السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ و مفتیان عظام کہ میت کے سینے اور آبرو پر کلمہ طیب لکھنا کیسا ہے نیز قبر پر پانی ڈالنا کہاں سے ثابت ہے یہ جائز ہے یا نہیں. علمائے کرام سے گزارش ہے کہ جلد جواب ارسال فرمائیں مہربانی ہوگی
السائل جاوید احمد سلطان پور
____________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
میت کے سینہ اور پیشانی پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا جائز ہے ایک شخص نے اس کی وصیت کی تھی انتقال کے بعد سینہ اور پیشانی پر بسم اللہ شریف لکھ دی گئی پھر کسی نے انہیں خواب میں دیکھا حال پوچھا کہا جب میں قبر میں رکھا گیا عذاب کے فرشتے آئے فرشتوں جب پیشانی پر بسم اللہ شریف دیکھی کہا تو عذاب سے بچ گیا
اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ پیشانی پر بسم اللہ شریف لکھیں اور سینہ پر کلمہ طیبہ
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مگر نہلانے کے بعد کفن پہنانے سے پیشتر کلمہ کی انگلی لکھیں روشنائی سے نہ لکھیں
بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ نمبر 274
اور
قبر ٹھیک کرنے کے بعد اس پر پانی چھڑکنا سنت ہےجیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ عن جابر قال رش قبر النبى صلى الله عليه وسلم وكان الذى رش الماء على قبره بلال بن رباح بقربة بدا من قبل راسه حتى انتهى الى رجليه رواه البيهقى .مشكوة باب دفن الميت الفصل الثانى.صفحہ نمبر 149 ۔۔حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مباکہ پر پانی چھڑکا گیا چھڑکنے والے حضرت بلال بن رباح تھے جنہوں نے مشکیزے سے آپ کی قبر پر پانی چھڑکا سرہانے سے شروع کیا اور قدموں تک چھڑکا۔جب پانی چھڑکا جائے تو یہ دعا پڑھے۔سقى الله ثراه وجعل الجنه مثواه . یعنی اللّٰہ تعالیٰ اس کی قبر کو سیراب فرمائے اور جنت کو اس کا ٹھکانا بنائے۔ماخوذ از بستر علالت سے قبر تک صفحہ نمبر 74/75مؤلف مولانا تاج محمد واحدی الحاصل یہ کہ قبر پر پانی چھڑکنا سنت ہے اور اس سے مردہ کو تسکین حاصل ہوتی ہےاور ہر جمعہ کو تو اس سے کوئی نقصان تو نہیں بلکہ ہمارے مرحوم کے لئے اس میں فائیدہ ہے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمدالطاف حسین قادری رضوی عفی عنہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح العبد ابوالفیضان محمد
عتیق اللہ فیضی یار علوی ارشدی عفی عنہ
20/12/2020/اتوار
_________________________________________
جواب پڑھ کر دوسرے کو شیئر کریں یعنی اپنے دوستوں میں شئر کرے تاکہ آپ کو بھی ثواب ملے کچھ بہتر کرنے کے لیے نیک مشورہ سے نوازی اوران بکس میں لکھیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں