مدارالعلمین کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے؟



السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال کیا کسی ولی اللہ کے لئے "مدار العالمین" کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں ایسا کہنے والے کے لئے کیا حکم ہے
المستفتی محمد احمد رضا قادری
سہارنپور یو پی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں ولی اللہ کے لیے مدارالعالمین کا لفظ استعمال کرنا جائز نہیں ہے مدارالعالمین۔ فقیر کے نزدیک اس قول میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو بہترین خلق ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ تعالی سے محبت کرتے ہو تو میری (آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) اطاعت کرو۔ اللہ رب العزت تم سے محبت کرے گا۔ یعنی جو سرکار علیہ السلام کی ظاہری اور باطنی اطاعت بجا لایا اس
کو قرب الاہی حاصل ہوگا
چراغ خضر
 حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری بریلوی نوراللہ مرقدہ تحریر فرماتے ہیں۔مدار العالمین کہنا جائز نہیں اس لیے کہ اس کے اکثر معانی خاصئہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرا معنی خاصئہ الوہیت ہے

فتاویٰ تاج الشریعہ صفحہ 439

ان تمام حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے جان بوجھ کر کوئی شخص کسی کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے علاوہ مدار العالمین کہتا ہے تو وہ سخت گنہگار ہے جو جان بوجھ کر ناجائز حکم کو جائز قرار دے رہا ہے وہ شخص بڑا گناہ اور کفر کے مترادف ہے

واللہ اعلم بالصواب
 کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح 
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرامپوری 

 ۱۵جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۳۱دسمبر ٠٢٠٢؁ء بروز، جمعرات

بیوی کے بہن کی لڑکی سے نکاح کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟



السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ

کیا فرماتے علمائے کرام ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زیدنے اپنے ساڑھوکی بیٹی کوبھگاکرلےگیا۔اور اسے نکاح کرلیا اب زید اس لڑکی کےساتھ ھی رہتا ہے کیا زیدکا اس لڑکی کےساتھ نکاح اور ساتھ رہنا جائزہے اس کےبارے میں شرع کاکیا حکم ہے مکمّل جواب عنایت فرمائے عین مہربانی ہوگی 

المستفتی محمد امیر الدین رضوی ۔مکمّل پتہ کانٹی۔پوسٹ کانٹی۔تھا نہ کانٹی۔ضلع مظفر پوربہار

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
     وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
  الجواب بعون الملک الوہاب, اللہم ہدایة الحق الصواب،

صورت مسئولہ میں جواب یہ ہےکہ,
زید کی بیوی فوت ہوچکی ہو یا طلاق دیدی ہو اور عدت بھی گزرگٸی ہو تو نکاح کرنا اور ساتھ رہنا جاٸز ہے ورنہ نہیں
جیساکہ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمتہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ،
بیوی اور اس کی بہن کی لڑکی کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے لیکن اگر بیوی فوت ہوچکی ہو یا اسے طلاق دیدی ہو اور عدت گزر گئی ہو تو اب اس کی بہن کی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے۔

حدیث شریف میں ہےکہ,
لایجمع بین المرأة وعمتھا ولابین المرأة وخالتھا متفق علیہ۔ وفی الدرالمختار حرم الجمع بین المحارم نکاحًا وعدة ولومن طلاق باٸن بین امرأتین ایتھما فرضت ذکرًالم تحل للاخریٰ ردالمختار میں ہے، کالجمع بین المرأة وعمتھا اوخالتھا
فتاوی فیض الرسول ج ١، ص ٥٩٦
          واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبہ، گداٸے مصطفےٰﷺ احقرالعباد، محمد صادق عالم رضوی۔(متوطن) نوری نگر کمات، اتر دیناج پور۔(بنگال) الہند 
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط فقیرمحمد مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ

 ۱۴جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۳۰دسمبر ٠٢٠٢؁ء بروز، بدھ

کیا حضرت اویس قرنی نے اپنے سب دانت توڑ دیئے تھے



اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 
 کیا فرماتے ہیں علما ٕ کرام ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسٸلہ کے بارے میں کہ کیا یہ واقعہ درست ہے کہ حضرت اویس قرنی والا کہ ان کو کسی ساٸل نے کہا کہ آقا ﷺ کے ایک دانت شہید ہو گیا ہے تو حضرت اویس قرنی نے اپنا سارا دانت توڑ ڈالیں کیا یہ واقعہ درست ہے اس کو علما ٕ کثیر تعداد میں بیان کرتے ہیں مدلل جواب عنایت فرما دیجیٸیں عین نوازش ہوگی ساٸل محمد ارمان رضا رضوی
________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجـواب اللھم ہدایة حق والصـواب
یہ واقعہ درست نہیں ہےکہ حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ اپنی سارے دانت شہید کرلیے تھے۔ 
جیسا کہ فتاویٰ بریلی شریف میں ہے کہ:
حضور علیہ السلام رباعیہ داندان شہید ہوگئے اور اس کی خبر حضرت اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ کو ہوئ اور انہوں نے اپنے دانت شہید کرلیے، یہ روایت نظر سے نہ گزری اور غالباً ایسی روایت ہی نہیں ہے اگرچہ مشہور یہی ہے۔ 
(فتاویٰ بریلی شریف صفحہ301 
زوایہ پبلشرز دربار مارکیٹ راہور) 

فتاویٰ شارح بخاری حضرت علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں: یہ روایت بالکل جھوٹ اور افترا ہے کہ جب حضرت اویس قرنی نے یہ سنا کہ غزوہ احد میں حضور اقدس صلی الله علیہ و آلہ و سلم کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے، تو انہوں نے اپنے سب دانت توڑ ڈالے اور انہیں کھانے کے لئے کسی نے حلوہ پیش کیا
(ماخوذ از.فتاوی شارح بخاری جلد2 صفحہ 114 مکتبہ دائرۃالبرکات کریم الدین پور گھوسی ضلع مئو) 

روایت مذکورہ بے اصل ہے۔ 
اسکا بیان کرنا درست نہیں لھذا جس نے اسے بیان کیا ہے وہ اس بات سے رجوع کرے اور آئندہ اس روایت کے نہ بیان کرنے کا عہد کرے 
اگر وہ ایسا نہ کرے تو کسی معتمد کتاب سے اس روایت کو ثابت کرے

واللہ اعلم بالصواب 
کتبـــــــہ محمدعارف رضوی قادری انٹیاتھوک بازار گونڈہ یوپی
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ
29/12/2020/منگل

شرابی کی اذان اور اس کی توبہ قبول ہوتی ہے یا نہیں



السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام اس مسٸلہ میں کہ
اگر کوٸی شخص شراب پیے تو اسکے توبہ کا کیا حکم ھے
اور اگراذان دینے کے لےآیے تو کیا اذان دے سکتا ہے براٸے کرم قرآن و حدیث  کا حوالہ  دے کر جواب  عنایت  فرما ٸیں مہربانی  ہوگی۔
ساٸل۔عبدالرشید میر 
بیروہ رٹسونہ
____________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
بے شک اللہ تعالی گناہوں کو معاف کر نے والا ہے اگرچہ وہ شرابی ہی کیوں نہ ہو شراب پینے والا شخص جب ایک بار شراب پیتا ہے تو چالیس دن تک اس کی کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ہے شرابی کی اذان کو قبول نہیں جب اللہ کے بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔التائب من الذنب کمن لاذنب لہ ۔گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہو جاتا ہے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو
سنن ابن ماجہ بابذکرالتوبہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور صفحہ 323
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے شرابی کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا ۔لا یشرب الخمر رجل من امتی فی قبل اللہ منہ صلاۃ اربعین یوما ۔ میری امت کے شراب پینے والے آدمی کی اللہ تعالی چالیس دن تک نماز قبول نہیں فرماتا۔
سنن نسائی کتاب الاشربتہ حدیث 5664

شرابی کے ہاتھ اور منہ کے پاک ہونے کاکوئی اعتبارنہیں۔
جوخمرہے اس کاقلیل اورکثیر سب حرام ہے ۔فتاوی رضویہ۔اس لیے شرابی سے اذان نہ دلوایا جائے 
واللہ سبحنہ وتعالیٰ اعلم 
وعلمہ اتم واحکم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ
29/12/2020/منگل

کیا خطبہ کی اذان حضور ﷺ وسلم کے زمانے ہوتی تھی یا نہیں



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
 علماۓ کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ کیا خطبہ کی اذان حضور ﷺ وسلم کے زمانے ہوتی تھی یا نہیں مدلل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی
۔سائل صلاح الدین سیتاپوری
_____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب اللھم ہدایة حق والصواب 
ابو داؤد شریف جلد اوّل ۱۶۲ میں ہے 
عن السّائب بن یزید قال کن یؤذنُ بین یدی رسول الله صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعة علیٰ باب المسجد وابی بکرٍ وّ عمر،،،،
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانے میں بھی
اس حدیث شریف سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ خطبہ کی اذان مسجد کے دروازے پر پڑھنا سنت ہے،، حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام اور حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی زمانے میں بھی خطبہ کی اذان مسجد کے دروازے ہی پر ہوا کرتی تھی
حوالہ محققانہ فیصلہ صفحہ36
مفتی جلال الدین احمد امجدی 
مکتبہ رضویہ گجـرات
               واللہ اعلم باالصواب
             کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ
گدائے حضور تاج الشریعہ 
محمدعارف رضوی قادری انٹیاتھوک بازار گونڈہ یوپی
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
29/12/2020/منگل

اگر بیوی کہے شوہر کو میرے ہاتھ کی روٹی کھانا جائز نہیں تو حکم کیا ہے؟

       


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ کسی کی بیوی اگر اپنے شوہر سے بولے اگر آپ میری ہاتھ کی روٹی کھاتے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول کا قسم 
 ہے ۔۔ جاءز نہیں ہوگا

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
الجواب اللھم ہدایۃ الحق والصواب 

ایسے قسم بے فضول ہے ایسے قسم کھانے سے مسلمانوں کو بچنا چاہیئے 

جیسا کہ تفہیم المسائل میں ہے کہ کسی کے کہنے سے حلال چیز حرام تو نہیں ہوتی کہ اشیاء کو حلال و حرام قرار دینے کا حق واختیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہے بندہ کے اختیار میں نہیں ہے تاہم اس سے قسم منعقد ہوجائےگی اور اگر وہ اسے توڑے گا تو کفارہ لازم ہوگا 

بحوالہ تفہیم المسائل ص ۳۴۵ مطبوعہ ضیاءالقرآن لاھور پاکستان 

مزکورہ بالا حوالہ جات سے صاف ظاہر ہو گیا کہ بیوی کی بنائ ہوئ روٹی کو شوھر کھا سکتا ہے کسی کے کہنے سے حلال چیز حرام نہیں ہو سکتا اور بیوی قسم کو توڑدے اور کفارہ لاز ہے، 

قسم کے کفارے کے متعلق حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو جوڑے دے یا دس مسکینوں کو فی مسکین ایک صاع جو یا نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت دے اور جس سے یہ نہ ہوسکے وہ تین روزے رکھے 

(فتاوی رضویہ مترجم جلد ۱۳ ص ۵۰۷) 

ارشاد باری تعالیٰ ہے 

لایواخذکم اللہ باللغوفی ایمانکم ولکن یؤخذ کم بماعقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین من اوسط ماتطعمون اھلیکم اوکسو تھم او تحریر رقبتہ فمن لم یجد فصیام ثلثتة ايام ذلك كفارة ايمانكم إذا حلفتم واحفظوا ايمانكم كذلك يبين الله لكم آيته لعلكم تشكرون
یعنی اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ  دس مسکینوں کو کھانا دینا 
اپنے گھر والوں کو جو کھلاتےہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یاایک بردہ غلام آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائیں تو تین دن کے روزے یہ بدلا ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللہ تم سے اپنی
آیتیں بیان فرماتا ہےکہ کہیں تم احسان مانو
القرآن الکریم کنزالایمان اعلی حضرت سورۃ مائدہ پارہ ۷ 

واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد محبوب عالم امجدی مقام آزاد نگر نچلول مہراجگنج

الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اختر علی واجد القادری عفی عنہ

الجواب صحیح والمجیب نجیح 
فقیر محمد اسمعیل خان امجدیؔ عفی عنہ گونڈہ یوپی 

 ۱۳جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸دسمبر ٠٢٠٢؁ء بروز، منگل

نماز سے متعلق چند اہم اور ضروری مسائل

   

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ*
لسوال*
        *کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ چاررکعات کی سنت نماز پڑھتے وقت اگر تیسری رکعات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ ملانا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا جب یاد آیا تو اس نے پھر  لوٹا لیا تو اب کیا سجدہ سہو اُس پر لازم ہوگا*

 *(2)   اگر نماز میں کئی غلطیاں ہو گئی تو  ایک سجدہ سہو سے ہو جائیگی* 

 *(3)  اگر صرف التحیات پڑھی اور سلام پھیر دیا تو نما ز ہوگی یا نہیں*

 *ان سوالوں کا جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی کرم ہوگا* 

 _*الســائل۔محمد انصار رضا،قادری گریڈیہ*
*_◆ــــــــــــــــــــــ🤍ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
_*وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ*_  
_*الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب*
*(۱)  اگر الحمد پڑھنے کے بعد سورت ملانا بھول گیا اور رکوع میں یاد آیا تو حکم یہ ہے کہ رکوع سے لوٹ آئے اور سورت ملا کر دوبارہ رکوع کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرکے نماز مکمل کرے*۔ 
     *جیساکہ کتاب سجدہ سہو کے مسائل میں ہے:*
     *کہ:فرض نماز کی پہلی یا دوسری رکعت میں اور نفل و سنت اور وتر کی کسی رکعت میں الحمد پڑھنے کے بعد سورت ملانا بھول گیا یا صرف ایک یا دو چھوٹی آیت کے برابر پڑھ کر رکوع کیا پھر رکوع میں یاد آیا تو کھڑا ہو جائے اور کم از کم تین چھوٹی آیت کے مقدار یا زیادہ پڑھ کر رکوع کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے نماز ہوجاۓ گی اگر قرأت کے بعد دوبارہ رکوع نہیں کیا تو نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی ، صرف سجدہ سہو سے کام نہیں چلے گا*۔ 
*(ماخوذ از مسائل سجدہ سہو، صفحہ ۶۱ )*
*اور ایساہی فتاویٰ فقیہ ملت، جلد اول صفحہ ۲۱۸ میں ہے* 

*(۲) اگر نماز میں کئی غلطیا ہوگئیں یعنی کئی واجب چھوٹ گئے تو سب کے لیے ایک ہی سجدہ سہو کافی ہے*۔ 
*جیساکہ حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:* 
*کہ ایک نماز میں کئی واجب ترک ہوۓ تو وہی دو سجدہ سب کے لیے کافی ہیں*۔ 
*(بہار شریعت، مطبوعہ دعوت اسلامی، جلد ۱، حصہ چہارم، سجدہ سہو کا بیان، صفحہ۷۱۰)*

*(۳) یاد رکھیں کہ نماز کے قعدہ اخیرہ میں درودشریف اور دعا پڑھنا سنت ہے اور سنت کے ترک سے نماز ناقص ہوتی ہے، اور ثواب میں کمی آجاتی ہے، اور اس کی عادت بنا لینے والا مستحق عذاب ہے، لیکن ترک سنت سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا ہے*۔ 
*(مومن کی نماز، نماز کی سنتوں کا بیان)* 
       *لہذا اگر کسی نے التحیات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا اور درود شریف اور دعا نہیں پڑھا تو ترک سنت کی وجہ سے برا کیا اور لیکن نماز ہوگئی، اعادہ بھی واجب نہیں،البتہ ثواب میں کمی آگئی*۔
 
     *وَاللّٰــــهُ تَعَـــالــٰی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب*
*(کتبـــــــــــــــــــــــــہ )*
*محمد چاند رضا، دلانگی، متعلم دارالعلوم غوث اعظم، مسکیڈ یہ ہزاری باغ، جھارکھنڈ*
 91 7970728386*

 *الـجـواب صـحـیــح*
*حــضـــرت عـــلامــہ و مـــولانــا محمــــــــد ابراہیم خان الـقــادری الرضـــوی الامجــــدی  صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنورانی،بلرامپوری خطیب و امام بھیونڈی،مہاراشٹر۔*
 *رابـطــہ کـریـں*
 *📲+91 7276556912*

دارالاسلام اور دارالحرب کسے کہتے ہیں اور ہندوستان دارالاسلام ہے یا دارالحرب؟


 
*السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ*
         *کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دارالحرب اور دارالاسلام کسے کہتے ہیں اور ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالاسلام*؟ 
*اس کا جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں!حوالہ کے ساتھ*۔
 _*الســائل ۔محمد مختار انصاری*_ 
*____________________________________*
_*وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ*_  
_*الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب* 
         *دارالحرب وہ مقام ہے جہاں احکام شرک و کفر علانیہ جاری ہوں اور احکامِ اسلام و شعائر مطلقاً(بالکل) جاری نہ ہو پائیں ہوں ۔۔ (دارالحرب کو سمجھنے کے لیےحضورﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے سے پہلے مکہ کی حالات کو ذہن وفکر میں لائیں کہ اس وقت مکہ مکرمہ میں کفروشرک کے احکام علانیہ جاری تھے اور اسلامی احکام بالکل نافذ نہ تھے  بلکہ حالت یہ تھی کہ اگر کسی کو احکام اسلام مثلاً آذان و نماز وغیرہ پر علانیہ عمل کرتے ہوئے دیکھ لیا جاتا تو اس کو سخت ترین سزا دی جاتی تھی،لیکن جب مکہ مکرمہ بحمداللہ فتح ہوا تو اسی وقت سے دارالاسلام ہوگیا،کہ وہاں احکام اسلام پر علانیہ عمل کیے جانے لگے،بغیر کوئی خوف محسوس کیے )*

 *اور دارالاسلام یہ ہےکہ جہاں اسلامی احکام  و شعائرجاری ہوں،( مثلاً نماز جمعہ و عیدین،نماز پنجگانہ اورآذان وغیرہ دیگر احکام علانیہ طور پر  ادا کیے جا رہے ہوں) تووہ دارالاسلام ہے*۔۔۔۔
      
 *مذکورہ بالا باتوں سے یہ واضح ہو گیاکہ ہندوستان دارالاسلام ہے نہ کہ دارالحرب اس لیے کہ یہاں اللہ کے فضل سے نماز ، آذان، نکاح، تعلیم و تربیت، اسلامی جلسہ جلوس اور ان کے علاوہ دیگر احکام اسلام علی الاعلان جاری ہیں اورعلانیہ ادا کیے جاتے ہیں، نہ کہ چھپ چھپ کر*۔۔۔۔

       *اور اسی کے اثبات میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے ایک رسالہ تصنیف فرمائی ہے، جس کا نام ہے،، اعلام الاعلام بانّ ھندوستان دارالاسلام ،، یہ رسالہ فتاویٰ رضویہ جدید، جلد۱۴، صفحہ ۱۰۵، میں موجود ہے، آپ اس کا مطالعہ کر کے دارالاسلام اور دارالحرب کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ فرمائیں*۔۔
*تنبیہ۔۔ ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے، لیکن یہاں کے کفار ذمی نہیں ہیں بلکہ حربی ہیں، کیوں کہ وہ کسی بادشاہ اسلام کے امان میں نہیں ہیں، اور ذمی کافر اس کو کہتے ہیں جو دارالاسلام میں کسی بادشاہ اسلام کے امان میں ہو۔*۔

*وَاللّٰــــهُ تَعَـــالــٰی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب*
*(کتبـــــــــــــــــــــــــہ)*
*محمد چاند رضا، دلانگی، متعلم دارالعلوم غوث اعظم، مسکیڈ یہ ہزاری باغ جھارکھنڈ*  
7970728386

  الـجـواب صـحـیــح *
*حــضـــرت عـــلامــہ و مـــولانــا محمــــــــد اسماعیل خان الـقــادری الرضـــوی الامجــــدی  صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنورانی*
*مقام دولہا پور پہاڑی، پوسٹ انٹیا تھوک بازار، ضلع گونڈہ یوپی*رابـطــہ کـریـں
 *91 99185 62794*

اگر کسی کو احتلام یاد ہو مگر کپڑے پر کوٸی اثر نہیں تو غسل کا شرعی حکم کیا ہے،



اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎  
 کیا فرماتے ہیں علما ٕ کرام ومفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسٸلہ کے بارے میں کہ زید جب نیند ہی میں تھا تو اس کو لگا کہ احتلام ہو گیا ہے لیکن جب بیدار ہوا تو کہیں پر بھی تری یا کوٸ ایسی چیز نہیں ملی جس سے یقین ہو جاۓ کہ احتلام ہوا ہے تو کیا زید پر غسل فرض ہوا کہ نہیں مدلل جواب عنایت فرما دٸیں عین نوازش ہوگی     
المستفتی محمد ارمان رضا رضوی  ضلع مدھوبنی بہار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
     وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
الجواب بعون الملک الوہاب، اللہم ہدایة الحق والصواب،

صورت مسٸولہ میں اگر زید کو احتلام یاد ہے مگر کپڑے پر کوٸی اثر نہیں تو غسل واجب نہیں ہے

جیساکہ حضور صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمتہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ،
اگر احتلام یاد ہے مگر اس کا کوٸی اثر کپڑے وغیرہ پر نہیں غسل واجب نہیں

بہار شریعت ج ١، ح ٢ ص ٣٢١

در مختار میں ھے 
*لا یفترض ان تذکر مع اللذة و الانزال - ولم یر بللا اجماعا* 

الدر المختار علی رد المحتار ج ١ ص ٣٠٢ دار الکتب العلمیة بیروت

ھکذا فی الفتاوی الرضویة ج ١ ص ١٠٤ رضا اکیڈمی ممبٸ
            واللہ تعالی اعلم باالصواب

کتبہ، گداٸے مصطفےٰ ﷺ احقرالعباد، محمد صادق عالم رضوی۔(متوطن) نوری نگر کمات، اتر دیناج پور۔(بنگال) الہند
الجواب صواب و المجیب مثاب 
فقط فقیر مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ


 ۱۳جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸دسمبر ٠٢٠٢؁ء بروز، منگل

ناپاک کپڑے سے نماز پڑھنا کیسا ہــــے؟

  

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کے پاس پاک کپڑا نہ ہو اور ناپاکی دور کرنے کی کوئی چیز بھی نہ ہو تو ناپاک کپڑے میں نماز پڑھے تو نماز ہوگی یا نہیں؟ 
جواب عنایت، فرمائیں کرم ہوگا

المستفتی  محمد مختار، یوپی

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
              وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
                     الجواب بعون الملک الوہاب
حضور صدرالشریعہ بدالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
اگر اس کے پاس ایسا کپڑا ہے کہ پورا نجس ہے، تو نماز میں اسے نہ پہنے اور ایک چوتھائی پاک ہے تو واجب ہے کہ اسے پہن کر پڑھے، برہنہ جائز نہیں۔ یہ سب اس وقت ہے کہ ایسی چیز نہیں کہ کپڑا پاک کرسکے یا اس کی نجاست قدر مانع سے کم کر سکے، ورنہ واجب ہوگا کہ پاک کرے یا تقلیل نجاست کرے

(بہار شریعت مطبوعہ دعوت اسلامی، جلد۱، حصہ ۳، صفحہ۴۸۵)

مذکورہ بالا حوالے سے معلوم ہوا کہ اگر اس کے پاس ایسی چیز ہے جس سے وہ اپنے کپڑے کو پاک کرسکے تو پاک کرنا واجب ہے اگر اس کے باوجود ناپاک کپڑے میں نماز پڑھے تو نہ ہوگی۔ 

اور اگر اس کے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہیں جس سے پاک کرسکے (جیساکہ سوال میں مذکور ہے۔)تو حکم شرع یہ ہے اگر کپڑا پورا نجس ہے تو نماز میں اسے نہ پہنے بلکہ برہنہ نماز پڑھے

 اور اگر پورا نجس نہیں ہے بلکہ ایک چوتھائی حصہ پاک ہے تو واجب ہے کہ اسی کپڑے کو پہن کر نماز پڑھے، نماز ہوجائے گی، اس صورت میں برہنہ ہوکر پڑھنا جائز نہیں

نوٹ برہنہ نماز پڑھنے میں افضل یہ ہے کہ بیٹھ کر پڑھے اور رکوع سجود اشارہ سے کرے۔ کھڑے ہوکر بھی پڑھ سکتا ہے

تنبیہ  یہ سوال فرضی معلوم ہوتا ہے کیونکہ فی زمانہ کسی شخص کے پاس ایک بھی پاک کپڑا نہ ہو اور ایسی چیز بھی نہ ہو جس سے ناپاکی دور کرسکے بہت ہی نادر ہے لہذا اس طرح کے فرضی سوالات کرکے علماء کو پریشان کرنے سے حتی الامکان احتراز کریں! 
والله تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب
کتبہ محمد چاند رضا اسمعیلی دلانگی، دارالعلوم غوث اعظم مسکیڈیہ،ہزاریباغ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی

۱۱/جمادی الاولی ۱۴۴۲ ہجری
۲۷/دسمبر ۲۰۲۰ عیسوی

حالت نماز میں موبائل کی گھنٹی بجے تو کیا کریں



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ زید نماز کی حالت میں بجتا ہوا موبائل کو بند کرتا ہے ایسی صورت میں اس کی نماز ہوئی یا نہیں
المستفتی انور رضا گونڈہ پوپی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
                     الجواب بعون الملک الوھاب

زید کو چاہیے نماز شروع کرنے سے پہلے موبائل کو بند کر لیں کیونکہ موبائل سے نماز میں خلل پہنچنے کا اندیشہ ہے کبھی کبھی لوگ موبائل کو وائبریشن بھی کر دیتے جس کی وجہ سے تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے حالت نماز میں اگر موبائل کی گھنٹی بجی اور رنگ ٹون کی آواز زیادہ نہ ہو تو اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور اگر موبائل کی آواززیادہ ہے کہ خود اس کو اور لوگوں کو اس کی وجہ سے خلل ہو تو دھیرے سے جیب ہی میں اوپر سے بند کردے اس سے نماز فاسد نہیں ہو گی لہذا پھر سے پڑھنا لازم نہ ہوگا
البتہ اگر ایک ہی رکن مثلا قیام میں اسی طرح تین مرتبہ علاحدہ طورپر کیا یا ایک ہی بار اس طرح کیا کہ جب گنٹی بجنا شروع ہوئ تو خوب آرام سے موبائل کو جیب سے نکالا پھر اسکرین پر نام یا نمبر وغیرہ دیکھا پھر کٹ کر کےجیب میں رکھا تواب چونکہ یہ عمل کثیر ہے اسلئے نماز فاسد ہوگئ اور پھر سے پڑھنا لازم و ضروری ہے
فتاوی عالمگیری میں ہے۔اذا حک ثلثا فی رکن واحد تفسد صلوتہ ھذا اذا رفع یدہ فی کل مرۃ امااذالم یرفع فی کل مرۃ فلا تفسد ولو کان الحک مرۃ واحدۃ یکرہ کذا فی الخلاصۃ جلد اول صفحہ 104 الباب السابع فیمایفسد الصلوٰۃ من کتاب الصلاۃ 
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے
ویفسلھا کل عمل کثیر لیس من اعمالھا ولا لا صلاحھا ۔جلد دوم صفحہ 384۔385 باب مایفسد الصلوٰۃ من کتاب الصلوٰۃ
حوالہ فتاویٰ رضا دارالیتامی صفحہ 82 نماز کا بیان
                     واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیرمحمد امتیازقمررضوی عفی عنہ امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
            الجواب صحیح والمجیب نجیح 
فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
۱۲جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸   
۱۲جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸دسمبر ٠٢٠٢؁ء بروز، دوشنبہ

اچھےگھر کی تلاش میں شادی تاخیر سے کرنا کیسا ہے

  

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرا ایک سوال ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ہمارے علاقے میں بعض جگہوں میں دیکھا گیا ہے لڑکے لڑکیاں جب بالغ ہو جاتے ہیں تو اچھے گھر کی تلاش میں شادی میں تاخیر کراتے ہیں یہ کہیں لکھا ہے قران و حدیث میں کیا لڑکی یا لڑکے کی شادی امیر گھرانے میں ہو
                       سائلہ رضویہ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

                وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
                    الجواب بعون الملک الوھاب

اچھے سے اگر مراد مالدار ہے تو مالدار گھرکے تلاش کی وجہ سے شادی میں تاخیر کرنا درست نہیں اگر اس تلاش میں لڑکا یا لڑکی کوئی گناہ کر بیٹھے تو ان کے والدین اس گناہ میں برابر کے شریک ہوں گے شادی بیاہ کے موقع پر مالدار نہیں بلکہ دیندار کی جستجو کی جائے ہر ماں باپ پر ضروری ہے کہ لڑکا یالڑکی بالغ ہو جاۓ تو ان کی شادی کسی کفو سے کردیں۔ ایسا کوئی حدیث موجود نہیں ہے امیر یا مالدار کے گھر شادی کریں امیر گھرانہ نہ ملنے کی وجہ سے اگر شادی سے رک جائیں تو محض گنہگار ہوں گے
رشتوں میں امیری اور غریبی نہیں دیکھی جاتی ہے اگر لڑکا دیندا رہے اور لڑکی پرہیزگار ہے تو اسے بہتر رشتہ کوئی نہیں 

مجدید اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں جب لڑکا جوان ہو تو شادی کر دے شادی میں وہی رعایت قوم ودین سیرت وصورت ملحوظ رکھے چند سطر بعد ہے جب کفو ملے نکاح میں دیر نہ کرے حتی الامکان بارہ برس کی عمر میں بیاہ دے زنہار کسی فاسق فاجر خصوصا بدمذہب کے نکاح میں نہ دے اھ
 فتاویٰ رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ 47 

لڑکے بالغ ہونے کی عمر کم از کم بارہ سال اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال ہے اور لڑکی کی کم از کم 9 سال اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال ہے

حوالہ فتاوی مرکزتربیت افتاء

               واللہ اعلم بالصواب
 کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرامپوری
 ۱۲جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸دسمبر 
٠٢٠٢؁ءبروز، دوشنبہ

لیدر جاکیٹ پہن کر نماز پڑھنا عندالشرع کیساہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کے  لیدر کی جاکیٹ پہن کر نماز پڑھ سکتے ہیں کہ نہیں  پورا تفضیل سے بتائیں بڑی مہربانی ہوگی جلدی جواب عنایت فرمائیں 
المستفتی محمد جاوید رضوی جموں وکشمیر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
                 وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
                     الجواب بعون الملک الوھاب
جاکیٹ اور صدری پہن کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں چمڑے کا جاکیٹ یاکوٹ پر کوئی قباحت نہیں لیکن چین اور بٹن بند کر لیں تاکہ جاکیٹ یاکوٹ صدری وغیرہ لٹکتا معلوم نہ ہو 
جیسا کہ حضور اعلیٰ حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں
کھال کی کوئی چیز مثل مشکیزہ وغربال وپوستین توتشہ دان وفرش وتکیہ دجلہ کتا ب وغیرہا ناکر اپنے تصرف میں لانا بھی روا
اسی طرح مذہب صحیح میں جلد ولحم کی تبدیل بھی ایسی اشیاء سے جائز ٹھہری جواپنی بقاۓعین کےساتھ استعمال میں آۓجیسےبرتن کتابیں کپڑا ہدایہ وغیرہاکتب کثیرہ میں ہے:
ہدایہ کےالفاظ میں ہے کہ اس کی کھال سے استعمال والےآلات بناۓجائں مثلاً بچھوناتھیلا غربال چھلنی جیسی چیزیں کیوںکہ کھالوں سےانتفاع حرام نہیں

فتاویٰ رضویہ جلد٢٠صفحہ ٤٦٩
 حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں پوستین یعنی کھال کا کوٹ یا کُرتہ پہننا جائز ہے۔ بزرگانِ دین، علما و مشایخ نے پہنی ہے۔ جو جانور حلال نہیں  ، اگر اس کو ذبح کرلیا ہو یا اس کے چمڑے کی دباغت کرلی ہو تو اُس کی پوستین بھی پہنی جاسکتی ہے اور اس کی ٹوپی اوڑھی جاسکتی ہے، مثلاً لومڑی کی پوستین یا سمور کی پوستین کہ بلی کی شکل کا ایک جانور ہوتا ہے جس کی پوستین بنائی جاتی ہے۔ اسی طرح سنجاب کی پوستین، یہ  گھونس کی شکل کا جانور ہوتا ہے۔عالمگیر 
      درندہ جانور شیرچیتا وغیرہ کی پوستین میں بھی حرج نہیں اس کو پہن سکتے ہیں  ، اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں عالمگیری اگرچہ افضل ا س سے بچنا ہے۔ حدیث میں  ’’ چیتے کی کھال پر سوار ہونے کی ممانعت آئی ہے
بہار شریعت حصہ شانزدہم صفحہ ٤٢١
اس کلام سے پتہ چلتا ہے چمڑے یعنی لیدر کا جاکیٹ یاکوٹ پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے 
                 واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیرمحمد امتیازقمررضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھار کھنڈ 
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرامپوری
 ۱۲جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸دسمبر ٠٢٠٢؁ء بروز، دوشنبہ

خـطـبہ جمعہ وعیدین ونکاح میں اداب وسنـت طـریـقــہ کیـا ہـے؟


الســلام علیکم ورحمتـــہ اللہ وبـرکـاتـہ 

 الســـــــــــوال ↧↧ 
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جمعہ و عیدین و نکاح میں جو خطبہ پڑھی جاتی ہے اس کے آداب و طریقہ بیان فرمائیں کرم نوازش ہوگی

الســائل  المستفی محمد وسیم القادری الرضوی راج محل جھار کھنڈ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 وعلیکم الســلام ورحمتہ اللہ وبـرکاتـہ 
 الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ↧↧

(1) خطبہ جمعہ میں اداب و سنت وطریقہ، خطبہ میں  یہ چیزیں  سنت ہیں
(۱)  خطیب کا پاک ہونا
(۲)  کھڑا ہونا
(۳)  خطبہ سے پہلے خطیب کا بیٹھنا
(۴)  خطیب کا ممبر پر ہونا۔  اور
(۵)  سامعین کی طرف منھ۔  اور
(۶)  قبلہ کو پیٹھ کرنا اور بہتر یہ ہے کہ ممبر محراب کی بائیں  جانب ہو۔
(۷)  حاضرین کا متوجہ بامام ہونا
(۸)  خطبہ سے پہلے اَعُوْذُ بِاللہ آہستہ پڑھنا*
(۹)  اتنی بلند آواز سے خطبہ پڑھنا کہ لوگ سنیں*
(۱۰)  الحمد سے شروع کرنا*
(۱۱)  ﷲ عزوجل کی ثنا کرنا
(۱۲)  ﷲ عزوجل کی وحدانیت اور رسول ﷲ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینا
(۱۳)  حضور (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر درود بھیجنا
(۱۴)  کم سے کم ایک آیت کی تلاوت کرنا
(۱۵)  پہلے خطبہ میں  وعظ و نصیحت ہونا
(۱۶) دوسرے میں حمد و ثنا و شہادت و درود کا اعادہ کرنا
(۱۷)  دوسرے میں  مسلمانوں  کے لیے دُعا کرنا
(۱۸)  دونوں  خطبے ہلکے ہونا
(۱۹)  دونوں  کے درمیان بقدر تین آیت پڑھنے کے بیٹھنا۔ مستحب یہ ہے کہ دوسرے خطبہ میں  آواز بہ نسبت پہلے کے پست ہو اور خلفائے راشدین وعمّین مکرمین حضرت حمزہ و حضرت عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کا ذکر ہو بہتریہ ہے کہ دوسرا خطبہ اس سے شروع کریں
الحمدللہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونومن بہ ونتوکل علیہ
 بہار شریعت حصہ چہارم
 (2)خطبہ عیدین۔خطبۂ جمعہ کے علاوہ اور خطبوں کا سننا بھی واجب ہے، مثلاً خطبۂ عیدین و نکاح وغیرہما۔  (درمختار)
بہار شریعت حصہ چہارم*حضرت محمد صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نمازعید سے فراغت کرکے خطبہ پڑھتے تھے اور بعد اس کےمعاودت فرماتے، 
 فتاویٰ رضویہ جلد 8ص551

(3) نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا، کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا۔ مسجد میں  ہونا۔ جمعہ کے دن گواہانِ عادل کے سامنے وغیرہ
 بہار شریعت حصہ ہفتم
وَاللّٰــــهُ تَعَـــالــٰی اَعـــلَمُ بِــالصَّــــوَاب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ
فقیـــر  محمــــــــد امــتـیـاز قـمـر الـقــادری رضـــوی الامجــــدی  صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـورانــی*مــدنـگـنـڈی بـلـیـابــرنــی  گــریـڈیــہ جـھـار کـھـنـڈ
الـجـواب صـحـیــح فقیـــر محمــــــــد اســـمــا عــیــل خــان الـقـــادری الرضـــــوی الامجــــدی عـفـی عــنـہ  گــونــڈہ یـــوپـــی
 الـجـواب صـحـیــح
فقیـــر محمد ابراہیم خان قادری امجدی صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والــنورنی بلرامپوری  
الجــوابــــ صـحـیح فقیر محمد باصر علی رضوی، خادم مسجد عطائے رسول راجیو نگر کھجوری دہلی
الجــوابــــ صـحـیح
فقیرمحمــــــــد مشـــا ہـد رضـــا الـقــادری رضـــوی عفی عنـــہ
 (۲٦)  ذی القعدہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۱٨) جولائی ٠٢٠٢؁ء بروز  سوموار

وضو کرنے کے بعد ستر کھل جائے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟



السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر وضو کرنے کے بعد ستر کھل جائے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ 
حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں! مہربانی ہوگی
السائل۔۔۔۔ محمد رضا، یوپی
_____________________________________

 السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ 
الجواب بعون الملک الوہاب۔ 

حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی تحریر فرماتے ہیں:
عوام میں جو مشہور ہے کہ گھٹنا یا ستر کھلنے یا اپنا پرایا ستر دیکھنے سے وضو جاتا رہتا ہے، محض بے اصل بات ہے۔ ہاں وضو کے آداب سے ہے کہ ناف سے زانو سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا ہو بلکہ استنجے کے بعد فوراً ہی چھپا لینا چاہیے کہ بغیر ضرورت ستر کھلا رہنا منع ہے اور دوسرے سامنے تو ستر کھولنا حرام ہے۔ 
(بہار شریعت مطبوعہ دعوت اسلامی،ج ۱، ح۲، صفحہ ۳۰۹)

اور حضور سیدی اعلی حضرت رضی عنہ ربہ القوی فرماتے ہیں:
ستر کھلنے یا دیکھنے سے وضو جاتا ہے جیساکہ عوام کی زبان زد ہے، محض بے اصل ہے۔ علماء نے ستر عورت کو آداب وضو سے گنا۔ اگر کشف (ستر کھلنے) سے وضو جاتا تو فرائض وضو سے ہوتا۔ ملخصاً
(فتاویٰ رضویہ قدیم، جلد ۱، صفحہ ۶۷ )

مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ ستر کھلنے یا کسی کا ستر دیکھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔عوام میں جو مشہور ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے یہ محض بے اصل ہے۔
ہاں بلاضرورت ستر کھولنا منع ہے بلکہ اگر دوسرے کے سامنے ہو تو حرام ہے۔ 
۔والله تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ 
کتبہ ۔۔۔۔ محمد چاند رضا اسمعیلی، دلانگی ، دارالعلوم غوث اعظم مسکیڈیہ، جھارکھنڈ۔
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
۸/جمادی الاولی ۱۴۴۲ ہجری۔

امام تکبیر تحریمہ میں لفظ اللہ اکبر آہستہ کہا تو کیا حکم ہے



اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 
 کیا فرماتے ہیں علما ٕ کرام ومفتیان شرع متین اس مسٸلہ کے بارے میں کہ امام نے بلند آواز سے اللہ اکبر نہیں کہا اور نیت باندھ لی لیکن رکوع اور سجدہ میں جو تکبیر بولی جاتی ہے وہ بولا تو اب اس امام کے اوپر عندالشرع کیا حکم نافذ ہو گا براۓ مہربانی مدلل جواب عنایت فرمایٸں ساٸل محمد ارمان رضا رضوی

____________________________________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

نماز شروع کرتے وقت لفظ اللہ اکبر تکبیر تحریمہ کہنا یہ واجب ہے مگر لفظ اللہ اکبر بلند آواز سے کہنا یہ سنن نماز میں سے ہے درمختار بہارشریعت وغیرہ البتہ امام صاحب نماز شروع کرتے وقت تکبیر کہی مگر آہستہ کہی تو نماز ہو جائے گی اور اگر امام نے تکبیر تحریمہ نہ کہی تو ادعادہ واجب ہے

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ


الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری

26/12/2020/سنیچر

 

امام کے ساتھ نماز میں جب ایک مقتدی کھڑا ہو تو بعد میں آنے والے دوسرا مقتدی کیا کرے



السلام و علیکم ورحمتہ اللہ تعالی برکاتہ

عرض یہ ہے کہ جماعت میں ایک مقتدی اور امام برابر میں کھڑا، ہے بعد میں آنے والے کو کیا کرنا چاہیے امام کو اشارہ سے آگے بڑھا دے یا بغل میں، کھڑے ہو جائے براےَ کرم جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں محمد عالمگیر اطہر

____________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

جماعت کے وقت صرف ایک ہی مقتدی ہو تو چاہیے امام کے برابر کھڑا ہو مگر امام سے آگے پاؤں نہ ہو اگر مقتدی امام سے بڑا ہے سجدہ کرنے میں آگے ہو جاتا ہے سر یا پاؤں کے انگلیاں بڑی بڑی ہیں جسے انگلیاں آگے ہو جاتی ہے تو حرج نہیں البتہ بعد میں پھر ایک مقتدی آیا تو ضروری یہی ہے امام کے پیچھے کھڑا ہو یا جماعت کھڑی ہو چکی ہے اور صرف ایک ہی مقتدی ہے تو دوسرا مقتدی بعد میں آنے والے امام کو اشارہ یا آواز دے تاکہ امام آگے بڑھ جائیں یا مقتدی کو پیچھے کھینچ  لے دوسرے مقتدی کے ساتھ امام کے پیچھے کھڑے ہو جائیں عمل اس نیت پر ہو تو یہ سب صورتیں جائز ہے چاہے تکبر کے پہلے یا تکبیر کے بعد ہو اسی طرح  بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 587 میں ہے

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

 الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری

25/12/2020/جمعہ

اگلے نبی کے امتیوں پر قبر میں سوال و جواب ہوتا تھا یا نہیں ؟



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

 ۔۔۔ سوال ۔۔۔  حضورﷺ   جب اس دنیا ں میں باحیات تھے  ۔تو قبر میں سوال ہو تے تھے یا نہیں اور ہو تے تھے تو کس طرح ۔۔۔۔بحوالہ جواب عنایت فرمائیں ۔۔۔ سائل  محمداسیر  رضوی دیناجپوری
_____________________________________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
*الجواب بعون الملک الوھاب*

حضور قفیہ ملت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ 
اگلی امتوں سےسوال قبرکے بارے میں اختلاف ہے علامہ عابدین شامی رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ اگلی امتوں سےقبر میں سوال ہوتاہی نہیں تھا جیساکہ ردالمختارجلداول صفحہ/ ٥٧٢
پر ہے ان الراجع ايضا اختصاص السوال بهذه الامة اه‍.
اور بعض علماء کےنزدیک اگلی امتوں سے قبر میں رب کی وحدانیت کےبارے میں سوال کیاجاتاتھا
محمدبن سلیمان حبلی ریحاوی رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ
سبيلى كل شخص من المكلفين اومن بنى آدم فى قبره كان يسأل عن توحيدربه الامن استثنى عن ذالك اه‍
فتاوی فقیہ ملت جلداول صفحہ نمبر/٢٨١
واللہ اعلم باالصواب

 کتبہ فقیر محمدالطاف حسین قادری عفی عنہ

الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد اختر علی واجد القادری عفی عنہ خادم شمس العلماء دار الافتاء،جامعہ اسلامیہ میراروڈ ممبئی
24/12/2020/دن جمعرات

کیافجر نماز کی سنت فجر نماز کے بعد فوراً پڑھ سکتے ہیں



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال یہ ہے کہ کیا فجر نماز کی سنت فجر نماز کے بعد فوراً پڑھ سکتے ہیں یا سورج نکلنے کے بعد ہی
المستفتی۔۔۔

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 الجوابــــــــــ: بعون الملک الوہاب

اگر فرض سے پہلے سنت فجر نہیں پڑھی ہے اور فرض کی جماعت کے طلوع آفتاب تک اگرچہ وسیع وقت باقی ہے اور اب پڑھنا چاہتا ہے تو جائز نہیں

فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ نمبر/٦٢٠

نماز فجر کے فرض سے پہلے سنت فجر شروع کرکے فاسد کردی تھی اور فرض کے بعد پڑھنا چاہتا ہے یہ بھی جائز نہیں
سنتوں کو طلوع کے بعد آفتاب بلند ہونے کے بعد قضا کرے فرض کے بعد طلوع سے پہلے پڑھنا جائز نہیں

حوالہ فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ نمبر/٤٦١/٤٥٢
سنتوں کی قضا طلوع آفتاب کے بیس منٹ بعد پڑھے۔

 ماخوذ از مومن کی نماز صفحہ نمبر/٩٣
واللہ اعلم باالصواب
 کتبہ محمدالطاف حسین قادری عفی عنہ

الجواب صحیح و المجیب نجیح 
فقیر مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ
22/12/2020/بروز منگل 

ٹیلی گرام پر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
http://T.me/AalahzratZindabadGroup

کیا مدرسےکا پیسہ مسجد میں استعمال کرسکتے ہیں




السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ

علماۓکرام کی بار گاہ میں ایک سوال ہے 
اور وہ یہ ہے 
کیا مدرسےکا پیسہ مسجد میں استعمال کرسکتے ہیں
جواب عنایت فرمائیں
محمد اشفاق خان رام نگربازار گونڈہ
__________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
الجواب بعون الملک الوھاب 
صورت مسئولہ میں مدرسہ کے فنڈے سے مسجد کی تعمیری کام میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے ۔ 
جیساکہ فتاوی مرکز ترتیب افتاء میں ہے کہ ۔
 مدرسہ کا پیسہ مسجد میں لگانا حرام وگناہ ہے اور اگر لگا لیا ہے تو اس کا تاوان ادا کریں ۔
اور بہار شریعت میں ہے کہ ۔
چندہ جس خاص مقصد کے لئے کیا جاتا ہے اسے اس مقصد میں استعمال کرنا واجب ہے اور اس کے علاوہ دیگر مقاصد میں صرف کرنا حلال نہیں ۔

بہار شریعت حصہ دہم صفحہ ۸۵
ماخوذ فتاوی مرکز ترتیب افتاء جلد دوم صفحہ ۱۵۹

لہذا ان حوالہ جات بالا سے صاف ظاہر وباہر ہوگیا کہ مدرسہ کا پیسہ مسجد میں لگانا جائز نہیں ۔ 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ 
العبد محمد مشاہدرضا قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ یوپی

✅✅الجواب صحیح 
سید شمس الحق برکاتی مصباحی  صاحب قبلہ
20/12/2020/اتوار

_________________________________________

(Bismillahirrahmanirrahim)

Seek help from Allah said Barakatuh

 There is a question in the court of scholars

 And that's it

 Can madrassa money be used in a mosque?

 Please answer

 Muhammad Ashfaq Khan Ram Nagar Bazaar Gonda

 __________________________

 Peace be upon you too, and Allah's benevolence and mercy

 The answer is with Al-Mulk Al-Wahab

 In this case, it is not permissible to use the funds of the madrassa for the construction of the mosque.

 As the Fatwa Center is in the order of Fatwa.

 It is haraam and a sin to invest the money of a madrassa in a mosque and if it is invested then pay the ransom.

 And the spring is in the law that.

 It is obligatory to use the donation for a specific purpose and it is not permissible to use it for any other purpose.


 Bihar Shariat Part X Page 2

 Derived Fatwa Center Arrangement Iftaa Volume II Page 2


 Therefore, it is clear from the above references that it is not permissible to invest the money of the madrassa in the mosque.


 Allah and His Messenger know best


 کتبہ

 Al-Abd Muhammad Mushahid Raza Qadri Rizvi Afi Anah Gonda UP


 * The correct answer

 Syed Shams-ul-Haq Barkati Misbahi Sahib Qibla

 20/12/2020 / Sunday


 ___________________________________________

میت کے سینے اور آبرو پر کلمہ طیب لکھنا کیسا ہے نیز قبر پر پانی ڈالنا کہاں سے ثابت ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ و مفتیان عظام  کہ میت کے سینے اور آبرو پر کلمہ طیب لکھنا کیسا ہے نیز قبر پر پانی ڈالنا کہاں سے ثابت ہے یہ جائز ہے یا نہیں. علمائے کرام سے گزارش ہے کہ جلد جواب ارسال فرمائیں مہربانی ہوگی
السائل جاوید احمد سلطان پور
____________________________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
 میت کے سینہ اور پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا جائز ہے ایک شخص نے اس کی وصیت کی تھی انتقال کے بعد سینہ اور پیشانی پر بسم اللہ شریف لکھ دی گئی پھر کسی نے انہیں خواب میں دیکھا حال پوچھا کہا جب میں قبر میں رکھا گیا عذاب کے فرشتے آئے فرشتوں جب پیشانی پر بسم اللہ شریف دیکھی کہا تو عذاب سے بچ گیا
اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ پیشانی پر بسم اللہ شریف لکھیں اور سینہ پر کلمہ طیبہ
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مگر نہلانے کے بعد کفن پہنانے سے پیشتر کلمہ کی انگلی لکھیں روشنائی سے نہ لکھیں
 بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر 274
اور

قبر ٹھیک کرنے کے بعد اس پر پانی چھڑکنا سنت ہےجیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ عن جابر قال رش قبر النبى صلى الله عليه وسلم وكان الذى رش الماء على قبره بلال بن رباح بقربة بدا من قبل راسه حتى انتهى الى رجليه رواه البيهقى .مشكوة باب دفن الميت الفصل الثانى.صفحہ نمبر 149 ۔۔حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مباکہ پر پانی چھڑکا گیا چھڑکنے والے حضرت بلال بن رباح تھے جنہوں نے مشکیزے سے آپ کی قبر پر پانی چھڑکا سرہانے سے شروع کیا اور قدموں تک چھڑکا۔جب پانی چھڑکا جائے تو یہ دعا پڑھے۔سقى الله ثراه وجعل الجنه مثواه . یعنی اللّٰہ تعالیٰ اس کی قبر کو سیراب فرمائے اور جنت کو اس کا ٹھکانا بنائے۔ماخوذ از بستر علالت سے قبر تک صفحہ نمبر 74/75مؤلف مولانا تاج محمد واحدی الحاصل یہ کہ قبر پر پانی چھڑکنا سنت ہے اور اس سے مردہ کو تسکین حاصل ہوتی ہےاور ہر جمعہ کو تو اس سے کوئی نقصان تو نہیں بلکہ ہمارے مرحوم کے لئے اس میں فائیدہ ہے
واللہ اعلم بالصواب

 کتبہ فقیر محمدالطاف حسین قادری رضوی عفی عنہ 

الجواب صحیح والمجیب نجیح العبد ابوالفیضان محمد 
عتیق اللہ فیضی یار علوی ارشدی عفی عنہ
20/12/2020/اتوار
  _________________________________________

جواب پڑھ کر دوسرے کو شیئر کریں یعنی اپنے دوستوں میں شئر کرے تاکہ آپ کو بھی ثواب ملے کچھ بہتر کرنے کے لیے نیک مشورہ سے نوازی اوران بکس میں لکھیں

میت کو دفن کرنے کے بعد اذان چالیس قدم پہلے یا چالیس قدم بعد؟



السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ

سوال 
قبرستان میں میت کو دفن کرنے کے بعد کچھ لوگ کہتے ہیں کے اذان  دو مگر چالیس قدم لوگوں کو جانے کے بعد دینا پہلے نہیں کیا یہ صحیح ہے یا چالیس قدم ہو یا نا ہو اذان دے سکتے ہے صحیح قول کیا ہے 
جواب مدلل ہو 
فقیر محمد شمشیر رضا شمسی 
بہار
_____________________________________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
قبر میں میت کو دفن کرنے کے بعد اذان دینا مستحب ہے رہی بات چالیس قدم چلنے کے بعد  اذان دینا تو ضروری نہیں ہے  البتہ چالیس قدم کے بعد اگر آذان دے بھی دیے تو کوئی حرج اور ممانعت نہیں ہے لیکن اس کو مخصوص سمجھنا فرض واجب تو محض فضول ہے ہاں آذان کا ثبوت ہے اور بے شمار دلائل بھی موجود ہیں بعض نے دفن کرتے وقت یعنی میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان دینے کے بارے میں بعض فقہاء نے نص کو نقل کرتے ہوئے تصحیح کیا دفن کرنے کے بعد جب لوگ جانے لگے چند دلائل آپ کے سامنے موجود ہیں 
بعض علمائے دین نے میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان کہنے کو سنّت فرمایا،امام ابن حجر مکّی وعلّامہ خیر الملۃ والدّین رملی استاذ صاحبِ دُرمختار علیہم رحمۃ الغفار نے اُن کا یہ قول نقل کیا۔مکّی نے اپنے فتاوٰی اور شرح العباب میں نقل کیا اور اس نے معارضہ کیا،رملی نے حاشیہ البحرالرائق میں نقل کیا اور اسے کمزور کہا
۔حق یہ ہے کہ اذان مذکور فی السوال کا جواز یقینی ہے ہرگز شرع مطہر سے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلًا ممنوع نہیں ہوسکتا قائلانِ جواز کے لئے اسی قدر کافی،جو مدعیِ ممانعت ہو دلائل شرعیہ سے اپنا دعوٰی ثابت کرے،پھر بھی مقامِ تبرع میں آکر فقیر غفرالله تعالٰی لہ بدلائل کثیرہ اس کی اصل شرع مطہر سے نکال سکتا ہے جنہیں بقانونِ مناظرہ اسانید تصور کیجئے فاقول: وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔ 
*دلیل اوّل:  وارد ہے کہ جب بندہ قبر میں رکھا جاتا اور سوالِ نکیرین ہوتا ہے شیطان رجیم (کہ الله عزوجل صدقہ اپنے محبوب کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کا ہر مسلمان مرد و زن کو حیات وممات میں اس کے شر سے محفوظ رکھے) وہاں بھی خلل انداز ہوتا ہے اور جواب میں بہکاتا ہے والعیاذ بوجہ العزیز الکریم ولاحول ولاقوۃ الّا بالله العلی العظیم۔امام ترمذی محمد بن علی نوادر الاصول میں امام اجل سفیٰن ثوری رحمہ الله تعالٰی سے روایت کرتے ہیں 
اذا سئل المیت من ربك تراأی لہ الشیطان فی صورت فیشیر الی نفسہ ای اناربك فلھذا ورد سوال التثبیت لہ حین یسئل۔ یعنی جب مُردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان اُس پر ظاہر ہوتا اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہُوں،اس لئے حکم آیا کہ میت کے لئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں۔
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ٣٢٣
امام ترمذی فرماتے ہیں
ویؤیدہ من الاخبار قول النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عند دفن المیت اللھم اجرہ من الشیطان فلولم یکن للشیطان ھناك سبیل مادعا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بذلك
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ٣٢٣
اور صحیح حدیثوں سے ثابت کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے،صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی حضور اقدس سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
 اذااذن المؤذن ادبر الشیطان ولہ حصاص ۔الصحیح لمسلم باب فضل الاذان وہرب الشیطان عندسماعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/١٦٧
صحیح مسلم کی حدیث جابر رضی الله تعالٰی عنہ سے واضح کہ چھتیس میل تك بھاگ جاتا ہے ۔اور خود حدیث میں حکم آیا جب شیطان کا کھٹکا ہو فورًا اذان کہو کہ وہ دفع ہوجائے گا   اخرجہ الامام ابوالقاسم سلیمٰن بن احمد

الطبرانی فی اوسط معاجیمہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ(اسے امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)،ہم نے اپنے رسالہ نسیم الصبافی ان الاذان یحول الوبا (صبح کی خوشگوار ہوا اس بارے میں کہ اذان سے وبا دُور ہوجاتی ہے۔ت) میں اس مطلب پر بہت احادیث نقل کیں،اور جب ثابت ہولیا کہ وہ وقت عیاذًا بالله مداخلت شیطان لعین کا ہے اور ارشاد ہُوا کہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے اور اس میں حکم آیا کہ اُس کے دفع کو اذان کہو تو یہ اذان خاص حدیثوں سے مستنبط بلکہ عین ارشادِ شارع کے مطابق اور مسلمان بھائی کی عمدہ امداد واعانت ہُوئی جس کی خوبیوں سے قرآن وحدیث مالامال۔

*دلیل دوم:  امام احمد وطبرانی وبیہقی حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہما سے راوی:

قال لمادفن سعد بن معاذ (زاد فی روایۃ) وسوی علیہ سبح النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وسبح الناس معہ طویلا ثم کبر وکبرالناس ثم قالوا یارسول الله لم سبحت (زاد فی روایۃ) ثم کبرت قال لقد تضایق علی ھذا الرجل الصالح قبرہ حتی فرج الله تعالٰی عنہ 

یعنی جب سعد بن معاذ رضی الله تعالٰی عنہ دفن ہوچکے اور قبر درست کردی گئی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دیر تك سبحان الله فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر حضور الله اکبر الله اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے،پھر صحابہ نے عرض کی یارسول الله ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے؟ ارشاد فرمایا: اس نیك مرد پر اُس کی قبر تنگ ہُوئی تھی یہاں تك کہ الله تعالٰی نے وہ تکلیف اُس سے دُور کی اور قبر کشادہ فرمادی۔
مسند احمد بن حنبل عن مسندہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما مطبوعہ دارالفکر بیروت ٣/٣٧٧۔٣٦٠
ماخوذ فتاویٰ رضویہ جلد ۵ صفحہ ۶۵۵

یعنی حدیث کے معنی یہ ہیں کہ برابر مَیں اور تم الله اکبر الله اکبر سبحان الله کہتے رہے یہاں تك کہ الله تعالٰی نے اُس تنگی سے انہیں نجات بخشی۔اھ 

اقول:اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پر الله اکبر الله اکبر بار بار فرمایا ہے اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنّت ہُوا،غایت یہ کہ اذان میں اس کے ساتھ اور کلمات طیبات زائد ہیں سو اُن کی زیادت نہ معاذالله کچھ مضر نہ اس امر مسنون کے منافی بلکہ زیادہ مفید ومؤید مقصود ہے کہ رحمتِ الٰہی اتارنے کے لئے ذکر خدا کرنا تھا،دیکھو یہ بعینہٖ وہ مسلك نفیس ہے جو دربارہ تلبیہ اجلہ صحابہ عظام مثل حضرت امیرالمومنین عمر وحضرت عبدالله بن عمر وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت امام حسن مجتبٰی وغیرہم رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین کو ملحوظ ہوا اور ہمارے ائمہ کرام نے اختیار فرمایا،ہدایہ میں ہے یعنی ان کلمات میں کمی نہ چاہئے کہ یہی نبی صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہیں تو اُن سے گھٹائے نہیں اور اگر بڑھائے تو جائز ہے کہ مقصود الله تعالٰی کی تعریف اور اپنی بندگی کا ظاہر کرنا ہے تو اور کلمے زیادہ کرنے سے ممانعت نہیں اھ ملخصا

فقیر غفرالله تعالٰی لہ،نے اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین ١٣٠٦ھ وغیرہا رسائل میں اس مطلب کی قدرے تفصیل کی۔

*دلیل سوم: بالاتفاق سنّت اور حدیثوں سے ثابت اور فقہ میں مثبت کہ میت کے پاس حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ لاالٰہ الاالله کہتے رہیں کہ اُسے سُن کر یاد ہو حدیث متواتر میں ہے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں

لقنوا موتاکم لاالٰہ الالله اپنے مردوں کو لا الٰہ الا الله سکھاؤ

اسے احمد،مسلم،ابوداؤد،ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی الله تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ نے مسلم کی طرح حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ اور نسائی کی طرح حضرت ام المومنین عائشہ رضی الله تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے
اب جو نزع میں ہے وہ مجازًا مردہ ہے اور اُسے کلمہ اسلام سکھانے کی حاجت کہ بحول الله تعالٰی خاتمہ اسی پاك کلمے پر ہو اور شیطان لعین کے بھُلانے میں نہ آئے اور جو دفن ہوچکا حقیقۃً مُردہ ہے اور اُسے بھی کلمہ پاك سکھانے کی حاجت کہ بعون الله تعالٰی جواب یاد ہوجائے اور شیطان رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشك اذان میں یہی کلمہ لاالٰہ الّا الله تین جگہ موجود بلکہ اُس کے تمام کلمات جواب نکیرین بتاتے ہیں ان کے سوال تین ہیں ١ من ربك تیرا رب کون ہے؟ ٢ مادینك تیرا دین کیا ہے؟ ٣ ما کنت تقول فی ھذا الرجل تُو اس مرد یعنی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ اب اذان کی ابتدا میں الله اکبر الله اکبر الله اکبر الله اکبر اشھد ان لاالٰہ الاالله اشھد ان لاالٰہ الاالله اور آخر میں الله اکبر الله اکبر لاالٰہ الاالله سوال من ربك کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئیگا کہ میرا رب الله ہے اور اشھد ان محمدا رسول الله اشھد ان محمدا رسول الله سوال ماکنت تقول فی ھذا الرجل کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیں الله کا رسول جانتا تھا اور حیّ علی الصلاۃ حی علی الفلاح جواب مادینك کی طرف اشارہ کریں گے کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن وستون ہے کہ الصلاۃ عمادالدین تو بعد دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعمیل ہے جو نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے حدیث صحیح متواتر مذکور میں فرمایا،اب یہ کلام سماعِ موتٰی وتلقینِ اموات کی طرف مخبر ہوگا فقیر غفرالله تعالٰی خاص اس مسئلہ میں کتاب مبسوط مسمّی بہ حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات تحریر کرچکا جس میں پچھتّر حدیثوں اور *پونے چارسو٤٧٥ اقوالِ ائمہ دین وعلمائے* کاملین وخود بزرگانِ منکرین سے ثابت کیا کہ مُردوں کا سُننا دیکھنا سمجھنا قطعًا حق ہے اور اس پر اہل سنت وجماعت کا اجماع قائم اور اس کا انکار نہ کرے گا مگر غبی جاہل یا معاند مبطل،اور اُسی کی چند فصول میں بحث تلقین بھی صاف کردی یہاں اُس کے اعادہ کی حاجت نہیں۔

دلیل چہارم:* ابویعلی حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اطفؤا الحریق بالتکبیر (آگ کو تکبیر سے بجھاؤ)ابن عدی حضرت عبدالله بن عباس اور وہ اور ابن السنی وابن عساکر حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رضی الله تعالٰی عنہم سے راوی حضور پُرنور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اہلِ قبرستان پر تکبیر کہنے میں حکمت یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے"اذارأیتم الحریق فکبروا"یعنی جب تم کسی جگہ آگ بھڑکتی ہُوئی دیکھو اور تم اسے بجھانے کی طاقت نہ رکھتے ہو،توتکبیر کہو کہ اس تکبیر کی برکت سے وہ آگ ٹھنڈی پڑ جائیگی چونکہ عذابِ قبر بھی آگ کے ساتھ ہوتا ہے اور اسے تم اپنے ہاتھ سے بجھانے کی طاقت نہیں رکھتے لہذا الله کا نام لو(تکبیر کہو)تاکہ فوت ہونے والے لوگ دوزخ کی آگ سے خلاصی پائیں(ت)

یہاں سے بھی ثابت کہ قبر مسلم پر تکبیر کہنا فردسنت ہے،تو یہ اذان بھی قطعًا سنت پر مشتمل اور زیادات مفیدہ کا مانع سنیت نہ ہونا تقریر دلیل دوم سے ظاہر۔
دلیل پنجم: ابن ماجہ وبیہقی سعید بن مسیب سے راوی: ساتھ ایك جنازہ میں حاضر ہوا حضرت عبدالله رضی الله تعالٰی عنہ نے جب اُسے لحد میں رکھا کہا بسم الله وفی سبیل الله جب لحد برابر کرنے لگے کہا الٰہی! اسے شیطان سے بچا اور عذاب قبر سے امان دے،پھر فرمایا میں نے اسے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سنا۔
امام ترمذی حکیم قدس سرہ الکریم الکریم بسند جید عمروبن مرہ تابعی سے روایت کرتے ہیں یعنی صحابہ کرام یا تابعین عظام مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں"الله کے نام سے اور الله کی راہ میں اور رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی ملّت پر،الٰہی! اسے عذابِ قبر وعذابِ دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش 
فتاویٰ رضویہ جلد ۵ صفحہ ۶۶۰
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
20/12/2020/اتوار

ٹیلیـــــگرام پر اعـلـی حـضـرت زنـدہ بـاد گـــروپ میں شـــــامل ہونے کے لــــئےنیــــچے دئے گــــئے لنـــک پر کلــــک کریں
*http://T.me/AalahzratZindabadGroup*

قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا سوال ہوگا یا خون کا ؟



السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ

حضرات میرا ایک سوال ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا سوال ہوگا یا خون کا ؟ اہل علم جواب دیکر شکریہ کا موقع ضرور دیں ۔
المستفتی : محمد عاطف رضا____۔

__________________________________

وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہالجواب بعون الملک الوھاب۔ احادیث مبارکہ میں دو چیزوں کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ جن کے بارے میں قیامت کے دن سب سے پہلے سوال ہوگا ( 1 ) نماز ( 2 ) ناحق خون ۔ جیسا کہ فرمان مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ  وسلَّم ہے : قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون بہانے کے متعلّق فیصلہ کیا جائے گا ۔ جبکہ ایک فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم میں ہے : سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أول ما يحاسب به العبد الصلاة و أول ما يقضى بين الناس في الدماء " اھ ( السنن الکبری للنسائی ج 3 ص 417 مطبوعہ : مؤسسۃ الرسالۃ ) اور ابن ماجہ میں ہے کہ " أخبرهم أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن أول ما يحاسب به العبد المسلم يوم القيامة، الصلاة المكتوبة " اھ ( سنن ابن ماجہ ج 1 ص 458 مطبوعہ : دار احیاء الکتب العربیہ ) مذکورہ دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض معلوم ہو رہا ہے کیونکہ پہلی حدیث میں ہے کہ قیامت میں سب سے پہلے خون کا سوال ہوگا اور دوسری حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے نماز کا سوال ہوگا ان دونوں حدیثوں کے درمیان تعارض دور فرماتے ہوئے حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " خیال رہے کہ عبادات میں پہلے نماز کا حساب ہوگا اورحقوق العباد میں پہلے قتل و خون کا یا نیکیوں میں پہلے نماز کا حساب ہے اور گناہوں میں پہلے قتل کا " اھ ( مراٰۃ المناجیح ج 2 ص 306 )واللہ اعلم بالصواب

کتبہ کریم اللہ رضوی عفی عنہ
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی
 
الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعيل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی19/12/2020//سنیچر

معذور کی نماز اور اسکا حکم



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 سوال کیافرماتےہیں علماءدین ومفتیان شرع متین اس مسٸلہ میں کہ مجھے  15 سال سے پیشاب کے قطرے  آتے ہیں اس بماری کا علاج بھی نہیں ہو رہا ہے نماز  پڑھتا  ہوں اس وقت بھی پیشاب کے قطرے  آتے ہیں ۔اب علماٸے کرام رہنمائی  فرماٸیں کہ میری نماز  اس صورت  میں ہوگی یا نہیں  تو میں نماز کا کیا کروں  حوالے  کے ساتھ جواب  عنایت  فرمائیں مہربانی  ہوگی۔
ساٸل۔پرویز احمد 
_________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 
وہ شخص کل جسے ہر وقت پیشاب کا قطرہ آنے کی بیماری ہے اگر نماز کا ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کرسکا تو وہ معذور ہے اس کا حکم یہ ہے کہ فرض نماز کا وقت ہوجانے پر وضو کرے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وضو سے پڑھے اس وقت پیشاب کا قطرہ آنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا پھر اس فرض نماز کا وقت چلے جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا ۔
فتاوی عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصری صفحہ ۳۸میں ہے ۔
المستحاضۃ ومن بہ سلس البول اوالستطلاق ثبطن اوانفلات الربع  اور عاف دائم اوجرح لایرقا یتوضؤن لوقت کل صلوۃ ویصلون بذالک الوضوء فی الوقت ماشاء وامن الفرائض والنوافل ھکذا فی البحر ۔ ویبطل الوضؤع ند خروج الوقت المفروضۃ بالحدث السابق ھکذا فی الھدایۃ وھو الصحیح ھکذا فی المحیط فی نواقض الوضؤ ۔ اھ 

ماخوذ فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ۱۸۵

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ فقیرمحمد مشاہد رضا قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی

الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
18/12/2020/جمعہ

کرتے کا بٹن کھلا رکھنا کیسا ہے


اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ

علماے کرام کی بارگاہ میں عرض ہیکہ 
حالت نماز میں گردن کا بٹن نہ بند کرنے سے نماز پوری ہوگی یا نہیں 
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت کرکے شکریہ کا موقع دیں
فقط والسلام علیکم
____________________________________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
نماز میں کرتے کا بٹن جو گردن یا سینے کے پاس موجود ہوتا ہے اس کو بند کرنا ضروری ہے تاکہ سینہ یا شانہ کھلا نہ رہے ایسا کرتے کا بٹن کھلا رکھنا مکروہ ہے۔ اگر کرتے کا بٹن بند ہے سینہ یا شانہ نظر نہیں آتااور اوپر سے شیروانی یا چغہ یا صدری بہنیں ہیں جس کا بٹن کھلا ہے تو کوئی حرج نہیں حضور اعلی حضرت عظیم البرکت امام اہلسنت تحریر فرماتے ہیں
کرتا جس کے بٹن سینے پر ہیں پہننا اور بوتام اتنے لگانا کہ سینہ یاشانہ کھلارہے جبکہ اوپر سے انگرکھا نہ پہنے ہو یہ بھی مکروہ ہے اور اگراوپر سے انگرکھا پہنا ہے یااتنے بوتام لگالئے کہ سینہ یاشانہ ڈھك گئے اگرچہ اوپر کا بوتام نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلارہا یاشانوں پرکے چاك بہت چھوٹے چھوٹے ہیں کہ بوتام نہ لگائیں جب بھی کرتا نیچے ڈھلکے گا شانے ڈھکے رہیں گے توحرج نہیں، اسی طرح انگرکھے پرجوصدری یاچغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں اُن کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے تو اس میں بھی حرج نہیں ہوناچاہئے کہ یہ خلافِ معتاد نہیں
فتاویٰ رضویہ جلد7 صفحہ 386
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
18/12/2020/جمعہ

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...