سوال:- کیافرماتے ہیں علماےدین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں
کہ زید سلسلہ رضویہ سے بیعت تھا مگر چند سال کے بعد سلسلہ رضویہ سے الگ ہوکر(بیعت توڑ کر) سلسلہ اشرفیہ سے منسلک ہو گیا
تو آیا کہ زید کا ایسا کرنا عندالشرع کیساہے بحوالہ جواب بصواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں،،،
*🖌️المستفتی:-محمد شاکر رضا پٹنہ بہار،
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
کسی بھی کامل پیر کی بیعت کو بلا وجہ توڑنا ناجائز وحرام ہے
جس کا مل پر شیخ نے آپ کو نجات کا راستہ بتایا شریعت مصطفی پر چلنے کے لیے اور ہر برائی سے بچنے کے لیے تلقین کی تاکہ گمراہ جیسے لوگوں سے اور بد مذہبوں سے بچیں اور دور رہیں ۔ایسے پیر کا مل کی باتوں کو عمل میں لانے اور شکریہ ادا کرنے کے بجائے ناشکری شرعاً ممنوع ہے۔حدیث شریف میں ذکر ہے من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ۔جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا اس نے اللہ عزوجل کا شکر بھی ادا نہیں کیا۔ترمذی جلد3 حدیث 1962
لہذا کسی بھی کامل پیر سے مرید ہونے والا شخص جب مرید ہو جاتا ہے تو فیض کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے اگرچہ مرید ہونے والا شخص نا دیکھتا ہو چاہیے کہ ہر وہ شخص جو بیعت ہو چکے ہیں اپنے پیرِ کامل کی باتوں کو عمل کریں ۔فرمان مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔من رزق فی شئیء فلیلزمه ۔یعنی جس کو کسی شے سے رزق ملے وہ اسے لازم پکڑ لے
۔شعب الایمان جلد 2 حدیث 1241
تجدید بیت جائز بلکہ مستحب ہے کہ ـ سلسلۂ عالیہ قادریہ میں نہ ہوا ہو اور اپنے شیخ سے بغیر انحراف کئے اس سلسلۂ عالیہ میں بیعت کرے یہ تبدیل بیعت نہیں بلکہ تجدید ہے کہ جمیع سلاسل اس سلسلۂ اعلیٰ کی طرف راجع ہیں
حوالہ سوانح اعلیٰ حضرت صفحہ ۳۳۷/ بحوالہ الملفوظ اول صفحہ ۱۱
اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ جوشخص ایک پیر سے مرید ہے دوسرے پیر سے مرید نہیں ہوسکتا-
-البتہ طالب ہوسکتا ہے
فتاوی فقیہ ملت جلد دوم ص428
ان تمام حوالہ جات حدیث کی روشنی میں جس پیر کامل سے فیض مل رہا ہے چاہے وہ رضویہ سلسله ہو یا قادریہ ہر حال میں پیر کامل کا دامن پکڑے رہنا ضروری ہے۔بلاوجہ بیعت توڑنا سخت حرام ہے۔پیر کی بیعت توڑ کر دوسرے پر سے مرید ہونا کہ یہ پیر اچھا نہیں ہے وہ پیر اچھا ہے جو جاہلوں میں مشہور ہے غلط ہے فقط گمراہی کا راستہ شریعت میں اس کی کوئی حکم نہیں ۔
ہاں کوئی بھنگی پیر جس کا عمل سنت مصطفی پر نہ ہو ناجائز کاموں سے پرہیز نہ کرتا ہوں فلم دیکھنے والا وغیرہ وغیرہ تو ایسے پیروں سے بیعت توڑنااشد ضروری ہے اور جو نہ توڑے گا اس کے ایمان جانے کا اور گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے
واللہ اعلم بالصواب.کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا 9113471871. ۔الجواب۔صحیح۔فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ۔گونڈہ یوپی۔الہند۔29/1/2021۔
______________________________________
جواب پڑھنے کے بعد اپنے دوستوں میں ضرور شئیر کریں کوئی کمی نظر آئے تو میرے پرسنل پر ضرور خبر کریں یا میسج باکس میں ٹائپ کریں ہم آپ کے سوالوں کا جواب اسی طرح لاتے رہیں گے ان شاء اللہ تعالی
_________________________________________

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں