چاند کی شہادت خط یا موبائل کے ذریعے مانی جائے گی کہ نہیں



 *👈🌙چاند کی شہادت خط یا موبائل کے ذریعے مانی جائے گی کہ نہیں؟؟ 🌙👉*

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•* 

*📡ٹیلی گــرام پـر اعلیٰ حضـرت زنـدہ بـاد گـروپ میں شـامـل ہـونے کـے لئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں* 

*http://T.me/AalahzratZindabadGroup* 

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•* 

*🌸السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتـــہ🌸* 

*کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے چاند کی شہادت خط یا موبائل کے ذریعے خبر دی تو اس چاند کی خبر کو ماننا یا اس جیسی خبر پر عمل کرنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی*


 *_سائل محمد عبدالاول نوری حسنی_*

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•* 

*🌸وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتـہ🌸* 

*👈الجوابــــــ!*

موبائل یا خط و کتابت کے ذریعے اگر کوئی شخص چاند کی شہادت دے تو ہرگز نہ مانی جائے گی۔ اور نہ ہی اس پر عمل کیا جائے گا۔ اسلئے کہ۔ خط و کتابت و موبائل ریڈیو وہاٹسپ ، فیس بک ، ٹیلی گرام ٹویٹر ، میسنجر وغیرہ سے موصول ہونے والی خبر کا شرع شریف میں کچھ اعتبار ہی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ نہ رؤیت ہے اور نہ ہی شہادت، بلکہ یہ ایک طرح کی فقط خبر ہے۔  جبکہ ثبوت ہلال کا دار و مدار فقط رؤیت ہلال اور مشاہدہ پر ہی ہے۔ اور عمل  بھی اسی پر کیا جائے گا۔


*چنانچہ حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محقق بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ۔ دربارہ ہلال خط و تار محض بے اعتبار، اشباه والنظائر ، میں ہے لا يعتمد  على الخط ولا يعمل به ( خط پر نہ تو اعتماد کیا جائے ، نہ ہی اس پر عمل کیا جائے۔ مخبر واحد اور کچہری کے مختار اور وہ بھی محض حکایت و اخبار کہ دو شاہد عدل بھی ایسی حکایت کرتے تو اصلاً معتبر نہ تھی۔*


*(اشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات والد عاوی ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیه کراچی  ١/ ٣٣٧. بحوالہ فتاوی رضویہ شریف جلد دہم (۱۰) صفحہ (۴۰۵) المكتبة رضا فاؤنڈیشن لاہور)* 


*اور ، حضرت علامہ مفتی عبد المنان اعظمی دامت برکاتہم العالیہ ، تحریر فرماتے ہیں کہ۔ ثبوت ہلال کا دار و مدار رویت ہلال اور مشاہدہ پر ہے۔ مزید اسی میں آگے تحریر فرماتے ہیں کہ۔ ریڈیو ، ٹیلی ویژن ، تار ، ٹیلیفون اور خط وغیرہ کی خبر ان پر روزه یا عید منانا جائز نہیں۔ (فتاوی بحـر العلوم جلد دوم (۲) کتاب الصوم صفحہ (۲۴۰ // ۲۶۱) المكتبة شبیر برادرز اردو بازار لاہور)*


*اور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ۔   خط کے ذریعے اگر رویت ھلال کی اطلاع ملے تو عندالشرع معتبر نہیں اس لیے کہ ایک تحریر دوسری تحریر سے مل جاتی ہے لہٰذا اس سے علم یقینی حاصل نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ خط کے ذریعے کچہری میں گواہی نہیں لی جاتی ردالمختار میں ہے لا یعمل بالخط اور ھدایہ میں ہےالخط یشبہ الخط فلا یعتبر اور تار ٹیلیفون تو بے اعتباری میں خط سے بڑھ کر ہیں اس لیے کہ خط میں کم از کم کاتب کے ہاتھ کی علامت ہوتی ہے تار اور ٹیلیفون میں وہ بھی مفقود ہے نیز گواہ جب پردے کے پیچھے ہوتا ہے تو گواہی معتبر نہیں ہوتی اس لیے کہ ایک آواز دوسری آواز سے مل جاتی ہے تو تار اور ٹیلیفون کے ذریعے گواہی کیسے معتبر ہو سکتی ہے فتاوی عالمگیری میں ہے لو سمع من ورا ٕ الحجاب لا یسعہ ان یشھد لاحتمال ان یکون غیرہ اذالنغمة تشبہ النغمة اور ریڈیو و ٹیلی ویزن میں تار اورٹیلیفون سے زیادہ دشواریاں ہیں اس لیے کہ تار و ٹیلیفون پر سوال و جواب بھی کر سکتے ہیں مگر ریڈیو ٹیلی ویژن پر کچھ نہیں کر سکتے غرض یہ کہ نٸے آلات خبر پہنچانے میں کام آسکتے ہیں لیکن شھادتوں میں معتبر نہیں ہو سکتے* 


*(فتـاوی فیض الرسـول جلد اول (١) کتاب الصوم صفحہ (۵۲۷) المكتبة شبیر برادرز اردو بازار لاہور)*


*حضور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محقق بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان، نے اثبات ہلال کے سات طریقے تحریر فرماۓ ہیں۔ آپ تفصیل وہاں سے دیکھ لیں۔ (فتاوی رضویہ شریف  جلد دہم۔ صفحہ  (٤٠٨) رساله طرق اثبات بلال ، المكتبة رضا فاؤنڈیشن لاہور)*


*🖍کـــتــبـــــــــــــــــہ 👈👇* 

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•* 

*محمـد اربـاز عـالــم نظامـی تـرکپٹی کوریاں کشی نگر یوپی الہند مقیم حال بریدہ القصم سعودیہ عـربیۃ رابطــــہ نمبــــر* 

*📲https://wa.me/6393808003☜🥏* 

*21/07/2023*


*✅️الجــواب‌ صحـــیـــــح* 

*فقیـر محـمـد اسمــاعیــل خـــان امجـــدیؔ عفـی عنــہ گونڈوی* 

*💙اعلی حـضرت زنـدہ بـادگـــروپ💙* 

*گـــروپ میں شـــــامل ہونے کے لــــئے رابـطـہ کـــــــــــــــریـں👇* 

*📲https://wa.me/919918562794☜🥏* 

*📲https://wa.me/917276556912☜🥏* 

*📲https://wa.me/919113471871☜🥏* 

*📲https://wa.me/7991712002☜🥏* 

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ•* 


 *ہمــارے گـروپ کـے سـبھی پــوسـٹ پـڑھـنے کـے لئـے ویـب سـائـٹ کـے لـنک پـر کـلک کـریـں👇*

*📡https://amjadigroup.blogspot.com/* 

*📡https://amjadigroup3.blogspot.com/*

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ•* 


*🖊️الــــمــــــــــــــرتــــــــــب*‌

*اســـیـر حضـــور صــدرالشـــریعـــہ*

 *وحـــضــور مـــــحــدث کبــیـــــــر* 

*محـمـــد محـبـوبــــ عـالـم امـجـدیؔ آزاد نـگر اہـیــرولی نچـلول بـازار (ضلـع) مہـــراجگـنـج (یـوپی)*

*(رابــــطہ نمــــــــــــــــــبر 👇)* 

*📲https://wa.me/7991712002☜🥏* 


*_🛑ـــــــــــــــــــ👈📵👉ـــــــــــــــــــ 🛑_* 

*(نـــوٹ) اس پوسٹ میں کسی کو سرقہ تحریف تضئیف کرنے کی اجازت نہیں ایساکرنے والا مجرم ہوگا عنداللہ جواب دہ بھی ہوگا* 

*👈 بحکم بانٸ گروپ اعلی حضرت زندہ باد*

اوریوبسکٹ کھانا کیسا ہے ؟

 


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ


کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسلہ ذیل کے بارے میں اوریو بسکٹ کا استعمال جائز ہے یا ناجائز کیونکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسمیں حرام اشیاء ملائ جاتی ہے 


سائل ۔ آصف جاوید رضوی 

گورکھپور یوپی


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

الجواب بعون الملک الوھاب!

