لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

 لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟
اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟ 

سائل: رونق اختر ثقافی

باسمہ تعالی

الجواب بعون الملک الوھاب ،

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر جسم کا اکثر حصہ موجود ہو یا آدھا حصہ سر کے ساتھ موجود ہو تو غسل دے کر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور اگر جسم کا اکثر حصہ موجود نہ ہو، بلکہ صرف بعض حصے مثلاً سر، ہاتھ وغیرہ ہوں ، یا آدھا بغیر سر کے ہو تو اس صورت میں اس کو نہ غسل و کفن دیا جائے گا اور نہ اس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی، البتہ اس کو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا، 

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے :

ﺇﺫا ﻭﺟﺪ ﻃﺮﻑ ﻣﻦ ﺃﻃﺮاﻑ اﻹﻧﺴﺎﻥ ﻛﻴﺪ ﺃﻭ ﺭﺟﻞ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﻐﺴﻞ، ﻷﻥ اﻟﺸﺮﻉ ﻭﺭﺩ ﺑﻐﺴﻞ اﻟﻤﻴﺖ، ﻭاﻟﻤﻴﺖ اﺳﻢ ﻟﻜﻠﻪ ﻭﻟﻮ ﻭﺟﺪ اﻷﻛﺜﺮ ﻣﻨﻪ ﻏﺴﻞ، ﻷﻥ ﻟﻷﻛﺜﺮ ﺣﻜﻢ اﻟﻜﻞ، ﻭﺇﻥ ﻭﺟﺪ اﻷﻗﻞ ﻣﻨﻪ، ﺃﻭ اﻟﻨﺼﻒ ﻟﻢ ﻳﻐﺴﻞ ﻛﺬا ﺫﻛﺮ اﻟﻘﺪﻭﺭﻱ ﻓﻲ ﺷﺮﺣﻪ ﻣﺨﺘﺼﺮ اﻟﻜﺮﺧﻲ، ﻷﻥ ﻫﺬا اﻟﻘﺪﺭ ﻟﻴﺲ ﺑﻤﻴﺖ ﺣﻘﻴﻘﺔ ﻭﺣﻜﻤﺎ، ﻭﻷﻥ اﻟﻐﺴﻞ ﻟﻠﺼﻼﺓ ﻭﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﺰﺩ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﺼﻒ ﻻ ﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ، ﻓﻼ ﻳﻐﺴﻞ ﺃﻳﻀﺎ، ﻭﺫﻛﺮ اﻟﻘﺎﺿﻲ ﻓﻲ ﺷﺮﺣﻪ ﻣﺨﺘﺼﺮ اﻟﻄﺤﺎﻭﻱ ﺃﻧﻪ ﺇﺫا ﻭﺟﺪ اﻟﻨﺼﻒ ﻭﻣﻌﻪ اﻟﺮﺃﺱ ﻳﻐﺴﻞ، ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻣﻌﻪ اﻟﺮﺃﺱ ﻻ ﻳﻐﺴﻞ ﻓﻜﺄﻧﻪ ﺟﻌﻠﻪ ﻣﻊ اﻟﺮﺃﺱ ﻓﻲ ﺣﻜﻢ اﻷﻛﺜﺮ؛ ﻟﻜﻮﻧﻪ ﻣﻌﻈﻢ اﻟﺒﺪﻥ، ﻭﻟﻮ ﻭﺟﺪ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﺸﻘﻮﻗﺎ ﻻ ﻳﻐﺴﻞ ﻟﻤﺎ ﻗﻠﻨﺎ، ﻭﻷﻧﻪ ﻟﻮ ﻏﺴﻞ اﻷﻗﻞ ﺃﻭ اﻟﻨﺼﻒ ﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ، ﻷﻥ اﻟﻐﺴﻞ ﻷﺟﻞ اﻟﺼﻼﺓ،

ﻭﻟﻮ ﺻﻠﻲ ﻋﻠﻴﻪ ﻻ ﻳﺆﻣﻦ ﺃﻥ ﻳﻮﺟﺪ اﻟﺒﺎﻗﻲ ﻓﻴﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻴﺆﺩﻱ ﺇﻟﻰ ﺗﻜﺮاﺭ اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻰ ﻣﻴﺖ ﻭاﺣﺪ، ﻭﺫﻟﻚ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﻋﻨﺪﻧﺎ، ﺃﻭ ﻳﻜﻮﻥ ﺻﺎﺣﺐ اﻟﻄﺮﻑ ﺣﻴﺎ ﻓﻴﺼﻠﻰ ﻋﻠﻰ ﺑﻌﻀﻪ، ﻭﻫﻮ ﺣﻲ ﻭﺫﻟﻚ ﻓﺎﺳﺪ، ﻭﻫﺬا ﻛﻠﻪ ﻣﺬﻫﺒﻨﺎ،

جب انسان کے جسم کے حصوں میں سے کوئی ایک حصہ ملے، جیسے ہاتھ یا پاؤں، تو اس کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس لیے کہ شریعت میں غسل کا حکم میت کے لیے آیا ہے، اور میت کا لفظ پورے جسم پر بولا جاتا ہے، ہاں اگر میت کا زیادہ حصہ مل جائے تو اس کو غسل دیا جائے گا، کیونکہ زیادہ حصہ کو پورے کے حکم میں شمار کیا جاتا ہے، اور اگر میت کا کم حصہ ملے، یا آدھا حصہ ملے، تو اسے غسل نہیں دیا جائے گا، اسی طرح قدوری نے اپنی شرح مختصر الکرخی میں ذکر کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مقدار حقیقتاً اور حکماً میت نہیں کہلاتی، نیز غسل نماز جنازہ کے لیے ہوتا ہے، اور جس پر نماز نہیں پڑھی جاتی اس کو غسل بھی نہیں دیا جاتا، اور قاضی نے اپنی شرح مختصر الطحاوی میں ذکر کیا ہے کہ اگر میت کا آدھا حصہ سر کے ساتھ ملے تو غسل دیا جائے گا، اور اگر سر اس کے ساتھ نہ ہو تو غسل نہیں دیا جائے گا، گویا انہوں نے سر کے ساتھ ہونے کی صورت میں اسے اکثر کے حکم میں قرار دیا ہے، کیونکہ سر بدن کا عظیم ترین حصہ ہے، اور اگر میت کا نصف حصہ چرا ہوا  ملے تو اسے بھی غسل نہیں دیا جائے گا، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، نیز اس لیے کہ اگر کم حصے یا نصف حصے کو غسل دیا جائے تو اس پر نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی، کیونکہ غسل نماز کے لیے ہوتا ہے، اور اگر اس پر نماز جنازہ پڑھ لی جائے تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ بعد میں باقی جسم مل جائے اور اس پر دوبارہ نماز پڑھی جائے، جس سے ایک ہی میت پر نماز جنازہ کی تکرار لازم آئے گی ، اور یہ ہمارے نزدیک مکروہ ہے، یا یہ احتمال بھی ہے کہ وہ عضو کسی زندہ انسان کا ہو، تو اس کے بعض حصہ پر نماز جنازہ پڑھ لی جائے، حالانکہ وہ زندہ ہو، اور یہ فاسد ہے، اور یہ سب ہمارا (احناف کا) مذہب ہے، 

(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع کتاب الصلاۃ ، فصل صلاۃ الجنازۃ ، فصل شرائط وجوب الغسل ،جلد ١ صفحہ ٣٠٢،دار الکتب العلمیۃ بیروت) 

فتاوی عالمگیری میں ہے :

ﻭﻟﻮ ﻭﺟﺪ ﺃﻛﺜﺮ اﻟﺒﺪﻥ ﺃﻭ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﻊ اﻟﺮﺃﺱ ﻳﻐﺴﻞ ﻭﻳﻜﻔﻦ ﻭﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﻀﻤﺮاﺕ، ﻭﺇﺫا ﺻﻠﻲ ﻋﻠﻰ اﻷﻛﺜﺮ ﻟﻢ ﻳﺼﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﺒﺎﻗﻲ ﺇﺫا ﻭﺟﺪ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻹﻳﻀﺎﺡ، ﻭﺇﻥ ﻭﺟﺪ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ اﻟﺮﺃﺱ ﺃﻭ ﻭﺟﺪ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﺸﻘﻮﻗﺎ ﻃﻮﻻ ﻓﺈﻧﻪ ﻻ ﻳﻐﺴﻞ ﻭﻻ ﻳﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻳﻠﻒ ﻓﻲ ﺧﺮﻗﺔ ﻭﻳﺪﻓﻦ ﻓﻴﻬﺎ، ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﻀﻤﺮاﺕ،

اور اگر میت کے جسم کا زیادہ حصہ مل جائے، یا آدھا جسم سر کے ساتھ ملے، تو اس کو غسل دیا جائے گا، کفن پہنایا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اسی طرح المضمرات میں ہے، اور اگر زیادہ حصہ پر نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہو، پھر بعد میں باقی حصہ مل جائے، تو اس باقی حصہ پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، اسی طرح الإیضاح میں ہے، اور اگر میت کا آدھا حصہ سر کے بغیر ملے، یا آدھا حصہ لمبائی میں چیرا ہوا ملے، تو اس کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، بلکہ اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر اسی میں دفن کر دیا جائے گا، اسی طرح المضمرات میں ہے، 

(فتاوی عالمگیری، کتاب الصلوۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، 

الفصل الثانی فی غسل اہمیت، جلد ۱ صفحہ ۵۹، دار الفکر)

اسی طرح بہار شریعت جلد اول حصہ ٤ صفحہ ٨٢٠، کتاب الجنائز، میت کو نہلانے کا بیان میں ہے، 

والله تعالى اعلم بالحق والصواب

محمد اقبال رضا خان مصباحی

سنی سینٹر بھنڈار شاہ مسجد پونہ وجامعہ قادریہ کونڈوا پونہ

یکم رجب المرجب، ١٤٤٧ھ /٢٢،دسمبر ٢٠٢٥ء بروز پیر

مکروہ وقت میں نماز عصر پڑھنا کیسا ہے؟

 السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اور علماء عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مکروہ وقت میں نماز عصر پڑھنا کیسا ہے؟ علماء کرام رہنمائی فرمائیں فقط سلام 

سائل :عبداللہ گجراتی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب ، مکروہ وقت میں اسی دن کی عصر کی نماز پڑھنا جائز ہے،اس کے علاوہ اس میں گزشتہ کل کی عصر کی نماز پڑھنا یا کسی اور وقت کی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، نیز نماز عصر میں اتنی تاخیر کرنا کہ مکروہ وقت آجائے حرام و گناہ ہے، درمختار میں ہے : ﻭﻏﺮﻭﺏ، ﺇﻻ ﻋﺼﺮ ﻳﻮﻣﻪ، ﻓﻼ ﻳﻜﺮﻩ ﻓﻌﻠﻪ ﻷﺩاﺋﻪ ﻛﻤﺎ ﻭﺟﺐ، اور غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے سوائے اس دن کی عصر کی نماز کے، پس اس کو ادا کرنا مکروہ نہیں ہے، اس کے ادا ہونے کی وجہ سے ویسے ہی جیسے کہ وہ واجب ہوئی ہے ، 

(درمختار کتاب الصلوۃ، جلد اول صفحہ۳۷۲، دار الفکر بیروت )

ردالمحتار میں ہے :

ﻗﻮﻟﻪ: ﻷﺩاﺋﻪ ﻛﻤﺎ ﻭﺟﺐ، ﻷﻥ اﻟﺴﺒﺐ ﻫﻮ اﻟﺠﺰء اﻟﺬﻱ ﻳﺘﺼﻞ ﺑﻪ اﻷﺩاء، ﻭﻫﻮ ﻫﻨﺎ ﻧﺎﻗﺺ ﻓﻘﺪ ﻭﺟﺐ ﻧﺎﻗﺼﺎ ﻓﻴﺆﺩﻯ ﻛﺬﻟﻚ، ﻭﺃﻣﺎ ﻋﺼﺮ ﺃﻣﺴﻪ ﻓﻘﺪ ﻭﺟﺐ ﻛﺎﻣﻼ، ﻷﻥ اﻟﺴﺒﺐ ﻓﻴﻪ ﺟﻤﻴﻊ اﻟﻮﻗﺖ ﺣﻴﺚ ﻟﻢ ﻳﺤﺼﻞ اﻷﺩاء ﻓﻲ ﺟﺰء ﻣﻨﻪ، ﻟﻜﻦ اﻟﺼﺤﻴﺢ اﻟﺬﻱ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻤﺤﻘﻘﻮﻥ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ اﻟﺠﺰء ﻧﻔﺴﻪ ﺑﻞ ﻓﻲ اﻷﺩاء ﻓﻴﻪ ﻟﻤﺎ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺘﺸﺒﻪ ﺑﻌﺒﺪﺓ اﻟﺸﻤﺲ، ﻭﻟﻤﺎ ﻛﺎﻥ اﻷﺩاء ﻭاﺟﺒﺎ ﻓﻴﻪ ﺗﺤﻤﻞ ﺫﻟﻚ اﻟﻨﻘﺼﺎﻥ، ﺃﻣﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺆﺩ ﻓﻴﻪ ﻭاﻟﺤﺎﻝ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻧﻘﺺ ﻓﻲ اﻟﻮﻗﺖ ﺃﺻﻼ ﻭﺟﺐ اﻟﻜﺎﻣﻞ،  

مصنف کا قول "لِأدائه كما وجب" یعنی اس لیے کہ اس نے نماز اسی طرح ادا کی جیسے واجب ہوئی تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کے وجوب کا سبب وقت کا حصہ ہے جو ادائیگی کے ساتھ متصل ہوتا ہے،اور یہاں وہ حصہ ناقص ہے، لہٰذا نماز بھی ناقص طور پر واجب ہوئی تو وہ ادا بھی ناقص طور پر کی جائے گی، البتہ گزشتہ دن کی عصر کی نماز کامل طور پر واجب ہوئی، کیونکہ اس میں پورا وقت ہی سبب ہے،اس لیے کہ اس کے کسی حصہ میں نماز کی ادائیگی واقع نہیں ہوئی، لیکن صحیح بات جس پر محققین کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ نقص خود اس وقت کے حصہ میں نہیں ہے بلکہ اس حصہ میں نماز ادا کرنے میں ہے، کیونکہ اس وقت نماز ادا کرنے میں سورج کی عبادت کرنے والوں سے مشابہت پائی جاتی ہے،اور جب اس وقت میں نماز ادا کرنا واجب ٹھہرا،تو اس نقص کو برداشت کر لیا گیا (یعنی معاف سمجھا گیا) لیکن جب اس وقت میں نماز ادا نہیں کی گئی حالانکہ وقت میں فی نفسہ بالکل کوئی نقص نہیں ہے، تو نماز کامل طور پر واجب ہوئی، 

(رد المحتار کتاب الصلوۃ، جلد ۱ صفحہ ۳۷۲، دار الفکر بیروت )

بہار شریعت میں ہے :

طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں ،نہ فرض، نہ واجب، نہ نفل، نہ ادا، نہ قضا، یوہیں سجدۂ تلاوت و سجدۂ سہو بھی ناجائز ہے، البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں  پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے،حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا، 

(بہار شریعت جلد اول حصہ ۲ صفحہ٤٥٨، نماز کے وقتوں کا بیان)

والله تعالى اعلم بالحق والصواب

محمد اقبال رضا خان مصباحی

سنی سینٹر بھنڈار شاہ مسجد پونہ

٢٨،ربیع الآخر ١٤٤٧ھ /٢١،اکتوبر ٢٠٢٥ء بروز منگل

دیوبندیوں کی جنازہ میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ کچھ لوگ دیوبندی کے نماز جنازہ مین گئے 

دیوبندی امام نے نماز جنازہ پڑھائی اس کے پیچھے کچھ لوگوں نے نماز جنازہ پڑھی 

انھوں نے توبہ نہیں کی انکے یہاں امام کا جانا قرآن خوانی کرنا کیسا ہے؟

محمد ذاکر حسین 


الجواب ، دیوبندیوں کی نماز جنازہ نہیں کیوں کی نماز جنازہ اسی کی ہوتی ہے جو مسلمان ہو اور دیو بندی وہابی توہین خدا ورسول اور ضروریات دین سے انکار کے باعث اسلام سے خارج ہیں، وہ ہرگز مسلمان نہیں۔


حضور اعلی حضرت محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں،


وہابی کی نماز نہ کسی کے پیچھے ہو سکتی ہے نہ خود تنہا، نہ اس کے پیچھے کسی کی ہو سکتی ہے اگر چہ اس کا ہم مذہب ہو کہ صحت نماز کے لیے پہلی شرط اسلام ہے اور وہابیہ توہین خدا و رسول کے سبب اسلام سے خارج ہیں۔ ( فتاوی رضویہ جلد: 6، : 623، رضا فاونڈیشن لاہور)


حضور تاج الشریعہ علیہ رحمہ تحریر فرماتے ہیں،


اور اگر دیوبندی کو مقتدا یا مسلمان جانا یا اس کے کسی کفر سے راضی ہوا تو اسی کی طرح کافر ہے اس صورت میں توبہ و تجدید ایمان اس پر فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ ( فتاوی تاج الشریعہ جلد2 . صفحہ 158)


 اس لیے دیوبندیوں کی جنازہ ہرگز نہ پڑھی جائے ، اور کچھ لوگوں نے اپنا امام و مقتدی مانتے ہوئے، اور مسلمان جانتےہوئے اس کی جنازہ یا اس کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ان سب پر تجدید ایمان، اور بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح، لازم و ضروری۔


البتہ وہ لوگ جو دیوبندیوں کی جنازہ گئے تھے اگر وہ حضرات اس دیوبندی امام کو مقتدا ومسلمان نہ جانابلکہ اس کو کافر مرتد جانتے ہوے عذر شرعی اس کے پیچھے صرف کھڑے ہوگئے تو اسلام سے خارج تو نہ ہوئے مگرسخت گنہگار ضرورہوے ان پر توبہ لازم ہے،،

لہذا جب تک توبہ استغفار نہ کر لے ان کے یہاں قرآن خوانی میلاد خوانی کے لیے کسی کو بھی جانا سخت منع ہے،


واللہ اعلم بالصواب


محمد امتیاز قمر امجدی گریڈیہ جھارکھنڈ 

دوبلیاں کنویں میں گر جاۓ اور ایک مرجاۓ دوسری زندہ ہے تو اب کنویں کے پانی کا کیا حکم ہے؟

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرض یہ ہے کہ دو بلی ایک ساتھ کنویں میں گری ایک زندہ ہے اور دوسری مر گئی اب اس کنویں کا پانی کا کیا حکم ہے

السائل محمد اسلام قادری 


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوہاب، ایک بلی گر کر مر گئی دوسری زندہ ہے تو کنویں سے صرف 40، چالیس سے 60۔ساٹھ ڈول تک نکالا جائےاور اگر  پُھول جائے یا پھٹ جائے کل پانی نکالا جائے۔  جیسا کہ حضور صدر شریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں،

، مرغی، بلّی گِر کر مرے تو چالیس ۴۰ سے ساٹھ ۶۰ تک،

 

 دو ۲ بلّیاں  مر جائیں تو سب نکالا جائے،،


بہار شریعت ح، دوم،صفحہ 339،،


ہاں اگر دو بلیاں گر گئیں اور اس کے منہ میں خون لگا ہوا تھا تو اگرچہ ایک ہی مری مگر کل پانی نکالا جائے گا،


واللہ أعلم

محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ ،خطیب و امام جامع مسجد رضانگر کھاکھی پیپر گریڈیہ جھارکھنڈ

حکومت کو دھوکا دینے کی نیت سے بے شمار لوگوں کا اکاؤنٹ کھلوانا کیساہے؟

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں زید سرکاری ملازم ہے پیڑ ویبھاگ میں کام کرتاہے حکومت تنخواہ دیتی ہے 10 ہزار لیکن زید بیشمار لوگوں کا اکاؤنٹ اوپن کروایا سب لوگوں کے اکاؤنٹ پر ہر ماہ 6000 ہزار بھجواتا ہے زید نے حکومت کے یہاں لکھوایا ہے یہ لوگ آکر پیڑ کو پانی دے تے ہیں اور اس کا دیکھ بھال کرتے ہیں لیکن کوئی بھی بندہ نہ پانی دیتا ہے اور نہ ہی کبھی دیکھنے جاتا ہے لیکن ہر مہینہ 6000 ہزار اکاؤنٹ پر آجاتا ہے  زید سب لوگوں کو ہر مہینہ اسی 6000 ہزار میں سے 500 روپیہ دے دیتا ہے اور پچپن پچپن سو روپیہ سب لوگو سے لے لیتا ہے۔  مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ اس طرح سے حکومت کا پیسہ زید کو اور ان کے دوستوں کا کھانا کیسا ہے حرام ہے یا نہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے پیسہ حرام نہیں ہے اور زید کہتا ہے کی اگر حرام ہے تودلیل پیش کرے مفتیان کرام رہنمائی فرمائے سائل نفیس رضا رودولی شریف ایودھیا یوپی،

*..................…...….........................*


و علیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

زید کا ایسا کرنا بالکل درست نہیں ہے ، نا جائز و حرام ہے ۔


حکومت کو دھوکا دینے کی نیت سے بے شمار لوگوں کا اکاؤنٹ کھولنا بھی حرام ہے اور لوگوں کا بغیر کام کئے پانچ سو روپیہ لینا بھی حرام ہے 


حدیث شریف میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے اور آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو آپ کی انگلیاں گیلی ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے غلے کے مالک، یہ کیا ہے؟" اُس نے عرض کیا: "یا رسول اللہ، اس پر بارش ہو گئی تھی۔" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو پھر تم نے اس گیلی چیز کو غلے کے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں؟" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"


اس کے بعد راوی کہتے ہیں کہ اس باب میں حضرت ابن عمر، حضرت ابو الحمراء، حضرت ابن عباس، حضرت بریدہ، حضرت ابو بردہ بن نیار اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث مروی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ وہ دھوکہ دہی کو ناپسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دھوکہ دینا حرام ہے۔


اور اگر لوگ کام کرتے اس پر زید ان سے مانگ کر کچھ لیتا تو وہ رشوت ہے اور رشوت حرام ہے 


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔ اس حدیث کو ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔


(حوالہ: صحیح، روایت: ابو داود 3580، ترمذی 1337۔ ترمذی نے فرمایا: "یہ حدیث حسن صحیح ہے")



اگر لوگ ذمہ داری سے کام کرتے اور حوش دلی سے بغیر زید کے طلب کرنے کے کچھ رقم دیتے تو جائز ہے 


زید نے حکومت کو دھوکا دیا اور لوگوں رشوت کے بدلے اس خیانت میں اسکا ساتھ دیا ہے جو کہ نا جائز و حرام ہے 


حضور اعلی حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں کہ،،پرایا مال بے اذن شرعی لینا چوری اور گناہِ کبیرہ ہے،رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں لایسرق السارق حین یسرق وھومومن،   *(صحیح البخاری کتاب الاشربہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٨٣٦)


و اللہ تعالیٰ اعلم ۔

محمد امتیاز قمر امجدی 

خطیب و امام جمع مسجد رضا نگر کھاکھی پیپر گریڈیہ جھارکھنڈ ،

22/ ستمبر 2024/ بروز اتوار/مطابق 18/ ماہ نور شریف 1446ھ،

الجواب صحیح مفتی سید جابر الرحمن صاحب قبلہ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ چنئی انڈیا


الجواب صحیح مفتی محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ گونڈوی یوپی،انڈیا،

پانچ لاکھ میں چار لڑکے ایک لڑکی کو وراثت میں کیسے تقسیم کریں؟؟

 


*🍥پانچ لاکھ میں چار لڑکے ایک لڑکی کو وراثت میں کیسے تقسیم کریں؟؟ 🍥*

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•*
*📡ٹیلی گــرام پـر اعلیٰ حضـرت زنـدہ بـاد گـروپ میں شـامـل ہـونے کـے لئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں*
*http://T.me/AalahzratZindabadGroup*
*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•*
*🌸السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتـــہ🌸*
*کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ پر کہ زید کا انتقال ہوا اس نےاپنی وراثت میں (500000) روپے چھوڑا اب زید کی5 اولاد ہے جس میں سے 4 لڑکے اور 1 لڑکی ہے ان میں سے کس کو کتنی وراثت شریعت کے اعتبار سے ملنی چاہیے؟ واضح فرمائیں*

*سائل، علی مرتضی پونا*

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•*
*🍥وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🍥*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الجواب بعون الملک الوھاب ،زید کے انتقال کے وقت اس کے وارثوں میں فقط چار لڑکے اور ایک لڑکی ہی موجود تھے ،ان کے علاوہ زید کی بیوی یا والدین میں سے کوئی باحیات نہیں تھا، تو بعد تقدیم ما تقدم علی الارث پانچھ لاکھ روپے کے نو حصے کیے جائیں گے ان میں سے دو دو حصے ہر ایک لڑکے کو ملیں گے اور ایک حصہ لڑکی کو ملے گا، قرآن عظیم میں ہے یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثین "*
*اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں  کے برابر ہے،*
*(سورۃ النساء الآیۃ ١١)*

*والله تعالى اعلم بالحق والصواب*
*🖍کـــتــبـــــــــــــــــہ 👈👇*
*محمد اقبال رضا خان مصباحی*
*سنی سینٹر بھنڈار شاہ مسجد پونہ* *وجامعہ قادریہ کونڈوا پونہ*
*٢٣،صفر المظفر ١٤٤٦ھ/ ٢٩،اگست ٢٠٢٤ء بروز جمعرات*

*✅️الجــواب‌ صحـــیـــــح*
*فقیـر محـمـد اسمــاعیــل خـــان امجـــدیؔ عفـی عنــہ گونڈوی*

*✅️الجــواب‌ صحـــیـــــح*
*فقیـــر محمـد عتیــق اللہ فیضـی یار علوی عـــفی عنــــــــہ*

*💙اعلی حـضرت زنـدہ بـادگـــروپ💙*
*گـــروپ میں شـــــامل ہونے کے لــــئے رابـطـہ کـــــــــــــــریـں👇*
*📲https://wa.me/919918562794☜🥏*
*📲https://wa.me/917276556912☜🥏*
*📲https://wa.me/919113471871☜🥏*
*📲https://wa.me/7991712002☜🥏*
*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ•*

*ہمــارے گـروپ کـے سـبھی پــوسـٹ پـڑھـنے کـے لئـے ویـب سـائـٹ کـے لـنک پـر کـلک کـریـں👇*
*📡https://amjadigroup.blogspot.com/*
*📡https://amjadigroup3.blogspot.com/*
*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ•*

*🖊️الــــمــــــــــــــرتــــــــــب*‌
*اســـیـر حضـــور صــدرالشـــریعـــہ*
*وحـــضــور مـــــحــدث کبــیـــــــر*
*محـمـــد محـبـوبــــ عـالـم امـجـدیؔ آزاد نـگر اہـیــرولی نچـلول بـازار (ضلـع) مہـــراجگـنـج (یـوپی)*
*(رابــــطہ نمــــــــــــــــــبر 👇)*
*📲https://wa.me/7991712002☜🥏*

*_🛑ـــــــــــــــــــ👈📵👉ـــــــــــــــــــ 🛑_*
*(نـــوٹ) اس پوسٹ میں کسی کو سرقہ تحریف تضئیف کرنے کی اجازت نہیں ایساکرنے والا مجرم ہوگا عنداللہ جواب دہ بھی ہوگا*
*👈 بحکم بانٸ گروپ اعلی حضرت زندہ باد*

حالت حیض میں جماع کرنے کا کفارہ کیاہے؟

 🔖 *حالت حیض میں جماع کرنے کا کفارہ کیاہے؟* 🔖

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•* 

*📡ٹیلی گــرام پـر اعلیٰ حضـرت زنـدہ بـاد گـروپ میں شـامـل ہـونے کـے لئے نیچے دئے گئے لنک پر کلک کریں* 

*http://T.me/AalahzratZindabadGroup* 

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•* 

*🌸السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتـــہ🌸* 

*مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ ایک بندے نے اپنی زوجہ سے حالت حیض میں قصداً جماع کرلیا اب کیا حکم شرعی ہوگا دونوں کے بارے*

*جواب ارشاد فرمادیں*


*محمد یوسف رضوی لاہور* 


*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــ◉ـــــــــــــــــــــــــــــــ•* 

*🌸وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتـہ🌸* 

*الجواب بعون الملک الوھاب* 

*کوئی بھی اگر حالت حیض میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرلے اور دونوں کی رضامندی سے ہمبستری ہوئی ہے تو دونوں گنہگار ہیں ،!*

*دونوں کے اوپر توبہ فرض ہے چاہیے کہ توبہ استغفار کرے اور آئندہ اس فعل قبیح سے  دور رہنے کی عہد لے اب اگر ممکن ہو تو ایام ابتدا میں وطی کی ہے تو ایک دینار، اور اگر عدت حیض کے آخری ایام میں وطی کی ہے تو نصف دینار ایک دینار (4/گرا م 374 ملی گرام سونا یا اس کی قیمت) اگر یہ بھی استطاعت نہیں رکھتا، تو حسب استطاعت صدقہ کرے یہ مستحب ہے، ان الحسنات یذہبن السیآت، بے شک نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہے،!*

 *اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو اس کے لیے توبہ کافی ہے۔!*


*حضور اعلی حضرت عظیم البرکت امام اہل سنت تحریر فرماتے ہیں،۔*

*اگر ابتدائے حیض میں ہے تو ایک دینار،اور ختم پر ہے تو نصف دینار،اور دینار دس درہم کا ہوتا ہے اور دس درہم دو روپے تیرہ آنے کچھ کوڑ یاں کم۔*


*سُنن دارمی وابوداؤد وترمذی وابن ماجہ عــہ میں حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے ہے رسول الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:*

*اذاوقع الرجل باھلہ وھی حائض فلیتصدق بنصف دینار،*

*بنصف دینار تو چاہیے کہ نصف دینار صدقہ دے۔*

*_سنن نسائی وابن ماجہ میں انہیں سے ہے،نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرما یا: یتصدق بدینار اونصف دینار_*

*(سنن ابن ماجہ باب کفارۃ من اتی حائضا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١/٤٧)*


*ایک یا نصف دینار تصدق کرے ورواہ الدارمی فجعل التردید من شك الراوی حیث قال یتصدق بدینار ونصف دینار شك الحکم (سُنن الدارمی باب من قال علیہ الکفارۃ مدینہ منورہ حجاز ١/٢٠٣)*


*_(اسے امام دارمی نے روایت کیا اور تردید کو راوی کا شک قرار د یا کہ اس نے کہا ایک دینار صدقہ کرے یا نصف دینار،حکم (راوی کو) شک ہُوا،_*


*درمختار میں ہے:*

یندب تصدقہ بدینار اونصفہ ومصرفہ کزکاۃ وھل علی المرأۃ تصدق قال فی الضیاء الظاھرلا 

*(درمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ١/٥٢)*


*ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دینا مستحب ہے اس کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا ہے۔اور کیا عورت کو بھی صدقہ دینا واجب ہے؟ تو ضیاء (الضیاء المعنوی شرح مقدمۃ الغزنوی) میں فرما یا: ظاہر بات یہ ہے کہ اس پر (واجب) نہیں۔*


*اقول: فاضل اور افضل کے درمیان اختیار دینا قابل تعجب نہیں لہذا مطلب یہ ہوگا کہ نصف دینار صدقہ کرے اور یہ اس کے جُرم کا کم ازکم مستحب کفارہ ہے اگر پُورا دینا ر دے تو نہایت عمدہ ہے نیز کبھی اختیار میسر آنے والی چیز کے اعتبار سے بھی ہوتا ہے یعنی اگر میسر ہو تو ایك دینار اور میسر نہ ہو تو نصف دینار دے اور یہ بات حدیث میں مروی ہے جیسا کہ گزرچکا۔الخ*


*(بحوالہ فتاوی رضویہ ج،٤، ص، ٣٥٧/ ٣٥٨/ ٣٥٩/ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*


*واللہ اعلم بالصواب*

*🖍کـــتــبـــــــــــــــــہ 👈👇* 

*فقیــر محــمــد امـتـیـاز قـمـر امـجـدی ،*

*خطیب و امام جامع مسجد رضا نگر کھاکھی پیپر گریڈیہ جھارکھنڈ* *📞رابــطـہ نمبـــــر👇* 

*📲https://wa.me/919113471871☜🥏*

*٢٠/اپریل ، ٢٠٢٤/ بروز سنیچر ،/*

*مطابق ١٠/شوال المکرم/ ١٤٤٥ھ/*


*✅الجواب صحیح فقیر محمد ابراھیم خان امجدی، غفرلہ خطیب و امام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر ،*


*✅الجواب صحیح، مفتی سید جابر الرحمٰن مصطفائی چشتی قادری صاحب قبلہ ، ،چنئی الھند*


*✅الجواب صحیح مفتی محمّد اسماعیل خان امجدی ارشدی حنفی دامت برکاتہم العالیہ گونڈوی یوپی الھند*

*💙اعلی حـضرت زنـدہ بـادگـــروپ💙* 

*گـــروپ میں شـــــامل ہونے کے لــــئے رابـطـہ کـــــــــــــــریـں👇* 

*📲https://wa.me/919918562794☜🥏* 

*📲https://wa.me/917276556912☜🥏* 

*📲https://wa.me/919113471871☜🥏* 

*📲https://wa.me/7991712002☜🥏* 

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ•* 


 *ہمــارے گـروپ کـے سـبھی پــوسـٹ پـڑھـنے کـے لئـے ویـب سـائـٹ کـے لـنک پـر کـلک کـریـں👇*

*📡https://amjadigroup.blogspot.com/* 

*📡https://amjadigroup3.blogspot.com/*

*•ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ•* 


*🖊️الــــمــــــــــــــرتــــــــــب*‌

*اســـیـر حضـــور صــدرالشـــریعـــہ*

 *وحـــضــور مـــــحــدث کبــیـــــــر* 

*محـمـــد محـبـوبــــ عـالـم امـجـدیؔ آزاد نـگر اہـیــرولی نچـلول بـازار (ضلـع) مہـــراجگـنـج (یـوپی)*

*(رابــــطہ نمــــــــــــــــــبر 👇)* 

*📲https://wa.me/7991712002☜🥏* 


*_🛑ـــــــــــــــــــ👈📵👉ـــــــــــــــــــ 🛑_* 

*(نـــوٹ) اس پوسٹ میں کسی کو سرقہ تحریف تضئیف کرنے کی اجازت نہیں ایساکرنے والا مجرم ہوگا عنداللہ جواب دہ بھی ہوگا* 

*👈 بحکم بانٸ گروپ اعلی حضرت زندہ باد*

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...