سرکار غوث اعظم کی کتنی اولاد تھیں اور کتنی بیویاں؟



السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

السوال علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ سرکار غوث اعظم کی کتنی اولاد تھیں اور کتنی بیویاں قرآن و حديث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفتی محمد خالد رضا نانپارہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
(ازواج مکرمات رحمھم اللہ تعالی) اور ان کے اولاد کتنے تھے تاریخوں کے حوالے سے پتہ چلتا ہے جیسا کہ حضور فیض ملت شمس المصنفین حضرت علامہ مفتی ابو الصالح تحریر فرماتے ہیں شیخ الصوفیہ حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب  (عوارف المعارف) میں لکھا ہے کہ حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں ایک مدت سے نکاح کرنے کا ارادہ کرتا تھا لیکن تضیع اوقات کے خوف سے باز رہا بلاآخر تقدیر الہی سے میرے لئے نکاح کرنے کے اسباب بنے تو یکے بعد دیگرے میں نے چار شادیاں کیں سوانح غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ صفحہ ٣١ آپ کی مقدس بیویاں سرکار بغداد نے چار عورتوں کو اپنی زوجیت سے مشرف کیا جن کے یہ نام ہیں۔( ١) بی بی مدینہ (٢) بی بی صادقہ (٣) مومنہ (٤) بی بی محبوبہ ۔ یہ چاروں بیویاں صالحات اور آپ کے فیض و برکت سے باکرامت تھیں آپ کی اولاد  تاریخ کی مختلیف کتب کے مطالعہ کا حاصل یہ ہے کہ آپ کے 49 بچے پیدا ہوئے جس میں بیس صاحبزادگان اور باقی صاحبزادیاں تھیں مشہور فرزندوں کے اسماء گرامی یہ ہیں، سید عبدالوہاب ، سید عبدالرزاق، سید عبدالعزیز، سید محمد یحییٰ، سید محمد موسی، سید عبدالخالق، سید عبداللہ، سید عبدالجبار، سید محمد عیسی، سید محمد ابراہیم، سید یوسف، سید عبدالغفار، سید عبد الرؤوف، سید عبدالغنی، سید صالح، سید محمد
، تاریخ الاولیاء جلد اول صفحہ ٥٤
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح  فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری

 (۱۴)  ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۳۰) ستمبر 
٠٢٠٢؁ءبروز اتوار

_______________________________

کھڑے ہو کر پیشاب کرنانيز پانی پینے کے نقصانات



*()اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ()*
*(الســــــــــــــوال ↡*
*کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی کیا کیا نقصانات ہے*
*اور کھڑے ہو کر پانی پینے کے کیا کیا نقصانات ہے جواب عنایت فرمائے*
الــــساٸل؛ محمد رضا بنگال*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ↓*
صورت مسئولہ میں چار احادیثِ صحیحہ اس بارہ میں کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا ممنوع، بے ادبی، خلاف سنت ہے_*

*_اعلی حضرت امام اہلسنت محدیث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں_*
*_کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں چار(4)حرج ہیں:_*

*_(1)اوّل: بدن اور کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا جسم ولباس بلاضرورت شرعیہ ناپاك کرنااور یہ حرام ہے بحرالرائق میں بدائع سے ہے_*

*اما تنجیس الطاھر فحرام  اھ ذکرہ فی بحث الماء المستعمل*

*_(2)دوم: ان چھینٹوں کے باعث عذابِ قبر کا استحقاق اپنے سر پر لینا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:↓_*

*تنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبرمنہ رواہ الدارقطنی عن انس رضی الله تعالٰی عنہ بسند صحیح وللحاکم بلفظ استنزھوا وقال صحیح علی شرطھما*

*_تــــرجمعـہ↚پیشاب سے بہت بچو کہ اکثر عذاب قبر اُسی سے ہے اسے دارقطنی نے حضرت انس رضی الله تعالٰی عنہ سے بسند صحیح روایت کیا۔حاکم لفظ"استنزھوا"لائے ہیں اور فرمایا کہ یہ ان (بخاری ومسلم) کی شرط پر صحیح ہے_*

*_(3)سوم: رہگزر پر ہویا جہاں لوگ موجود ہوں تو باعثِ بے پردگی ہوگا بیٹھنے میں رانوں اور زانوؤں کی آڑ جاتی ہے اور کھڑے ہونے میں بالکل بے ستری اور یہ باعثِ لعنتِ الٰہی ہے۔حدیث میں ہے_*

*لعن الله الناظر والمنظور الیہ ٤ ھکذا فی حفظی ولایحضرنی الاٰن من خرجہ. والله تعالٰی اعلم۔*

*_جو دیکھے اس پر بھی لعنت اور دکھائے اس پر بھی لعنت۔میرے ذہن میں اسی طرح ہے لیکن اس وقت مجھے یاد نہیں کہ اس کی تخریج کس نے کی ہے۔الله تعالٰی بہتر جانتا ہے_*

*_(4)چہارم: یہ نصارٰی سے تشبّہ اور ان کی سنّتِ مذمومہ میں اُن کا اتباع ہے آج کل جن کو یہاں یہ شوق جاگا ہے اس کی یہی علّت اور یہ موجبِ عذاب وعقوبت ہے_*

*الله عزوجل فرماتا ہے*

لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ
*_شیطان کے قدموں پر نہ چلو_*

*رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں*

*من تشبّہ بقوم فھو منھم ٦*

*_جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے_*

*(📘البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١/٩٤*

ترمذی شریف باب التشدید فی البول مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ١/١١*
مشکوٰہ شریف باب النظر الی المخطوبۃ،مطبوعہ مجتبائی دہلی ص٢٧٠*
فتاویٰ رضویہ جدید جلد٤۔ص۔٥٨٥
_سوائے زمزم شریف وبقیہ وضو کھڑے ہوکر پانی پینا مکروہ ہے۔اس کی حدیث یںوفقہی بحث کتب علماء میں موجود ہے_*فتاویٰ رضویہ جدید جلد ٢١۔ص۔۶۷۲*
_جدید تحقیق کے مطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے جگر اور معدے کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاؤں پر ورم اور ایڈیما جیسا مرض بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔ ایڈیما میں انسان کے جسم میں پانی اکٹھا ہو جاتا ہے جس سے جسم پھول جاتا ہے
(🌷) وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ(🌷)
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ  * الجواب صحیح*فقیــــر محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی صـــاحب قبلـــہ مــدظلـہ العـالی والنـــورانـی
گـــونڈہ یـــوپـی
الجواب صحیح
فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی  عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری
(۱۳)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۴) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز
منــگل*

اگر امام کی قرأت صحیح نہیں ہے تو نماز سخت مکروہ ہے؟

   

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
السوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کی زید مسجد میں امامت کرتا ہے لیکن اس کی قرأت بالکل صحیح نہیں ہے لیکن وہ تقریباً پانچ سال سے امامت کررہے ہیں اور تلاوت میں روزانہ  غلطیاں بھی ہوتی ہیں لیکن اگر زید سے کوئی کہتاہے تو الجھ جاتا ہے یہاں تک کہ حضرت غصّہ میں آکر کیا کچھ نہیں کہتا ہے تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی؟ 
   السائـل ⁦محمد مشاھد رضا خان قادری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
زید اگرصحیح القرأت نہیں ہے یعنی ایسی غلطی کرتاہےجس سےمعنی بدل جاتاہےجیسے ع،ط،ص،ح،ظ کی جگہ۔ا،ت،س،ہ،ز،پڑھتاہےیانستعین کونستاعین یاانعمت کے ت کوزبرکےبجائے پیش پڑھتاہےوعلی ھذاالقیاس توایسی صورت میں خوداس کی نماز باطل ہے توجب اپنی نہیں ہوئی تواس کےپیچھےکسی کی نہ ہوگی جتنی پڑھی گئیں سب کانئےسرےسےپڑھنافرض ہے۔اوراگرایسی غلطی کرتاہےکہ کسی وجہ سے حرف صحیح ادانہیں کرسکتا بھی یہی حکم ہے کہ اس کے پیچھے صحیح پڑھنےوالےکی نماز باطل ہوگی اوراگرصحیح پڑھتاہےمگرتجویدکےواجبی امورکونہیں اداکرتاکہ جن کاترک گناہ ہے جب بھی ایسے شخص کو امام نہ بنایاجائےاس کےپیچھےنمازسخت مکروہ ہے ایسافتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ١٩١میں ہے اور حدیث شریف میں ہے رب قارئ القرآن وھولاعنہ یعنی بہت سےقرآن پڑھنےاولےایسےہیں جوغلط پڑھتے ہیں توقرآن ان پرلعنت بھیجتاہے مزیدیہ کہ لوگوں کےبتانےپران سےالجھنااورانہیں برابھلاکہناجس وجہ نمازیوں کی کمی لوگوں میں انتشار پیداہوگیاہوتوایسےشخص کوامام بنانادرست نہیں حدیث شریف میں ہے ثلثۃ لاتقبل منھم صلاتھم من تقدم قوماوھم لہ کارھون یعنی تین شخص ایسےہیں کہ جن کی نماز مقبول نہیں ہوتی انہیں میں وہ شخص بھی ہے جو لوگوں کی امامت کرتااورلوگ اسےناپسندکریں مشکوۃ شریف ص ١٠٠ ماخوذفتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ١٣٥

     واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ 

۱۰ ذوالحجہ ١٤٤١؁ھ ھجری ۱۰اگست/ ٢٠٢٠؁ء عیسوی بروز ہفته

پیارے آقا ﷺ پر بھی قربانی کرنا واجب تھی یا نہیں؟

 

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 
السوال  فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا پیارے آقا ﷺ پر بھی قربانی واجب تھی کہ نہیں اس سوال کاجواب جتنا جلدی مل جائے تو زیادہ بہتر ہے سرمن، کسی نے کہا ہے کہ جب تمہارے سرکار پر قربانی واجب نہیں تو پھر آپ مسلمانوں پر کیوں ہے
المستفتی محمـد سرفراز احمد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب 
بیشک میرےآقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو قربانی کاحکم دیاگیااورمیرےآقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی جیسـاکہ حضور صدرالشریعــہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں کہ مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اس جانور کو بھی اضحیہ اورقربانی کہتے ہیں جوذبح کیاجاتاہے قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جواس امت کے لئے باقی رکھی گئی اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیاارشاد باری تعالیٰ ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ پارہ ٣٠سورہ کوثرآیت نمبر ١ ترجمعہ تم اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اورقربانی کروبہار شریعت حصہ شانزدہم موبائل سافٹ وئیر صفحہ ٣٢٩، نیز صفحہ ۳۳۱ میں ہے امام مسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےراوی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ سینگ والا مینڈھا لایا جائے جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں بیٹھتا ہواور سیاہی میں نظر کرتا ہو یعنی اس کے پاؤں سیاہ ہوں اور پیٹ سیاہ ہو اور آنکھیں سیاہ ہوں وہ قربانی کے لئے حاضر کیا گیاحضور ﷺنےفرمایا:عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو پھر حضورﷺنے چھری لی اور میمڈھے‌ کو لٹایا اور اسے ذبح کیا پھر فرمایا بسم اللہ اللہم تقبل من محمد، وآل محمد، ومن امۃ محمد، الہی تو اس کو محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے اوران کی آل اور امت کی طرف سے قبول فرما
واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرامپوری۔الجواب صحیح والمجیب نجیح 
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی قادری رضوری عفی عنہ ۔
الجواب صحیح والمجیب نجیح 
فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ 
 (۳۱)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۱۰) جولائی ٠٢٠٢؁ء بروز سنیچر

ستر کھولنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں نیز جبہ پہن کر نماز پڑھنا کیساہے؟

    

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 
السوال، کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ننگا پاؤں یعنی ستر کو کھول کر کبھی کبھی پھرتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے تو کیا ننگا پیر پھیرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں۔اور نماز میں صرف ایک کرتا یا جبا بہن کرکے بغیر پاجامہ کے نماز پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں
السائل:دلدار حسین پاکستان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بعون الملڪ الوالھاب 
ان میں کسی بات سے وضو نہیں جاتا ستر کھُلنے یا دیکھنے سے وضو جانا کہ عوام کی زبان زد ہے محض بے اصل ہے، علماء نے سترِ عورت کو آدابِ وضو سے گنا اگر کشف سے وضو جاتا تو فرائض وضو سے ہوتا، اور اگر صرف ایک جبہ پہن کر نماز پڑھی جس سے گھٹنوں تک رکوع سجود وغیر ہ کسی حالت میں زانو کا حصہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کچھ حرج نہیں، اور اُس کا گریبان  اتنا کشادہ ہے کہ گریبان سے اپنے ستر تك نظر جاسکتی ہے اور اس نے دیکھا تو کراہت ہے مگرنماز ہوگئی، گھٹنے یا ستر کھلنے یا اپنا یا پرایا ستر دیکھنے سے وضو نہیں جاتا، وضو کا ادب یہ ہے کہ ناف سے زانو کےنیچے تك سب ستر چھپا کر ہو بلکہ استنجے کے بعد فورًا ہی ستر ہو لینا چاہئے کہ بلا ضرورت برہنگی منع ہے، درمختار میں ہے، الشرط سترھا عن غیرہ لانفسہ بہ یفتی فلورأھا من زیقہ لم تفسد وان کرہ، اسے دوسرے سے چھپانا شرط ہے خود سے نہیں اسی پر فتوی ہے تو اگر گلے کے چاك سے اپنا ستر دیکھا تو نماز نہ جائے گی اگرچہ مکروہ ہے، الدرالمختار کتاب الصلوۃ  باب شروط الصلوۃ  مطبع مجتبائی دہلی  ١/٦٦، فتاویٰ رضویہ جلداول جدید صفحہ۴۷۰، سوال میں آپ نے لکھا ہے ننگے پاؤں  ستر کھول کر پھرتا ہے، زید کا ستر کھول کر گھومنا درست نہیں جیسا کہ حضور اعلی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی تحریر فرماتے ہیں لوگوں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے، فتاویٰ رضویہ جلد ٣۔ص٣٠٦، پھرکیونکر سرعام ستر کھول کر گھومناجائز ہوسکتاہے

واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح 
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی قادری رضوری عفی عنہ گونڈہ پوپی

الجواب صحیح والمجیب نجیح 
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرام پوری

 (۱۷)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۸) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز شنبہ

شادی شدہ عورت کیطرف سے قربانی ہوتوباپ یاشوہرکس کانام لیاجائے؟

   


اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
 الســـــــــــــوال مسلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر قربانی لڑکے نام سے ہو تو ابن کہا جاتا ہے اور اگر لڑکی کے نام سے ہو تو بنت کہا جاتا ہے تو شادی شدہ عورت کے نام سے ہو گا تو عربی میں کیا کہا جائے گا جواب عنایت فرماٸیں  عین کرم ہوگا ۔
الســائــل,: ۔ محمد تفسیر رضا علیمی ضلع دربھنگہ بہار
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ↧↧*
*اگرعورت کےنام سےقربانی ہو تواس کےباپ یاشوہرکا نام لینا ضروری نہیں صرف اسی کانام کافی ہے اوراگر لےبھی لیا مثلاً فلاں بنت فلاں یافلاں زوجہ فلاں تب کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضور فقیہ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ"جس عورت کی طرف سے قربانی ہوخدائے علیم وخبیرخوب جانتاہے کہ وہ فلاں کی لڑکی فلاں کی بیوی ہےاس لئے صرف عورت کانام لیناکافی ہےفلاں بنت فلاں یافلاں زوجہ فلاں کہناضروری نہیں اوراگرکہ دےتوکوئی حرج نہیں
فتاویٰ فیض الرسول جلددوم صفحہ ٤١٨
۔ وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ
 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ 
*فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی بـلرامپـــوری عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری 
الجوابــــــ صحیح*فقیــــر محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی عفی عنہ
 گـــونڈہ یـــوپـی*
الجوابــــــ صحیح*فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ  گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ*

 (٩)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (٣١) جولائی ٠٢٠٢؁ء بروز  جمعہ* 

قعدہ اولیٰ بھول جانے اور سجدہ سہو کا بیان؟

  

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســـــــــــوال  
*کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  امام اگر قعدہ اولیٰ بھول گیا اور تیسری رکعت کے لئے ایک دم سیدھا کهڑانہیں ہو پایا تھا کہ مقتدى نے لقمہ دے دیا اس صورت میں سجده سهو واجب هے یا نہیں جواب حوالہ کے ساتھ عنایت فرمائیں
السائل: رحمت اللہ بلرام پوری*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجوابـــــ بعون الملڪ الوالھاب↧ 
اور اگر ابھی امام سیدھا کھڑا نہ ہوا تھا بلکہ کھڑے ہونے کے قریب تھا اور مقتدی کے لقمہ دینے پر بیٹھ گیا پھر آخر میں سجدہ سہو کیا تو سب لوگوں کی نماز ہوگی اس لیے کہ جب سیدھا کھڑا نہ ہو تو مذہب اصح میں پلٹ آنے کا حکم ہے((اور فتاوی رضویہ جلد ثالث صفحہ ٦٣٢میں ہے))*اگر قیام سے قریب ہوگیا یعنی بدن کا نصف زیریں سیدھا اور پیٹھ میں خم باقی ہے تو بھی مذہب اصح وراجح میں پلٹ آنے ہی کا حکم ہے مگر اب اس پر سجدہ سہو واجب انتہی بالفاظ
اگر مقتدی نے اس وقت لقمہ دیا جبکہ امام بیٹھنے کے قریب تھا مگر وہ نہیں بیٹھا تو کسی کی نماز فاسد نہ ہوئی لیکن اس نماز کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے اس لئے کہ امام نے لقمہ کے بعد قصداً ترک واجب کیا جس کی تلافی سجدہ سہو سے نہیں ہو سکتی((فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ ٣٨٧))
ایک صورت یہ بھی ہےحضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں فرض میں  قعدۂ اولیٰ بھول گیا توجب تک سیدھا کھڑا نہ ہوا، لوٹ آئے اور سجدۂ سہو نہیں  اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا تو نہ لوٹے اور آخر میں  سجدۂ سہو کرے اور اگر سیدھا کھڑا ہو کر لوٹا تو سجدۂ سہو کرے اور صحیح مذہب میں  نماز ہوجائے گی مگر گنہگار ہوا لہٰذا حکم ہے کہ اگر لوٹے تو فوراً کھڑا ہوجائے((الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، ج۲، ص۶۶۱))قعدۂ اخیرہ بھول گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرے ((بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ٧١٥))
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ
 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ 
*فقیر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ 
الجوابـــــ صحیح فقیــــر  محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی صـــاحب قبلـــہ مــدظلـہ العـالی والنـــورانـی گـــونڈہ یـــوپـی

 (۲۱) ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۱۲) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز بدھ*

وہابیوں کی نماز جنازہ پڑھنا اور پڑھانا عندالشرع کیسا ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
السوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٔلہ میں کہ غیر مقلد کا نمازِ جنازہ اگر کسی نے پڑھا دیا جان کر یا انجانے میں تو اُس پر شریعت کا کیا حکم ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
السائل توصیف الرحمن رضا نگر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وعلیکم السـلام ورحـمتہ اللہ وبــرکاتہ 
الجــواب اللـهم ہدایة الحـق والصـواب
وہابی دیوبندی بمطابق فتاوی حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کافر ومرتد ہیں، لہذا بکر سنی اگر وہابی امام کے پیچھے وہابی کی نماز جنازہ کی صف میں یوں ہی کسی کے دباؤ لحاظ  یا چاپلوسی میں بلا نیت نماز میں کھڑا ہوگیا تو علانیہ توبہ کرے اور اگر اسے دیوبندی جانتے ہوئے مسلمان سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھی تو توبہ تجدید ایمان اور بیوی ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور خدا وند کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے، ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ولاتقم علیٰ قبرہ انھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وھم فاسقون  (سورہ توبہ، آیت نمبر "84، ترجمعہ، اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ انکے قبر پر کھڑے ہونا بیشک یہ لوگ اللہ اور رسول سے منکر ہوۓ اور فسق ہی پر مر گئے(کنزالایمان)بحـوالہ فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ نمبر 266، تو مذکور حوالہ جات سے یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ وہابی دیوبندی کے کفریہ عقائد کے بارے میں جانتے ہوئے مسلمان سمجھ کر اس کی نماز جنازہ کسی نے پڑھی تو اس نے کفر کیا اس پر لازم ہے کہ فوراً توبہ تجدید ایمان کرے اور اگر بیوی والا ہو تو تجدید نکاح کرے اور مرید ہو تو تجدید بیعت بھی کرے اگر ایسا کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ سبھی مسلمان اس سے بائیکاٹ کریں

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبـہ گدائے حضور تاج الشریعہ 
محمـد عارف رضوی قادری 

 الجواب : صحیح فقیر محمد اختر علی واجد القادری  عفی عنہ

(۱۲)  ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۲۸) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز سنیچر

حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامت



السلام و علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
السوال، کیا فرماتے ہیں علمائے دین دین کہ ایک لڑکا جومادر زاد نابینا اور مفلوج تھا حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے  حضرت نے اس لڑکے کوحکمًا فرمایا قم باذن ﷲ معافی اور وہ لڑکا سلامتی کے ساتھ کھڑا ہو گیا کیا یہ درست ہے حوالہ کے ساتھ تحریر فرمائیں
سائلہ رضویہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
یہ درست اور صحیح ہے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بارگاہ میں ایک بزرگ تشریف لائے اور انہوں نے عرض کی اے آقا (غوث اعظم) آپ کے جدّامجد رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو دعوت دے اس کی دعوت قبول کی جائے، لو میں آپ کو اپنے گھرکے لئے دعوت دیتا ہوں تو آپ نے فرمایا اگر مجھے اجازت ملی توآؤں گا، یہ فرما کر آپ نے کچھ دیرسرمبارك کوجھکایا پھرفرمایا میں آرہاہوں آپ گھوڑے پرسوار ہوئے شیخ علی ہیتی نے دایاں رکاب اور میں نے بایاں رکاب پکڑا، حتی کہ ہم سب اس شیخ کے گھرپہنچے تووہاں پر بغداد کے مشائخ اور علما اور خاص لوگ موجودتھے دسترخوان بچھایاگیا جس پرمختلف قسم کی نعمتیں موجودتھیں اور ایك بھاری بوجھل تابوت کودس آدمی اٹھائے ہوئے لائے جواُوپر سے ڈھانپا ہواتھا وہ دسترخوان کے قریب ایك طرف رکھ دیاگیا، اس کے بعد صاحب خانہ شیخ نے کھاناکھانے کوکہا تو حضرت غوث اعظم نے سرمبارك جھکایانہ خود کھانا تناول فرمایا اور نہ ہی ہمیں کھانے کی اجازت دی، اور کسی نے بھی نہ کھایا جبکہ تمام اہل مجلس ایسے خاموش سرجھکائے ہوئے تھے جیسے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں حضرت نے مجھے اور شیخ علی ہیتی کو اشارہ فرمایا کہ اس تابوت کو میرے سامنے لاؤ، وہ بھاری تابوت ہم نے اٹھاکر آپ کے سامنے رکھ دیا پھر آپ نے فرمایا اس پرسے کپڑا ہٹاؤ، جب ہم نے دیکھا وہ اس شخص کا لڑکاتھا جومادر زاد نابینا اور مفلوج تھا تو حضرت نے اس لڑکے کوحکمًا فرمایا قم باذن ﷲ معافی ﷲ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ عافیت والے ہوکر وہ لڑکا فورًا تندرست حالت میں کھڑاہوگیا جیسا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی، فتاویٰ رضویہ جلد٧ صفحہ ٦٠١

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح  فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری

 (۱۲)  ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۲۸) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز سنیچر

طلاق کوگاؤں جانےپرمعلق کیاتوکون سی طلاق واقع ہوگی؟

  

 اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
السوال،  میں سلمہ خاتون میں ممبئی میں تھی میرےشوہرسےہمیشہ لڑائی جھگڑےہونےکی وجہ سے میں تنگ آگئی میں نےاپنےشوہرسےکہاکہ میراراستہ صاف کردومجھےطلاق چاہئےتومیرےشوھرنےکہایہاں کچھ نہیں ہوگااگرتمہیں طلاق چاہئےتوگاؤں چلوتومیں نے اپنےشوہرسےکہاکہ تم اگراپنےباپ کی اصل اولادہوتومجھےطلاق دوتومیرےشوہرنےکہاکہ تم اگراپنےباپ کی اصل اولادہوتوگاؤں چلوگاؤں چلنےکےبعدطلاق ہے میں اسی شرط پر 20جولائی 2020کوممبئی سےگاؤں آگئی تویہ طلاق ہوایانہیں جواب عنایت فرمائیں؟
السائلہ سلمہ خاتون
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ 
الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھاب، 
طلاق معلق کرنےکی صورت میں طلاق اس وقت واقع ہوگی جب شرط پائی جائے۔ہدایہ میں ہے"واذااضافہ الی شرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لامرأتہ ان دخلت الدارفانت طالق، وھذابالاتفاق"(الھدایۃ کتاب الطلاق جلددوم صفحہ ٣٨٥، فتاویٰ عالمگیری میں ہے"واذااضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً"کتاب الطلاق جلداول صفحہ٤٢، ماخوذفتاوی علیمیہ جلددوم صفحہ١٤٤، صورت مستفسرہ میں سلمہ خاتون کےشوہرنےطلاق کوگاؤں جانےپرمعلق کیالہذاجب سلمہ خاتون گاؤں پہنچ گئی شرط پا لی گئی تواب اگرسلمہ خاتون مدخولہ ہےتوایک طلاق رجعی واقع ہوئی اوراگرمدخولہ نہیں ہے توایک طلاق بائن۔ھکذافتاوی فیض الرسول جلددوم صفحہ ٢٦٧

واللہ اعلم بالصواب کتبہ فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری۔الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ گونڈہ پوپیالجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ(٢٣)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (١٤) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز جمعہ مبارک
____________________________________________

جنّت کن چیزوں سے بنی ہے

    

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
 الســـــــــــوال ↧* 
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جنت کس شیے سے بنائی گئی ہے* 
السـائــل : واحد قمرگریڈیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
(الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ↧↧* 
_جنت کن چیزوں سے بنی ہے_حضرتِ سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ'ہمیں جنت اوراس کی تعمیر سے متعلق بتائیے_توآپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اس کی ایک اینٹ سونے کی اورایک چاندی کی ہے اوراس کا گارا مشک کا ہے اوراس کی کنکریاں موتی اوریاقُوت کی ہیں اور اس کی مٹی زعفران کی ہے_ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم ۲۵۳۴، ج۴ ، ص ۲۳۶*
_حضرتِ سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جنت کی زمین سفید ہے ، اس کا میدان کافُور کی چٹانوں کا ہے ، اس کے گرد ریت کے ٹیلوں کی طرح مشک کی دیوار یں ہیں اوراس میں نہریں جاری ہیں_*الترغیب والترہیب، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، رقم ۳۴ ، ج۴ ، ص ۲۸۳*
_حضرت سیدناعبادہ بن صامت  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  روایت__ہیں کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جنت میں سومنزلیں ہیں اور ان میں سے ہر دو منزلوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان ہے_*ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم الحدیث۲۵۳۹، ج۴، ص۲۳۸
*جنت کے دروازے*
_حضرت سیدنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جنت کے آٹھ دروازے ہیں_
بخاری ، کتاب بداء الخلق، رقم۳۲۵۷، ج۲، ص۳۹۴
 *ایک دروازہ کتنا بڑا ہوگا*
_حضرت سیدناعُتبہ بن غَزَوان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ سرور ِ کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جنت کے دروازوں_کی چوکھٹوں میں سے ہر دو چوکھٹ کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہے_*
مسلم، رقم الحدیث ۲۹۶۷، ، ص۱۵۸۶
*جنت کے خیمے*
_حضرت سیدنا ابوموسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :مؤمن کے لئے جنت میں کھکلی موتی (یعنی وہ موتی جس کے درمیان میں خالی جگہ ہوتی ہے)کا ایک خیمہ ہوگا جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے_*
بخاری، کتاب بداء الخلق، رقم الحدیث ۳۲۴۳، ج۲، ص۳۹۱
*جنت کے باغات* _جنتی لوگوں کو ایسے باغات عطا کئے جائیں گے جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہوں گی_جیسا کہ سورۃ الکہف میں ہے*اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ  اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ_ترجمہ کنزالایمان"بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں ان کے لئے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں_
پ ۱۵*
_ایک روایت میں  ہے کہ جنتِ عدن کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے، ایک یاقوتِ سرخ کی، ایک زَبَرْجَد سبز کی،_اور مشک کا گارا ہے اورگھاس کی جگہ زعفران ہے، موتی کی کنکریاں  ، عنبر کی مٹی جنت میں   ایک ایک موتی کا خیمہ ہوگا جس کی بلندی ساٹھ میل جنت میں   چار دریا ہیں  ، ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا، تیسرا شہد کا، چوتھا شراب کا، پھر اِن سے نہریں   نکل کر ہر ایک کے مکان میں   جاری ہیں وہاں   کی نہریں   زمین کھود کر نہیں   بہتیں  ، بلکہ زمین کے اوپر اوپر رواں   ہیں  ، نہروں   کا ایک کنارہ موتی کا، دوسرا یاقوت کا اور نہروں   کی زمین خالص مشک کی وہاں   کی شراب دنیا کی سی نہیں   جس میں   بدبُو اور کڑواہٹ اور نشہ ہوت ہے اور پینے والے بے عقل ہو جاتے ہیں  ، آپے سے باہر ہو کر بیہودہ بکتے ہیں  ، وہ پاک شراب اِن سب باتوں   سے پاک و منزَّہ ہے۔ جنتیوں   کو جنت میں   ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں   گے_
بہارشریعت حصہ اول صفحہ ١٥٦*
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ 
الجواب صحیح فقیــــر محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی صـــاحب قبلـــہ مــدظلـہ العـالی والنـــورانـی گـــونڈہ یـــوپـی* 
الجواب صحیح فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی  عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری 
 (۱۸)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۹) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز اتـــوار*

تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھانا کیسا ہے؟



السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ
السوال، کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھانا کیسا ہے کیا کبھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کیا ہے مدلل جواب دیں
سائل اسلام رضا برکاتی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
کھیرا یا ککڑی کھجور ملا کر کھانے سے بہت فائدے کی چیز ہے جس سے جسمانی کمزوریاں اور بیماریاں دبلا پن دور ہوتا ہے کھجور سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے کھانے کا بہت سارے طریقے سنت مصطفی صلی ﷲ علیہ وسلم موجود ہیں، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ ایک حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں، حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ تازہ کھجوریں ککڑی کے ساتھ کھاتے تھے
تشریح، کھجور میں گرمی ہوتی ہے اور ککڑی میں ٹھنڈک دونوں ملا کر کھانے سے اعتدال پیدا ہو جاتا ہے
باب الرطب بالقثاء، نزھتہ القاری جلد ۵ صفحہ ۴۲۱
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
(۱۰)  ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۲۶) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز جمعرات

کیا ناخن کاٹنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

  

السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ  حضرت میرا ایک سوال ہے کہ  کیا ناخن کاٹنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

المستفتی محمد مبارک علی رضوی 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
ناخن کاٹنے سے وضو نہیں ٹوٹتا جب کہ اور کوئی چیز نواقص وضو نہ پائی جائے، نور الایضاح صفحہ ۵۲، مکتبہ قادریہ لاہور، اور ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم وضو کے بیان میں بھی ہے 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ

 (۸)  ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۱۴) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز جمعرات

قرآن کریم کی تلاوت کے وقت رونا کیسا ہے؟

 

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 
السوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ قرآن کریم کی تلاوت کے وقت رونا کیسا ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں
السائل:  مولانا اسلام رضا گریڈیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ 
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب، ارشاد باری تعالی ہے، وَيَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا، اور تھوڑی کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا پڑھتا ہے، کنزالایمان سورۃ البنی اسرائیل آیت ١٠٨، سورۃ البنی اسرائیل آیت ١٠٨/  کی تفسیر میں ہے اپنے رب کے حضور عجزو نیاز سے نرم دلی سے /قرآن کریم کی تلاوت کے وقت رونا مستحب ہے۔صاحب تفسیر آگے تحریر فرماتے ہیں ترمذی و نسائی کی حدیث میں ہے کہ وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا جو خوف الہی سے روئے، کنزالایمان سورۃ البنی اسرائیل آیت١٠٨        
واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط فقیرمحمد مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ پیلی بھیت شریف 

  (۳)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۳) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز دوشنبہ

بغیر وضو کے نکاح پڑھنا پڑھانا کیسا ہے؟



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 
السوال، کسی قاضی صاحب نے بغیر وضو کے اگر کسی کا نکاح پڑھا دیا تو کیا بغیر وضو کے نکاح جائز ہے یا نہیں جبکہ دولہا بھی بے وضو اور دلہن بھی بے وضو ہے یہ ایک امام اور مقتدی کا سوال ہے رہنمائی فرمائیں 
السائل؛ جاوید اختر کلکتہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ 
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب، جی ہاں نکاح جائز ہے نکاح کے لیے وضو شرط نہیں جیساکہ فتاویٰ برکات العلوم میں ہے، بغیر وضو کا نکاح جائز ہے کہ دو مطلوب ہیں ایک یہ کہ نکاح بے وضو ہو دوسرے مرد عورت نے بے وضو ایجاب و قبول کیا نکاح صحیح و درست ہے کیونکہ طہارت نکاح کے جواز کے لئے شرط نہیں ہے البتہ ظاہر ہے کہ نیک کام باوضو کیا جائے تو باعث خیر و برکت ہے اور صحت  نکاح کے لیے تین شرطوں کا پایا جاتا ہے ان میں ایک شرط بھی مفقود ہوئی تو نکاح منعقد نہ ہوگا اول عاقل ہونا مجنون اور نہ سمجھ بچے نے ایجاب و قبول کیا تو منعقد نہ ہوگا دوم بالغ ہونا لہذا اگر نابالغ نے ایجاب و قبول کیا تو اولیاء کی اجازت پر موقوف رہے گا سوم گواہ کا ہونا ایجاب و قبول دو مرد یا ایک مردوعورت کے سامنےہو، فتاویٰ برکات العلوم صفحہ 24، لہذا بے وضو قاضی نکاح پڑھا دیا تو نکاح درست ہے
واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ گونڈہ پوپی

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ بلرام پوری
 
(٣)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲٣) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار

اکھاڑے کھیل تماشے لہو ولعب کے بیان؟

 

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 
السوال، کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ اکھاڑا کھیلنا یعنی وہ اکھاڑا اس طرح ہوتا ہے کے اس میں بہت سی عورتیں اکٹھا ہوتی ہے اور پردے کا انتظام  نہیں ہوتا  اور اس اکھاڑہ میں  مرد حضرات بھی بہت ہوتے ہیں  باہر سے ٹیم بن کے لوگ کھیلنے آتے ہیں اور  کھیل دکھا کر ان لوگوں کو انعام دیا جاتا ہے اور اس کھیل میں تلوار وغیرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے کبھی چوٹ بھی لگ جاتی ہے۔ تو ایسا اکھاڑہ کرنا اور اس میں پیسہ دینا کیسا ہے مہربانی ہوگی جواب عنایت فرمائیں 
السائل؛ محمد انصار رضا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب اکھاڑا کھیلنا جس میں بہت ساری عورتیں جمع رہتی ہیں محرم غیر محرم سب رہتے ہیں چاہیے کہ اس کھیل سے پرہیز کریں جس میں ڈھول کے ساتھ کھیلا جاتا ہے حرام ہے۔جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت میں ہے، ڈھول تاشے طرح طرح کے باجے بجانا بجوانا کھیل تماشہ کرنا جلوس میں مرد و عورت کا باہم غلط مسلط ہونا سخت ناجائز و حرام ہے، فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٥٩، حضور سیدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں گنجفہ تاش حرام مطلق ہیں کہ ان میں علاوہ لہوولعب  سلامت یہ ہے کہ مطلقًا منع، فتاوی رضویہ جلد٢٤ صفحہ١٤١، لہذا اکھاڑے میں۔لہوولعب ہوتا ہے اکھاڑے میں۔ڈھول بجاناممنوع ہے حرام، اکھاڑے میں غیر محرم بکثرت آتے جاتے ہیں اوروُہ ایسی ہی حالت میں رہتی ہے اور شوہر ان امور پر مطلع نہیں کرتا تو وہ خود دیوث ہے فاسق ہے، فان الدیوث کما فی الحدیث وکتب الفقہ کالدر وغیرہ من لایغار علی اھلہ١، حدیث اور کتب فقہ مثل درمختار وغیرہ کے مطابق دیّوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی پر غیرت نہیں کھاتا، درمختار ، باب التعزیر ، مطبوعہمطبع مجتبائی دہلی ،  ١/٣٢٨، لہذا ایسے اکھاڑ ے میں جانا حرام جہاں عورتیں بے پردہ ہوتی ہیں فتاویٰ رضویہ میں ہے کھیل تماشے لہو ولعب کی مجلس بھی فسادیوں کے لئے آراستہ کی  ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ قبول نہ کرنا واجب ہے کیونکہ گناہ سے روکنے کا عمل ا س کے لئے مقدم ہے، فتاویٰ رضویہ جلد ٢١ص٦٠۹، لہذا اس اکھاڑے میں پیسہ دینا بھی حرام۔جس کھیل سے خون ہوسکتا ہے
واللہ اعلم بالصواب  
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ گونڈہ پوپی
 (۲)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۲) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز سنیچر

کسی سیدہ کا نکاح غیر کفو میں کرنے کا شرعی حکم؟

 


اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
 الســــوال ۔۔۔۔۔۔۔ 
*کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ سیدہ کا نکاح غیر کفو میں کرنا کیسا ہے
السائل...ہدایت علی بلرام پور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
_سیدہ کا نکاح اس اعتبار سے جائز ہےیہ حالت غالبًا اس صورت میں ہوتی ہے کہ عورت جس سے نکاح کرنا چاہتی ہے وہ غیر کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم کہ اس سے اولیائے زن کے لیے باعثننگ وعار ہو،ایسا نہ ہو تو اس درجہ بے حیائی کیوں اختیار کرے اور اس صورت میں نکاح باطل محض ہے،جب تك ولی پیش از نکاح اسے غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت نہ دے درمختار میں ہے:(ویفتی)فی غیر الکفو(بعدم جوازہ اصلا)وھو المختار للفتوی لفساد الزمان
_غیر کفو میں نکاح کے عدم جواز کافتوٰی دیا جائے گا اور یہی فتوٰی کے لیے مختار ہے کیونکہ زمانہ میں فساد برپا ہوچکا ہے_*((درمختار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ١/١٩١))_اولیاء پر لازم ہے کہ جب کفو پائیں تزویج میں جلدی کریں کہ ایسے وقائع سے ننگ وبے حیائی کا در وازہ نہ کھلے_
حدیث میں ہے*↡↡↡
یا علی! لاتؤخر ثلثۃ الصلٰوۃ اذاحانت و الجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت لھا کفوا_اے علیؓ عنہ تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو نماز میں جب وقت ہو جائے،جنازہ میں جب حاضر ہوجائے،اور غیر شادی شدہ لڑکی کے نکاح میں جب اس کا کفو مل جائے_
((السنن الکبرٰی للبیہقی باب اعتبار الکفاءۃ دارصادر بیروت ٧/١٣٣))*((فتاویٰ رضویہ جلد ١١/ص/٢٦٤))
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ
 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ 
ماشاءاللہ بہت عمدہ جواب*الجوابـــــ صحیح 
فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی 
 (۱)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۱) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز جمعہ مبارڪ

رضاعی بھائ بہن کا آپس میں عقد ہوگی یا نہیں؟



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال، علماء کرام و مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال عرض ہیکہ ,رضاعی  بھائ بہن کا آپس میں عقد ہوگی یا نہیں مثلا زید نے ہندہ کا دودھ پیا تو ہندہ کی اسی دور کی لڑکی سے زید کا عقد کرنا کیسا ہے زید نے جس دور میں ہندہ کا دودھ پیا ھے اس دور کی لڑکی کے علاوہ ہندہ کی دوسری لڑکی کے ساتھ عقد کرنا کیسا ھےکیازید  ہندہ کی  تمام لڑکیوں میں سے کسی ایک سے عقد کر سکتا ہےقرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ھوگی؟
السائل؛ محمد حامد رضا گڑھوا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب زید نے ہندہ کا دودھ پیا اب ہندہ سے جتنے بھی اولاد  پیدا ہوئے خواہ لڑکی ہو یا لڑکا سب انکے بھائی بہن ہیں یعنی رضاعی بھائی بہن جیسا کہ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے، اپنی رضاعی بہن سے نکاح کرنا سخت حرام ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے۔حرمت علیکم امھتکم الی ان قال واخواتکم من الرضاعۃ،،  یعنی تمہارے اوپر تمہاری رضاعی بہن حرام کی گئیں،  پ ٤ سورۂ نساء آیت  ٢٣، فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٤٤٤، لہذا رضاعی بہن سے کسی بھی صورت میں شادی نہیں کر سکتے  بڑی ہو خواہ چھوٹی
واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ بلرام پوری

الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد مشاہد رضا قادری عفی عنہ 

  (۹)  صفرالمظفر۱۴۴۲ھ مطابق (۲۶) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار

ایک ہی وقت میں ایک مسجد میں دوجماعتیں کرنا کیسا ہے؟

  

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 
السوال، کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام ومفتیان عظام کہ مسجد دو منزلہ ہے اوپر.اور.نیچے ایک ہی وقت میں دو جما عتیں ہورہی ہیں ایک جماعت اوپر اور ایک نیچے کچھ لوگ امام کے پیچھےنماز نہیں پڑھنا چاہتے ہیں اسی وجہ سے دو جماعتیں ہو رہی ہیں تو کیا ایک ہی مسجد میں ایک ہی وقت میں دو جماعتیں ہو سکتی ہیں یا نہیں بتفصیلی جواب عنایت فرمایٸں نوازش ہوگی اگر حوالہ مل جاۓتو بہتر ہوگا
المستفتی؛ حافظ محمد ارباز عالم نظامی کشی نگر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ 
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب ایک مسجد میں ایک فرض کی دو جماعتیں ایک ساتھ قصدا کرنا بلاوجہ شرعی ناجائز و ممنوع ہے جبکہ کوئی اور مسلک کا نہ ہو فتاوی فقیہ ملت میں ہے مسجد کی دوسری یا تیسری منزل پر نماز پڑھنا پڑھانا مکروہ ہے، فتاوی فقیہ ملت جلد اول ١٩٥، حضور اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں.دوجماعتیں ایک مسجد ایک وقت میں بالقصد قائم کرنا ہر گزجائز نہیں، فتاوی رضویہ جلد ٨ صفحہ ٣٢٠
واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح
 فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ گونڈہ پوپی

الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ بلرام پوری 
  
 (۱۶)  صفرالمظفر۱۴۴۲ھ مطابق (۴) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار

تفسیر کو بے وضوء چھونا کیسا ہے؟

 

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال، کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئے میں کہ تفسیر کی کتابوں (تفسیر جلالین)  کو بلا وضو چھونا کیسا ہے مع مدلل جواب عنایت فرمائیں؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب تفسیر جلالین ہو یا دیگر کوٸ تفسیر یا کوٸ کتب حدیث و فقہ ہو حکم یہ ہے کہ نفس قرآن  محدث کو چھونا حرام ھے اور نفس قرآن کے علاوہ کو باوضوء چھونا افضل ھے ہاں اگر چھو لے تو ناجاٸز و حرام و مکروہ تحریمی نہیں، ہاں ترجمہ قرآن کا چھونا  ممنوع ضروری ھے یعنی ناجاٸز ھے، جوہرة نیرہ میں ھے، وکذا فی کتب الفسیر لا یجوز مس القرآن منہا ولہ ان یمس غیرہ بخلاف المصحف اھ، الجوھرة النیرة ج اول ص ٩٠ زکریا دیوبند، اسی طرح حاشیة الطحطاوی ص ١٤٤ المکتبةالفیصل میں ھے، لا یجوز مس مواضع القرآن منہا ولہ ان یمس غیرھا بخلاف المصحف اھ، فتاوی رضویہ میں ھے کتب تفسیر و حدیث وفقہ میں جہاں آیت لکھی ہو خاص اس جگہ بے وضوء ہاتھ لگانا حرام ھے باقی عبارت میں افضل یہ ھے کہ باوضوء ھو، الفتاوی الرضویة ج اول ص ٢٢٢ رضا اکیڈمی ممبٸ

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ

(۸)  صفرالمظفر۱۴۴۲ھ مطابق (۲۶) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار

امام باڑے چوک پر مجاوری کرنے والے کے پیچھے نماز کا حکم


اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
 الســــــــــــــــوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسلئہ ذیل میں کہ زید مسجد کا مؤذن ہے اور امام کے غیر موجودگی میں امامت بھی کرتا ہے اور امام باڑہ کامجاوری بھی کرتا ہے تو کیا زید پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
السائل: محمد عباس علی برکاتی چیرواں شریف گریڈیہ جھارکھنڈ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
امام باڑہ چوک پر شیر نی یا کھانا رکھ کر فاتحہ  کرنا جائز نہیں۔چاہے موذن ہو یا مجاور ہو یا امام۔جیسا کہ فتاویٰ فقیہ ملت میں تحریر ہے*تعزیہ چوک پر کھانا رکھ کر فاتحہ کرکے ایک امر ناجائز میں جاہلوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور سمجھانے پر بھی نہیں مانتا سخت گنہگار مستحق عذاب ہے اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی ہے چاہیے کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں
*فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 53*البتہ اگر عام طور پر کوئی فاتحہ دلواتا ہے اور وہ محرم کا ہی مہینہ ہو اور تعزیہ یاچوک  کے قریب ہی کیوں نہ ہو موذن صاحب کا فاتحہ پڑھنا جائز ہے۔اور نماز میں کوئی خلل نہیں اور اگر چوک امام باڑہ کے لیے مخصوص مجاور ہیں مؤذن صاحب تو اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ( کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ 
الجواب صحیح والمجیب نجیح*فقیــــر محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی صـــاحب قبلـــہ مــدظلـہ العـالی والنـــورانـی گـــونڈہ یـــوپـی
الجواب صحیح والمجیب نجیح*فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی  عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری 
 (۲۵)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۱۶) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار

دھان گیہوں میں عشر کتنا واجب ہے؟



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
السوال، بعدہ سلام عرض ہے کہ حضرت جو عشر ہے جو پیداوار بارش یا زمین کی نمی سے ہو اس میں دسواں حصہ واجب ہوتا ہے
تو یعنی اس کا مطلب نو ہمارا دسواں مدرسے  کا اور خریدے ہوۓ پانی میں بسواں حصہ واجب ہوتاہے یعنی 19انکا 20 ہمارا اسی طرح ہے حضرت کہ اسمے کچہ تبدیلی ہے
 سائل سرتاج علی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب اللہم ھدایۃ الحق والصواب
بارش کے پانی یازمین کی نمی سے جو پیداوار ہو اس میں دسواں حصہ عشرہوگا یعنی ایک حصہ فقیر کا نو حصہ آپ کا لیکن آپ کا یہ کہنا کہ دسویں میں ایک حصہ مدرسے کا یا بیسویں میں ایک حصہ مدرسے کا تو معلوم ہونا چاہئے کہ مدرسے کا کوئی حصہ نہیں بلکہ جن لوگوں کو زکوٰۃ فطرہ دینا جائز ہے انہیں کوعشربھی دیا جائے گا جیسا کہ حضورصدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں"جن لوگوں  کو زکاۃ دینا ناجائز ہے انھیں  اور بھی کوئی صدقۂ واجبہ نذر و کفّارہ و فطرہ دینا جائز نہیں ، "بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ ٩٣٧، کب بیسواں حصہ عشر واجب ہے کب دسواں حصہ واجب ہے اورکن کن پیداوار پر عشرہے اس بارے میں حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں"جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں  عُشر یعنی دسواں  حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چرسے  یا ڈول سے ہو، اس میں  نصف عشر یعنی بیسواں  حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی مِلک ہے، اُس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں  مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں  ڈول چر سے سے تو اگر اکثر مینھ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چرسے سے تو عشر واجب ہے، ورنہ نصف عشر۔ (درمختار، ردالمحتار)گیہوں ، جَو، جوار، باجرا، دھان اور ہر قسم کے غلّے اور السی، کسم، اخروٹ، بادام اور ہر قسم کے میوے، روئی، پھول، گنا، خربزہ، تربز، کھیرا، ککڑی، بیگن اور ہر قسم کی ترکاری سب میں  عشر واجب ہے، تھوڑا پیدا ہو یا زیادہ۔  (عالمگیری)"
بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ ٩٢٣/٢٤ مطبوعہ دعوت اسلامی

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ 

 (۷)  ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۲۱) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز منگل

بتوں کے سامنے منت مانگنے اور خصی چڑھانے والے پر شریعت کا حکم؟



اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎  
کیا فرماتے ہیں علما ٕ کرام ومفیان شرع متین اس مسٸلہ کے بارے میں کہ اس شخص کے بارے میں جو مسلمان بھی ہو اور کافر کے بتوں کے اوپر منت بھی مانے کہ اگر میرا فلاں کام ہو جاۓ گا تو میں اس بت کے نام پر خصی چڑھاٶں گا یا پھر چھٹ میں یہ چڑھاٶں وہ چڑھاٶں تو ایسے شخص کے بارے میں حکم شرع کیا ہے کیا اس کو مسلمان مانا جاۓ گا مدلل جواب عنایت فرما دیجیۓ مہربانی ہوگی ساٸل محمد ارمان رضا رضوی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وعلیکم السـلام ورحـمتہ اللہ وبــرکاتہ 
الجــواب اللـهم ہدایة الحـق والصــواب
صورت مزکورہ میں پوجا کرنے اور بکرا چڑھانے کی بنا پر زید اسلام سے خارج ہوگیا اور اس کی بیوی نکاح سے نکل گئ زید کو چاہئے وہ اعلانیہ توبہ کرےاور تجدید ایمان و تجدید نکاح کرے جب تک زید توبہ کرکے پھر سے مسلمان نہ بنے وہ اپنی بیوی سے دوبارہ نکاح نہ کرے؛ اس وقت تک مسلمانوں کو چاہئے کہ زید کے ساتھ میل جول؛ کھانا پینا؛ سلام کلام ترک کردیں اور زید کے اس کفریہ کام میں جو بھی شریک رہا ہو اس سے خوشی کا اظہـار کیا ہو ان سبھـوں کو تجدید ایمان وتجدید نکاح کرنا ضروری ہے، ماخـوذ فتاویٰ سراوستی جلد1 صفحہ57

واللہ ورسولہ اعـلـــم باالصــواب
کتبہ، گدائے حضور تاج الشریعـہ 
محمد عارف رضوی قادری 

الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ

٦/٤/١٤٤٢ھ ربیع الآخر

٢٢/١١/٢٠٢٠ بروز اتوار

عاشورہ کے دن اچھے کھانا پکانا کھچڑا اور سبیل وغیرہ کا اہتمام کرنا کیسا ہے



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُہْ
السوال، کیافرماتےھیں علماۓکرام کہ دسویں محرم الحرام یعنی  یوم عاشورہ کے دن اچّھے اچّھے کھانے پکانا اور لوگوں کو کھلانا کیسا ہے ؟ اور کھچڑا پکانا اور سبیل پلانا صدقہ وخیرات کرنا کیسا ہے ؟ مدلل جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں عندالناس مشکور ہوں بینواوتوجروا
السائل؟ ڈاکٹر ملک محمد غفران نظامی علیمی علی گڑھ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بعون الملڪ الوالھاب
یوم عاشورہ کو اچھا اچھاکھانا پکانا اور کھلانا دونوں جائز و مستحسن ہے ۔ اورکھچڑا پکانا سبیل لگانا اور نذر ونیاز کرنا صدقہ وخیرات کرنا وغیرہ کارخیر کرنا سب جائز ومستحسن و باعث اجر وثواب ہے۔حدیث نبوی ہے، حضرت عبدالله ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں ،، من وسّع علی عیاله یوم عاشورآء لم یزل فی سعة سائرسنة ،، یعنی جوشخص عاشورے کے دن اپنے گھر والوں پر کھانے پینے میں کشادگی کرےگا سال بھر تک برابر کشادگی میں رہے گا، بحوالہ ماثبت بالسنة صفحہ 10،خطبات محرم صفحہ 461،امام المتکلمین حضرت علامہ الشاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمةوالرضوان تحریرفرماتےھیں  ،، جوکھانا کہ حضرات حسنین کریمین کو نیاز کریں اس پر فاتحہ قل اور درودشریف پڑھنے سے تبرک ہوجاتا ہے اور اس کاکھانا بہت اچھا ہے، بحوالہ فتاوی عزیزیہ جلداول صفحہ 78،اور آگے ارشادفرماتے ہیں ،، اگر مالیدہ  اور چاولوں کی کھیر کسی بزرگ کے فاتحہ کےلۓ ایصال ثواب کی نیت سے پکاکر کھلاۓ تو کوئ مضائقہ نہیں۔ جائز ہے، فتاوی عزیزیہ صفحہ 50،اور استاذالفقہاء حضورفقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمدالامجدی علیہ الرحمةوالرضوان تحریرفرماتےھیں ،، حضرت امام حسین اور دیگر شہداء کربلا رضی اللہ تعالی عنہم کوثواب پہچانے کی غرض سے سبیل لگانا  اور کھچڑا وغیرہ پکانا پھر یہ کہناکہ یہ کھچڑا اور سبیل امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے شرعاکوئ قباحت نہیں، خطبات محرم صفحه 463،حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ الرحمةوالرضوان تحریرفرماتےھیں  ،، بال بچوں کےلۓ دسویں محرم کوخوب اچھے اچھے کھانے پکاۓ توان شاءاللہ عزوجل سال بھرتک گھر میں برکت رہے گی بہتر ہے کہ حلیم کھچڑا پکاکرحضرت شہیدکربلاامام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی فاتحہ کرے بہت مجّرب ہے اسلامی زندگی صفحہ 131

واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ، فقیر محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ 

الجواب صحیح والمجیب نجیح 
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرام پوری

  (١١)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (٣١) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز سوموار

شوہر نے کہا طلاق دوں گا نیز اپنی بیوی کو بہن کہنے سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 
السوال، امید ہے  تمام علماءاکرام خیریت سے ہوں گے  اللہ پاک سب کو سدا خوش رکھے ایک شخص نے اپنی بیوی سے  یہ کہا کہ میں تجھے طلاق دوں گا  اور اس نے اپنی پوری فیملی کے سامنے  یہ بھی کہا  کہ آج کے بعد   ہمارا میاں بیوی والا رشتہ ختم ہے  بلکہ آج کے بعد یہ میری بہن ہے ایسے شخص کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں جواب کا منتظر
السائل: محمد یاسر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ 
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب ایک شخص یعنی زید نے کہا اپنی بیوی سے میں تجھے طلاق دوں گا۔تو طلاق واقع نہ ہوئی اس لئے اس میں مستقبل کلام ہے کب دے گا قید نہیں کیا صورت مستفسرہ میں زید نے یوں کہا آج کے بعد میاں بیوی کا رشتہ ختم یا یوں لکھا رشتہ ختم کرتا ہوں کا جملہ طلاق کی نیت سے لکھا تو اس کی بیوی پر طلاق بائن واقع ہوگی، فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ۲۶۰، اور اگر زید نہ یہ کہا کہ تو میری ماں بہن  کے مثل ہے  بہ نیت طلاق ایک طلاق بائن  واقع ہوئی اس صورت میں عورت کی مرضی سے دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور اگر بہ نیت ظاہر کہا کہ تو میری بہن کے مثل ہے تو ظہار ہے اس صورت میں جب تک کہ زید کفارہ نہ دے لے اس کی عورت اس پر حرام ہے لیکن زید نے اگر مثل مانند وغیرہ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ صرف یہ کہا کہ آج سے تم میری ماں یہ بہن ہو اور میں تمہارا بیٹا ہوں تو یہ کلام لغو ہے اس کی بیوی پر کسی قسم کی کوئی طلاق نہیں واقع ہوئی اور نہ کوئی کفارہ واجب ہوا، البتہ زید سخت گنہگار ہوا توبہ کرے اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتےہیں کے زوجہ کو ماں بہن کہنا خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارے یا یوں کہے کہ تو میری ماں بہن ہے سخت گناہ و ناجائز ہے مگر اس سے نہ نکاح میں خلل ہوا نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہوا اھ تلخیصا، فتاویٰ رضویہ جلد پنجم ص ۶۳۰، اور حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ عورت کو ماں بہن یا بیٹی کہنا تو ظہار نہیں مگر ایسا کہنا مکروہ ہے، بہار شریعت حصہ ہشتم ص ۹۹، اور فتح القدیر میں ہے، فی انت امی لایکون مظاھرا وینبغی ان یکون مکروھا لانہ لابد فی کو نہ ظھار امن التصریح باراۃ التشیہ شرعاً اھ، فتح القدیر جلد چہارم ص ۹۱، اور اسی طرح ردالمختار جلد دوم ص۵۷۴ میں ہے

واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ  
 (۱۰)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۹) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار

عیدگاہ میں نماز جنازہ. پڑھنا کیسا ہے

  

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســــــــــــــــوال کیا عید گاہ میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہےجواب عنایت فرمائیں
سائل؟  سجاد عالم نوری
_________________________________
 
 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
عید گاہ میں نماز جنازہ پڑھنا  جائز و درست ہے جیسا کہ حضرت علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ والرضوان رحمۃ تحریر فرماتے ہیں،، لاتکرہ فی مسجد اعدلھا وکذافی مدرسة ومصلی عید
*طحطاوی علی المراقی مطبوعہ قسطنطنیہ صفحہ ٣٢٦حــضور صــدر الشـریعــہ علیہ رحمتہ الرضوان تحریر فرماتےہیں کہ اس عبارت سے بھی مصرح ہے کہ عید گاہ اقتداء کے مسائل میں مسجد کے حکم میں ہے اگرچہ امام اور مقتدی کے درمیان کی صفوں کی جگہ فاصل ہوا اور باقی احکام مسجد کے اس پر نہیں
بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ١٨٢
فتاوی فقیہ ملت جلد اول کتاب الجنائز
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ 
شـــــــــــرف قلــــــــــم
*فـقــیـر مـحــمـد امتـیـاز قــمـر رضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ  گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ 
الجوابـــــ صحیح فقیــــر محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی صـــاحب قبلـــہ مــدظلـہ العـالی والنـــورانـی گـــونڈہ یـــوپـی
الجوابـــــ صحیح فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی  عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری 
الجوابـــــ صحیح فقیــــر محمـــد غیــاث الــدیـن قـادری  دولہـاپـــور گــونــــڈہ*
 
 (⑧)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۷) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز جمعہ مبارڪ 

حضرت ابوبکر رضیﷲ تعالیٰ عنہ و عمر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ عثمان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ و علی رضیﷲتعالیٰ عنہ کا دور خلافت کتنادن رہا*

 

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســــــــــــــــوال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی دور خلافت کتنے دن رہے ۔اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور خلافت کتنے دن رہا ۔اور عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور خلافت کتنے دن اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کتنے دن رہا  جلد بتایا جائے  ۔۔میرے دماغ سے ابھی یہ بات نکل گئی ہے  تھورا جلدی
السائل:  ارشد علی آزاد نگر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوھاب
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت ڈھائ سال حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت ساڑھے دس سال حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ  عنہ کی خلافت بارہ سال حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت  چارسال نوماہ رہی ہے؟((شرح فقہ اکبر ملاعلی  قاری  صفحہ۶۸))*((ماخوذ مخزن معلومات صفحہ۶۹))
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ
 کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ 
*فقیــــر محمـــد غیــاث الــدیـن قـادری  دولہـاپـــور گـونــــڈہ
الجواب صحیح والمجیب نجیح 
العبد ابوالفیضان محمد عتیق اللہ فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ
 (۶)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۶) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز بـــــدھ*

قبرستان کے اوپر راستہ بنانا اس پر چلنا عندالشرع کیسا ہے



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســــوال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ محلہ کے قبرستان میں پرانی قبروں کے اوپر 3/4 فٹ مٹی ڈال کر راستہ بنا سکتے ہیں شرع کی روشنی میں جواب عنایت فرمائں*السائل؟ محمد.رضوی ممبئ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب 
قبرستان کے اوپر راستہ بنانا اس پر چلنا جائز نہیں، بالکل حرام ہے۔جیسا کہ حضور اعلی حضرت عظیم البرکت امام اھلسنت کے فتوے میں ہےقبرستان میں نئے بنائے گئے رستے پر چلنا حرام ہے، جیسا کہ فتح القدیر اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے؟
((ردالمحتار فصل الاستنجاء ، داراحیاء التراثالعربی بیروت ، ١/٢٢٩))
((فتاویٰ رضویہ جلد/٨/ص ١١٩))
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ
 شـــــــــــرف قلــــــــــم
*فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ  گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ * 
الجوابـــــ صحیح العبــــد ابوالفیضــان محمـــــد عتیــق اللہ فیضـی یــار علــوی ارشــدی عفــی عنــــہ
 (7) ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (27) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز جمعرات

گائے بھینس بکری بچہ دینے کے بعد جو اول دودھ نکلتا ہے اسےکھانا کیسا ہے؟




السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
السوال
بکری یا بھینس کے بچہ دینے کے بعد جو اس سے پہلا دودھ نکلتا ہے جس کو بہت سے جگہ لوگ پیوس کہتے ہیں کیا اس دودھ کا کھانا درست ہے
جلدی جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
سائل محمد نوشاد رضوی سیہاپور بلرامپور
                          یوپی
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورۃ مستفسرہ میں گائے بھینس بکری بچہ دینے کے بعد جو اول دودھ نکلتا ہے یعنی پیوس اس کو کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں 
اس دودھ کا کھانا پینا جائز ہے شرعاً کوئی حرج نہیں ہے
ھکذا فی الفتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ٤٥٣
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
 کتبہ فقیر محمد امتیازقمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح و المجیب نجیح 
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی   

(٤) 👈 ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (٢٠) ستمبر ٠٢٠٢؁ء بروز 👈 جمعہ*

غیر مسلم کے یہاں کھانا پینا اس کی پوجا وغیرہ میں شامل ہونا کیسا ہے



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســــــــــــــــوال کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلہ کے بارے میں ایک مسلم لڑکی غیر مسلم کے یہاں آنا جانا ہے اور یہی نہیں رہنا کھانا پینا بھی ہوتا ہے اور انکے اطسو میں شریک رہتی ہے ایسی مسلم عورت کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے جواب دیکر شکریا کا موقع دیں
الساںل محمد رفیق اشرفی ضلع شہڈول ام پی
_______________________________
 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب 
حدیث شریف میں ہے*لاتواکلوھم ولا تشاربواھم، نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤنہ ان کے ساتھ پانی پیو۔کنزالعمال حدیث ۳۲۵۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۴۰*غیر مسلم چار قسم ہیں کتابی،مجوسی،مشرک،مرتد،کتابی اگر کتابی ہو ملحد نہ ہوتو اس کا ذبیحۃ اور اس کے یہاں کا گوشت بھی حلال ہے اور باقیوں کے یہاں کا گوشت حرام۔اور مرتد ان میں سب سے خبیث تر ہے اس کے پاس نشست برخاست مطلقًا ناجائزہے۔اور ساتھ کھانا ہر کافر کے ساتھ برا ہے۔پھر اگر اس میں بد مذہبی کی تہمت ہوجیسے نصرانی کے ساتھ کھانا مسلمانوں کے لئے زیادہ باعث نفرت ہو تو اس کاحکم اورسخت تر ہوگا ورنہ اس اصل حکم میں کہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ پانی نہ پیو سب برابرہیں فتاویٰ رضویہ جلد ۲۱ص ۶۶۹/۶۷۱*شرع مطہر میں ہر غیر مسلم کافر ہے یہودی ہو یانصرانی یا مجوسی یا مشرک،جو اہل کتاب کو کافرنہ جانے خود کافر ہے
ﷲتعالٰی عزوجل فرماتاہے
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیۡنَ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ*بیشك وہ جو کافر ہیں کتابی اور مشرک،سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے*القرآن الکریم ۹۸ /۶
پھر مسلمان کی لڑکی غیر مسلم کے یہاں کیوں کر جا سکتی ہے اور کیونکر جائز ہو سکتا ہے اس کے یہاں کھانا پینا سخت حرام،، سیدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں، کافر جانتاہے اوراسے کافر کہنا معیوب نہیں جانتا مگر اپنی مصلحت کے سبب بچتاہے تو صرف گنہگار ہے جبکہ وہ مصلحت صحیحہ تاحد ضرورت شرعیہ نہ ہو،اور اگر واقعی کافر کوکافر کہنا معیوب وخلاف تہذیب جانتاہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتاہے اور قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے
کلام فتاویٰ رضویہ جلد۲۱ ص۳۱۶/۳۱۷*قادیانی کافر مرتد ہیں مسلمان نہیں ان کا حکم ہندوؤں سے بھی زیادہ سخت ہے قادیانیوں سے ملنا جلنا حرام ہے جو شخص یہ جانتے ہوئے کہ فلاں قادیانی ہے پھر اس سے ملتا جلتا ہے تو وہ فاسق ہے دیوبندی یا کسی بدمذہب سے مل جل سلام کلام نشست و برخاست خوردونوش حرام ہے حدیث میں روافض کے بارے میں فرمایا نہ ان کے ساتھ اٹھوں بیٹھو نہ کھاؤ پیو نہ ان سے شادی کرو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو نہ ان کے جنازے کی نماز پڑھو
فتاویٰ شرح بخاری جلد سوم صفحہ۲۸۳*اطسو میں شریک رہتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ ان کے پوجا وغیرہ میں شامل رہتی ہے۔حضور اعلی حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں کافروں کی پوجا میں شامل ہونا کافروں کی جے بولنا،رام لچھمن پر پھول چڑھانا،رامائن کی پوجا میں شریك ہونا،کفر ہے فتاویٰ رضویہ جلد ۶ص ۶۶۰۔لہذا ہندو کی پوجا میں  شامل ہونے کی وجہ سے وہ  کافرہ  ہو گئی اس پر کفرکا فتوی ہےجیسا کہ فتاوی شارح بخاری میں ہے ہندؤں کے پوجا میں شامل ہونا کفر ہے
وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ  
شـــــــــــرف قلــــــــــم
فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ

الجوابـــــ صحیح  فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی  عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری
 
 (۱۰)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۹) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز اتــوار

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...