اوریوبسکٹ کا کھانا جائز ہے!

ناجائز حرام تب مانا جائے گا جبکہ کوئی حرام اشیاء کی آمیزش ہو اور اسکی صحیح تحقیق ہو،!

ورنہ کسی کے کہنے پر کوئی چیز حرام نہیں ہوجاتی! 

فتاویٰ رضویہ سے چند عبارتیں ملاحظہ فرمائیں!

فی کتب الفقھاء من الحنفیۃ والشافعیۃ وغیرھم ولم ارفیہ مخالفا من احد من العلماء اصلا فاذا شك اوظن فی طھارۃ ماء اوطعام وغیرذلك ممالیس بنجس العین فذلك الشےیئ طاھر فی حق الوضوء وحل الاکل وسائر التصرفات وکذا اذاغلب الظن علی نجاستہ الخ اھ ملتقطا،!

حضور اعلی حضرت۔ الحدیقۃ الندیۃ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ ،

حنفی شافعی اور دیگر فقہا کی کتب میں واضح طور پر مذکور ہے میں نے اس میں علما کا اختلاف بالکل نہیں پایا لہذا جب پانی، کھانے یا اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طہارت میں جو نجس عین نہیں ہے شك پیدا ہو تو یہ چیز وضو کے حق میں پاك ہے اور اس کا کھانا بھی جائز، نیز دیگر تصرفات میں استعمال جائز، اسی طرح جب اس کی نجاست کا غالب گمان ہو (یقین نہ ہو تو بھی پاك ہے الخ اھ ملتقطا! فتاویٰ رضویہ ج،4، ۔ 478، آخری صفحہ 


اب جبکہ نجس عین ہونا ثابت نہیں تو اوریو بسکٹ کھانا منع نہیں ،


واللہ اعلم بالصواب


فقیر محمد امتیاز قمر امجدی گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا

21جولائی، 2023، بروز جمعہ

الجواب صحیح مفتی محمد اسمعیل خان امجدی گونڈوی یوپی ،

پیٹھانی سوٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے

 


*کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذیل کے مسٔلہ میں کہ پیٹھانی سوٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی*


*سائل محمد کوثر لکھنؤ*


الجواب ،،

پیٹھانی یہ غیر پیٹھانی سوٹ پہن کر نماز پڑھنا تب جائز ہے جبکہ بدن یا بالوں کی رنگت نہ چمکے،

حضور اعلی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،کپڑے باریک ہیں جن سے بدن چمکتا ہے یا سرکے بال یا گلے یا کلائیوں کا کوئی حصہ کھلا ہے تو سب کو حرام ہے۔کمافی رضویہ شریف،! 22/ 245۔ 248۔

لہذا جس کپڑے کا پہننا حرام ہے اس پر نماز کیسے جائز ہو سکتی ہے،!

حضور صدر الشریعہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،

  اتنا باریک کپڑا، جس سے بدن چمکتا ہو، ستر کے لیے کافی نہیں ، اس سے نماز پڑھی، تو نہ ہوئی۔ یوہیں اگر چادر میں  سے عورت کے بالوں کی سیاہی چمکے، نماز نہ ہوگی۔ (رضا) بعض لوگ باریک ساڑیاں  اور تہبند باندھ کر نماز پڑھتے ہیں  کہ ران چمکتی ہے، ان کی نمازیں  نہیں  ہوتیں  اور ایسا کپڑا پہننا، جس سے ستر عورت نہ ہوسکے، علاوہ نماز کے بھی حرام ہے۔

(بحوالہ بہار شریعت حصہ سوم ص، 484)

ہاں اگر مذکورہ سوٹ اس قدر باریک نہ ہو جو حکم شرع کے خلاف ہوں!  تو نماز پڑھنے میں حرج نہیں!

واللہ اعلم بالصواب ،

فقیر محمد امتیاز قمر امجدی گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا ،17،جولائی،2023، بروز پیر ،

الجواب صحیح مفتی محمد اسمعیل خان امجدی 

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...