جواب عنایت فرمائیں! 

السائل: محمد شاہ رخ رضــا قــادری سـوار ضـلـع رامـپـور یـوپـی
____________________________________
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ 
الجواب بعون الملک الوہاب۔ 
 جو شخص علم نہیں رکھتا ہو اور احکام شرع سے بالکل نابلد ہو، ایسے لوگوں کا مسئلہ بتانا حرام ہے۔ حدیث شریف میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ:
"من افتیٰ بغیر علم لعنتہ ملائکة السماء والارض" یعنی جو شخص بغیر علم کے فتویٰ دے، اس پر زمین وآسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں،"
( کنز العمال جلد ۱۰، صفحہ ۱۹۳ ) 

اور دوسری حدیث شریف میں ہے کہ:
"اجرأکم علی الفتیا اجرأکم علی النار"
یعنی: تم میں جو شخص فتویٰ دینے پر زیادہ جرأت کرتا ہے، وہ دوزخ کی آگ پر زیادہ دلیر ہے۔ 
( کنز العمال جلد ۱۰، صفحہ ۱۸۷ )
 
(ماخوذ از فتاویٰ مرکز تربیت افتاء، جلد اول، صفحہ ۲۰۹ )

ایساہی فتاویٰ فقیہ ملت، جلد دوم، صفحہ ۲۱۷ میں مذکور ہے۔
 
لہذا زید اپنے اس فعل کے سبب سخت گنہگار مستحق عذاب ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے غلط  فتوؤں سے رجوع کرے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے اور آئندہ بغیر جانے کوئی بھی مسئلہ نہ بتانے کا عہد کرے۔ 

۔والله تعالیٰ و رسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔
کتبہ۔۔۔۔ محمد چاند رضا اسمعیلی، دلانگی۔دارالعلوم غوث اعظم مسکیڈیہ، ہزاریباغ، جھارکھنڈ۔
۲۶/ جمادی الاولی ۱۴۴۲ ہجری۔ 
۱۱/ جنوری ۲۰۲۰ عیسوی۔
الجواب صحيح فقیر محمد اسماعيل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی
13/1/2021

پینٹ اور شرٹ اسلامی لباس ہے یانہی؟



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
علماء کرام کی بارگاہ میں یہ گزارش، ہے کہ اسلامی لباس میں پینٹ اور شرٹ ہے کہ نہیں یا پھر یہ کس کا لباس ہے اور اس کو پہن کر نماز پڑھنا شرعی حکم کیا ہے وضاحت کے ساتھ ابھی جواب عنایت فرمادیں کرم ہوگا۔ سایل عبدالتواب کٹیہار جھارکھنڈ
__________________________________
وعلیکم اسلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
اسلامی لباس میں پینٹ شرٹ نہیں ہے جس وقت ہندوستان میں انگریز رہتے تھے انھوں نے یہ لباس پہنی اور یہ انگریزی لباس ہے مگر اس کو پہن کر نماز پڑھنے میں جو فتاوی حضور اعلی حضرت دیے ہیں۔علمائے کرام فرماتے ہیں مجدد اعظم اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے جب یہ فتوی دیا تھا اس وقت انگریزی لباس کا حکم یہی تھا کہ ا سے پہننا جائز نہیں تھا اس لیے اسے پہن کر نماز مکروہ تحریمی ہوتی تھی اس لیے اس وقت وہ لباس انگریزوں کا شعار تھا ہندوستان میں وہی لوگ اسے پہنتے تھے جو انگریزیت زیادہ تھے مسلمان اسے پہننا سخت معیوب جانتے تھے  اب یہ بات نہیں انگریز یہاں سے چلے گئے اور یہ لباس ہرطبقے ہندوستانی پہننے لگے حتی کہ  چپکر اسی اور بھنگی تک اب یہ انگریز یا کسی کافر قوم کا شعار نہ رہا سب کا لباس ہو گیا اس لئے اس سے پہننا ناجائز و گناہ نہیں اور اسے پہن کر نماز پڑھنا گناہ نہیں یہ دوسری بات ہے کہ مسلمانوں کو اس لباس سے احتراز کرنا چاہیے کہ اب بھی یہ صالحین کا لباس نہیں مگر اسے پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
فتاویٰ شارح بخاری کتاب العقائد صفحہ 37
واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
13/1/2021

لاؤڈ اسپیکر پر نماز تراویح شبینہ پڑھنا کیسا ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسلہ میں‌ (1)کہ شبینہ رات بھر پڑھیں جاتی ہے کیا لاؤڈ اسپیکر پر شبینہ پڑھنا ناجائز و حرام ہے 

