لاؤڈ اسپیکر پر نماز تراویح شبینہ پڑھنا کیسا ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسلہ میں‌ (1)کہ شبینہ رات بھر پڑھیں جاتی ہے کیا لاؤڈ اسپیکر پر شبینہ پڑھنا ناجائز و حرام ہے 

( 2)زید کہتاہے لاؤڈ اسپیکر پر قرآن پڑھنے پر سونے والے حالات جماع میں مصروف ہوگئے تو شبینہ کرنے والا گنہگار ہے  
(3)بکر کا کہنا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز متکلم کی آواز نہیں لہذا شبینہ لاؤڈ اسپیکر پر شبینہ پڑھنا جائز ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں  بینواتوجروا   المستفتی سید محمد یقین الدین قادری پستہ۔ اوڈیشہ
___________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
شبینہ تراویح کی نماز میں مائک کا استعمال یعنی لاؤڈ اسپیکر پر آواز بلند ہو کر سنائی دیتی ہے سائنسدانوں کے اس اختلاف کی وجہ سے علماء کرام کے درمیان بھی اختلاف ہوگیا کسی نے کہا لاؤڈاسپیکر سے مسموع آواز پر اقتدا درست ہے نماز صحیح ہوگی جیسےمبلغ اسلام حضرت علامہ عبدالحلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کسی نے جائز خلاف اولی کہا جیسے حضرت صدر العلماء مولانا غلام جیلانی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کسی نے مکروہ کہا جیسے حضرت مفتی احمد یار خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کسی نے مکرہ کہا جیسے مفتی احمد یار خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کسی نے فاسد بتایا جیسے حضرت مفتی اعظم ہند رحمتہ اللہ علیہ اس مسئلے کی نزاکت کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کیا اعلی حضرت عظیم البرکت نے حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بارے میں فرمایا کہ آپ یہاں موجودین میں تفقہ جس کا نام ہے وہ مولوی امجد علی میں زیادہ پائے گا اس سے حضرت کی شان  تفقہ عیاں ہوتی ہے لیکن ایسے جلیل القدر رفقیہ کو بھی اس مسئلے میں فکری انقلاب سے دوچار ہونا پڑا آپ کے اس سلسلے میں دو متضاد فتوے ہیں ایک میں نماز کو جائز کہا ہے اور ایک میں فاسد۔ پھر ان دونوں میں کون مقدم ہیں اور کون متاخر یہ بھی مختلف فیہ ہے حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کے فقہ کا مقام یہ ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے آپ کو پورے ہندوستان کا قاضی مقرر فرمایا تھا لیکن خود آپ کے فتاوی میں بھی اختلاف تھا ایک روایت کے مطابق آپ کا پہلا فتاوی جواز کا تھا دوسرا عدم جواز کا اور ایک روایت کے مطابق آپنے ابتداء یہ صادر فرمایا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر سے مسموع آواز گر بولنے والے کی ہے تو اس پر اقتداء صحیح ہے اور اس کی آواز نہیں تو اقتداء صحیح نہیں
حضرت حافظ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے ایک فتوے میں تحریر فرمایا کہ مجھے اس کی تحقیق نہیں احتیاط احتراز میں ہے نیز فرماتے ہیں حدیث شریف میں ہے سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسی چیز کو چھوڑ دو جس میں شک و شبہہ ہو اور اسے اختیار کرو جس میں کوئی شبہ نہیں لہذا میری رائے میں یہی صورت زیادہ مناسب ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر نماز میں استعمال ہی نہ کیا جائے نماز میں کسی قسم کا جھگڑا اور شبہ پیدا ہو ۔ملفوظات حافظ ملت صفحہ 44
حضرت مجاہد ملت رحمۃ اللہ علیہ نے تردو پر مبنی دلیل کے پیش نظر احتیاط ناجائز فرما کر یہ تمنا ظاہر کی ۔لعل اللہ یحد ث بعد ذلک امرا۔
حضرت محدث اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فتوی پڑھیے فرماتے ہیں ہمارے اکابر علماء نے نماز میں اس لاؤڈ اسپیکر کے لگانے کو پسند نہیں کیا بلکہ بعض علماء نے صراحتہ  فرمایا کہ اس کا نماز میں لگانا درست نہیں اور بعض نے فرمایا مفسد نماز ہے بعض نے فرمایا ہر گز نہ لگایا جائے بعض نے فرمایا اس کا نماز میں لگانا بدعت سیئہ ہے ۔ فتاوی شارح بخاری کتاب العقائد
اس کے علاوہ بہت ساری ایسی عبارتیں ہیں جس کو نقل کیا جا سکتا ہے مگر تفصیلی حاجت نہیں مجھے امید ہے سائل ان تمام عبارتوں کو پڑھ کر سمجھ جائے گے

*خلاصہ*
لاؤڈ سپیکر سے نماز پڑھانے کے بارے میں مختلف اقوال علمائے کرام کے پیش کئے گئے ہیں کسی نے لاؤڈ سپیکر کی آواز کو متکلم کی بعینہ آواز تسلیم کیا اور کسی نے بعینہ نہیں تسلیم کیا لہذا جنہوں نے بعینہ تسلیم کیا ان کے نزدیک لاؤڈ سپیکر سے نماز درست ہے اور جنہوں نے بعینہ نہیں تسلیم کیا ان کے نزدیک نماز ہوگی ہی نہیں اور جب کسی مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہو تو احتراز ہی بہترہے

اب رہی بات جو لوگ لاؤڈ سپیکر سے شبینہ کرتے اور کرواتے ہیں وہ یا تو لاؤڈ سپیکر کے جواز کے قائل ہوگے یا عدم جواز کے اوردونوں صورتوں میں لاؤڈ سپیکر سے شبینہ جائزنہیں اس لئے کہ اگر عدم جواز کے قائل ہیں تب تو لاؤڈ سپیکر مفسدصوم ہے اس لئے اس کا استعمال جائز نہیں

اور اگر جواز کے قائل ہیں تواس لئے لاؤڈ سپیکر سے شبینہ جائزنہیں جیساکہ سوال سے ظاہر ہے کہ لوگ مصروف ہوتے ہیں اور جماع وغیرہ اور نیند میں خلل ہوتی ہے اور قرآن شریف کو سنتے نہیں ہیں جبکہ قرآن کا سننا واجب ہے اور ترک واجب کے سبب عوام گنہگار ہوتی ہے تو یہ مسلمانوں کو ایذا دینا ہوا اور مسلم کو ایذا دینا جائز نہیں
واللہ اعلم 
کتبہ فقیرمحمد امتیاز قمررضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان صاحب امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری 
11/1/2021/

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...