اعلی حضرت زندہ باد گروپ میں سوال پوچھیں گئے اور ان کا جواب
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
قبرستان کی لکڑی بیچ کر مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں۔ سائل ۔۔؟؟؟؟
________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمن الرحیم*الجواب بعون الملک الوھاب*
قبرسان میں لگائے ہوئے درختوں کی دو حیثیت ہے یا تو اس کو لگانے والے معلوم ہونگے۔یا وہ بہت
قدیم ہیں کہ مالک کا پتہ نہیں ۔پہلی صورت میں اسکے مالک وہی افراد معلوم ہوںگے جنہوں نے
لگایا۔
فتاوی قاضی خان میں ہے
مقبرة فيهااشجار ان اعلم كانت للغارس
بحوالہ فتاوی رضویہ ۔ج۔٦۔ص۔٤٩٢.رضااکیڈمی ممبئ
اب اگر وہ افراد اپنی خوشی سے بیچ کر رقم مسجد کے کام میں دے دیں تو جائزو درست بلکہ مستحسن ہے
ورنہ جائز نہیں دوسری صورت میں جب کہ مالک معلوم نہیں یا درخت خود رو ہیں تو ان کے مالک عام
مسلمان ہیں جس کارخیر میں چاہیں لگا سکتے ہیں ۔
فتاوی رضویہ میں ہے
قبرسان میں پیڑ جس نے لگائے ان کی لکڑی اورمقبرہ جس نے بنوایا اسکی اینٹیں اس لگانے بنوانے۔والے کی
ملک ہے وہ جو چاہے کرے اور اگر مالک کا پتہ نہیں یا درخت خود روہیں تو مسجد میں صرف کر سکتے ہیں
ج۔٤۔ص۔١١٠۔رضااکیڈمی
واضح رہے کہ اگر گاؤں والوں نے ملکر پیڑ لگایا ہے اور قبرستان میں وقف کردیا تویہ وقف درست نہیں اور ان
پیڑوں کے مالک گاؤں والے ہی رہیں گے۔فتاوی رضویہ میں ہے قبرسان اگرچہ وقف ہو مگر درخت جو اس میں
لگائے جائیں اگر لگانے والا تصریحا یہ کہہ بھی دے کہ میں نے ان کو قبرستان پر وقف کیا جب بھی وقف نہ
ہوں گے اور لگانے والے ہی کی ملک رہیں گے۔
ج۔٦۔ص۔٣٥١.رضااکیڈمی ۔لہذا صورت مسؤلہ میں
قبرسان کے درختوں کو گاؤں کے لوگوں نے لگایا تھا اور سب نے باتفاق رائے اسے بیچ کر اس کی رقم مسجد میں
لگایا تو بلا شبہ جائزو درست ہوا۔
ماخوذاز۔مصدقات محدث کبیر۔صفحہ۔نمبر۔٦٦/٦٧
واللـــــــــہ تعالــی اعلـــم بالصـــــــــــــواب
کتبہ فقیرمحمدالطاف حسین قادری عفی عنہ الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل خان۔امجدی قادری رضوی عفی عنہ انڈیا
1/21/2021/
بہتر بنانے کے لئے ہم آپ کے مشورے کا منتظر رہتے ہیں آپ کا اپنا بلوگ امجدی گروپ
_____________________________________


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں