*🔗 کیا قضاء میں نفل اور نفل میں قضا دونوں کی نیت ہو سکتی ہے ؟🔗*



 *🔗 کیا قضاء میں نفل اور نفل میں قضا دونوں کی نیت ہو سکتی ہے ؟🔗*

*☆☆☆ـــــــــــــ🌺🏵️⁩🌺ـــــــــــــ☆☆☆*

*غلام تاج الشریعہ ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں👇👇*

*https://t.me/+qeN7NztnLh9mMWVl*

 

*🥏 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا رمضان المبارک کے کچھ روزے اسکی بیماری کی وجہ سے چھوٹ گیا ہے کیا زید پر کفارہ لازم ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا وہ دیگر ایام میں یا پھر شب معراج پر روزہ رکھ کر رمضان شریف مع شب معراج شریف دونوں کی نیت کر سکتا ہے*

 

*🔰☆ المستفتی ⇩⇩⇩☆*

*حافظ محفوظ حسن بنارس*

 🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏


*💠 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:*

*بــسم اللہ الــرحمٰـن الــرحیــم*


*الجواب بعون الملک الوھابـــــ* 

*بیماری کی وجہ سے جو روزے چھوٹ گئے ہیں ان روزوں کی قضاء ہے کفارہ لازم نہیں آتا اور دیگر ایام میں ہی رکھنا ضروری ہے! ارشاد باری تعالیٰ ہے،،*

 *اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍؕ-فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ۔*

*گنتی کے دن ہیں تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں*

*(📒ترجمہ کنزالایمان سورۃالبقرہ ،آیت، ١٨٤)*

*اس آیت کریمہ کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ ،، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا: تو تم میں جو کوئی بیمار ہو۔ حیض ونفاس والی عورت کو تو روزہ رکھنے کی اجازت ہی نہیں وہ تو بعد میں قضا کرے گی ۔ اس کے علاوہ بھی چند افراد ہیں جنہیں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ آیت میں بطورِ خاص بیمار اور مسافر کو رخصت دی گئی ہے،الخ، (تفسیر صراط الجنان)*

*⬅️پتہ چلا کہ مریض کو بھی اختیار ہے کہ جب اسے روزہ رکھنے سے مرض بڑھ سکتی ہے یا ہلاک ہونے کا خطرہ ہوتو یہ روزہ چھوڑ سکتے ہیں اور بعدہ ایام ممنوع  کے دیگر دنوں میں روزہ پورا کرلے،!*

*👈خیال رہے کہ شب معراج اور دیگر نفلی روزوں کے ساتھ فرض روزے کی قضاء نہیں ہو سکتا ہاں اگر نیت قضاء روزے کی ہے تو قضا ہی ہے اور اگر نیت نفل روزے کی ہے تو نفل روزہ ہے یعنی دونوں ایک ساتھ نیت نہیں کر سکتے،!*

*📝حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ،،*  *اور یہ بھی ضروری ہے کہ جو روزہ رکھنا ہے، خاص اس معیّن کی نیّت کرے اور اُن روزوں کی نیّت،اھ،*

*چند سطر بعد تحریر فرماتے ہیں!  رات میں قضا روزے کی نیّت کی، صبح کو اُسے نفل کرنا چاہتا ہے تو نہیں  کر سکتا۔*

*📕(بہار شریعت حصہ پنجم ،ص، ٩٧٧، مکتبۃ المدینہ کراچی)*


*بہتر ہے کہ شب معراج و شب برات و دیگر ایام میں جس دن نفلی روزہ رکھے جاتے ہیں اس دن رمضان کے قضا روزے کی نیت سے روزہ رکھیں اس سے زیادہ ثواب کے حقدار ہوں گے اور جو روزہ کی قضا ہو چکے ہیں ہے اس کی ادائگی کا سبب بھی ہے*


*■☆ وَالــــلّٰـــــهُ اَعــــلَمُ بِــالـصَّــوَاب ☆■*


*🕳️☆《📝  كتــــــــبه.....》☆🕳️ ⇩⇩⇩*

*فــقـیر مــحــمـد امتــیاز قـــــمر امــــجــدی گـــریـــڈیـــہ جھـــارکـھـــــنڈ*

─┄┅━━━━▣✾❥✺❥✾▣━━━━┅┅─

*✅الـــجــــواب صـــحیـــح*

*مـــولانــا  ضـــیاء الـــحــق نقـشبـــــندی حمــــیدی امـــام و خطـــیب مسجــــد غـــوثـــــیہ لـــوہــتہ بنــــــارس یــوپـــی*


🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻

*🗓شمسـی تـاریـخ(20) فروری 2023*

🖇️🖇️🖇️🖇️🖇️🖇️🖇️🖇️🖇️🖇️🖇️

*(الـــــــمرتـــــبـــــ)* 

*سیــــد تســـکــین جـــیـلانــــی  مقـــام ڈوڈہ جـمـــوں کشـمیـــر الـھنـد*

📢ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ📢*

⭕نوٹ:👈 *پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز ہرگز نہ کریں ورنہ معلوم ہونے پر قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے(13)*

 🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️

*▄▅▆▇█▓▒سید تســـکــین جیلانی ▒▓█▇▆▅▃*

سر کے بالوں پر منہدی لگانا کیسا ہے؟

 


الاستفتاء :کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل سوال میں کہ 

سر کے بالوں پر منہدی لگانا کیسا ہے جو آج کل دکانوں پر دس روپے پانچ روپے میں مل جاتی ہے سفید بالوں کو لال کرنے کے لئے جواب جلد از جلد تحریر فرمایئے عین نوازش ہوگی

محمد سرتاج ازہری راجستھان


باسمہ تعالی وتقدس الجواب


 بالوں میں اصلی یا مصنوعی ہر وہ مہندی لگانا جائز ہے جس سے بال کا رنگ کالا نہ ہوتا ہو!

کیوں کہ بالوں کو کالا کرنا حرام ہے اگرچہ کالی مہندی سے کرے 

، باقی بازاروں سے دس پانچ روپیہ میں خریدکر لال خضاب لگانے میں کوئی قباحت نہیں،! *حضرت ام سلمہ کے پاس آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کچھ موۓ مبارک تھے جن سے لوگ شفاء حاصل کرتے تھے یہ بال سرخ رنگ کے تھے،!*

مسند امام احمد بن حنبل عن عثمان بن عبد ﷲ دارالفکر بیروت ۶ /۲۹۶: میں ہے 

*شعرا احمر مخضوبا بالحناء والکتم:* *یعنی ام سلمہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا نے موئے مبارك سرخ رنگ کے دکھائے جن پر حنا و کتم کا خضاب تھا۔:*

(بحوالہ فتاویٰ رضویہ شریف ،ج، ٢٣، ص٥٠٥)

پتہ چلا لال مہندی یا لال خضاب لگانا جائز ہے چاہے بازار کا ہو یا گھریلو،

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی

١٤، فروری ،بروز منگل ،٢٠٢٣

اگر چھوٹی بچی پیشاب کر دے تو قرآن چھو سکتے ہیں یا نہیں؟



 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 

اگر چھوٹی بچی کسی کے جسم پر پیشاب کر دے تو وہ قرآن چھو سکتے ہیں کہ نہیں۔

بحوالہ جواب عنایت فرمائیں

سائل محمد عارف رضا


وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھابـــــ

پہلے یہ ذہن نشین رہے کہ، دودھ پیتے بچہ اور بچی کا پیشاب ناپاک ہے اور نجاست غلیظہ ہے، جس طرح بڑے لوگوں کا پیشاب ناپاک ہے ، یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکا یا لڑکی جب تک دودھ پیتے ہوں ان کا پیشاب پاک ہے ،یہ خیال محض غلط اور باطل ہے ،ان کا پیشاب بھی ناپاک ہے۔


جیساکہ فتاوی ہندیہ میں ہے کہ،

*كُلُّ مَا يَخْرُجُ مِنْ بَدَنِ الْإِنْسَانِ مِمَّا يُوجِبُ خُرُوجُهُ الْوُضُوءَ أو الغُسْلَ فَهُوَ مُغَلَّظٌ كَالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ..الخ وَكَذَلِكَ بَوْلُ الصَّغِيرِ وَالصَّغِيرَةِ أَكَلَا أولا*

 ترجمہ، یعنی ،ہر وہ چیز جو بدنِ انسانی سے نکل کر وضو یا غسل کو واجب کر دے، تو وہ نجاستِ غلیظہ ہے، جیسے پاخانہ و پیشاب، یو نہی بچے اور بچی کا پیشاب، بچے کھانا کھاتے ہوں یا نہ کھاتے ہوں)۔ *(الفتاوی الهندية كتاب الطهارة الجـزء الأول (۱) الباب السابع فى النجاسة و احكامها الفصل الثانى فى الاعيان النجسة، صفحہ (۵۱) المكتبة دار الكتب العلمیہ بیروت لبنان)*


اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ ؛ انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غسل یا وضو واجب ہو نَجاستِ غلیظہ ہے جیسے پاخانہ ، پیشاب، بہتا خون ، پیپ، بھر مونھ قے ، حیض و نفاس واستحاضہ کا خون، منی، مذی ، ودی۔ مزید تحریر فرماتے ہیں کہ، دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا پیشاب نجاست غلیظہ ہے ۔یہ جو اکثر عوام میں مشہور کہ دودھ پیتے بچوں کا پیشاب پاک ہے محض غلط ہے۔ *(بہار شریعت جلد اوّل (۱) حصّہ دوم (۲) نجاستوں کا بیان ، صفحہ (۳۹۰) المکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی)*


اور غلط فہمیاں اور انکی اصلاح نامی کتاب میں ہے کہ،کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دودھ پیتے بچوں کا پیشاب پاک ہے، حالانکہ ایسا نہیں ، انسان کا پیشاب مطلقاً ناپاک ہے خواہ وہ دودھ پیتے بچوں کا ہو یا بڑوں کا *(ملخصاً  فتاوی رضویہ، جلد ۲ صفحه ۱۴۶۔ بحوالہ غلط فہمیاں اور انکی اصلاح صفحہ (۲۳) مکتبہ اسلامی کتب خانه دھونرہ بریلی شریف (یوپی)*



در مختار شرح تنویر الابصار میں ہے کہ؛ *عن قدر درهم فيجب غسله، وما دونه فيسن وفوقه فيفرض، اھ* ،ترجمہ یعنی، نجاست درہم کے مقدار ہو تو دھونا واجب ہے، درہم سے کم ہو تو دھونا سنت اور درہم سے زیادہ ہو تو دھونا فرض، *(در المختار شرع تنویر الابصار ،کتاب الطهارۃ ، باب الانجاس صفحہ (٤٧) المكتبة دار الكتب العلمیہ بیروت لبنان)*  


 مذکورہ بالا نصوص سے معلوم ہوا کہ چھوٹا بچہ ہو یا بچی دونوں کا پیشاب ناپاک ہے۔ مگر ان کا پیشاب کسی کے جسم پر  کہیں لگ جائے تو پورا آدمی ناپاک نہیں ہوگا بلکہ فقط جسم کا وہی حصہ ناپاک ہوگا جہاں پیشاب لگی ہے لہذا ہاتھ کے جس حصے پر پیشاب نہیں لگی ہے باوضو آدمی اس حصے سے  قرآن شریف کو چھوسکتا ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ مکمل پاک و صاف ہو کر چھوئے ۔ 


واللـہ تعــــالیٰ اعلم بالصـــواب

كتبه : محمد ارباز عالم نظامى تركپٹى كورياں كشى نگر یوپی الهند مقىم حال بريده القصىم سعودي عربية

13/02/2023

الجواب صحیح مفتی محمد ابراہیم خان امجدی خطیب و امام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر 

طالب علم کو مارنے پر کیا گارجین، استاذ کو مارسکتا ہے؟

 


*🔗 طالب علم کو مارنے پر کیا گارجین، استاذ کو مارسکتا ہے؟  🔗*

*☆☆☆ـــــــــــــ🌺🏵️⁩🌺ـــــــــــــ☆☆☆*

*غلام تاج الشریعہ ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں👇👇*

*https://t.me/+qeN7NztnLh9mMWVl*

 


*🥏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*🪀کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ زید مسجد کا امام ہے اور زید نے بچے کو پڑھاتے وقت سبق یاد نہ ہونے کی وجہ سے مار دیا ۔تو بچے کے دادا نے زید یعنی امام کو مارا وہ بھی چپّل سے اب اس پر شریعت کا کیا حکم ہے براے کرم مکمل تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرماٸیں بہت مہر بانی ھوگی آپ کی*

 

*🔰☆ المستفتی ⇩⇩⇩☆*

*محمد سرفراز قادری ایم پی*

 🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏

   *وعلیــکم الســـلام و رحمۃ اللہ برکاتہ*


*💠الجــواب بــعون المــلک الــوھــاب*


*✒️اگر یہ بات حقیقت ہے اور دیگر غلطیاں نہیں ہے تو ذمہ داران کمیٹی مدرسہ پر لازم ہے کہ ایسے بدبخت شخص کو سماجی ممکن سزا دی جائے اور اعلانیہ توبہ استغفار کرایا جائے ساتھ ہی ساتھ  امام صاحب سے معافی منگوانا لازمی ہے،  اگر ایسا نہیں کرتا ہے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کریں !*

*👈چونکہ امام کو مارنا یہ جملہ صرف سخت نہیں بلکہ علماء امام کی بے عِزَّتِی ہے اگرچہ صرف غصے میں ماراہو ،!*


*⬅️استاد شاگرد کو تعلیم دینے کے لئے مارسکتاہے، !*

*استاد کو چاہیے ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے!*

*📒جیساکہ فتاویٰ رضویہ شریف،ج ٢٣،ص، ٦٥٣، میں ہے کہ ،، ضرورت پیش آنے پر بقدر حاجت تنبیہ، اصلاح اور نصیحت کے لئے بلا تفریق اجرت وعدم اجرت استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جائز ہے مگر یہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہئے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زائد پٹائی نہ ہونے پائے،،*

*📒فی ردالمحتار،لایجوز ضرب ولدالحر بامرابیہ اما المعلم فلہ ضربہ لمصلحۃ التعلیم،*

 

*چنانچہ فتاوٰی شامی میں ہے کہ کسی آزاد بچے کو اس کے والد کے حکم سے مارنا جائز نہیں لیکن استاد تعلیمی مصلحت کے تحت پٹائی کر سکتا ہے۔*


*🌺وقیدہ الطرسوسی بان یکون بغیر آلۃ جارحۃ وبان لایزید علی ثلث ضربات،وردہ الناظم بانہ لاوجہ لہ ویحتاج الی نقل و اقرہ الشارح،*

*امام طرسوسی نے یہ قید لگائی ہے کہ مارپیٹ زخمی کردینے والی نہ ہو اور تین ضربوں سے زائد بھی نہ ہو،لیکن ناظم نے اس قید کو رَد کردیاکہ اس کی کوئی وجہ نہیں لہٰذا نقل کی ضرورت ہے اور شارح نے اس کو برقراررکھا۔*


*قال الشرنبلالی والنقل فی کتاب الصلٰوۃ یضرب الصغیر بالید لابالخشبۃ ولایزید علی ثلث ضربات،،  علامہ شرنبلالی نے فرمایا نقل کتاب الصلٰوۃ میں ہے کہ چھوٹے بچے کو ہاتھ سے سزادی جائے نہ کہ لاٹھی سے اور تین ضربوں سے تجاوز بھی نہ ہونے پائےاھ۔*

