شوہر نے کہا طلاق دوں گا نیز اپنی بیوی کو بہن کہنے سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟



اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ 
السوال، امید ہے  تمام علماءاکرام خیریت سے ہوں گے  اللہ پاک سب کو سدا خوش رکھے ایک شخص نے اپنی بیوی سے  یہ کہا کہ میں تجھے طلاق دوں گا  اور اس نے اپنی پوری فیملی کے سامنے  یہ بھی کہا  کہ آج کے بعد   ہمارا میاں بیوی والا رشتہ ختم ہے  بلکہ آج کے بعد یہ میری بہن ہے ایسے شخص کے بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں جواب کا منتظر
السائل: محمد یاسر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ 
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب ایک شخص یعنی زید نے کہا اپنی بیوی سے میں تجھے طلاق دوں گا۔تو طلاق واقع نہ ہوئی اس لئے اس میں مستقبل کلام ہے کب دے گا قید نہیں کیا صورت مستفسرہ میں زید نے یوں کہا آج کے بعد میاں بیوی کا رشتہ ختم یا یوں لکھا رشتہ ختم کرتا ہوں کا جملہ طلاق کی نیت سے لکھا تو اس کی بیوی پر طلاق بائن واقع ہوگی، فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ۲۶۰، اور اگر زید نہ یہ کہا کہ تو میری ماں بہن  کے مثل ہے  بہ نیت طلاق ایک طلاق بائن  واقع ہوئی اس صورت میں عورت کی مرضی سے دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا اور اگر بہ نیت ظاہر کہا کہ تو میری بہن کے مثل ہے تو ظہار ہے اس صورت میں جب تک کہ زید کفارہ نہ دے لے اس کی عورت اس پر حرام ہے لیکن زید نے اگر مثل مانند وغیرہ کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ صرف یہ کہا کہ آج سے تم میری ماں یہ بہن ہو اور میں تمہارا بیٹا ہوں تو یہ کلام لغو ہے اس کی بیوی پر کسی قسم کی کوئی طلاق نہیں واقع ہوئی اور نہ کوئی کفارہ واجب ہوا، البتہ زید سخت گنہگار ہوا توبہ کرے اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتےہیں کے زوجہ کو ماں بہن کہنا خواہ یوں کہ اسے ماں بہن کہہ کر پکارے یا یوں کہے کہ تو میری ماں بہن ہے سخت گناہ و ناجائز ہے مگر اس سے نہ نکاح میں خلل ہوا نہ توبہ کے سوا کچھ اور لازم ہوا اھ تلخیصا، فتاویٰ رضویہ جلد پنجم ص ۶۳۰، اور حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ عورت کو ماں بہن یا بیٹی کہنا تو ظہار نہیں مگر ایسا کہنا مکروہ ہے، بہار شریعت حصہ ہشتم ص ۹۹، اور فتح القدیر میں ہے، فی انت امی لایکون مظاھرا وینبغی ان یکون مکروھا لانہ لابد فی کو نہ ظھار امن التصریح باراۃ التشیہ شرعاً اھ، فتح القدیر جلد چہارم ص ۹۱، اور اسی طرح ردالمختار جلد دوم ص۵۷۴ میں ہے

واللہ اعلم بالصواب 
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ

الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ  
 (۱۰)  ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۹) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...