بیوی کے اخراجات و نان و نفقہ نہ دینے والے پر شریعت کا حکم

 


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
*کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید سے شادی کی پھر شادی کے کچھ  سالوں کے بعد آپس میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے اس درمیان زید نے ہندہ کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی ہندہ کو جان کا خطرہ لاحق ہوا اس لیے ہندہ اور اس کی چار سال کی بچی اپنے میکے چلی گئی ہے،  زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کسی طرح کا کوئی تعلق زوجیت نہیں رکھا اور نہیں اپنی بچی کی کوئی خبر لیتا ہے،  اور کچھ دنوں کے بعد زید نے دوسرا نکاح بھی کر لیا ہے،اور پہلی بیوی کو نان و نفقہ بھی نہیں دے رہا ہے،اب زید اگر ہندہ کو طلاق دےدے تو ہندہ اور اس کی چارسال کی لڑکی کے نان و نفقہ کا کیا حکم ہے اور زید کی وراثت میں سے اس کی چارسال کی لڑکی کو کچھ حصہ ملےگا یا نہیں، اور جب سے ہندہ میکے گئی ہے تب سے لیکر طلاق تک کے نان و نفقہ کا کیا حکم ہے*
براۓ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت کریں*

المستفتی
عبدالامین برکاتی
۵ رجب المرجب ۱٤٤٢

*______________________________________________________________________*

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب

*مندرجہ ذیل کی عبارت اگر درست ہے تو شوہر کا یہ دستور ناحق  ہے کہ جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دی لہذا میاں بیوی کا جھگڑا ہر گھر میں ہوتا ہے مگر وہ پیار میں بدل جاتا ہے ایسی صورت میں شریعت بھی اجازت نہیں دیتی کہ بیوی کو جان سے مارنے کی دھمکی دو لہذا زید گنہگار ہوا۔کیونکہ ہندہ موت کی ڈر سے اپنے میکے چلی گئی بعد زید زوجیت کی تعلقات کو منقطع کردیا جس کے سبب زید سخت گنہگار ہوا چاہیے تھا زید ہندہ سے باتیں کرتا اور پیار محبت حسن واخلاق کے ساتھ پیش آتا اور اپنے کئے ہوئے خطاؤں سے باز آتا ۔اب جبکہ کچھ دنوں کے بعد دوسرا نکاح بھی کرتا ہے تو شریعت کے اعتبار سے دوسری شادی کر سکتا ہے مگر سوال سے ظاہر کے دوسری شادی کرنے کی حاجت نہ تھی ۔ہاں اگر ہندہ زید کی خواہش پورا نہیں کر پاتی ہے اور شوہر خواہش رکھتا ہے تو دوسرا نکاح کر سکتا ہے ۔ اب رہی بات ہندہ اور اس بچی کی تو زید کو تمام اخراجات دینے ہونگے نہ دینے کی صورت میں حقوق العباد میں گرفتار اور سخت گنہگار ہوا ۔پہلی بیوی کو نان و نفقہ نہ دینے کی صورت میں تمام مومن مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں کہ یہ ظالم ہے عورت کے اوپر ظلم کرتا ہے۔ اور زید اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے توزید کی لڑکی کے نان و نفقہ زید کے ذمہ رہے گا وہ اس لئے کہ ہندہ بعد عدت دوسرا نکاح کرکے جا سکتی ہے۔اور لڑکی نو برس کی عمر کا ہو جائے تو بھائی دادا باپ وغیرہ کے یہاں رہے گی  اور اگر ہندہ کہے میں اس کو پرورش کروں گی تو اس کا نفقہ مصارف دودھ پلانے کے ثاقب نہ ہوں گے اگر ان کے ساقط ہونے کی بھی شرط ہے اوراگر ہندہ نے کہا پورے دس سال تک پرورش کروں گی تو زید سے لباس وغیرہ کا مطالبہ کر سکتی ہے اور اگر ہندہ نے کہا پرورش بھی کروں گی اور کھانا بھی کھلاؤ گی کپڑا بھی پہناؤںگی تو کپڑے کا بھی مطالبہ نہیں کر سکتی۔اور اگر ہندہ دوسری شادی کر کے بچی کو چھوڑ کر چلی گئی یا دوسرے کے ساتھ بھاگ گئی تو  باقی نفقہ یا قیمت زید وصول کرے گا۔*
بہار شریعت میں ہے  *عورت کے بچہ ہو تو اُس کا نفقہ اور دودھ پلانے کے مصارف ساقط نہ ہوں  گے اور اگر ان کے ساقط ہونے کی  بھی شرط ہے اور اس کے لیے کوئی وقت معین کر دیا گیا ہے تو ساقط ہو جائیں گے ورنہ نہیں  اور بصورت وقت معین کرنے کے اگر اُس وقت سے پیشتر بچہ کا انتقال ہوگیا تو باقی مدت میں جو صرف ہوتا وہ عورت سے شوہر لے سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ عورت اپنے مال سے دس برس تک بچہ کی  پرورش کریگی تو بچہ کے کپڑے کا عورت مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور اگر بچہ کا کھانا کپڑا دونوں  ٹھہرا ہے تو کپڑے کا مطالبہ بھی نہیں  کر سکتی اگرچہ یہ معین نہ کیا ہو کہ کس قسم کا کپڑا پہنائے گی اور بچہ کو چھوڑ کر عورت بھاگ گئی تو باقی نفقہ کی  قیمت شوہر وصول کر سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ بلوغ تک اپنے پاس رکھے گی تو لڑکی  میں  ایسی شرط ہو سکتی ہے لڑکے میں  نہیں ۔عالمگیری*
بہار شریعت حصہ ہشتم صفحہ 198
آپ نے لکھا چار سال کی لڑکی کو کچھ حصہ ملے گا یا نہیں وراثت کا حصہ اولاد کے اعتبار سے باپ انتقال کے بعد تقسیم کیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے
*ترجمہ: اللّٰہ  (عزوجل) تمہیں  حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں  بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں  کے برابر ہے۔ اور پھر اگر نری لڑکیاں  اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کا آدھا اور میت کے ماں  باپ میں  ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں  باپ چھوڑے تو ماں  کا تہائی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی ہوں  تو ماں  کا چھٹا بعد اس وصیت کے جو کر گیا اور دَین کے، تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں  کون تمہارے زیادہ کام آئے گا۔ یہ حصہ باندھا ہوا ہے۔  اللّٰہ  (عزوجل) کی طرف سے بے شک  اللّٰہ (عزوجل) علم والا حکمت والا ہے*
… پ 4، النساء: 11 ، 12
*ترجمہ:اور تمہاری بیویاں  جو چھوڑ جائیں  اس میں  سے تمہیں  آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں  سے تمہیں  چوتھائی ہے جو وصیّت وہ کر گئیں  اور دَین نکال کر، اور تمہارے ترکہ میں  عورتوں  کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں  سے آٹھواں  جو وصیت تم کر جاؤ اور دَین نکال کر، اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں  باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں  کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں  سے ہر ایک کو چھٹا۔ پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں  تو سب تہائی میں  شریک ہیں ۔ میت کی وصیت اور دَین نکال کر جس میں  اس نے نقصان نہ پہنچایا، یہ  اللّٰہ   (عزوجل) کا ارشاد ہے۔ اور  اللّٰہ   (عزوجل) علم والا، حلم والا ہے*
… پ 6، النساء: 176۔
*جب سے ہندہ میکے گئی ہے تب سے لے کر طلاق تک کے نان و نفقہ زید کو دینا ضروری ہے* ،فتاوی فیض الرسول میں *نان و نفقہ نہ دینا اور طلاق بھی نہ دینا عورت پر ظلم ہے جس کے سبب زید ظالم سخت گنہگار اور حق العبد میں گرفتار قال اللہ تعالی و علی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف لہذا زید پر لازم ہے کہ اس کو اپنے پاس رکھے اور اس کے حقوق ادا کرے اور یا تو طلاق دے اگر دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہ کرے تو سب مسلمان اس کا بائیکاٹ کریں نہ اس کے پاس بیٹھیں اور نہ اس کو اپنے پاس بیٹھنے دیں اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے قال اللہ تعالی واما یسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکر مع القو الظلمین رہا مہر کا سوال تو عام طور ہندوستان میں رائج یہ ہے کے موت یا طلاق سے پہلے مہر ادا نہیں ہوتا لہذا جب تک طلاق نہ دے یہ ان دنوں میں سے کوئی مر نہ جائے مہر کی ادائیگی پر شوہر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔*
*ھکذا فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ 225
واللہ تعالی اعلم بالصواب

*🖋️کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا 9113471871*
*الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری 
یوپی*

26/2/2021/

بزرگان دین کی قدم بوسی کیسی ہیں؟

 


السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ بعدسلام یے عرض ہے کہ بزرگان دین کی قدم

 بوسی کیسی ہیں سائل :عرفان خان قادری پتہ :غیبن شاہ درگاہ روڈ نارائن نگر گھاٹ

 کوپر (مغربی) ممبئ مہاراشٹرا الہند 400086

_______________________________________________________________________________


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوہاب


بزرگان دین اولیاء کاملین اولیاء اللہ کے ہاتھ پاؤں چومنا بوسہ دینا جائز ہے یعنی قدم

 بوسی جائز ہے وعن ذراع وکان فی وفد عبدالقیسی قال لما قدمنا المدینۃ فجعلنا نتبا

 در من رواحلنا فنقبل ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجلہ ۔

حضرت ذراع سے مروی ہے اور یہ وفد عبد القیس میں تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ

 منورہ میں آئے تو اپنی سواریوں میں اترنے میں جلدی کرنے لگے بس ہم حضور صلی اللہ

 علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے۔مشکوۃ باب الکبائر وعلامات النفاق میں حضرت صفوان ابن عسال سے روایت ہے ۔

فقبلا یدیه ورجليه .، پس انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پاؤں چومے 

بحوالہ جاء الحق لہذا بزرگان دین کی قدم بوسی جائز ہےبہار شریعت حصہ شانزدہم میں ہے

والدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے، حدیث میں ہے جس نے اپنی والدہ کا پاؤں 

  چوما تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کوبوسہ دیا 

صفحہ448

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا

الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری یوپی انڈیا

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا

17/2/202/

اذان کا جواب دینا کیسا ہے نیز حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح پر کیا پڑھنا چاہیے

 


اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 

کیا فرماتے ہیں علما۶ اہلسنت مسلہ۶  میں کہ اذان   کا جواب دینا واجب ہے یا سنت

 حی علی الصلوت حی علی الفلاح کا بہتر جواب کیا ھے مسجد کے اندر سے یا باہر سے

 جواب دینے میں کوی فرق ھے حضرات جواب عطا فرمادیں عین کرم ہوگا محمد

 خورشيد رضا ازہری گولا

_______________________________________________________________________

وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

اذان کا جواب  زبان سے دینا  سنت ھے  اور قدم سے چل کر مسجد وجماعت کی جگہ

 حاضر ہونا ہر مکلف جماعت غیر معذور پر

 واجب ہے ۔


جیسا کہ رد المحتار میں ھے 


*” و اللذی ینبغی تحریرہ فی ھٰذا المحل ان الاجابة باللسان مستحبة وان الاجابة بالقدم

 واجبة الخ“*

رد المحتار علی الدر المختار ج ٢/ ص ٦٩ باب

 الاذان زکریا بکڈپو 


اور حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ اپنی

 کتاب بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں ۔


کہ حدیث شریف میں ابن  عسِاکرنے روایت کی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے گروہ

 زنان ! جب تم بلال کو اذان واقامت کہتے سنو تو جس طرح وہ کہتا ہے تم بھی کہو کہ

 اللہ تعالی تمہارے لیے ہر کلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکی لکھے گا اور ہزار درجے بلند فرمائے

 گا اور ہزار گناہ محو کرے گا ۔

اور صحیح مسلم میں امیر المومین حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول کریم

 ﷺ فرماتے ہیں ۔ جب مؤذن اذان دے تو جو شخص اس کی مثل کہے اور جب وہ ۔ حی

 علی الصلاۃ حی علی الفلاح  کہے تو یہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہے جنت میں داخل

 ہوگا ۔


ماخوذ بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۴۶۴/ ۴۶۵ 


واللہ ورسو اعلم بالصواب 


کتبہ العبد محمد مشاہدرضا قادری رضوی

 عفی عنہ گونڈہ پوپی


الجواب صحیح فقیرمحمد مشاہد رضا

 حشمتی عفی عنہ


الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان

 امجدی عفی عنہ 

الجواب صحیح فقیر عتیق اللہ فیضی عفی

عنہ

16/2/2021/

دودھ پلانے والی عورتیں اجرت لے سکتی ہے؟

 


السلام  علیکم و رحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ السوال۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟


کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان کرام اس مسلے میں ھندہ کو بچپنے میں دو عورت نے

 کبھی، کبھار  دودھ پلایا،  ہے کوئی اجرت طے نہیں ہوا تھا اب ہندہ بڑی ہو گیی ہے اب

 وہ دودھ بخشوانا چاہتی۔ ہے کیا دودھ، بخشوانا ضروری ہے اور وہ عورتیں بغیر کچھ

 اجرت لیے بخشنے کو تیار نہیں ہے کیا  اجرت دینا ضروری ہے کیا۔ اجرت دیکر دودھ،

 بخشوانے سے دودھ، بخشا جاییگا برائے مہربانی مکمل وضاحت  ومدلل جواب

 سےنوازیں کرم ہوگا 


محمد عالمگیر اطہر دمکا جھارکھنڈ موبایل نمبر 7979009970

9572165393

_____________________________________________________________________


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب

دودھ پلانے والی عورت نے اگردوسال کے اندر دودھ پلائی ہے تو اجرت لے سکتی ہے

 اجرت کا مطالبہ لڑکی کے باپ سے کرسکتی ہے نہ کہ لڑکی سےاگر لڑکی کا باپ فوت

 ہوگیااورکسی وجہ سے اجرت نہ دے سکا تو اس کا مطالبہ لڑکی کے باپ کے وارثین سے

 کیاجائے گا اور وارثین پر لازم ہے کہ اسے ادا کریں دودھ پلانے والی کو یہ اجرت جبرا لینے

 کا حق حاصل ہے جیساکہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں"

 عورت کو طلاق دے دی اس نے اپنے بچے کو دو برس کے بعد تک دودھ پلایا تو دو برس

 کے بعد کی اجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتی یعنی لڑکے کا باپ اجرت دینے پر مجبور نہیں

 کیا جائے گا اور دو برس تک کی اجرت اس سے جبراً لی جا سکتی ہے۔"فتاوی عالمگیری ،

 بحوالہ بہار شریعت حصہ ہفتم


البتہ دودھ پلانے کے بدلے میں اجرت لے سکتی ہے اجرت طۓ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو

 اور اگر دودھ پلانے والی بخش دے کے جا  تمہیں کوئی اجرت نہیں لگے گا تمہارے بچے

 کو بغیر اجرت دودھ پلائی اس کی کوئی اجرت نہ لونگی تو یہ بخشوانا ہوا جو دودھ

 پلانے کی اجرت نہیں لے رہی ہے لیکن یہ خیال رہے اجرت دے دینے سے یا بخشوانا

 لینے سے ماں کا رشتہ ختم نہیں ہوتا جس بچے یا بچی کو جس عورت نے دودھ پلائی

 ہے وہ اس کی ماں ہوئی 


بقولہ تعالٰی وامھتکم التی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ ولم یذکر البنت والعمۃ

 کما ذکرھما


الله تعالٰی نے دودھ پلانے والی تمھاری ماؤں اور تمھارے رضاعی بھائیوں کو ذکر کیا ہے

 اور بیٹی اور پھوپھی کو ذکر نہیں کیا جس طرح ان کو نسب میں بیان فرمایا ہے


فتاویٰ رضویہ جلد جدید11 


رسالہ معزز خواتین کو جہنم کے کتوں کے نکاح میں نہ دیتے ہوئے انہیں رسوائی سے

 بچانا


عــــہ۱: حیث قال یعنی شیر دہندہ وشوہرش بافرزندان وپدران ومادران وخواہران ایشاں

 خویش خوارہ شوند وشیر خوارہ وزنش یا شوہرش بافرزندان خویش شیر دہندہ و

 شوہرش شوند ١٢


جامع الرموز للقہستانی کتاب الرضاع مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١/٥٠١


خلاصہ کلام جس نے بچی کو مدت رضاعت میں دو سال کے اندر دودھ پلایا ہے وہ لڑکی

 کے باپ سے اجرت کا مطالبہ کرے لڑکی سے نہیں کیونکہ بچی کی ذمہ داری باپ کی ہے

 کہ اسے دودھ پلوائے اگرکسی وجہ سے لڑکی کے کاباپ اجرت نہ دے سکا اور وہ انتقال کر

 گیا تو اس اجرت کا مطالبہ اس کے وارثین سے کیاجائے اور دودھ پلانے والی کو اختیار

 ہے اجرت جبرا لینے کا اور اسے معاف کرنے کا بھی اختیار ہے


واللہ اعلم باالصواب


(کتہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی! عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا!


؛الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری یوپی! 

10/2/2021


جس کی قراءت صحیح نہیں اس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑھانا کیسا ہے



 السلام علیکم ورحمة الله وبركاته السوال بعد سلام عرض یہ ہےکہ


غیر عالم کے پیچھے جس کی قرأت درست نہیں اس کے پیچھے عالم دین کی نماز ہوگی

 یا نہیں؟ مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں.

سائل شاھد رضا قادری رضوی

_____________________________________________________________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب 

اگر وہ صحیح القراءت نہیں ہے یعنی ایسی غلطی کرتا ہے جس سے معنی بدل جاتا ہے

 مثلا حرف میں تبدیلی جیسے ع،ط ،ص، ح،ظ،کی جگہ ا، ت ،س،ہ،ز، پڑھتا ہے یا

 نستعین کو نستا عین یا انعمتَ کو انعمتُ پڑھتا ہے وعلی ہذاالقیاس تو ایسی صورت

 میں خود اس کی نماز باطل ہے تو جب اپنی نہ ہوئی  تو اس کے پیچھے کسی کی نہ

 ہوگی  

اور اگر ایسی غلطی کرتا ہے کہ کسی وجہ سے حرف صحیح ادا نہیں کرسکتا تب بھی

 یہی حکم ہے کہ اس کے پیچھے صحیح پڑھنے والے کی نماز باطل ہوگی اور اگر

 صحیح پڑھتاہے مگر تجوید کے واجبی امور کو ادا نہیں کرتا کہ جن امور کا ترک گناہ ہے

 جب بھی ایسے شخص کو امام نہ بنایا جائے اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے ۔ 


ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوم میں ہے۔


اور حدیث شریف پاک میں ہے ۔رب قارئ القرآن وھو لا عنہ ۔ اھ 

یعنی بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں جو غلط پڑھتے ہیں توقرآن ان پر لعنت بھیجتا ہے ۔ 


ماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۱۳۵


لہذا ان حوالہ جات بالا سے صاف ظاہر وباہر ہوگیا کہ جس کا قراءت درست نہیں ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے 



واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


کتبہ العبد محمد مشاہد رضا القادری الرضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا۔


الجواب صحیح

مفتی عتیق اللہ فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ صاحب قبلہ 10/2/2021


مسجد سے پانی بھر کر اپنے گھر پہ لے جانا کیسا ہے



 السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس میں مسلہ میں

 ہماری مسجد مین شہر میں ہے اس کے اردگرد کچھ مزدور رہتے ہیں  انکا پانی ختم

 ہوجاتاہے تو مجبوری کے تحت پانی بھر کے لے جاتے ہیں کیا انکا پانی لیجا نا ٹھیک ہے یا

 نہیں  


شکیل احمد جموں کشمیر   ضلع راجوری

_____________________________________________________________________

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب

جو پانی مسجد کے ٹنکی یاحوض میں جمع کیا ہے وہ خاص مسجد کی ہی ملک ہے

 اوراسے مسجد ہی کے مصارف مثلاً وضو وغیرہ میں ہی استعمال کرنے کی اجازت ہے

 اور اسے اپنے گھر کے برتن میں بھر کر لےجانا اوراپنے استعمال میں لانا حرام وگناہ

 ہے کہ یہ مسجد کی ملک پر بے جادست درازی اورزیادتی ہے 


فتاو رضویہ میں ہے

*المراد بہ الماء المسمل بمال الوقف کماء المدارس والمساجد والسقایات التی تملؤ من اوقافھا فان ھذاءالماء یملکہ احد ولا یجوز صرفہ الا الیٰ جھتہ عینھا الواقف و ھذا ھوحکم الوقف اھ*


(فتاوی رضویہ ج 1 ص 419)


اور مسجد کا موٹر اپنے لئے چلا کر پانی بھرنا اور اپنے استعمال میں لانا اور زیادہ حرام

 وگناہ ہے لہذا اگر مکان میں مسجد سے گرم یا ٹھنڈا پانی لے جانا حرام ہے چاہے وضو کے

 لئے ہی کیوں نہ ہو کہ یہ بہت بڑی دھاندھلی بھی ہے


*فتاوی مرکزتربیت افتاء ج دوم ص 190 باب المسجد* 


 ٢٤ جمادی الآخر یکشنبہ  ١٤٤٢ہجری مطابق ٧ فروری ٢٠٢١ء


واللہ اعلم بالصواب


*کتبہ فقیر محمدوسیم القادری رئیگائیں اترولوی* 

*خادم مصباح العلوم نعیمیہ کھمریا*

الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری انڈیا 10/2/2021


بغیر عذر شرعی کے حمل کوروکنے کے لئے آپریشن کروانا کیسا ہے



 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرا ایک سوال ہے۔۔۔۔۔۔

جوعورت بغیر عذر شرعی یہ آپریشن کر لیتی ہیں بچہ نہ ہونے

 کے لیے ۔۔۔۔تو ایسی عورت کے بارے حکم شرعی کیا ہے۔۔بحوالہ جواب عنایت

 فرماں کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں

_____________________________________________________________________

 وعلیکم السلام ورحمتہ الله تعالی وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب 

بغیرعذرشرعی آپریشن کروانا کہ بچے نہ پیدا ہوں ناجائز وحرام ہے اگر اس عورت کا

 محض اس خوف سے آپریشن کرانا ہے کہ زیادہ بچے ہوجائیں گے تو کون پڑھائے لکھائے

 گا کون خرچہ اٹھائے گا اس طرح کا خیال کرنا اور سوچنا حماقت اور جہالت ہے اس

 لئے کہ اللہ تعالی سب کو روزی دینے والا ہے اسی کا ارشاد ہے(نحن نرزقکم وایاھم)


پارہ 7 سورہ انعام آیت 151:


اور مذکورہ طریقہ(آپریشن)اپنانے کی صورت میں امت مسلمہ کی زیادتی کو روکنا ہے

 حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زیادتی کو پسند فرمایا۔حدیث شریف

 میں ہے *تزوجواالودودالولود فانی مکاثر بکم الامم* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


(مشکوة شریف ص 267)


لیکن اگر جانتی ہے کہ حمل ٹھہرنے کی وجہ سے اس کی صحت خراب ہو جائے گی یا

 چھوٹا بچہ ہے جس کی تندرستی دودھ نہ ملنے کی بنا پر خراب ہوجائے گی تو اس قسم

 کی مجبوری کے تحت وقتی طور پر حمل نہ ٹھہرنے کی دوا وغیرہ کا استعمال درست ہے

 اور ہمیشہ کے لئے بچہ پیدا کرنے کی طاقت ختم ہوجانے کے لئے ایسی چیز کا عمل میں

 لانا حرام وناجائز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


(فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص333 فقیہ ملت اکیڈمی)


واللہ اعلم بالصواب

*فقیر محمدوسیم القادری اترولوی* 

*مصباح العلوم نعیمیہ کھمریا*

*الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان *امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری* 10/2/2021

انگوٹھوں کو چومنے اور سلام پڑھنے کے ثبوت میں



اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت آپکی بارگاہ میں سوال ہے

 کہ حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پاک پر انگوٹھے چومنا اور حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر کھڑے ہو کر سلام پڑھنا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عطا فرمائے بہت مہربانی ہوگی آپکی

 ناظر حسین رضوی انڈیا یوپی 
__________________________________________________________

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔الجواب بعون الملک الوہاب۔

حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نام پاک سن کر انگوٹھا چومنا مستحب ہے محدثین اس پر متفق ہیں اور صحابہ کرام کا اس پر عمل ہے ۔
حدیث شریف میں ہے  ،، روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انه قال من سمع اسمى فى الاذان ووضع ابها ميه على عينيه فا نا طالبه فى صفوف القيمة و قائده الى الجنة ،، 

حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے مروی ہے  ،، کہ جو شخص ہمارا نام اذان میں سنے اور اپنے انگوٹھے آنکھوں پر رکھے تو ہم اس کو قیامت کی صفوں میں تلاش فرمائیں گے اور اس کو اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے ۔

 تفسیر روح البیان میں ہے  ،، وضعف تقبیل ظفری ابھا ميه مسبحيه والمسع على عينيه عند قوله محمد ا رسول الله لانه لم يثبت فى الحديث المر فوع لكن المحديث اتفوا على ان الحديث الضعيف يجوز العمل به فى الترغيب والترهيب  ،، . محمد رسول الله کہنے کے وقت اپنے انگوٹھے کے ناخنوں کو مع کلمے کی انگلیوں کے چومنا ضعیف ہے کیونکہ یہ حدیث مرفوع سے ثابت نہیں لیکن محدثین اس پر متفق ہیں کہ حدیث ضعیف  پر عمل کرنا رغبت دینے اور ڈرانے کے متعلق جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے   ،، اذان کی پہلی شہادت پر یہ کہنا مستحب ہے ،،صلی اللہ علیک یارسول اللہ،، اور دوسری شہادت کے وقت یہ کہے،، قر۔ۃ عینی بک یا رسول اللہ،، پھر اپنے انگوٹھوں کے ناخن اپنی آنکھوں پر رکھے اور کہے  ،،اللھم متعنی بالسمع والبصر،، تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس کو اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے ۔

سنیوں کا عقیدہ ہے تعظیم نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے کھڑے ہوکر سلام پڑھتے ہیں ہیں بلکہ اگر کسی کو اللہ توفیق دے اور ہر ذکر کھڑے ہوکر کرے اور میلاد شریف از اول تا آخر کھڑے کھڑے پڑھا کرے تو ہم منع نہیں کریں گے خواہ  ہر وقت کھڑے ہو یا بعض اوقات ہر طرح جائز ہے اعلی حضرت قدس سرہ کتب حدیث کھڑے ہو کر پڑھایا کرتے تھے دیکھنے والوں نے ہم کو بتایا کہ خود بھی کھڑے ہوتے پڑھنے والے بھی کھڑے ہوتے تھے ان کا یہ فعل بہت ہی مبارک تھا مگر چونکہ از اول تا آخر کھڑا ہونا عوام کو دشوار ہوگا اس لئے صرف ولادت کے ذکر کے وقت کھڑے ہو جاتے ہیں نیز بیٹھے بیٹھے بعض لوگ اونگ بھی جاتے ہیں کھڑا کرکے صلاۃ وسلام پڑھ لوں تاکہ نیند جاتی رہے۔

 ۔ہم لوگ نہ قیام میلاد کو واجب سمجھتے ہیں نہ کسی عالم دین نے لکھا کہ قیام واجب ہے اور نہ تقریروں میں کہا عوام بھی یہی کہتے ہیں کہ قیام اور میلاد شریف کار ثواب ہے پھر آپ ان پر واجب سمجھنے کا کس طرح الزام لگاتے ہیں اگر کوئی واجب سمجھے بھی تو اس کا یہ سمجھنا برا ہوگا نہ کہ اصل قیام حرام ہو جاوے نماز میں درود شریف پڑھنا امام شافعی کے نزدیک ضروری سمجھتے ہیں احناف غیر واجب تو ہمارے نزدیک انکا یہ قول صحیح نہ ہوگا رہا یہ کہ مسلمان اس کو پابندی سے کرتے ہیں اور نہ کرنے والے کو وہابی کہتے ہیں یہ بالکل درست ہے۔

 مشکوۃ باب المقصدالعمل میں ہے ،، احب الاعمال الی اللہ ادمھا وان قل اللہ،،۔کے نزدیک اچھا کام وہ ہے جو کہ ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو ہر کار خیر کو پابندی سے کرنا مستحب ہے 

بحوالہ جاء الحق 

واللہ اعلم

کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھار کھنڈ انڈیا 9113471871
الجواب صحیح العبد ابوالفیضان محمد عتیق اللہ فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ

وہابیہ سے نکاح کرنا کیساہے نیز ملزم کا قول اس کے حق میں کیاہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام

 مسلۂ ذیل میں کہ۱: جس کے اوپر کوئی الزام ہو تو اسکے خود کی گواہی سے وہ بری الذمہ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟۲

:زید دیوبندی ہے اسی کے گاؤں والے شرعی ثبوت دے چکے ہیں اور اسکا


 بایکاٹ کیے ہوئے ہیں زید نے اپنی بیٹی

 کا نکاح بکر (سنّی) سے کیا ہے اب بکر کے گاؤں

 والے یہ مسئلہ اٹھائے

 کہ تم نے ایک دیوبندی کے بیٹی سے شادی کی ہے تو بکر اپنی بچاؤ کے لیے ایک عالمِ دین

 کے پاس گیا تو اُن عالمِ

 دین نے بکر کے سسر سے فون پے بات کیے کی بتا تیرا عقیدہ کیا ہے اس نے کہا کی میں

 سنّی ہوں اسی پے اُن

 عالم صاحب نے یہ مسئلہ حل کر دیا کی زید سنّی ہے تو دریافت طلب یہ ہے کی زید کے

 اس گواہی سے یہ ثابت

 ہوتا ہے کی وہ سنّی ہے ؟ اور خالص زید کے گواہی سے یہ مسئلہ حل کر دینا فیصلہ کر

 دینا کیسا  ہے ؟ 

اور جو عالم ایسا کرے اُس پر کیا حکمِ شرع نافظ ہوگا جبکہ خود بکر که چکا ہے کی

 میری شادی دیوبندی کے

 یہاں ہوئی ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں

مدلّل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت

 فرمائیں بہت مہر بانی ہوگی
المستفتی : حافظ و قاری اجمیر علی (لکھنوی)
________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب

(١)کسی پر بغیر ثبوت شرعی کے الزام لگانا جائز نہیں اور جب ثبوت شرعی موجود ہو تو


 ملزم کے قول کا اعتبار نہیں۔


(٢)زید کے عقائد اگر مذہب اہلسنت والجماعت کے خلاف ہے اور وہ پیشوان

 دیابنہ کو مسلمان سمجھتاہے 

اور ان کی کفری عبارات سے واقف بھی ہے تو بلاشبہ زید کافر ومرتد ہے صرف اس کے

 کہنے سے اسے سنی نہ 

مانا جائے گا جب تک کہ اپنے عقائد باطلہ سے توبہ کرکے سنی صحیح العقیدہ مسلمان نہ

 ہوجائے

جیساکہ حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان

 تحریر فرماتے ہیں"دیوبندی

 عقیدہ والوں کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ یہ

 لوگ اسلام سے خارج ہیں،

 اور فرمایا:من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر 

جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ ان

 کی کوئی بات نہ سنی جائے نہ ان کی کسی بات پر عمل کیا جائے جب تک اپنے علماء سے

 تحقیق نہ کرلیں

۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:وایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتونکم 

ان سے دور بھاگو اور انھیں اپنے سے دور کریں۔ کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں

 وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں"

فتاوی رضویہ جلد ٩,ص١٥٦مطبوعہ دعوت اسلامی

بکر کا زید کی لڑکی سے شادی کرنا جائزنہیں البتہ زیدکی

 لڑکی اگر توبہ کرکے سنی صحیح العقیدہ ہوگئی ہے پھرنکاح کی ہے اور وہابیوں سے اس 
کا کوئی تعلق نہیں

 تواس صورت میں نکاح درست ھےاگروہابیت سے توبہ نہیں کی تو وہ وہابیہ ہے اس کے

 ساتھ نکاح جائز نہیں 

حضورفقیہ ملت علیہ الرحمہ تحریرفرماتے فرماتے ہیں "وہابیہ کے ساتھ شادی جائزنہیں

 پھر اگر

 وہابیہ بمعنی مرتدہے تونکاح باطل ہے اوراگرلڑکی صرف گمراہ ہے تواس صورت میں نکاح 

منعقدہوجائے گامگرگمراہ

 لڑکی سے رشتہ ازدواج قائم کرنا جائز نہیں اوروہابی کےیہاں شادی کرنا اس کے یہاں

 بارات جانا

 اورکھاناپینابھی جائزنہیں جن لوگوں نے ایساکیا وہ گنہگار ہوئے توبہ کریں صحیح مسلم 

شریف کی حدیث ہے

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان مرضوا فلاتعودوھم وان


 ماتوا فلاتشھدوھم وان


 لقیتموھم فلاتسلموا علیھم ولاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم

 ولاتصلواعلیھم ولاتصلوا معھم ۔

یعنی حضرت ابوھریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ

 وسلم نے فرمایا کہ

 بدمذہب اگر بیمار پڑجائیں توان کی عیادت مت کرو۔اگرمرجائیں توان کے جنازہ میں

 شریک نہ ہو۔ان سے

 ملاقات ہوتوانھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھو ان کےساتھ پانی نہ پیو۔ ان کے

 ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ ان کے

 ساتھ شادی بیاہ نہ کرو۔ان کی جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔اس 

حدیث کو ابوداؤد ابن ماجہ

 اورعقیل ابن حبان نے کیاہے"

وہابی کی لڑکی بھی وہابیہ بمعنی مرتدہ ہے تونکاح منعقد

 نہ ہوگاجیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلداول مصری صفحہ ٢٦٣میں ہے۔ لایجوزالمرتدان یتزوج 

مرتدۃ ولامسلمۃ 

ولاکافرۃ اصلیۃ وکذالک لایجوز نکاح المرتدمع احدکذا فی المبسوط یعنی مرتدکے لئے 

مرتدہ مسلمہ کافرہ اصلیہ

 کسی سے شادی کرنا جائزنہیں اورایسے ہی مرتدہ کے لئے کسی سے نکاح کرنا جائز نہیں

 ایساہی مبسوط میں ہے اور

 اگروہابی کی لڑکی کا طریقہ کار وہابیوں جیساہے مگروہابیوں کے کفریات قطعیہ کی اسے

 خبرنہیں

  یاباپ وہابی لڑکی سںنیہ ہے توان صورتوں میں نکاح ہوجائے گا مگروہابیوں کے ساتھ

 کسی قسم کا 

رشتہ جائزنہیں کہ سنیوں کے لئے زہر قاتل ہے بہت سے رشتے داریوں کے سبب وہابی

 ہوگئے"

فتاوی فیض الرسول جلددوم صفحہ ٥٢٥

اگر زید کی لڑکی بغیر توبہ کئے نکاح کی ہے اور وہابیوں کے عقائد سے بے خبر ہے تو اسے

 وہابیوں کے عقائد بتائیے

 جائیں تاکہ ان سے اپنے تعلق مکمل ختم کرلے اور اگر وہابیوں کے عقائد سے واقف ہے تب

 تو وہ 

مرتدہ ہے نکاح ہوا ہی نہیں محض زناہے بکر فوراََ اس سے جدا ہوجائے علانیہ توبہ

 واستغفار کرے

رہی بات جس عالم سے بکر نے سوال پوچھا اور عالم نے اس کے سسر سے بات کی سسر

 بولا کہ میں سنی ہوں تو

 عالم پر کوئی حکم نہ ہوگا اس لئے کہ طرز سوال سے ظاہر ہے کہ مسئلہ پوچھنے والے نے

 زید کے بارے میں

 مکمل خبر نہ دی بلکہ صرف یہی کہا کہ وہ سنی ہے لیکن لوگ ایسا کہتے ہیں۔

خلاصہ جو احکام بیان کئے گئے بکر پر لازم ہے کہ اس پر مکمل عمل کرے ورنہ مسلمانوں

 پر لازم ہے کہ اس کا بائیکاٹ کریں

قال اللہ تعالیٰ
واماینسینک الشیطن فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظالمین (سورہ انعام) 


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

 کتبہ فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری انڈیا/

الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل
 خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا 6/2/2021

شوہر کو بیوی کے ساتھ بغیر اس کی مرضی کے زبردستی درندوں کی طرح صحبت کرنا درست نہیں؟



السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں


 کہ شوہر کو بیوی کے ساتھ بغیر اس کی مرضی کے زبردستی درندوں کی طرح صحبت

 کرنی کیسی ہے


 قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل محمد شاکر جموں
___________________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب

شوہر کو بیوی کے ساتھ بغیر اس کی مرضی کے زبردستی درندوں کی طرح صحبت کرنا

 درست نہیں 


چونکہ عورت سے مباشرت کرنے سے پہلے اسے پیار الفت اور حسن سلوک  کےساتھ

 پیش آئیں یہاں تک

 کہ اس کے ساتھ محبت کریں اور کھیل کود کرتے رہے کہ بیوی کی رغبت صحبت

 مباشرت کی طرف بڑھ جائیں

۔جیسا کہ   حدیث شریف ہے سیدنا امام محمد غزالی رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے

 ہیں کہ

 سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد

 فرمایا مرد کو 

چاہیے کہ اپنی عورت پر جانوروں کی طرح نہ کرے صحبت سے پہلے قا سد ہوتا ہے

 صحابہ کرام نے عرض کیا


 یا رسول اللہ وہ قا سد کیا ہے ارشاد فرمایا وہ بوس کنار اور محبت آمیز گفتگو

 وغیرہ ہیں


۔ کیمیاۓسعادت صفحہ نمبر 266


عورت اگر کسی دکھ پریشانی یا بیماری میں مبتلا ہو تو اس کی صحت کا خیال کئے 

 بغیر   ہرگز مباشرت نہ کرے

 ویسے انسانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دکھی یا بیمار انسان کو تکلیف نہ 

دی جائے بلکہ اسے آرام اور سکون

 فراہم کرے ۔حدیث شریف میں ہے ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی 

اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ فرماتی ہیں

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اہلیہ کی اگر آنکھیں دکھ رہی ہوتی تو 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ

 وسلم ان سے مباشرت نہ فرماتے جب تک وہ تندرست نہ ہو جاتی ۔اس حدیث سے 

معلوم ہوا کہ عورت کسی بیماری

 یا تکلیف میں ہو تو اس کی صحت کا خیال کئے بغیر مجامعت کرنا مناسب نہیں

 ۔حدیث شریف میں ہے 

حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔سب سے برا آدمی وہ ہے 

جو اپنی بیوی کو ستائے ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ

 تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا 
وہ شخص کامل ایمان والا ہے جو اپنی بیوی

 کے ساتھ حسن سلوک میں اچھا ہے اور میں تم سب میں اپنی بیویوں کے ساتھ 

سب سے بہتر سلوک کرنے والا ہوں۔


ترمذی شریف جلد اول حدیث 1161 


حضرت امام ترمذی نے حضرت امام ابن ماجہ رضی اللہ تعالی عنہما نے ان لفظوں

 کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نقل کیا ہے کہ تم میں وہ بہتر ہے

 جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر ہے اور میں اپنی بیویوں کے ساتھ تم سب سے بہتر ہو ں۔


ترمذی شریف جلد اول

شوہر کو چاہیے کے اپنی بیوی کے ساتھ خوش مجازی نرمی اور مہربانی سے

 پیش آئے اور اپنے پیارے نبی کے فرمان پر عمل کرے مرد کو عورت کے ساتھ

 حالت حیض میں صحبت کرنا ناجائز و حرام ہےاللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے

۔فاعتزلو ا النساء فی المحیض ولا تقر ہو ھن حتی یطھر ن فا ذا فاتو ھن من حيث


أمر کم الله


 ۔تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں میں اور ان سے نزدیک نہ کرو جب تک پاک نہ ہو

 لیں پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ۔


کنزالایمان پارہ 2 سورہ البقرہ آیت 222


یہ بھی خیال رہے کے عورت کو اگر کوئی تکلیف اور پریشانی نہیں ہے اور شوہر

 اگرچاہ رہا ہے تو ایسی صورت میں اپنے شوہر کا دل نہ دکھائے ۔حدیث شریف

 میں ہے۔ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ بہترین 

عورت کی پہچان کیا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

 التی تطیعه اذا امر۔یعنی جو عورت اپنے شوہر کی عزت و فرمانبرداری کرے


۔نسائی شریف

حدیث شریف میں ہے ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت


ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سب سے


 بہتر وہ عورتیں ہیں جو اپنے شوہر کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہیں ایسی عورت کو


 ایسے ہزار شہیدوں کا ثواب ملتا ہے جو خدا کی راہ میں صبر کے ساتھ شہید ہوئے


 ان عورتوں میں سے ہر عورت جنت کی حوروں پر ایسی فضیلت رکھتی ہے


 جیسے مجھے یعنی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو تم پر فضیلت حاصل ہے۔


 غنیتہ الطالبین صفحہ 201 فرید بک سٹال اردو بازار لاہور



واللہ اعلم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ اننڈیا۔

اصح الجواب۔فقیرمحمد۔اسماعیل خان امجدی قادری۔رضوی ارشدی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا ۔۔۔۔۔۔

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی۔قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری انڈیا۔۔3/2/2021--

دیوبندی کافرہ سے نکاح کر نا کیسا ہے؟


السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل میں کہ زید کا جب نکاح ہوا

 تو اس کے سسرال والے اُس وقت بدبودار دیوبندی تھے اور اسکی شرعی ثبوت اسی کے

 گاؤں کے لوگ دے چکے ہیں 
لیکن زید کا کہنا ہے کہ جب میری شادی ہوئی تھی تب

 میرے سسرال والے بدبودار دیوبندی نہیں (ہو کے منھ زب زب)تھے جب کی زید کا

 نکاح ۲۰۰۷ میں ہوا ہے اور جن لوگوں نے گواہی پیش کی ہے اُن کا کہنا ہے کی یہ ۱۹۹۲

 سے پہلے ہی دیوبندی تھاگواہوں میں وہیں کے خطیب و امام کا کہنا ہے کہ اس

 نے مجھ پر غیر مسلم سے حملہ بھی کروایا تھا اور مجھ سے زید کے سالے سے مناظرہ بھی ہو چکا ہے 


مفتیانِ کرام سے مودبانہ گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی
 روشنی میں مدلّل جواب عنایت

 کر کے رہنمائی فرمائیں کہ زید کا نکاح ہوا کہ نہیں ؟


المستفتی : حافظ و قاری اجمیر علی صاحب (لکھنوی)
_____________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ


الجواب بعون الملک الوھاب آپ
 کے سوال کے اعتبار سے نکاح درست نہیں ہوا آپ

 نے سوال میں لکھا ہے کہ زید کے سسرال والے زاید کےنکاح کے وقت بدبودار دیوبندی تھے اور اس کی

 شرعی ثبوت بھی پیش کر رہے ہیں کہ اس کے سسرال والے لوگ ثبوت دے چکے ہیں تو

 ایسی صورت میں اور وہابیوں دیوبندیوں کی مجلس میں کافرہ کا نکاح نہیں ہوا

 جبکہ صحیح العقیدہ سنی وہیں کے خطیب و امام کاکہنا ہے کہ اس نے مجھ پر غیر

 مسلم سے حملہ بھی کروایا تھا ۔جبکہ زید کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے


 سسرال والے دیوبندی وہابی نہیں تھے ۔یہاں غور کرنےکا مقام ہے کہ گاؤں والوں کے

 شرعی ثبوت کے ساتھ صحیح ا لعقیدہ سنی امام کہ معتبر قول سے پتہ چلتا 

ہے زید جھوٹا ہے اور اس کے قول کی کوئی اعتبار نہیں ۔قول معتبر میں یہ بھی شامل ہے

 کہ زید کے سالے سے مناظرہ بھی ہو چکا ہے۔ان تمام صورت قوی کو دیکھتے ہوئے زید کے

 قول پر کوئی اعتبار نہیں اس کا نکاح درست نہیں ہوا محض باطل اور زید

 اب تک ایک کافرہ سے زنا کر رہا ہے۔خلاصہ کلام الجواب کسی بھی کافرہ مشرکہ عورت سے


 مومن کا نکاح ہرگز جائز و درست نہیں یہ نکاح محض باطل وکالعدم ہے اور اس سے

 وطی زنا اور اولاد اولاد زنا ہے 


اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔

ولا تنکحوا المشر کت حتی یو من ۔یعنی مشرک عورت سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ

 مسلمان نہ ہوجائے پ 2 سورۃ البقرہ آیت 
221 


تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 410 میں ہے
 ولا تنکحوا المشر کت یدل انه لا يجوز أر

 نكاح المؤمنين مع المشر كات۔ 

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے 


وام ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین پ 7 سورہ انعام آیت 68۔


البتہ کافرہ مشرکہ سے نکاح ہونے کی ایک صورت ہے اگر کافرہ اپنے مذہب کی کفریات

 سے صاف لفظوں میں بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ان کے قائلین نیز اس کا

 عقیدہ رکھنے والوں کو کافر و مرتد تسلیم کر لیں پھر صدق دل سے اپنے سابقہ گناہوں

 سے توبہ کرلے ساتھ ہی وہ اس پر قائم رہے پھر کچھ دنوں تک انتظار کیا

 جائے گا یہاں تک کہ پورا یقین ہو جائے کہ وہ واقعی سنی ہوگی ہے تو اب ان سے سنی

 کا نکاح جائز ہے۔ورنہ نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ ہندوستان


(ا(الجواب صحيح فقیر۔محمداسمعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا۔/
__________________________________________________________

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...