( 2)زید کہتاہے لاؤڈ اسپیکر پر قرآن پڑھنے پر سونے والے حالات جماع میں مصروف ہوگئے تو شبینہ کرنے والا گنہگار ہے  
(3)بکر کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز متکلم کی آواز نہیں لہذا شبینہ لاؤڈ اسپیکر پر شبینہ پڑھنا جائز ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں  بینواتوجروا   المستفتی سید محمد یقین الدین قادری پستہ۔ اوڈیشہ
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
شبینہ تراویح کی نماز میں مائک کا استعمال یعنی لاؤڈ اسپیکر پر آواز بلند ہو کر سنائی دیتی ہے سائنسدانوں کے اس اختلاف کی وجہ سے علماء کرام کے درمیان بھی اختلاف ہوگیا کسی نے کہا لاؤڈاسپیکر سے مسموع آواز پر اقتدا درست ہے نماز صحیح ہوگی جیسےمبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالحلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کسی نے جائز خلاف اولی کہا جیسے حضرت صدر العلماء مولانا غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کسی نے مکروہ کہا جیسے حضرت مفتی احمد یار خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کسی نے مکرہ کہا جیسے مفتی احمد یار خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کسی نے فاسد بتایا جیسے حضرت مفتی اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ اس مسئلے کی نزاکت کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کیا اعلی حضرت عظیم البرکت نے حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بارے میں فرمایا کہ آپ یہاں موجودین میں تفقہ جس کا نام ہے وہ مولوی امجد علی میں زیادہ پائے گا اس سے حضرت کی شان  تفقہ عیاں ہوتی ہے لیکن ایسے جلیل القدر رفقیہ کو بھی اس مسئلے میں فکری انقلاب سے دوچار ہونا پڑا آپ کے اس سلسلے میں دو متضاد فتوے ہیں ایک میں نماز کو جائز کہا ہے اور ایک میں فاسد۔ پھر ان دونوں میں کون مقدم ہیں اور کون متاخر یہ بھی مختلف فیہ ہے حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کے فقہ کا مقام یہ ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے آپ کو پورے ہندوستان کا قاضی مقرر فرمایا تھا لیکن خود آپ کے فتاوی میں بھی اختلاف تھا ایک روایت کے مطابق آپ کا پہلا فتاوی جواز کا تھا دوسرا عدم جواز کا اور ایک روایت کے مطابق آپنے ابتداء یہ صادر فرمایا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر سے مسموع آواز گر بولنے والے کی ہے تو اس پر اقتداء صحیح ہے اور اس کی آواز نہیں تو اقتداء صحیح نہیں
حضرت حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے ایک فتوے میں تحریر فرمایا کہ مجھے اس کی تحقیق نہیں احتیاط احتراز میں ہے نیز فرماتے ہیں حدیث شریف میں ہے سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسی چیز کو چھوڑ دو جس میں شک و شبہہ ہو اور اسے اختیار کرو جس میں کوئی شبہ نہیں لہذا میری رائے میں یہی صورت زیادہ مناسب ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز میں استعمال ہی نہ کیا جائے نماز میں کسی قسم کا جھگڑا اور شبہ پیدا ہو ۔ملفوظات حافظ ملت صفحہ 44
حضرت مجاہد ملت رحمۃ اللہ علیہ نے تردو پر مبنی دلیل کے پیش نظر احتیاط ناجائز فرما کر یہ تمنا ظاہر کی ۔لعل اللہ یحد ث بعد ذلک امرا۔
حضرت محدث اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فتوی پڑھیے فرماتے ہیں ہمارے اکابر علماء نے نماز میں اس لاؤڈ اسپیکر کے لگانے کو پسند نہیں کیا بلکہ بعض علماء نے صراحتہ  فرمایا کہ اس کا نماز میں لگانا درست نہیں اور بعض نے فرمایا مفسد نماز ہے بعض نے فرمایا ہر گز نہ لگایا جائے بعض نے فرمایا اس کا نماز میں لگانا بدعت سیئہ ہے ۔ فتاوی شارح بخاری کتاب العقائد
اس کے علاوہ بہت ساری ایسی عبارتیں ہیں جس کو نقل کیا جا سکتا ہے مگر تفصیلی حاجت نہیں مجھے امید ہے سائل ان تمام عبارتوں کو پڑھ کر سمجھ جائے گے

*خلاصہ*
لاؤڈ سپیکر سے نماز پڑھانے کے بارے میں مختلف اقوال علمائے کرام کے پیش کئے گئے ہیں کسی نے لاؤڈ سپیکر کی آواز کو متکلم کی بعینہ آواز تسلیم کیا اور کسی نے بعینہ نہیں تسلیم کیا لہذا جنہوں نے بعینہ تسلیم کیا ان کے نزدیک لاؤڈ سپیکر سے نماز درست ہے اور جنہوں نے بعینہ نہیں تسلیم کیا ان کے نزدیک نماز ہوگی ہی نہیں اور جب کسی مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہو تو احتراز ہی بہترہے

اب رہی بات جو لوگ لاؤڈ سپیکر سے شبینہ کرتے اور کرواتے ہیں وہ یا تو لاؤڈ سپیکر کے جواز کے قائل ہوگے یا عدم جواز کے اوردونوں صورتوں میں لاؤڈ سپیکر سے شبینہ جائزنہیں اس لئے کہ اگر عدم جواز کے قائل ہیں تب تو لاؤڈ سپیکر مفسدصوم ہے اس لئے اس کا استعمال جائز نہیں

اور اگر جواز کے قائل ہیں تواس لئے لاؤڈ سپیکر سے شبینہ جائزنہیں جیساکہ سوال سے ظاہر ہے کہ لوگ مصروف ہوتے ہیں اور جماع وغیرہ اور نیند میں خلل ہوتی ہے اور قرآن شریف کو سنتے نہیں ہیں جبکہ قرآن کا سننا واجب ہے اور ترک واجب کے سبب عوام گنہگار ہوتی ہے تو یہ مسلمانوں کو ایذا دینا ہوا اور مسلم کو ایذا دینا جائز نہیں
واللہ اعلم 
کتبہ فقیرمحمد امتیاز قمررضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان صاحب امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری 
11/1/2021/

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...