کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ کچھ لوگ دیوبندی کے نماز جنازہ مین گئے
دیوبندی امام نے نماز جنازہ پڑھائی اس کے پیچھے کچھ لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی
انھوں نے توبہ نہیں کی انکے یہاں امام کا جانا قرآن خوانی کرنا کیسا ہے؟
محمد ذاکر حسین
الجواب ، دیوبندیوں کی نماز جنازہ نہیں کیوں کی نماز جنازہ اسی کی ہوتی ہے جو مسلمان ہو اور دیو بندی وہابی توہین خدا ورسول اور ضروریات دین سے انکار کے باعث اسلام سے خارج ہیں، وہ ہرگز مسلمان نہیں۔
حضور اعلی حضرت محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں،
وہابی کی نماز نہ کسی کے پیچھے ہو سکتی ہے نہ خود تنہا، نہ اس کے پیچھے کسی کی ہو سکتی ہے اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو کہ صحت نماز کے لیے پہلی شرط اسلام ہے اور وہابیہ توہین خدا و رسول کے سبب اسلام سے خارج ہیں۔ ( فتاوی رضویہ جلد: 6، : 623، رضا فاونڈیشن لاہور)
حضور تاج الشریعہ علیہ رحمہ تحریر فرماتے ہیں،
اور اگر دیوبندی کو مقتدا یا مسلمان جانا یا اس کے کسی کفر سے راضی ہوا تو اسی کی طرح کافر ہے اس صورت میں توبہ و تجدید ایمان اس پر فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ ( فتاوی تاج الشریعہ جلد2 . صفحہ 158)
اس لیے دیوبندیوں کی جنازہ ہرگز نہ پڑھی جائے ، اور کچھ لوگوں نے اپنا امام و مقتدی مانتے ہوئے، اور مسلمان جانتےہوئے اس کی جنازہ یا اس کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ان سب پر تجدید ایمان، اور بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح، لازم و ضروری۔
البتہ وہ لوگ جو دیوبندیوں کی جنازہ گئے تھے اگر وہ حضرات اس دیوبندی امام کو مقتدا ومسلمان نہ جانابلکہ اس کو کافر مرتد جانتے ہوے عذر شرعی اس کے پیچھے صرف کھڑے ہوگئے تو اسلام سے خارج تو نہ ہوئے مگرسخت گنہگار ضرورہوے ان پر توبہ لازم ہے،،
لہذا جب تک توبہ استغفار نہ کر لے ان کے یہاں قرآن خوانی میلاد خوانی کے لیے کسی کو بھی جانا سخت منع ہے،
واللہ اعلم بالصواب
محمد امتیاز قمر امجدی گریڈیہ جھارکھنڈ