السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ کسی کی بیوی اگر اپنے شوہر سے بولے اگر آپ میری ہاتھ کی روٹی کھاتے ہیں تو اللہ اور اس کے رسول کا قسم
ہے ۔۔ جاءز نہیں ہوگا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب اللھم ہدایۃ الحق والصواب
ایسے قسم بے فضول ہے ایسے قسم کھانے سے مسلمانوں کو بچنا چاہیئے
جیسا کہ تفہیم المسائل میں ہے کہ کسی کے کہنے سے حلال چیز حرام تو نہیں ہوتی کہ اشیاء کو حلال و حرام قرار دینے کا حق واختیار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہے بندہ کے اختیار میں نہیں ہے تاہم اس سے قسم منعقد ہوجائےگی اور اگر وہ اسے توڑے گا تو کفارہ لازم ہوگا
بحوالہ تفہیم المسائل ص ۳۴۵ مطبوعہ ضیاءالقرآن لاھور پاکستان
مزکورہ بالا حوالہ جات سے صاف ظاہر ہو گیا کہ بیوی کی بنائ ہوئ روٹی کو شوھر کھا سکتا ہے کسی کے کہنے سے حلال چیز حرام نہیں ہو سکتا اور بیوی قسم کو توڑدے اور کفارہ لاز ہے،
قسم کے کفارے کے متعلق حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو جوڑے دے یا دس مسکینوں کو فی مسکین ایک صاع جو یا نصف صاع گیہوں یا اس کی قیمت دے اور جس سے یہ نہ ہوسکے وہ تین روزے رکھے
(فتاوی رضویہ مترجم جلد ۱۳ ص ۵۰۷)
ارشاد باری تعالیٰ ہے
لایواخذکم اللہ باللغوفی ایمانکم ولکن یؤخذ کم بماعقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین من اوسط ماتطعمون اھلیکم اوکسو تھم او تحریر رقبتہ فمن لم یجد فصیام ثلثتة ايام ذلك كفارة ايمانكم إذا حلفتم واحفظوا ايمانكم كذلك يبين الله لكم آيته لعلكم تشكرون
یعنی اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا
اپنے گھر والوں کو جو کھلاتےہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یاایک بردہ غلام آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائیں تو تین دن کے روزے یہ بدلا ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللہ تم سے اپنی
آیتیں بیان فرماتا ہےکہ کہیں تم احسان مانو
القرآن الکریم کنزالایمان اعلی حضرت سورۃ مائدہ پارہ ۷
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد محبوب عالم امجدی مقام آزاد نگر نچلول مہراجگنج
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اختر علی واجد القادری عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسمعیل خان امجدیؔ عفی عنہ گونڈہ یوپی
۱۳جماد الاولی ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۸دسمبر ٠٢٠٢ء بروز، منگل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں