لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

 لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟
اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟ 

سائل: رونق اختر ثقافی

باسمہ تعالی

الجواب بعون الملک الوھاب ،

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر جسم کا اکثر حصہ موجود ہو یا آدھا حصہ سر کے ساتھ موجود ہو تو غسل دے کر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور اگر جسم کا اکثر حصہ موجود نہ ہو، بلکہ صرف بعض حصے مثلاً سر، ہاتھ وغیرہ ہوں ، یا آدھا بغیر سر کے ہو تو اس صورت میں اس کو نہ غسل و کفن دیا جائے گا اور نہ اس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی، البتہ اس کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا، 

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے :

ﺇﺫا ﻭﺟﺪ ﻃﺮﻑ ﻣﻦ ﺃﻃﺮاﻑ اﻹﻧﺴﺎﻥ ﻛﻴﺪ ﺃﻭ ﺭﺟﻞ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﻐﺴﻞ، ﻷﻥ اﻟﺸﺮﻉ ﻭﺭﺩ ﺑﻐﺴﻞ اﻟﻤﻴﺖ، ﻭاﻟﻤﻴﺖ اﺳﻢ ﻟﻜﻠﻪ ﻭﻟﻮ ﻭﺟﺪ اﻷﻛﺜﺮ ﻣﻨﻪ ﻏﺴﻞ، ﻷﻥ ﻟﻷﻛﺜﺮ ﺣﻜﻢ اﻟﻜﻞ، ﻭﺇﻥ ﻭﺟﺪ اﻷﻗﻞ ﻣﻨﻪ، ﺃﻭ اﻟﻨﺼﻒ ﻟﻢ ﻳﻐﺴﻞ ﻛﺬا ﺫﻛﺮ اﻟﻘﺪﻭﺭﻱ ﻓﻲ ﺷﺮﺣﻪ ﻣﺨﺘﺼﺮ اﻟﻜﺮﺧﻲ، ﻷﻥ ﻫﺬا اﻟﻘﺪﺭ ﻟﻴﺲ ﺑﻤﻴﺖ ﺣﻘﻴﻘﺔ ﻭﺣﻜﻤﺎ، ﻭﻷﻥ اﻟﻐﺴﻞ ﻟﻠﺼﻼﺓ ﻭﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﺰﺩ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺼﻒ ﻻ ﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ، ﻓﻼ ﻳﻐﺴﻞ ﺃﻳﻀﺎ، ﻭﺫﻛﺮ اﻟﻘﺎﺿﻲ ﻓﻲ ﺷﺮﺣﻪ ﻣﺨﺘﺼﺮ اﻟﻄﺤﺎﻭﻱ ﺃﻧﻪ ﺇﺫا ﻭﺟﺪ اﻟﻨﺼﻒ ﻭﻣﻌﻪ اﻟﺮﺃﺱ ﻳﻐﺴﻞ، ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻣﻌﻪ اﻟﺮﺃﺱ ﻻ ﻳﻐﺴﻞ ﻓﻜﺄﻧﻪ ﺟﻌﻠﻪ ﻣﻊ اﻟﺮﺃﺱ ﻓﻲ ﺣﻜﻢ اﻷﻛﺜﺮ؛ ﻟﻜﻮﻧﻪ ﻣﻌﻈﻢ اﻟﺒﺪﻥ، ﻭﻟﻮ ﻭﺟﺪ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﺸﻘﻮﻗﺎ ﻻ ﻳﻐﺴﻞ ﻟﻤﺎ ﻗﻠﻨﺎ، ﻭﻷﻧﻪ ﻟﻮ ﻏﺴﻞ اﻷﻗﻞ ﺃﻭ اﻟﻨﺼﻒ ﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ، ﻷﻥ اﻟﻐﺴﻞ ﻷﺟﻞ اﻟﺼﻼﺓ،

ﻭﻟﻮ ﺻﻠﻲ ﻋﻠﻴﻪ ﻻ ﻳﺆﻣﻦ ﺃﻥ ﻳﻮﺟﺪ اﻟﺒﺎﻗﻲ ﻓﻴﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻴﺆﺩﻱ ﺇﻟﻰ ﺗﻜﺮاﺭ اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻰ ﻣﻴﺖ ﻭاﺣﺪ، ﻭﺫﻟﻚ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻋﻨﺪﻧﺎ، ﺃﻭ ﻳﻜﻮﻥ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﻄﺮﻑ ﺣﻴﺎ ﻓﻴﺼﻠﻰ ﻋﻠﻰ ﺑﻌﻀﻪ، ﻭﻫﻮ ﺣﻲ ﻭﺫﻟﻚ ﻓﺎﺳﺪ، ﻭﻫﺬا ﻛﻠﻪ ﻣﺬﻫﺒﻨﺎ،

جب انسان کے جسم کے حصوں میں سے کوئی ایک حصہ ملے، جیسے ہاتھ یا پاؤں، تو اس کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس لیے کہ شریعت میں غسل کا حکم میت کے لیے آیا ہے، اور میت کا لفظ پورے جسم پر بولا جاتا ہے، ہاں اگر میت کا زیادہ حصہ مل جائے تو اس کو غسل دیا جائے گا، کیونکہ زیادہ حصہ کو پورے کے حکم میں شمار کیا جاتا ہے، اور اگر میت کا کم حصہ ملے، یا آدھا حصہ ملے، تو اسے غسل نہیں دیا جائے گا، اسی طرح قدوری نے اپنی شرح مختصر الکرخی میں ذکر کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدار حقیقتاً اور حکماً میت نہیں کہلاتی، نیز غسل نماز جنازہ کے لیے ہوتا ہے، اور جس پر نماز نہیں پڑھی جاتی اس کو غسل بھی نہیں دیا جاتا، اور قاضی نے اپنی شرح مختصر الطحاوی میں ذکر کیا ہے کہ اگر میت کا آدھا حصہ سر کے ساتھ ملے تو غسل دیا جائے گا، اور اگر سر اس کے ساتھ نہ ہو تو غسل نہیں دیا جائے گا، گویا انہوں نے سر کے ساتھ ہونے کی صورت میں اسے اکثر کے حکم میں قرار دیا ہے، کیونکہ سر بدن کا عظیم ترین حصہ ہے، اور اگر میت کا نصف حصہ چرا ہوا  ملے تو اسے بھی غسل نہیں دیا جائے گا، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، نیز اس لیے کہ اگر کم حصے یا نصف حصے کو غسل دیا جائے تو اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی، کیونکہ غسل نماز کے لیے ہوتا ہے، اور اگر اس پر نماز جنازہ پڑھ لی جائے تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ بعد میں باقی جسم مل جائے اور اس پر دوبارہ نماز پڑھی جائے، جس سے ایک ہی میت پر نماز جنازہ کی تکرار لازم آئے گی ، اور یہ ہمارے نزدیک مکروہ ہے، یا یہ احتمال بھی ہے کہ وہ عضو کسی زندہ انسان کا ہو، تو اس کے بعض حصہ پر نماز جنازہ پڑھ لی جائے، حالانکہ وہ زندہ ہو، اور یہ فاسد ہے، اور یہ سب ہمارا (احناف کا) مذہب ہے، 

(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع کتاب الصلاۃ ، فصل صلاۃ الجنازۃ ، فصل شرائط وجوب الغسل ،جلد ١ صفحہ ٣٠٢،دار الکتب العلمیۃ بیروت) 

فتاوی عالمگیری میں ہے :

ﻭﻟﻮ ﻭﺟﺪ ﺃﻛﺜﺮ اﻟﺒﺪﻥ ﺃﻭ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﻊ اﻟﺮﺃﺱ ﻳﻐﺴﻞ ﻭﻳﻜﻔﻦ ﻭﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﻀﻤﺮاﺕ، ﻭﺇﺫا ﺻﻠﻲ ﻋﻠﻰ اﻷﻛﺜﺮ ﻟﻢ ﻳﺼﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﺒﺎﻗﻲ ﺇﺫا ﻭﺟﺪ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻹﻳﻀﺎﺡ، ﻭﺇﻥ ﻭﺟﺪ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ اﻟﺮﺃﺱ ﺃﻭ ﻭﺟﺪ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﺸﻘﻮﻗﺎ ﻃﻮﻻ ﻓﺈﻧﻪ ﻻ ﻳﻐﺴﻞ ﻭﻻ ﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻳﻠﻒ ﻓﻲ ﺧﺮﻗﺔ ﻭﻳﺪﻓﻦ ﻓﻴﻬﺎ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﻀﻤﺮاﺕ،

اور اگر میت کے جسم کا زیادہ حصہ مل جائے، یا آدھا جسم سر کے ساتھ ملے، تو اس کو غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اسی طرح المضمرات میں ہے، اور اگر زیادہ حصہ پر نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہو، پھر بعد میں باقی حصہ مل جائے، تو اس باقی حصہ پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، اسی طرح الإیضاح میں ہے، اور اگر میت کا آدھا حصہ سر کے بغیر ملے، یا آدھا حصہ لمبائی میں چیرا ہوا ملے، تو اس کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، بلکہ اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر اسی میں دفن کر دیا جائے گا، اسی طرح المضمرات میں ہے، 

(فتاوی عالمگیری، کتاب الصلوۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، 

الفصل الثانی فی غسل اہمیت، جلد ۱ صفحہ ۵۹، دار الفکر)

اسی طرح بہار شریعت جلد اول حصہ ٤ صفحہ ٨٢٠، کتاب الجنائز، میت کو نہلانے کا بیان میں ہے، 

والله تعالى اعلم بالحق والصواب

محمد اقبال رضا خان مصباحی

سنی سینٹر بھنڈار شاہ مسجد پونہ وجامعہ قادریہ کونڈوا پونہ

یکم رجب المرجب، ١٤٤٧ھ /٢٢،دسمبر ٢٠٢٥ء بروز پیر

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...