پیٹھانی سوٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے

 


*کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذیل کے مسٔلہ میں کہ پیٹھانی سوٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی*


*سائل محمد کوثر لکھنؤ*


الجواب ،،

پیٹھانی یہ غیر پیٹھانی سوٹ پہن کر نماز پڑھنا تب جائز ہے جبکہ بدن یا بالوں کی رنگت نہ چمکے،

حضور اعلی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،کپڑے باریک ہیں جن سے بدن چمکتا ہے یا سرکے بال یا گلے یا کلائیوں کا کوئی حصہ کھلا ہے تو سب کو حرام ہے۔کمافی رضویہ شریف،! 22/ 245۔ 248۔

لہذا جس کپڑے کا پہننا حرام ہے اس پر نماز کیسے جائز ہو سکتی ہے،!

حضور صدر الشریعہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،

  اتنا باریک کپڑا، جس سے بدن چمکتا ہو، ستر کے لیے کافی نہیں ، اس سے نماز پڑھی، تو نہ ہوئی۔ یوہیں اگر چادر میں  سے عورت کے بالوں کی سیاہی چمکے، نماز نہ ہوگی۔ (رضا) بعض لوگ باریک ساڑیاں  اور تہبند باندھ کر نماز پڑھتے ہیں  کہ ران چمکتی ہے، ان کی نمازیں  نہیں  ہوتیں  اور ایسا کپڑا پہننا، جس سے ستر عورت نہ ہوسکے، علاوہ نماز کے بھی حرام ہے۔

(بحوالہ بہار شریعت حصہ سوم ص، 484)

ہاں اگر مذکورہ سوٹ اس قدر باریک نہ ہو جو حکم شرع کے خلاف ہوں!  تو نماز پڑھنے میں حرج نہیں!

واللہ اعلم بالصواب ،

فقیر محمد امتیاز قمر امجدی گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا ،17،جولائی،2023، بروز پیر ،

الجواب صحیح مفتی محمد اسمعیل خان امجدی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...