ناپاکی کی حالت میں فاتحہ کرنا کیسا؟

 


*🔗ناپاکی کی حالت میں  فاتحہ کرنا کیسا ؟🔗*

*☆☆☆ـــــــــــــ🌺🏵️⁩🌺ـــــــــــــ☆☆☆*

*غلام تاج الشریعہ ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں👇👇*

*https://t.me/+qeN7NztnLh9mMWVl*

 


*🥏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*🪀کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ ناپاکی کی حالت میں فاتحہ ہوگی یا نہیں اور اگر کوئی کردے تو اس کے لئے کیا حکم ہے*

*جواب دےکر عنداللہ ماجور ہوں*


*🔰☆ المستفتی ⇩⇩⇩☆*

*محمد اسرار ازہری بہرائچ*

 🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏

   *وعلیــکم الســـلام و رحمۃ اللہ برکاتہ*


*💠الجــواب بــعون المــلک الــوھــاب*

*✒️ فاتحہ ایصال ثواب کو کہتے ہیں  جس میں عموما چاروں قل اور سورہ فاتحہ اور قرآن کی کچھ آیتیں پڑھی جاتی ہے اور ہمارے یہاں یہ رائج ہے کہ کچھ شیرنی پانی وغیرہ بھی ساتھ میں ایصال ثواب کیا جاتا ہے*

*👈لیکن ناپاکی کی حالت میں کسی بھی آیت کریمہ کا بطور تلاوت دیکھ کر یا زبانی پڑھنا حرام ہے اور ایسا کرنا سخت گناہ ہے، اور  قرآن پاک کی وہ آیت کریمہ جو ذکر وثنا،ومناجات،ودعاہوں، اور تینوں قل بلا لفظ، بہ نیت دعا، تبرک پڑھ سکتا ہے لیکن بہتر ہے نہ پڑھیں،!*

*📚فتاویٰ رضویہ شریف ،ج ،اول، ص، ١٠٨٠، رضا ، لاہور میں ہے ،،👇*

*اوّلًا: یہ معلوم فـــــ رہے کہ قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثنا ومناجات ودُعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے آیۃ الکرسی متعدد آیات کاملہ جیسے سورہ حشر شریف کی اخیر تین آیتیں ہُوَ اللہُ الَّذِیۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ عٰلِمُ الْغَیۡبِ وَ الشَّہٰدَۃِ۔۔۔۔۔سے آخر سورۃ تک ،بلکہ پوری سورت جیسے الحمد شریف بہ نیت ذکر ودعا بے نیت تلاوت پڑھنا جنب وحائض ونُفسا سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتدا میں بسم الله الرحمٰن الرحیم کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ ایك آیت مستقلہ ہے کہ اس سے مقصود تبرك واستفتاح ہوتا ہے، نہ تلاوت، تو حسبنا الله ونعم الوکیل اور انّا الله وانّا الیہ راجعون کہ کسی مہم یا مصیبت پر بہ نیت ذکر ودعا، نہ بہ نیت تلاوت قرآن پڑھے جاتے ہیں، اگرچہ پوری آیت بھی ہوتی تو مضائقہ نہ تھا جس طرح کسی چیز کے گُمنے پرعَسٰی رَبُّنَاۤ اَنۡ یُّبْدِلَنَا خَیۡرًا مِّنْہَاۤ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوۡنَ ﴿۳۲)*

*📒اور اسی میں ہے ، البحر الرائق کتاب الطہارۃ باب الحیض ، ١/١٩٩،پر ہے،،*

*👈ھذا کلہ اذا قرأ علی قصد انہ قراٰن اما اذا قراہ علی قصد الثناء اوافتتاح امر لایمنع فی اصح الرویات،، ترجمہ ، یہ سب اس وقت ہے جب بقصدِ قرآن پڑھے۔لیکن جب ثنایاکسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے تواصح روایات میں ممانعت نہیں۔*

 *وفی التسمیۃ اتفاق انہ لایمنع اذا کان علی قصد الثناء اوافتتاح امرکذا فی الخلاصۃ،*

*📝ترجمہ اورتسمیہ کے بارے میں تواتفاق ہے کہ جب اسے ثنا  یا کسی کام کے شروع کرنے کے ارادے سے پڑھے توممانعت نہیں ایسا ہی خلاصہ میں ہے،،*

*⬅️وفی العیون لابی اللیث ولو انہ قراء الفاتحۃ علی سبیل الدعاء اوشیئا من الایات التی فیہا معنی الدعاء ولم یرد بہ القراء ۃ فلا باس بہ اھ،*

*ترجمہ ،امام ابو اللیث کی عیون المسائل میں ہے:اگر سورہ فاتحہ بطور دُعا پڑھی یا کوئی ایسی آیت پڑھی جو دُعا کے معنی پر مشتمل ہے اوراس سے تلاوتِ قرآن کاقصد نہیں رکھتاتوکوئی حرج نہیں اھ۔ واختارہ الحلوانی وذکر غایۃ البیان انہ المختار:،*

*📕بہار شریعت جدید حصہ دوم ،صفہ، ٣٢٩، پر ہے👇*

*اگر قرآن کی آیت دُعا کی نیت سے یا تبرک کے لیے جیسے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ   یا ادائے شکر  کو یا چھینک کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یا خبرِ پریشان پر اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ   کہا یا بہ نیتِ ثنا پوری سورۂ فاتحہ یا آیۃ الکرسی یا سورۂ حشر کی پچھلی تین آیتیں هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ سے آخر سورۃتک پڑھیں اور ان سب صورتوں میں قرآن کی نیّت نہ ہو توکچھ حَرَج نہیں ۔ یوہیں تینوں قل بلا لفظ قل بہ نیتِ ثنا پڑھ سکتا ہے اور لفظِ قُل کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا اگرچہ بہ نیّت ثنا ہی ہو کہ اس صورت میں ان کا قرآن ہونا متعین ہے نیّت کو کچھ دخل نہیں،،*

*اس سے صاف ظاہر ہوا کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن کی تلاوت حرام ہے اور جو حرام نہیں اس کو ایصال ثواب کر سکتے ہیں اور فاتحہ کرنے والے نے اگر قرآن کی تلات بنیت تلاوت کی ہے تو اس نے ناجائز و حرام کا ارتکاب کیا وہ توبہ کرے* 


*■☆ وَالــــلّٰـــــهُ اَعــــلَمُ  بِــالـصَّــوَاب ☆■*


*🕳️☆《📝  كتــــــــبه.....》☆🕳️ ⇩⇩⇩*

*فقیـــر مـحـــمد امــتــــیاز قــــــمر امـجــــــدی ، گــریــڈیــہ جھـــارکھـنـڈ ، امــام و خطـــیب جـــامـــع مسجـــد ڈیہــــوری اتــــری گـــیا بہــــار*

*رابـــــــطہ نمـــــبر 👇*

*📞+91 9279649198*

─┄┅━━━━▣✾❥✺❥✾▣━━━━┅┅─

*✅الجوابــــــــ صحیــــح والمجیبــــــــ نجیــــــــح* 


*حضــرت مـــولانــــا مفـــتی  ضــیاء الــحــق نقـشبـــــندی حمــــیدی صاحب  امـــــام و  خـطــیب مسجــــد غـــوثـــــیہ بنــــــارس*

*رابــطـہ نمـــــبر*

*📞+91 95801 04765*

🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻

*🗓️مؤرخہ: (07) رجب الـمرجـب  1437ھ*

*🗓شمسـی تـاریـخ(30) جنوری 2023*


*غلام تاج الشریعہ گروپ میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں ،👇🏾*

*+91 9279649198*


*⌨️ المـــــرتبـــــ  ⇩⇩⇩*

 *سیــد محمـــد تسـکیـن جـیلانی مقـــام ڈوڈہ جـمـــوں کشـمیـــر الھند*

*رابــطـہ نمـــــبر 👇*

*📡 +91 9622664380*

*📢ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ📢*

⭕نوٹ:👈 *پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز ہرگز نہ کریں ورنہ معلوم ہونے پر قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے(05)*

 🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️

*▄▅▆▇█▓▒سیـد تســـکــین جیلانی ▒▓█▇▆▅▃*

یاغوث المدد کہنا کیسا ہے ؟

 


*🔗یا غوث المدد کہنا کیسا ہے ؟🔗*

*☆☆☆ـــــــــــــ🌺🏵️⁩🌺ـــــــــــــ☆☆☆*

*غلام تاج الشریعہ ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں👇👇*

*https://t.me/+qeN7NztnLh9mMWVl*

 


*🥏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*🪀کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ یا غوث المدد بولنا کیسا ہے* 


*یعنی غیراللہ سے مدد منگنا جائز ہے*


*قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں*


*🔰☆ ســـاٸـــل ⇩⇩⇩☆*

*علی اکبر سیتامڑھی بہار*

 🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏

   *وعلیــکم الســـلام و رحمۃ اللہ برکاتہ*


*💠الجــواب بــعون المــلک الــوھــاب*

*✒️یا غوث المدد کہنا شرعاً جائز ہے، کفرو شرک نہیں ہے چونکہ ہر کوئی خوب جانتا ہے کہ مدد در حقیقت ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے جن کا ذکر قرآن احادیث مصطفی سے ثابت ہے جن بندگان خدا کو وقت حاجت پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا صاف حکم دیا گیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے*

*⬅️فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ۔*

*بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں*

*📚ترجمہ کنزالایمان ،پ۲۸،التحريم،آیت،۴ ،*


*📝مفسرین لکھتے ہیں اس آیت کریمہ کے متعلق تین باتیں ہیں جس میں دو  ملاحظہ ہوں*


*(2)… نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسلمانوں  کے ایسے مدد گار ہیں جیسے بادشاہ رعایا کا مددگار اور مومن حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایسے مددگار جیسے خُدّام اور سپاہی بادشاہ کے، لہٰذا اس آیت کی بناء پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسلمانوں  کے حاجت مند ہیں*

*(3)…اس آیت میں  حضرت جبریل عَلَیْہِ  السَّلَام اور نیک مسلمانوں  کو مولیٰ یعنی مدد گار فرمایا گیا اور فرشتوں  کو ظہیر، یعنی معاون قرار دیا گیا، اس سے معلوم ہواکہ اللّٰہ  تعالیٰ کے بندے مدد گار ہیں  ،یاد رہے کہ جہاں  غیرُ اللّٰہ کی مدد کی نفی ہے وہاں  حقیقی مدد مراد ہے، لہٰذا آیات میں  تعارُض نہیں*

*📕(تفسیر صراط الجنان)*


*اشعتہ اللمعات شروع باب زیارت القبور میں ہے*

*امام غزالی گفتہ ہرکہ استمداد کردہ شود بوے درحیات استمداد کردہ مے شود بوے بعد ازوفات یکے از مشائخ گفتہ دیدم چہارکس راز مشائخ کہ تصرف می کنند در قبور حود مانند تسرفہا ایشاں درحیات خودیا بیشتر۔قومے مے گویند کہ امداد حی قومی نزاست ومن مے گویم کہ امداد میت قوی تر واولیاء را تصرف دراکون حاصل است وآں نیست مگر ارواح ایشاں راوارواح باقی است۔’’امام غزالی نے فرمایا کہ جس سے زندگی میں مدد مانگی جاتی ہے اس سے ان کی وفات کے بعد بھی مدد مانگی جاوے ایک بزرگ نے فرمایا کہ چار شخصوں کو ہم نے دیکھا کہ وہ قبروں میں بھی وہ ہی عمل درآمد کرتے ہیں جو زندگی میں کرتے تھے یا زیادہ،ایک جماعت کہتی ہے کہ زندہ کی مدد زیادہ قوی ہے اور میں کہتا ہوں کہ مردہ کی امدادزیادہ قوی اولیاء کی حکومت جہانوں میں ہے اوریہ نہیں ہے مگر انکی روحونکو کیونکہ ارواح باقی ہیں*

*📖حاشیہ مشکوٰۃ باب زیارت القبور میں ہے👇*

*وَاَمَّا الا ستِمدَادُ بَاھلِ القُبُورِ فِی غَیرِ النَّبِیِّ عَلَیہِ السَّلاَمُ اَوالاَنبِیآَئِ فَقَد اَنکَرَہ کَثِیرٌ مِّنَ الفُقَھَآئِ وَاَثبَتَہُ المَشَائخُ الصُّوفِیَۃُ وَبَعضُ الفُقَھَآئِ قَالَ الامَامُ الشَّافِعِیُّ قَبرُ مُوسَی الکاَظِمِ تِریاَقٌ مُجَرَّب لِاجَابَۃِ الدُّعَائِ وَقَالَ الامَامُ الغَزَالیُّ مَن یُّستَمُدُّ فِی حَیَاتِہٖ یُستَمَدُّ بَعدَ وَفَاتِہٖ*


*نبی علیہ السلام و دیگر انبیائے کرام کے علاوہ اور اہل قبور سے دعا مانگنے کا بہت سے فقہا نے انکار کیا اور مشائخ صوفیہ اور بعض فقہاء نے اسکو ثابت کیا ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ موسیٰ کاظم کی قبر قبولیت دعا کیلئے آزمودہ تریاق ہے اور امام محمد غزالی نے فرمایا کہ جس سے زندگی میں مدد مانگی جاسکتی ہے اس سے بعد وفات بھی مدد مانگی جاسکتی ہے*


*🌻اِذَاانفَلَتَت دَآبَّۃُ اَحَدِکُم بِاَرضٍ فَلاَۃٍ فَلیُنادِیَا عِبَادَاللہ ِ اِحبِسُوا*


*یعنی جب جنگل میں کسی کا جانور بھاگ جائے تو آواز دو کہ اے اللہ کے بندو اسے روک دو۔*

*⬇️عباد اللہ کے ماتحت فرماتے ہیں*

*اَلمُرَادُبِھِمُ المَلٰٓئِکَۃُ اَوِ المُسلِمُونَ مِنَ الجِنِّ اَو رِجَالُ الغَیبِ المُسَمُونَ بِاَبدَالٍ*

*’’یعنی بندوں سے یا تو فرشتے یا مسلمان یا جن یارجال الغیب یعنی ابدال مراد ہیں ۔*

*پھر فرماتے ہیں⬇️*

*ھٰذَاحَدِیثٌ حسنٌ یَحتاجُ اِلَیہِ المُسَافِرُونَ وَاَنَّہ مُجَرَّبُ*

*یہ حدیث حسن ہے مسافروں کو اس حدیث کی سخت ضرورت ہے اور یہ عمل مجرب ہے*

*📝شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر فتح العزیز صفحہ۲۰ پر فرماتے ہیں* 

*باید فہمید کہ استعانت ازغیربوجہے کہ اعتماد باشد اور اعوان الہی نداند حرام است و اگر التفات محض بجانب حق است داورایکے از مظاہر عون الہی دانستہ وبکار خانہ اسبابی و حکمت او تعالیٰ درآں نمودہ بغیر استعانت ظاہرہر نماید دور از عرفان نخواہد بودودرشرح نیزجائز و رواست در انبیاء و اولیاء ایں نوع استعانت تعبیر کردہ انددر حقیقت این نوع استعانت بغیر نیست بلکہ استعانت بحضرت حق است لاغیر۔* *’’سمجھناچاہیئے کہ کسی غیر سے مدد مانگنا بھروسہ کے طریقہ پر کہ اس کو مدد الہیٰ نہ سمجھے حرام ہے اور اگرتوجہ حق تعالیٰ کی طرف ہے اس کو اللہ کی مدد کا ایک مظہر جان کر اور اللہ کی حکمت اور کارخانہ اسباب جان کر اس سے ظاہری مدد مانگی تو عرفان سے دور نہیں ہے اور شریعت میں جائز ہے اور اس کو انبیاء و اولیاء کی مدد کہتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ حق تعالیٰ کے غیر سے مدد مانگنا نہیں ہے لیکن اس کی مدد سے ہے*

*📕تفسیر عزیزی سورہ بقرہ صفحہ۴۶۰ میں شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں*

*افعال عادی الہی رامثل بخثیدن فرزند توسیع رزق و شفاء مریض دا مثال ذالک رامشرکان نسبت بہ ارواح خبیثہ اصنام نمایند کافر می شوید۔ازتاثیر الہیٰ یا خواص مخلوقات ادمی دانند ازادویہ و مغافیر یا دعائے صلحاء بندگان او کہ ہمہ از جناب اور در خواستہ انجاج مطلب می کناند می فہمند ودرایماں ایشاں خلل نمی افنند۔’’اللہ کے کام جیسے لڑکا دینارزق بڑھانا بیمار کو اچھا کرنا اور اس کی مثل کو مشرکین خبیث روحوں اور بتوں کی طرف نسبت کرتے ہیں اور کافر ہوجاتے ہیں او رمسلمان ان امور کو حکم الہیٰ یا اس کی مخلوق کی خاصیت سے جانتے ہیں جیسے کہ دوائیں یا مغافیر یا اس کے نیک بندوں کی دعائیں کہ وہ بندے رب کی بارگاہ سے مانگ کر لوگوں کی حاجت روائی کرتے ہیں اور ان مومنین کے ایمان میں اس سے خلل نہیں آتا،،۔*


*📚فتاوی رضویہ میں حدیث شریف  کے حوالے سے محدث بریلوی تحریر فرماتے ہیں کہ ،،* 

*"نقلہ سیدی ملا علی القاری فی الحرز الثمین ، حضورپرنور سیدالعالمین صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:👇*


*اذا اضل احدکم شیئا واراد عونا وھوبارض لیس بھا انیس فلیقل یاعباد ﷲ اعینونی یاعباد ﷲ اعینونی یاعباد ﷲ اعینونی فان ﷲ عبادا لایراھم"*


*جب تم میں سے کوئی شخص سنسان جگہ میں بہکے بھولے یا کوئی چیز گم کردے اور مددمانگنی چاہے تویوں کہے: اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے ﷲ کے بندو! میری مدد کرو، کہ ﷲ کے کچھ بندے عـــــہ ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا*


*عـــــہ: جن کے سیدو مولاوسند وماوٰی* *حضورپرنورسیدناعبدالقادرجیلانی ہیں رضی ﷲ تعالٰی عنہ،*


*👈شاہ ولی ﷲ صاحب کی سنئے اپنے قصیدہ اطیب النغم کی شرح میں پہلی بسم ﷲ یہ لکھتے ہیں کہ:*

*لابدست ازاستمداد بروح آنحضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔*

*حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی روح پاک سے مددحاصل کرناضروری ہے۔*

*👇اسی میں ہے:*

*بنظرنمی آید مرامگر آنحضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہ جائے دست زدن اندوہگین ست درہرشدّتے،*


*🌻مجھے توہرمصیبت میں اور ہرپریشان حال کے لئے حضور  علیہ الصلٰوۃ والسلام کادستِ تصرف ہی نظرآتاہے،،*


*"شرح قصیدہ الطیب ا لنغم فصل اول درتشبیب بذکرالخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ص٤"*


*📚فتاویٰ رضویہ شریف ،٧، ص،٥٩٠/ ٥٩١/ ٥٩٢، رضا فاؤنڈیشن لاہور*


*■☆ وَالــــلّٰـــــهُ اَعــــلَمُ  بِــالـصَّــوَاب ☆■*


*🕳️☆《📝  كتــــــــبه.....》☆🕳️ ⇩⇩⇩*

*فقیـــر مـحـــمد امــتــــیاز قــــــمر امـجــــــدی ، گــریــڈیــہ جھـــارکھـنـڈ ، امــام و خطـــیب جـــامـــع مسجـــد ڈیہــــوری اتــــری گـــیا بہــــار*

*رابـــــــطہ نمـــــبر 👇*

*📞+91 9279649198*

─┄┅━━━━▣✾❥✺❥✾▣━━━━┅┅─

*✅الجوابــــــــ صحیــــح والمجیبــــــــ نجیــــــــح* 


*حضــرت مـــولانــــا مفـــتی  ضــیاء الــحــق نقـشبـــــندی حمــــیدی صاحب  امـــــام و  خـطــیب مسجــــد غـــوثـــــیہ بنــــــارس*

*رابــطـہ نمـــــبر*

*📞+91 95801 04765*

🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻

*🗓️مؤرخہ: (02) رجب الـمرجـب  1437ھ*

*🗓شمسـی تـاریـخ(25) جنوری 2023*


*غلام تاج الشریعہ گروپ میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں ،👇🏾*

*+91 9279649198*


*⌨️ المـــــرتبـــــ  ⇩⇩⇩*

 *سیــد محمـــد تسـکیـن جـیلانی مقـــام ڈوڈہ جـمـــوں کشـمیـــر الھند*

*رابــطـہ نمـــــبر 👇*

*📡 +91 9622664380*

*📢ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ📢*

⭕نوٹ:👈 *پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز ہرگز نہ کریں ورنہ معلوم ہونے پر قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے(04)*

 🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️

*▄▅▆▇█▓▒سیـد تســـکــین جیلانی ▒▓█▇▆▅▃*

چچا کے لڑکے کی لڑکی سے نکاح کرنا کیسا

 *🔗چچا کے لڑکے کی لڑکی سے نکاح کرنا کیسا ؟🔗*

*☆☆☆ـــــــــــــ🌺🏵️⁩🌺ـــــــــــــ☆☆☆*

*غلام تاج الشریعہ ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں👇👇*

*https://t.me/+qeN7NztnLh9mMWVl*

 


*🥏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*🪀کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ کیا چچیری بھتیجی ((یعنی کی چچا کے لڑکے کی لڑکی))   سے نکاح ہو سکتا ہے  کی نہیں*

*جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی*


*🔰☆ ســـاٸـــل ⇩⇩⇩☆*

*حافظ حکیم معراج احمد رضوی الہ آباد یوپی*

*+918853609541*

 🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏

   *وعلیــکم الســـلام و رحمۃ اللہ برکاتہ*


*💠الجــواب بــعون المــلک الــوھــاب*

*باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب:*

*✒️صورت مستفسرہ میں نکاح جائز و درست ہے اگر اور کوئی مانع نکاح نہ ہو تو!*

*👈چونکہ چچازاد بھائی کی بیٹی نامحرم ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے :*

*” حُرِّمَتۡ عَلَیۡکُمۡ اُمَّهٰتُکُمۡ وَ بَنٰتُکُمۡ*

*📒(سورۃ النساء، آیت ٢٣)*

*حرام ہوئیں تم پر تمھاری مائیں اور بیٹیاں (کنز الایمان)*


*⬅️ لہذا چچیری بھتیجی یعنی چچا کے لڑکے کی لڑکی سے نکاح جائز ہے!*


*■☆ وَالــــلّٰـــــهُ اَعــــلَمُ  بِــالـصَّــوَاب ☆■*


*🕳️☆《📝  كتــــــــبه.....》☆🕳️ ⇩⇩⇩*

*حضـــرت مـــولانــــا مـحـــمد امــتــــیاز قــــــمر امـجــــــدی صـاحــب مــد ظــلہ العــالــی و النــورانــی گــریــڈیــہ جھـــارکھـنـڈ انـــڈیـــا*

*رابـــــــطہ نمـــــبر 👇*

*📞+91 9279649198*

─┄┅━━━━▣✾❥✺❥✾▣━━━━┅┅─

*✅الجوابــــــــ صحیــــح والمجیبــــــــ نجیــــــــح* 


*حضـــرت مـــولانــــا مفتی عـــبدالســــتـار رضـــــوی اویــسی صاحب قبلہ مدظــلہ العــالــی والنــورانــی*

*رابــطـہ نمـــــبر*

*📞+91 9007644990*

🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻

*🗓️مؤرخہ: (03) رجب الـمرجـب  1437ھ*

*🗓شمسـی تـاریـخ(26) جنوری 2023*


*غلام تاج الشریعہ گروپ میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں ،👇🏾*

*+919279649198*


*⌨️ المـــــرتبـــــ  ⇩⇩⇩*

 *سیــد محمـــد تسـکیـن جـیلانی مقـــام ڈوڈہ جـمـــوں کشـمیـــر الھند*

*رابــطـہ نمـــــبر 👇*

*📡 +91 9622664380*

*📢ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ📢*

⭕نوٹ:👈 *پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز ہرگز نہ کریں ورنہ معلوم ہونے پر قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے(03)*

 🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️

*▄▅▆▇█▓▒سیـد تســـکــین جیلانی ▒▓█▇▆▅▃*

دوسرے کی طرف سے طواف کرتے وقت احرام باندھنا ضروری ہے یانہیں ؟



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ زید عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اور عمرہ مکمل بھی کر لیا اور اب احرام بھی کھول دیا

زید اگر اب کسی دوسرے شخص کے لیے عمرہ کرنا چاہے تو اب احرام باندھا ضروری ہے یا پھر بغیر احرام باندھے طواف کر لے،


مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائے عین نوازش ہوگی

المستفتی 

حافظ حکیم  معراج احمد رضوی  الہ آباد یوپی ،


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب

زید عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیا ، اور پھر دوسرا عمرہ کسی شخص کے لیے کرنا چاہتا ہے تو  دوبارہ احرام باندھے،

 اور دوبارہ احرام باندھنے کے واسطے مسجد عائشہ جانا ضروری ہے یہ جگہ حد حرم کے قریب تین میل کے فاصلے پر واقع ، جو حدود حرم سے باہر ہے ، !

 شرح حدیث میں ہے کہ ،، 

تنعیم مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر حدود حرم سے باہر جگہ ہے،اب وہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے،عام حجاج وہاں جاکر نفلی عمروں کا احرام باندھتے ہیں،یہ جگہ قریب ترین حد حرم ہے۔یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت اپنا عمرہ چھوڑ دے اور بعد حج اس کی جگہ دوسرا عمرہ یعنی عمرہ قضا کرے۔الخ،،

(مراۃ المناجیح، ج، ٤، رقم الحدیث ١٧١، )


حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، تَنعیم کو کہ مکہ معظمہ سے شمال یعنی مدینہ طیبہ کی طرف تین میل فاصلہ پر ہے، جاؤ وہاں سے عمرہ کا احرام جس طرح اوپر بیان ہوا باندھ کر آؤ اور طواف و سعی حسب دستور کرکے حلق یا تقصیر کرلو عمرہ ہوگیا۔


(بہار شریعت حصہ ششم ،ص، ١١٥٧، مکتبۃ المدینہ کراچی)


واللہ اعلم بالصواب


فقیر محمد امتیاز قمر امجدی ،

گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا ،

٢٣، جنوری ٢٠٢٣، بروز، سوموار ۔


الجواب صحیح ،
مفتی عبدالستار اویسی قادری صاحب قبلہ 

دومورنی کنویں میں گرکر مرجاۓ تو عندالشرع کیا حکم ہے ؟

 


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذیل کے مسٔلہ میں کہ اگر کویں میں 2 مورنی مر جائے تو اس کویں کا پانی کا کیا حکم ہوگا اور اس کو پاک کرنے کا طریقہ بھی بتایں مہربانی ہوگی


محمد ارباز راجستھان

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

اگر دو مورنی کنویں میں گر مر گئ کنویں کا سارا پانی نکالا جائے گا مگر ابھی پھولا پھٹ نہیں ہے جب بھی کنویں کا مکمل پانی نکالا جائے گا،!

ہاں ایک مور یہ مورنی گر کر مر جائے جو بکری سے چھوٹا ہو مرغی کے حکم میں ہے ،یعنی، چالیس، ٤٠، سے، ساٹھ،٦٠، ڈول تک نکالا جائے ، چونکہ کبوتر سے چھوٹا ہوتا تو چوہے کے حکم میں ہوتا غور کرنے والی بات ہے کہ جب چھے ٦، چوہے کنویں میں مرجاۓ تو کل پانی نکالا جائے گا یہی شریعت کا حکم، اسی طرح دومورنی یہ دو بلی چھے جو ہے گر کر کنویں میں مرجاۓ تو کل پانی نکالا جائے گا،

حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ،،

 جو جانور کبوتر سے چھوٹا ہو حکم میں چوہے کے ہے، اور جو بکری سے چھوٹا ہو مرغی کے حکم میں ہے۔دو چوہے گر کر مر جائیں تو وہی بیس ۲۰ سے تیس ۳۰ ڈول تک نکالا جائے اور تین یا چار یا پانچ ہوں تو چالیس ۴۰ سے ساٹھ ۶۰ تک اور چھ ۶ ہوں  تو کُل۔دو ۲ بلّیاں مر جائیں تو سب نکالا جائے۔،

(بہار شریعت حصہ دوم ،ص، ٣٣٩،مکتبۃ المدینہ کراچی)

نوٹ جس کنواں کا چشمہ ٹوٹتا ہی نہیں چاہے کتنا ہی پانی نکالیں ، ایسی صورت میں، حکم یہ ہے کہ پہلے یہ معلوم کرلیں کہ کتنا پانی ہے جتنا ہو وہ سب نکال دیا جائے، نکالتے  وقت جتنا زیادہ ہوتا گیا اس کا کچھ اعتبار نہیں

اسی طرح مختلف طریقوں سے پانی  نکالا جائے حرج ،،

نہیں ۔

واللہ اعلم بالصواب




فقیر محمد امتیاز قمر امجدی ،


١٦، جنوری ، بروز سوموار ، ٢٠٢٣

مہر شرعی سے مراد ،اور اسکی رقم ؟

شرعی مہر 


 السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ


کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں

مہر شرعی سے کیامراد ہے اور فی زمانہ اسکی کتنی رقم بنتی ہے اگر کوئی شخص مہر شرعی باندھنا چاہے تو کم سے کم کتنا مہر  باندھنا چاہیے جو مہر شرعی ہوجائے

سائل وسیم اختر تحسینی پیلی بھیت

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

 مہر شرعی سے مراد جو احکام شرعیہ سے خالی نہ ہو یعنی کم از کم دس درہم ہے اور زیادہ مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں مہر شرعی میں دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی اس سے کم مہر نہیں ہو سکتا !

سر کار اعلی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان بریلوی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں،صرف کمی کی طرف حد معین ہے کہ دس درم یعنی تقرءبقا دو روپے تیرہ آنے سے کم نہ ہوا اور زیادتی کی کوئی حد نہیں،جس قدر باندھا جائے لازم آئے گا۔ اور  حضرت خاتونِ جنّت رضی ﷲتعالٰی عنہا کا مہر اقدس چارسو٤٠٠ مثقال چاندی تھا کہ یہاں کے روپے سے ایک سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر ہے۔،

مہر شرعی جو لوگ یہ سمجھ کر باندھتے ہیں کہ سب سے کم درجے کا مہر جو شریعت میں مقرر ہے تو اس صورت میں دو تولے سات ماشے چار رتی چاندی دینی آئے گی،

(فتاویٰ رضویہ شریف، ج،12، رسالہ باب المہر،)


حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، نکاح میں دس ۱۰ درہم یا اس سے کم مہر باندھا گیا ،تو دس ۱۰ درہم واجب اور زیادہ باندھا ہو تو جو مقرر ہوا   واجب۔

(بہار شریعت ح، ہفتم، ص، ٦٦، مکتبۃ المدینہ کراچی)


البتہ چاندی کا ریٹ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اس لئے قیمت بتانا مشکل ہے جب نکالنا ادا کرنا ہو تو بازار مارکیٹ سے مذکورہ بالا وزن چاندی کا ریٹ معلوم کر کے ادا کر دیا جائے. اس وقت لگ بھگ پورے ملک کے عتبار سے 5000، 4268, 4068، ہے،


شرح حدیث میں ہے ،،

امام اعظم کے ہاں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم کیونکہ دارقطنی نے حضرت جابر سے مرفوعًا روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت کا نکاح ولی کریں،کفو میں کریں،دس درہم سے کم پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں اور دس درہم سے کم مہر نہیں،دار قطنی و بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کی کہ دس درہم سے کم مہر نہیں لہذا دس درہم سے کم کی روایات میں چڑھاوا مراد ہے۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)

(مراۃالمناجیح باب الصداق مہر کا بیان ۱؎ الفصل الاول، ج، 5، ص، 122، حدیث 123)

واللہ اعلم بالصواب

فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی حنفی

1/1/2023

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...