میت کو دفن کرنے کے بعد اذان چالیس قدم پہلے یا چالیس قدم بعد؟



السلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ

سوال 
قبرستان میں میت کو دفن کرنے کے بعد کچھ لوگ کہتے ہیں کے اذان  دو مگر چالیس قدم لوگوں کو جانے کے بعد دینا پہلے نہیں کیا یہ صحیح ہے یا چالیس قدم ہو یا نا ہو اذان دے سکتے ہے صحیح قول کیا ہے 
جواب مدلل ہو 
فقیر محمد شمشیر رضا شمسی 
بہار
_____________________________________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
قبر میں میت کو دفن کرنے کے بعد اذان دینا مستحب ہے رہی بات چالیس قدم چلنے کے بعد  اذان دینا تو ضروری نہیں ہے  البتہ چالیس قدم کے بعد اگر آذان دے بھی دیے تو کوئی حرج اور ممانعت نہیں ہے لیکن اس کو مخصوص سمجھنا فرض واجب تو محض فضول ہے ہاں آذان کا ثبوت ہے اور بے شمار دلائل بھی موجود ہیں بعض نے دفن کرتے وقت یعنی میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان دینے کے بارے میں بعض فقہاء نے نص کو نقل کرتے ہوئے تصحیح کیا دفن کرنے کے بعد جب لوگ جانے لگے چند دلائل آپ کے سامنے موجود ہیں 
بعض علمائے دین نے میت کو قبر میں اتارتے وقت اذان کہنے کو سنّت فرمایا،امام ابن حجر مکّی وعلّامہ خیر الملۃ والدّین رملی استاذ صاحبِ دُرمختار علیہم رحمۃ الغفار نے اُن کا یہ قول نقل کیا۔مکّی نے اپنے فتاوٰی اور شرح العباب میں نقل کیا اور اس نے معارضہ کیا،رملی نے حاشیہ البحرالرائق میں نقل کیا اور اسے کمزور کہا
۔حق یہ ہے کہ اذان مذکور فی السوال کا جواز یقینی ہے ہرگز شرع مطہر سے اس کی ممانعت کی کوئی دلیل نہیں اور جس امر سے شرع منع نہ فرمائے اصلًا ممنوع نہیں ہوسکتا قائلانِ جواز کے لئے اسی قدر کافی،جو مدعیِ ممانعت ہو دلائل شرعیہ سے اپنا دعوٰی ثابت کرے،پھر بھی مقامِ تبرع میں آکر فقیر غفرالله تعالٰی لہ بدلائل کثیرہ اس کی اصل شرع مطہر سے نکال سکتا ہے جنہیں بقانونِ مناظرہ اسانید تصور کیجئے فاقول: وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔ 
*دلیل اوّل:  وارد ہے کہ جب بندہ قبر میں رکھا جاتا اور سوالِ نکیرین ہوتا ہے شیطان رجیم (کہ الله عزوجل صدقہ اپنے محبوب کریم علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کا ہر مسلمان مرد و زن کو حیات وممات میں اس کے شر سے محفوظ رکھے) وہاں بھی خلل انداز ہوتا ہے اور جواب میں بہکاتا ہے والعیاذ بوجہ العزیز الکریم ولاحول ولاقوۃ الّا بالله العلی العظیم۔امام ترمذی محمد بن علی نوادر الاصول میں امام اجل سفیٰن ثوری رحمہ الله تعالٰی سے روایت کرتے ہیں 
اذا سئل المیت من ربك تراأی لہ الشیطان فی صورت فیشیر الی نفسہ ای اناربك فلھذا ورد سوال التثبیت لہ حین یسئل۔ یعنی جب مُردے سے سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان اُس پر ظاہر ہوتا اور اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہُوں،اس لئے حکم آیا کہ میت کے لئے جواب میں ثابت قدم رہنے کی دعا کریں۔
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ٣٢٣
امام ترمذی فرماتے ہیں
ویؤیدہ من الاخبار قول النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عند دفن المیت اللھم اجرہ من الشیطان فلولم یکن للشیطان ھناك سبیل مادعا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بذلك
نوادر الاصول فی معرفۃ احادیث الرسول الاصل التاسع والاربعون والمائتان الخ مطبوعہ دارصادر بیروت ص ٣٢٣
اور صحیح حدیثوں سے ثابت کہ اذان شیطان کو دفع کرتی ہے،صحیح بخاری وصحیح مسلم وغیرہما میں حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی حضور اقدس سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
 اذااذن المؤذن ادبر الشیطان ولہ حصاص ۔الصحیح لمسلم باب فضل الاذان وہرب الشیطان عندسماعہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/١٦٧
صحیح مسلم کی حدیث جابر رضی الله تعالٰی عنہ سے واضح کہ چھتیس میل تك بھاگ جاتا ہے ۔اور خود حدیث میں حکم آیا جب شیطان کا کھٹکا ہو فورًا اذان کہو کہ وہ دفع ہوجائے گا   اخرجہ الامام ابوالقاسم سلیمٰن بن احمد

الطبرانی فی اوسط معاجیمہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ(اسے امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)،ہم نے اپنے رسالہ نسیم الصبافی ان الاذان یحول الوبا (صبح کی خوشگوار ہوا اس بارے میں کہ اذان سے وبا دُور ہوجاتی ہے۔ت) میں اس مطلب پر بہت احادیث نقل کیں،اور جب ثابت ہولیا کہ وہ وقت عیاذًا بالله مداخلت شیطان لعین کا ہے اور ارشاد ہُوا کہ شیطان اذان سے بھاگتا ہے اور اس میں حکم آیا کہ اُس کے دفع کو اذان کہو تو یہ اذان خاص حدیثوں سے مستنبط بلکہ عین ارشادِ شارع کے مطابق اور مسلمان بھائی کی عمدہ امداد واعانت ہُوئی جس کی خوبیوں سے قرآن وحدیث مالامال۔

*دلیل دوم:  امام احمد وطبرانی وبیہقی حضرت جابر بن عبدالله رضی الله تعالٰی عنہما سے راوی:

قال لمادفن سعد بن معاذ (زاد فی روایۃ) وسوی علیہ سبح النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وسبح الناس معہ طویلا ثم کبر وکبرالناس ثم قالوا یارسول الله لم سبحت (زاد فی روایۃ) ثم کبرت قال لقد تضایق علی ھذا الرجل الصالح قبرہ حتی فرج الله تعالٰی عنہ 

یعنی جب سعد بن معاذ رضی الله تعالٰی عنہ دفن ہوچکے اور قبر درست کردی گئی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم دیر تك سبحان الله فرماتے رہے اور صحابہ کرام بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے پھر حضور الله اکبر الله اکبر فرماتے رہے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ کہتے رہے،پھر صحابہ نے عرض کی یارسول الله ! حضور اول تسبیح پھر تکبیر کیوں فرماتے رہے؟ ارشاد فرمایا: اس نیك مرد پر اُس کی قبر تنگ ہُوئی تھی یہاں تك کہ الله تعالٰی نے وہ تکلیف اُس سے دُور کی اور قبر کشادہ فرمادی۔
مسند احمد بن حنبل عن مسندہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما مطبوعہ دارالفکر بیروت ٣/٣٧٧۔٣٦٠
ماخوذ فتاویٰ رضویہ جلد ۵ صفحہ ۶۵۵

یعنی حدیث کے معنی یہ ہیں کہ برابر مَیں اور تم الله اکبر الله اکبر سبحان الله کہتے رہے یہاں تك کہ الله تعالٰی نے اُس تنگی سے انہیں نجات بخشی۔اھ 

اقول:اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خود حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے میت پر آسانی کے لئے بعد دفن کے قبر پر الله اکبر الله اکبر بار بار فرمایا ہے اور یہی کلمہ مبارکہ اذان میں چھ بار ہے تو عین سنّت ہُوا،غایت یہ کہ اذان میں اس کے ساتھ اور کلمات طیبات زائد ہیں سو اُن کی زیادت نہ معاذالله کچھ مضر نہ اس امر مسنون کے منافی بلکہ زیادہ مفید ومؤید مقصود ہے کہ رحمتِ الٰہی اتارنے کے لئے ذکر خدا کرنا تھا،دیکھو یہ بعینہٖ وہ مسلك نفیس ہے جو دربارہ تلبیہ اجلہ صحابہ عظام مثل حضرت امیرالمومنین عمر وحضرت عبدالله بن عمر وحضرت عبدالله بن مسعود وحضرت امام حسن مجتبٰی وغیرہم رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین کو ملحوظ ہوا اور ہمارے ائمہ کرام نے اختیار فرمایا،ہدایہ میں ہے یعنی ان کلمات میں کمی نہ چاہئے کہ یہی نبی صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہیں تو اُن سے گھٹائے نہیں اور اگر بڑھائے تو جائز ہے کہ مقصود الله تعالٰی کی تعریف اور اپنی بندگی کا ظاہر کرنا ہے تو اور کلمے زیادہ کرنے سے ممانعت نہیں اھ ملخصا

فقیر غفرالله تعالٰی لہ،نے اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین ١٣٠٦ھ وغیرہا رسائل میں اس مطلب کی قدرے تفصیل کی۔

*دلیل سوم: بالاتفاق سنّت اور حدیثوں سے ثابت اور فقہ میں مثبت کہ میت کے پاس حالتِ نزع میں کلمہ طیبہ لاالٰہ الاالله کہتے رہیں کہ اُسے سُن کر یاد ہو حدیث متواتر میں ہے حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں

لقنوا موتاکم لاالٰہ الالله اپنے مردوں کو لا الٰہ الا الله سکھاؤ

اسے احمد،مسلم،ابوداؤد،ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی الله تعالٰی عنہ سے اور ابن ماجہ نے مسلم کی طرح حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ اور نسائی کی طرح حضرت ام المومنین عائشہ رضی الله تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے
اب جو نزع میں ہے وہ مجازًا مردہ ہے اور اُسے کلمہ اسلام سکھانے کی حاجت کہ بحول الله تعالٰی خاتمہ اسی پاك کلمے پر ہو اور شیطان لعین کے بھُلانے میں نہ آئے اور جو دفن ہوچکا حقیقۃً مُردہ ہے اور اُسے بھی کلمہ پاك سکھانے کی حاجت کہ بعون الله تعالٰی جواب یاد ہوجائے اور شیطان رجیم کے بہکانے میں نہ آئے اور بیشك اذان میں یہی کلمہ لاالٰہ الّا الله تین جگہ موجود بلکہ اُس کے تمام کلمات جواب نکیرین بتاتے ہیں ان کے سوال تین ہیں ١ من ربك تیرا رب کون ہے؟ ٢ مادینك تیرا دین کیا ہے؟ ٣ ما کنت تقول فی ھذا الرجل تُو اس مرد یعنی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے باب میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ اب اذان کی ابتدا میں الله اکبر الله اکبر الله اکبر الله اکبر اشھد ان لاالٰہ الاالله اشھد ان لاالٰہ الاالله اور آخر میں الله اکبر الله اکبر لاالٰہ الاالله سوال من ربك کا جواب سکھائیں گے ان کے سننے سے یاد آئیگا کہ میرا رب الله ہے اور اشھد ان محمدا رسول الله اشھد ان محمدا رسول الله سوال ماکنت تقول فی ھذا الرجل کا جواب تعلیم کریں گے کہ میں انہیں الله کا رسول جانتا تھا اور حیّ علی الصلاۃ حی علی الفلاح جواب مادینك کی طرف اشارہ کریں گے کہ میرا دین وہ تھا جس میں نماز رکن وستون ہے کہ الصلاۃ عمادالدین تو بعد دفن اذان دینا عین ارشاد کی تعمیل ہے جو نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے حدیث صحیح متواتر مذکور میں فرمایا،اب یہ کلام سماعِ موتٰی وتلقینِ اموات کی طرف مخبر ہوگا فقیر غفرالله تعالٰی خاص اس مسئلہ میں کتاب مبسوط مسمّی بہ حیاۃ الموات فی بیان سماع الاموات تحریر کرچکا جس میں پچھتّر حدیثوں اور *پونے چارسو٤٧٥ اقوالِ ائمہ دین وعلمائے* کاملین وخود بزرگانِ منکرین سے ثابت کیا کہ مُردوں کا سُننا دیکھنا سمجھنا قطعًا حق ہے اور اس پر اہل سنت وجماعت کا اجماع قائم اور اس کا انکار نہ کرے گا مگر غبی جاہل یا معاند مبطل،اور اُسی کی چند فصول میں بحث تلقین بھی صاف کردی یہاں اُس کے اعادہ کی حاجت نہیں۔

دلیل چہارم:* ابویعلی حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اطفؤا الحریق بالتکبیر (آگ کو تکبیر سے بجھاؤ)ابن عدی حضرت عبدالله بن عباس اور وہ اور ابن السنی وابن عساکر حضرت عبدالله بن عمرو بن عاص رضی الله تعالٰی عنہم سے راوی حضور پُرنور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اہلِ قبرستان پر تکبیر کہنے میں حکمت یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے"اذارأیتم الحریق فکبروا"یعنی جب تم کسی جگہ آگ بھڑکتی ہُوئی دیکھو اور تم اسے بجھانے کی طاقت نہ رکھتے ہو،توتکبیر کہو کہ اس تکبیر کی برکت سے وہ آگ ٹھنڈی پڑ جائیگی چونکہ عذابِ قبر بھی آگ کے ساتھ ہوتا ہے اور اسے تم اپنے ہاتھ سے بجھانے کی طاقت نہیں رکھتے لہذا الله کا نام لو(تکبیر کہو)تاکہ فوت ہونے والے لوگ دوزخ کی آگ سے خلاصی پائیں(ت)

یہاں سے بھی ثابت کہ قبر مسلم پر تکبیر کہنا فردسنت ہے،تو یہ اذان بھی قطعًا سنت پر مشتمل اور زیادات مفیدہ کا مانع سنیت نہ ہونا تقریر دلیل دوم سے ظاہر۔
دلیل پنجم: ابن ماجہ وبیہقی سعید بن مسیب سے راوی: ساتھ ایك جنازہ میں حاضر ہوا حضرت عبدالله رضی الله تعالٰی عنہ نے جب اُسے لحد میں رکھا کہا بسم الله وفی سبیل الله جب لحد برابر کرنے لگے کہا الٰہی! اسے شیطان سے بچا اور عذاب قبر سے امان دے،پھر فرمایا میں نے اسے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سنا۔
امام ترمذی حکیم قدس سرہ الکریم الکریم بسند جید عمروبن مرہ تابعی سے روایت کرتے ہیں یعنی صحابہ کرام یا تابعین عظام مستحب جانتے تھے کہ جب میت کو دفن کریں یوں کہیں"الله کے نام سے اور الله کی راہ میں اور رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی ملّت پر،الٰہی! اسے عذابِ قبر وعذابِ دوزخ اور شیطان ملعون کے شر سے پناہ بخش 
فتاویٰ رضویہ جلد ۵ صفحہ ۶۶۰
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
20/12/2020/اتوار

ٹیلیـــــگرام پر اعـلـی حـضـرت زنـدہ بـاد گـــروپ میں شـــــامل ہونے کے لــــئےنیــــچے دئے گــــئے لنـــک پر کلــــک کریں
*http://T.me/AalahzratZindabadGroup*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...