دیوبندی کافرہ سے نکاح کر نا کیسا ہے؟


السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسٔلہ ذیل میں کہ زید کا جب نکاح ہوا

 تو اس کے سسرال والے اُس وقت بدبودار دیوبندی تھے اور اسکی شرعی ثبوت اسی کے

 گاؤں کے لوگ دے چکے ہیں 
لیکن زید کا کہنا ہے کہ جب میری شادی ہوئی تھی تب

 میرے سسرال والے بدبودار دیوبندی نہیں (ہو کے منھ زب زب)تھے جب کی زید کا

 نکاح ۲۰۰۷ میں ہوا ہے اور جن لوگوں نے گواہی پیش کی ہے اُن کا کہنا ہے کی یہ ۱۹۹۲

 سے پہلے ہی دیوبندی تھاگواہوں میں وہیں کے خطیب و امام کا کہنا ہے کہ اس

 نے مجھ پر غیر مسلم سے حملہ بھی کروایا تھا اور مجھ سے زید کے سالے سے مناظرہ بھی ہو چکا ہے 


مفتیانِ کرام سے مودبانہ گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی
 روشنی میں مدلّل جواب عنایت

 کر کے رہنمائی فرمائیں کہ زید کا نکاح ہوا کہ نہیں ؟


المستفتی : حافظ و قاری اجمیر علی صاحب (لکھنوی)
_____________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ


الجواب بعون الملک الوھاب آپ
 کے سوال کے اعتبار سے نکاح درست نہیں ہوا آپ

 نے سوال میں لکھا ہے کہ زید کے سسرال والے زاید کےنکاح کے وقت بدبودار دیوبندی تھے اور اس کی

 شرعی ثبوت بھی پیش کر رہے ہیں کہ اس کے سسرال والے لوگ ثبوت دے چکے ہیں تو

 ایسی صورت میں اور وہابیوں دیوبندیوں کی مجلس میں کافرہ کا نکاح نہیں ہوا

 جبکہ صحیح العقیدہ سنی وہیں کے خطیب و امام کاکہنا ہے کہ اس نے مجھ پر غیر

 مسلم سے حملہ بھی کروایا تھا ۔جبکہ زید کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے


 سسرال والے دیوبندی وہابی نہیں تھے ۔یہاں غور کرنےکا مقام ہے کہ گاؤں والوں کے

 شرعی ثبوت کے ساتھ صحیح ا لعقیدہ سنی امام کہ معتبر قول سے پتہ چلتا 

ہے زید جھوٹا ہے اور اس کے قول کی کوئی اعتبار نہیں ۔قول معتبر میں یہ بھی شامل ہے

 کہ زید کے سالے سے مناظرہ بھی ہو چکا ہے۔ان تمام صورت قوی کو دیکھتے ہوئے زید کے

 قول پر کوئی اعتبار نہیں اس کا نکاح درست نہیں ہوا محض باطل اور زید

 اب تک ایک کافرہ سے زنا کر رہا ہے۔خلاصہ کلام الجواب کسی بھی کافرہ مشرکہ عورت سے


 مومن کا نکاح ہرگز جائز و درست نہیں یہ نکاح محض باطل وکالعدم ہے اور اس سے

 وطی زنا اور اولاد اولاد زنا ہے 


اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔

ولا تنکحوا المشر کت حتی یو من ۔یعنی مشرک عورت سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ

 مسلمان نہ ہوجائے پ 2 سورۃ البقرہ آیت 
221 


تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 410 میں ہے
 ولا تنکحوا المشر کت یدل انه لا يجوز أر

 نكاح المؤمنين مع المشر كات۔ 

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے 


وام ینسینک الشیطان فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین پ 7 سورہ انعام آیت 68۔


البتہ کافرہ مشرکہ سے نکاح ہونے کی ایک صورت ہے اگر کافرہ اپنے مذہب کی کفریات

 سے صاف لفظوں میں بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے ان کے قائلین نیز اس کا

 عقیدہ رکھنے والوں کو کافر و مرتد تسلیم کر لیں پھر صدق دل سے اپنے سابقہ گناہوں

 سے توبہ کرلے ساتھ ہی وہ اس پر قائم رہے پھر کچھ دنوں تک انتظار کیا

 جائے گا یہاں تک کہ پورا یقین ہو جائے کہ وہ واقعی سنی ہوگی ہے تو اب ان سے سنی

 کا نکاح جائز ہے۔ورنہ نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ ہندوستان


(ا(الجواب صحيح فقیر۔محمداسمعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا۔/
__________________________________________________________

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...