السلام علیکم رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اور علماء عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مکروہ وقت میں نماز عصر پڑھنا کیسا ہے؟ علماء کرام رہنمائی فرمائیں فقط سلام
سائل :عبداللہ گجراتی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب ، مکروہ وقت میں اسی دن کی عصر کی نماز پڑھنا جائز ہے،اس کے علاوہ اس میں گزشتہ کل کی عصر کی نماز پڑھنا یا کسی اور وقت کی نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، نیز نماز عصر میں اتنی تاخیر کرنا کہ مکروہ وقت آجائے حرام و گناہ ہے، درمختار میں ہے : ﻭﻏﺮﻭﺏ، ﺇﻻ ﻋﺼﺮ ﻳﻮﻣﻪ، ﻓﻼ ﻳﻜﺮﻩ ﻓﻌﻠﻪ ﻷﺩاﺋﻪ ﻛﻤﺎ ﻭﺟﺐ، اور غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے سوائے اس دن کی عصر کی نماز کے، پس اس کو ادا کرنا مکروہ نہیں ہے، اس کے ادا ہونے کی وجہ سے ویسے ہی جیسے کہ وہ واجب ہوئی ہے ،
(درمختار کتاب الصلوۃ، جلد اول صفحہ۳۷۲، دار الفکر بیروت )
ردالمحتار میں ہے :
ﻗﻮﻟﻪ: ﻷﺩاﺋﻪ ﻛﻤﺎ ﻭﺟﺐ، ﻷﻥ اﻟﺴﺒﺐ ﻫﻮ اﻟﺠﺰء اﻟﺬﻱ ﻳﺘﺼﻞ ﺑﻪ اﻷﺩاء، ﻭﻫﻮ ﻫﻨﺎ ﻧﺎﻗﺺ ﻓﻘﺪ ﻭﺟﺐ ﻧﺎﻗﺼﺎ ﻓﻴﺆﺩﻯ ﻛﺬﻟﻚ، ﻭﺃﻣﺎ ﻋﺼﺮ ﺃﻣﺴﻪ ﻓﻘﺪ ﻭﺟﺐ ﻛﺎﻣﻼ، ﻷﻥ اﻟﺴﺒﺐ ﻓﻴﻪ ﺟﻤﻴﻊ اﻟﻮﻗﺖ ﺣﻴﺚ ﻟﻢ ﻳﺤﺼﻞ اﻷﺩاء ﻓﻲ ﺟﺰء ﻣﻨﻪ، ﻟﻜﻦ اﻟﺼﺤﻴﺢ اﻟﺬﻱ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﻤﺤﻘﻘﻮﻥ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻓﻲ ﺫﻟﻚ اﻟﺠﺰء ﻧﻔﺴﻪ ﺑﻞ ﻓﻲ اﻷﺩاء ﻓﻴﻪ ﻟﻤﺎ ﻓﻴﻪ ﻣﻦ اﻟﺘﺸﺒﻪ ﺑﻌﺒﺪﺓ اﻟﺸﻤﺲ، ﻭﻟﻤﺎ ﻛﺎﻥ اﻷﺩاء ﻭاﺟﺒﺎ ﻓﻴﻪ ﺗﺤﻤﻞ ﺫﻟﻚ اﻟﻨﻘﺼﺎﻥ، ﺃﻣﺎ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﺆﺩ ﻓﻴﻪ ﻭاﻟﺤﺎﻝ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻧﻘﺺ ﻓﻲ اﻟﻮﻗﺖ ﺃﺻﻼ ﻭﺟﺐ اﻟﻜﺎﻣﻞ،
مصنف کا قول "لِأدائه كما وجب" یعنی اس لیے کہ اس نے نماز اسی طرح ادا کی جیسے واجب ہوئی تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کے وجوب کا سبب وقت کا حصہ ہے جو ادائیگی کے ساتھ متصل ہوتا ہے،اور یہاں وہ حصہ ناقص ہے، لہٰذا نماز بھی ناقص طور پر واجب ہوئی تو وہ ادا بھی ناقص طور پر کی جائے گی، البتہ گزشتہ دن کی عصر کی نماز کامل طور پر واجب ہوئی، کیونکہ اس میں پورا وقت ہی سبب ہے،اس لیے کہ اس کے کسی حصہ میں نماز کی ادائیگی واقع نہیں ہوئی، لیکن صحیح بات جس پر محققین کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ نقص خود اس وقت کے حصہ میں نہیں ہے بلکہ اس حصہ میں نماز ادا کرنے میں ہے، کیونکہ اس وقت نماز ادا کرنے میں سورج کی عبادت کرنے والوں سے مشابہت پائی جاتی ہے،اور جب اس وقت میں نماز ادا کرنا واجب ٹھہرا،تو اس نقص کو برداشت کر لیا گیا (یعنی معاف سمجھا گیا) لیکن جب اس وقت میں نماز ادا نہیں کی گئی حالانکہ وقت میں فی نفسہ بالکل کوئی نقص نہیں ہے، تو نماز کامل طور پر واجب ہوئی،
(رد المحتار کتاب الصلوۃ، جلد ۱ صفحہ ۳۷۲، دار الفکر بیروت )
بہار شریعت میں ہے :
طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں ،نہ فرض، نہ واجب، نہ نفل، نہ ادا، نہ قضا، یوہیں سجدۂ تلاوت و سجدۂ سہو بھی ناجائز ہے، البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے،حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا،
(بہار شریعت جلد اول حصہ ۲ صفحہ٤٥٨، نماز کے وقتوں کا بیان)
والله تعالى اعلم بالحق والصواب
محمد اقبال رضا خان مصباحی
سنی سینٹر بھنڈار شاہ مسجد پونہ
٢٨،ربیع الآخر ١٤٤٧ھ /٢١،اکتوبر ٢٠٢٥ء بروز منگل
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں