تین طلاق دینے والے پر شریعت کا حکم



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان کرام اس مسئلہ میں زید نے اپنی بیوی   کو طلاق دی الفاظ  اس طرح کہے چل  ایک دو  تین جا میں نے تجھ کو طلاق دی اپنی ماں کے یہاں جا اپنی  ساس کو فون کرکے کہا مینے  میری بیوی کو تین طلاق دے  دی ہے اپنی بیٹی کو لے جاؤ بعد میں سالے کا فون آیا تھا طلاق دیتے وقت تمہاری نیت ہی کیا تھی زید نے کہا تین طلاق کی دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو جو الفاظ کہے اس پر کیا حکم ہے نمبر دو اس کو فون کرکے جو کچھ بھی کہے اس پر کیا حکم ہے نمبر تیں زید نے اپنے سالے کو فون پر بتایا یا اس پر کیا حکم ہے ایک شخص کہتا ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو دو طلاق کے الفاظ کہے اس پر صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے  جو اس کی ساس کو جو کچھ بھی فون پر کہا ہے کہ اس کو کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا سالے کو جو بھی کہا ہے اس سلسلے میں بھی وہ شخص کہتا ہے کہ کسی کو کچھ کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا تو معلوم یہ بھی کرنا ہے کہ اس طرح تو اس پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں متعلق مفصل جواب عنایت فرمائے المستفتی ساجد رضا*
_____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں زید  نے جو کلام استعمال کیے ہیں ایک دو تین اگر نیت طلاق کی ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اس الفاظ سے صاف ظاہر ہے جب سالے کا فون آیا تو زید سے پوچھا گیا تو جواب دیا تین طلاق کی نیت ہے اس سے صاف ظاہر ہوگیا زید نے اپنی بیوی ہندہ کو تین طلاق دے چکا ہے۔ایسی صورت میں طلاق مغلظہ واقع ہو گی البتہ شوہر بیک وقت تین طلاق واقع کرنے کے سبب گنہگار ہوا توبہ کرے عورت عدت گزرنے کے بعد کسی دوسرے سنی صحیح العقیدہ سے نکاح کر سکتی ہے
ھکذا فی الفتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ 134

نمبر تین آپ نے لکھا ہے زید نے اپنے سالے کو فون پر بتایا اس پر کیا حکم ہے ایک شخص کہتا ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو دو طلاق کے الفاظ کہیں اس پر صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے آپ کے ایک نمبر سوال سے پتہ چلتا ہے  زید نے سالے کو فون نہیں کیا بلکہ سالے نے زید کو فون کیا اب ظاہر سی بات ہے کہ ہندہ اپنے ماں کے پاس فون کی ہوگی پھر اس کی ماں اپنے بیٹے کے پاس فون کی ہوگی پھر اس کا بیٹا یعنی زید کے سالے نے فون کیا تو اس طرح سے دو گواہ ہو گئے تین طلاق کے پھر نمبر تین میں آپ نے لکھا ہے ایک شخص کہتا ہے کہ زید نے اپنی بیوی کو دو طلاق کے الفاظ کہے ہیں اب بات رہی طلاق کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اس کی صورت یہ ہے کہ ہندہ نے ماں کو بتائی پھر ہندہ کی ماں نے اپنے بیٹے کو بتایا پھر اس کے بیٹے نے زید کو فون کیا تو زید نے کہا تین طلاق کی نیت تھی اب ایک شخص کو کہنے سے گواہی معتبر نہیں اب اگر شوہر جھوٹی قسم کھائی فتاوی اکرمی میں ہے شوہر جھوٹی قسم کھائے تو اس کا وبال اس کے اوپر ہوگا لیکن اگر عورت کو یقین ہو کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دے دی ہے تو جس طرح بھی ہو سکے اپنے کو اس سے دور رکھے اور اعلانیہ طلاق حاصل کرے پھر اگر حلف کرلے اور عورت جانتی ہو کے اس نے جھوٹا کیا تو عورت پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو تین طلاقوں سے مطلقہ سمجھے اور بے وجہ تعلق نہ ثابت ہونے کے بعد ذریعہ حکومت جبر نہیں کرسکتی لہذا اپنا مہر چھوڑ کر یا اور مال دے کر اسے علانیہ طلاق لے اگر طلاق نہ دے تو جس طرح جانے اس کے پاس سے بھاگے اور اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو مجبور ہے اور وبال شوہر پر  ہے
صفحہ 309
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیرمحمد امتیازقمررضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری

الجواب صحیح فقیرمحمد علاءالدین فریدالقادری عفی عنہ دھنباد جھارکھنڈ

10/1/2021 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...