السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
*کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید سے شادی کی پھر شادی کے کچھ سالوں کے بعد آپس میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے اس درمیان زید نے ہندہ کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی ہندہ کو جان کا خطرہ لاحق ہوا اس لیے ہندہ اور اس کی چار سال کی بچی اپنے میکے چلی گئی ہے، زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کسی طرح کا کوئی تعلق زوجیت نہیں رکھا اور نہیں اپنی بچی کی کوئی خبر لیتا ہے، اور کچھ دنوں کے بعد زید نے دوسرا نکاح بھی کر لیا ہے،اور پہلی بیوی کو نان و نفقہ بھی نہیں دے رہا ہے،اب زید اگر ہندہ کو طلاق دےدے تو ہندہ اور اس کی چارسال کی لڑکی کے نان و نفقہ کا کیا حکم ہے اور زید کی وراثت میں سے اس کی چارسال کی لڑکی کو کچھ حصہ ملےگا یا نہیں، اور جب سے ہندہ میکے گئی ہے تب سے لیکر طلاق تک کے نان و نفقہ کا کیا حکم ہے*
براۓ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت کریں*
المستفتی
عبدالامین برکاتی
۵ رجب المرجب ۱٤٤٢
*______________________________________________________________________*
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
*مندرجہ ذیل کی عبارت اگر درست ہے تو شوہر کا یہ دستور ناحق ہے کہ جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی لہذا میاں بیوی کا جھگڑا ہر گھر میں ہوتا ہے مگر وہ پیار میں بدل جاتا ہے ایسی صورت میں شریعت بھی اجازت نہیں دیتی کہ بیوی کو جان سے مارنے کی دھمکی دو لہذا زید گنہگار ہوا۔کیونکہ ہندہ موت کی ڈر سے اپنے میکے چلی گئی بعد زید زوجیت کی تعلقات کو منقطع کردیا جس کے سبب زید سخت گنہگار ہوا چاہیے تھا زید ہندہ سے باتیں کرتا اور پیار محبت حسن واخلاق کے ساتھ پیش آتا اور اپنے کئے ہوئے خطاؤں سے باز آتا ۔اب جبکہ کچھ دنوں کے بعد دوسرا نکاح بھی کرتا ہے تو شریعت کے اعتبار سے دوسری شادی کر سکتا ہے مگر سوال سے ظاہر کے دوسری شادی کرنے کی حاجت نہ تھی ۔ہاں اگر ہندہ زید کی خواہش پورا نہیں کر پاتی ہے اور شوہر خواہش رکھتا ہے تو دوسرا نکاح کر سکتا ہے ۔ اب رہی بات ہندہ اور اس بچی کی تو زید کو تمام اخراجات دینے ہونگے نہ دینے کی صورت میں حقوق العباد میں گرفتار اور سخت گنہگار ہوا ۔پہلی بیوی کو نان و نفقہ نہ دینے کی صورت میں تمام مومن مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں کہ یہ ظالم ہے عورت کے اوپر ظلم کرتا ہے۔ اور زید اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے توزید کی لڑکی کے نان و نفقہ زید کے ذمہ رہے گا وہ اس لئے کہ ہندہ بعد عدت دوسرا نکاح کرکے جا سکتی ہے۔اور لڑکی نو برس کی عمر کا ہو جائے تو بھائی دادا باپ وغیرہ کے یہاں رہے گی اور اگر ہندہ کہے میں اس کو پرورش کروں گی تو اس کا نفقہ مصارف دودھ پلانے کے ثاقب نہ ہوں گے اگر ان کے ساقط ہونے کی بھی شرط ہے اوراگر ہندہ نے کہا پورے دس سال تک پرورش کروں گی تو زید سے لباس وغیرہ کا مطالبہ کر سکتی ہے اور اگر ہندہ نے کہا پرورش بھی کروں گی اور کھانا بھی کھلاؤ گی کپڑا بھی پہناؤںگی تو کپڑے کا بھی مطالبہ نہیں کر سکتی۔اور اگر ہندہ دوسری شادی کر کے بچی کو چھوڑ کر چلی گئی یا دوسرے کے ساتھ بھاگ گئی تو باقی نفقہ یا قیمت زید وصول کرے گا۔*
بہار شریعت میں ہے *عورت کے بچہ ہو تو اُس کا نفقہ اور دودھ پلانے کے مصارف ساقط نہ ہوں گے اور اگر ان کے ساقط ہونے کی بھی شرط ہے اور اس کے لیے کوئی وقت معین کر دیا گیا ہے تو ساقط ہو جائیں گے ورنہ نہیں اور بصورت وقت معین کرنے کے اگر اُس وقت سے پیشتر بچہ کا انتقال ہوگیا تو باقی مدت میں جو صرف ہوتا وہ عورت سے شوہر لے سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ عورت اپنے مال سے دس برس تک بچہ کی پرورش کریگی تو بچہ کے کپڑے کا عورت مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور اگر بچہ کا کھانا کپڑا دونوں ٹھہرا ہے تو کپڑے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی اگرچہ یہ معین نہ کیا ہو کہ کس قسم کا کپڑا پہنائے گی اور بچہ کو چھوڑ کر عورت بھاگ گئی تو باقی نفقہ کی قیمت شوہر وصول کر سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ بلوغ تک اپنے پاس رکھے گی تو لڑکی میں ایسی شرط ہو سکتی ہے لڑکے میں نہیں ۔عالمگیری*
بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ 198
آپ نے لکھا چار سال کی لڑکی کو کچھ حصہ ملے گا یا نہیں وراثت کا حصہ اولاد کے اعتبار سے باپ انتقال کے بعد تقسیم کیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے
*ترجمہ: اللّٰہ (عزوجل) تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔ اور پھر اگر نری لڑکیاں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ میں ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں تو ماں کا چھٹا بعد اس وصیت کے جو کر گیا اور دَین کے، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا۔ یہ حصہ باندھا ہوا ہے۔ اللّٰہ (عزوجل) کی طرف سے بے شک اللّٰہ (عزوجل) علم والا حکمت والا ہے*
… پ 4، النساء: 11 ، 12
*ترجمہ:اور تمہاری بیویاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیّت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر، اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دَین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا۔ پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں ۔ میت کی وصیت اور دَین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا، یہ اللّٰہ (عزوجل) کا ارشاد ہے۔ اور اللّٰہ (عزوجل) علم والا، حلم والا ہے*
… پ 6، النساء: 176۔
*جب سے ہندہ میکے گئی ہے تب سے لے کر طلاق تک کے نان و نفقہ زید کو دینا ضروری ہے* ،فتاوی فیض الرسول میں *نان و نفقہ نہ دینا اور طلاق بھی نہ دینا عورت پر ظلم ہے جس کے سبب زید ظالم سخت گنہگار اور حق العبد میں گرفتار قال اللہ تعالی و علی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف لہذا زید پر لازم ہے کہ اس کو اپنے پاس رکھے اور اس کے حقوق ادا کرے اور یا تو طلاق دے اگر دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہ کرے تو سب مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں نہ اس کے پاس بیٹھیں اور نہ اس کو اپنے پاس بیٹھنے دیں اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے قال اللہ تعالی واما یسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکر مع القو الظلمین رہا مہر کا سوال تو عام طور ہندوستان میں رائج یہ ہے کے موت یا طلاق سے پہلے مہر ادا نہیں ہوتا لہذا جب تک طلاق نہ دے یہ ان دنوں میں سے کوئی مر نہ جائے مہر کی ادائیگی پر شوہر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔*
*ھکذا فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ 225
واللہ تعالی اعلم بالصواب
*🖋️کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا 9113471871*
*الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری یوپی*
26/2/2021/