*📒ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۶۔*


*،خیال رہے، کہ استاد شاگرد چھوٹے بچے کو تعلیم و تربیت کے لیے تین ضرب، تھپڑ تک ہی ماریں وہ بھی ہاتھ سے نہ کہ لاٹھی ڈنڈہ سے اور منہ پر ہرگز نہ ماریں۔  قال صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم لمرداس المعلم ایاك ان تضرب فوق الثلث فانك اذا ضربت فوق الثلث اقتص ﷲ منک حضوراکرم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے استاذ کی بچوں کو مارنے کے بارے میں فرمایا: تین مرتبہ سے زائد ضربیں لگانے سے پرہیزکرو کیونکہ اگر تم تین مرتبہ سے زیادہ سزا دی تو ﷲ تعالٰی قیامت کے دن تم سے بدلہ لے گا۔۔*

*کما فی رضویہ شریف ،*

*■☆ وَالــــلّٰـــــهُ اَعــــلَمُ بِــالـصَّــوَاب ☆■*


*🕳️☆《📝  كتــــــــبه.....》☆🕳️ ⇩⇩⇩*

*فقیـــر مـحـــمد امــتــــیاز قــــــمر امـجــــــدی ، گــریــڈیــہ جھـــارکھـنـڈ ، امــام و خطـــیب جـــامـــع مسجـــد ڈیہــــوری اتــــری گـــیا بہــــار*


─┄┅━━━━▣✾❥✺❥✾▣━━━━┅┅─


*✅✅الــــجـــواب صـــحــــیح*

 *خــــلیـــفۂ حــضــــور تــــاج الــشریــــعہ حضـــرت مـــولانــــا مـــفــتی ســــید شــمـــس الــحـــق بــــرکـــــاتــــی مـصــــباحـــی قـــاضــــی شـــــرع شـــہر گـــــوا*



*✅✅الـــــجــــــواب صــحیــــــح* 

*حضـــرت مـــولانــــا مــحــمــد ابــــراہـــــیم خـــــان امــــجــــدی*

*امــام و خطـــیب  غـــوثـــــیہ مسجــــد بھیونڈی مہاراشٹر*


*✅✅الـــــــجـــــواب صــــــحیـــــح*

*فــــــقط ضــــیاء الحــــق  نقـشبـــــندی  حمــــیدی، امــام و خطـــیب مسجــــد غـــوثـــــیہ بنــــــارس*


🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻

*🗓️مؤرخہ: (18) رجب الـمرجـب  1437ھ*

*🗓شمسـی تـاریـخ(10) فروری 2023*


*غـــلام تـــاج الــــشریــــعہ گــــروپ مـــیں شـــامــل ہــونے کــے لئــے رابــــطہ کـــریــں👇🏾*

*+91 9279649198*


*⌨️ المـــــرتبـــــ  ⇩⇩⇩*

 *سیــد محمـــد تسـکیـن جـیلانی مقـــام ڈوڈہ جـمـــوں کشـمیـــر الھند*

*رابـــــــطہ نمـــــبر*

*📞+91 9622664380*

*گــــــروپ ھـــذا مـــیں شــــــامــــل ہــونـــے کـــے لئـــے رابــطـہ نمـــــبر 👇*

*📞+91 9622664380*

*📞+91 72765 56912*

*📞+91 9279649198*


📢ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ📢*

⭕نوٹ:👈 *پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز ہرگز نہ کریں ورنہ معلوم ہونے پر قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے(09)*

 🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️

*▄▅▆▇█▓▒سیـد تســـکــین جیلانی ▒▓█▇▆▅▃*

سنی اپنے آپ کو وہابی کہے تو کیا حکم ہے ؟

 


*🔗سنی اپنے آپ کو اہل حدیث کہے تو کیا حکم ہے؟  🔗*

*☆☆☆ـــــــــــــ🌺🏵️⁩🌺ـــــــــــــ☆☆☆*

*غلام تاج الشریعہ ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں👇👇*

*https://t.me/+qeN7NztnLh9mMWVl*

 


*🥏السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*🪀کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان ہے اور وہ تھوڑا پڑھنا جانتا ہے  وہ سنی ہے اعلیٰحضرت کو چاہنے والے اور ماننے والے۔ اور وہ سلام بھی پڑھتے ہیں فاتحہ بھی لیکن وہ یہ بھی کہتا ہے کے میں اہل حدیث ہوں*

*تو اسے کیا سمجھا جائے*


*اور اسے کیسے سمجھایا جاۓ ؟*


 

*اسکے حوالے سے بحوالہ جواب والا پوسٹ عنایت فرماۓ*


*🔰☆ المستفتی ⇩⇩⇩☆*

*محمد علی اکبر صدیقی سیتامڑھی بہار الھند*

 🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏🥏

   *وعلیــکم الســـلام و رحمۃ اللہ برکاتہ*


*💠الجــواب بــعون المــلک الــوھــاب*


*✒️کوئی سنی حنفی بریلوی لاعلمی میں اہل حدیث اپنے آپ کہتا ہے تو صرف کہلانے سے وہابی نہ ہوگا سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے اہل حدیث  مراد حضرات محدثین کرام اور فقہاء عظام ہیں ،کیونکہ ساری حدیثوں پر کوئی عمل نہیں کرسکتا اور نہ ہی کوئی اہلِ حدیث ہوسکتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ شریعت کے دلائل چار ہیں قرآن،سنت،اجماعِ امت اور قیاسِ مجتہد،ان میں سے اصل وصول کتاب وسنت ہیں اس بات کی تحقیق شرح حدیث مراۃ المناجیح، میں ہے کہ ،ہر سنت لائق اتباع ہے مگر ہر حدیث لائق اتباع نہیں،حضور کے خصوصیات،منسوخ احکام اور اعمال حدیث ہیں مگر سنت نہیں اسی لیئے یہاں حدیث کو پکڑ نے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ سنت کو۔الحمدﷲ! ہم اہل سنت ہیں دنیا میں اہل حدیث کوئی نہیں ہوسکتا۔صحابہ کرام کے اعمال و افعال بھی لغوی معنے سے سنت ہیں یعنی دین کا اچھا طریقہ اگرچہ ان کی ایجادات بدعت حسنہ ہیں*

*📒مراۃ المناجیح، ج،١، رقم الحدیث ١٦٣)*

*👈ایک اور حدیث کی شرح میں ہے کہ ،، اہل حدیث ،بلکہ اس سے مراد حضرات محدثین کرام اور فقہاء عظام ہیں جنہوں نے اپنی عمریں اس فن شریف کی خدمت میں گزاریں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اصحاب حدیث سے مراد اہلِ سنت و الجماعت ہیں۔*

*📕مراۃ المناجیح، ج،٨، رقم الحدیث ٥٣٢،*

*👈الحاصل ، مسئول عنہ شخص سے تحقیق کی جائے! اگر وہ قولِ امام اعظم "اذا صح الحدیث فھو مذہبی" کے تحت اپنے کو اہلِ حدیث تو کہتا ہے لیکن کسی امام کا مقلد مثلاً حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی ہے تو وہ سنی صحیح العقیدہ مسلمان شخص ہے! اور اگر بغیر تقلیدِ امام اپنے کو اہلِ حدیث کہتا ہے تو سلفیوں کی طرح تقلیدِ ائمہ جو واجب ہے اس کا تارک ضرور ہے ! اگرچہ اسی تحقیق کے مرحلے میں افہام و تفہیم بھی کی جا سکتی ہے! مگر قبلِ تحقیق اس کی تفسیق و تضلیل یا تکفیر نہیں کی جا سکتی!،*

*■☆ وَالــــلّٰـــــهُ اَعــــلَمُ بِــالـصَّــوَاب ☆■*


*🕳️☆《📝  كتــــــــبه.....》☆🕳️ ⇩⇩⇩*

*فقیـــر مـحـــمد امــتــــیاز قــــــمر امـجــــــدی ، گــریــڈیــہ جھـــارکھـنـڈ ، امــام و خطـــیب جـــامـــع مسجـــد ڈیہــــوری اتــــری گـــیا بہــــار*


─┄┅━━━━▣✾❥✺❥✾▣━━━━┅┅─


*✅✅الجواب صحیح ،خلیفۂ حضور تاج الشریعہ* 

*مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی قاضی شرع شہر گوا*


*✅الجواب صحیـح* 

*فقط ضــــیاء الحــــق  نقـشبـــــندی  حمــــیدی  مـدظــلہ العــالــی والنــورانــی امــام و خطـــیب مسجــــد غـــوثـــــیہ بنــــــارس*


🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻

*🗓️مؤرخہ: (14) رجب الـمرجـب  1437ھ*

*🗓شمسـی تـاریـخ(06) فروری 2023*


*⌨️ المـــــرتبـــــ  ⇩⇩⇩*

 *سیــد محمـــد تسـکیـن جـیلانی مقـــام ڈوڈہ جـمـــوں کشـمیـــر الھند*

*📢ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ📢*

⭕نوٹ:👈 *پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہرگز ہرگز نہ کریں ورنہ معلوم ہونے پر قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے(08)*

 🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️🏕️

*▄▅▆▇█▓▒سیـد تســـکــین جیلانی ▒▓█▇▆▅▃*

ولی ﷲ کے مزار پر حاضری اور بوسہ دینے کا حکم

 *ولی ﷲ کے مزار جانا اور بوسہ دینا کیسا ہے ؟*



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ

کسی ولی اللہ کے مزار پر جانا اور مزار کوبوسہ دیناکیساہے

بحوالہ جواب عنایت فرمائیں

سائل محمد آفتاب عالم

سیتاپور


*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

*باسمہ تعالی وتقدس الجواب:*

مزار ولی اللہ جانا چومنا بوسہ دینا آستانہ بوسی جائز ہے کہ شرع میں اس کی ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرع نے منع نہ فرمایا منع نہیں ہوسکتی اور اس میں علماء مختلف ہیں،  حدیث شریف، و اکابرین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ثابت ہے فتاویٰ *رضویہ شریف ج، ٩، صفحہ ٥٢٩۔ میں ہے کہ،* فی الواقع بوسہ قبر میں علماءمختلف ہیں ، اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایک امر ہے کہ دو چیزوں داعی ومانع کے درمیان دائر، داعی محبت ہے او رمانع ادب ، تو جسے غلبہ محبت ہو اس پر مواخذہ نہیں کہ اکابرصحابہ رضی ﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت ہے۔ اور عوام کے لیے منع ہی احوط ہے، ہمارےعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزارِ اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو،پھر تقبیل کی کیا سبیل!

 عالمِ مدینہ علامہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ خلاصۃ الوفاء شریف میں جدارِ مزار انور کے لمس وتقبیل وطواف سے ممانعت کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں:


*فی کتاب العلل والمسؤلات لعبد ﷲ بن احمد بن حنبل سألت ابی عن الرجل یمس منبر النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ علٰی الہٖ وسلم تبرك بمسہ وتقبیلہ ویفعل بالقبر مثل ذٰلك جاء ثواب ﷲ تعالٰی فقال لاباس بہ،*


وفاء ا لوفا الفصل الرا بع فی آداب الزیارۃ والمجاورۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۴:


یعنی امام احمد بن حنبل کے صاحبزادہ امام عبد ﷲ فرماتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کوئی شخص نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے منبر کوچھوئے اور بوسہ دے۔ اور ثواب الہٰی کی امید پر ایساہی قبر شریف کے ساتھ کرے، فرمایا، اس میں کچھ حرج نہیں،،

*امام اجل تقی الملّۃ والدین علی بن عبد الکافی سبکی قدس سرہ الملکی شفاءُ السقام،* پھر سیدنورالدین خلاصۃ الوفاء میں بروایۃ یحٰیی بن الحسن عن عمر بن خالد عن ابی بناتۃ عن کثیر بن یزید عن المطلب بن عبدﷲ بن حنطب ذکر فرماتے ہیں کہ مروان نے ایک صاحب کو دیکھا کہ مزار اعطر سید اطہر صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے لپٹے ہوئے ہیں اور قبر شریف پر اپنا مُنہ رکھے ہیں، مروان نے ان کی گردن پکڑ کرکہا جانتے ہو یہ تم کیا کررہے ہو، انھوں نے ا س کی طرف منہ کیا اور فرمایا:


*نَعم اِنِّی لَمْ اٰتِ الْحَجَرَ انما جَئْتُ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سَمِعْتُ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول لاَتَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذِا وَلِیَہۤ اَھْلُہ وَلٰکِنْ اَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذَا وَلِیْہ غَیْرُ اَھْلِہٖ،*

وفاء الوفا الفصل الثانی فی بقیۃ ادلۃ الزیارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۹


ہاں میں کسی پتھرکے پاس نہ آیا میں رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور حاضر ہواہوں ، میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا، دین پر نہ رو جب اس کا والی اس کااہل ہو، ہاں دین پر رو جب نا اہل اس کا والی ہو،،


سید قدس سرہ فرماتے ہیں : رواہ احمد بسند حسن امام احمد نے یہ حدیث بسند حسن روایت فرمائی۔،

*شرح حدیث مراۃ المناجیج، الفصل الثانی دوسری فصل حدیث نمبر :56، آخری صفحہ میں ہے کہ ،،*  خیال رہے کہ قرآن کریم،سنگ اسود،بزرگوں کے ہاتھ پاؤں،والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا ثواب بھی ہے اور باعث برکت بھی۔بعض بزرگ تو اپنے مشائخ کے تبرّکات چومتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا منبر چومتے تھے،،

 بوسہ تبّرکات کے ثبوت میں "جاء الحق" میں ہے کہ ،، *شرح بخاری لابن حجر پاوہ ششم صفحہ ۱۵ میں ہے۔ اِسْتَنْبَطَ بَعْضُھُمْ مَنْ مَشْرُوْعِیَّۃِ تَقْبِیْلِ اَلْاَرْکَانِ جَوَازِ تَقْبِیْلِ کُلِّ مَنْ یَسْتَحِقُّ الْعَظَمَۃَ مِنْ اٰدَمِیٍّ وَّغَیْرِہٖ نُقِلَ عَنِ الْاِمَامِ اَحْمَدَ اَنَّہ‘ سُئِلَ عَنْ تَقْبِیْلِ مِنْبَرِ النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَتَقْبِیْلِ قَبْرِہٖ قَالَ فَلَمْ یُرَبِہٖ بَأسًا وَّنُقِلَ عَنْ اِبْنِ اَبِیْ الصِّنْفِ الْیَمَانِی اَحَدِ عُلَمَائِ مِِلَّۃٍ مِنَ الشَّافِعِیَّۃِ جَوَازَ تَقْبِیْلِ الْمُصَحَفِ وَاَجْزَائِ الْحَدِیْثِ وَ قُبُوْرِ الصّٰلِحِیْنَ مُلَخَّصًا،*

‘‘ارکان کعبہ کے چومنے سے بعض علماء نے بزرگان دین وغیرہم کے تبرکات کا چومنا ثابت کیا ہے امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ حضور علیہ السلام کا منبر یا قبر انور پر چومنا کیا ہے؟ فرمایا کوئی حرج نہیں اور ابن ابی الصنف یمانی سے جو کہ مکہ کے علماء شافعیہ میں سے ہیں منقول ہے۔ قرآن کریم اور حدیث کے اوراق بزرگان دین کی قبر چومنا جائز ہیں ۔‘‘

تو شیخ میں علامہ جلال الدین سیوطی قدسی سرہ فرماتے ہیں ۔

*اسْتَنْبَطَ بَعْضُ الْعَارِفِیْنَ مِنْ تَقْبِیْلِ الْحَجَرِ الْاَسْوْدِ تَقْبِیْلَ قُبُوْرِ الصّٰلِحِیْنَ،،*

حجر الاسود کے چومنے سے بعض عارفین نے بزرگان دین کی قبروں کاچومنا ثابت کیا ہے۔‘‘


واللہ اعلم بالصواب


کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی

٣١ ،جنوری بروز منگل ،٢٠٢٣


الجواب صحیح حضرت علامہ مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی قاضی شرع شہر گوا 

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...