اگر چھوٹی بچی پیشاب کر دے تو قرآن چھو سکتے ہیں یا نہیں؟



 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 

اگر چھوٹی بچی کسی کے جسم پر پیشاب کر دے تو وہ قرآن چھو سکتے ہیں کہ نہیں۔

بحوالہ جواب عنایت فرمائیں

سائل محمد عارف رضا


وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھابـــــ

پہلے یہ ذہن نشین رہے کہ، دودھ پیتے بچہ اور بچی کا پیشاب ناپاک ہے اور نجاست غلیظہ ہے، جس طرح بڑے لوگوں کا پیشاب ناپاک ہے ، یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکا یا لڑکی جب تک دودھ پیتے ہوں ان کا پیشاب پاک ہے ،یہ خیال محض غلط اور باطل ہے ،ان کا پیشاب بھی ناپاک ہے۔


جیساکہ فتاوی ہندیہ میں ہے کہ،

*كُلُّ مَا يَخْرُجُ مِنْ بَدَنِ الْإِنْسَانِ مِمَّا يُوجِبُ خُرُوجُهُ الْوُضُوءَ أو الغُسْلَ فَهُوَ مُغَلَّظٌ كَالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ..الخ وَكَذَلِكَ بَوْلُ الصَّغِيرِ وَالصَّغِيرَةِ أَكَلَا أولا*

 ترجمہ، یعنی ،ہر وہ چیز جو بدنِ انسانی سے نکل کر وضو یا غسل کو واجب کر دے، تو وہ نجاستِ غلیظہ ہے، جیسے پاخانہ و پیشاب، یو نہی بچے اور بچی کا پیشاب، بچے کھانا کھاتے ہوں یا نہ کھاتے ہوں)۔ *(الفتاوی الهندية كتاب الطهارة الجـزء الأول (۱) الباب السابع فى النجاسة و احكامها الفصل الثانى فى الاعيان النجسة، صفحہ (۵۱) المكتبة دار الكتب العلمیہ بیروت لبنان)*


اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ ؛ انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غسل یا وضو واجب ہو نَجاستِ غلیظہ ہے جیسے پاخانہ ، پیشاب، بہتا خون ، پیپ، بھر مونھ قے ، حیض و نفاس واستحاضہ کا خون، منی، مذی ، ودی۔ مزید تحریر فرماتے ہیں کہ، دودھ پیتے لڑکے اور لڑکی کا پیشاب نجاست غلیظہ ہے ۔یہ جو اکثر عوام میں مشہور کہ دودھ پیتے بچوں کا پیشاب پاک ہے محض غلط ہے۔ *(بہار شریعت جلد اوّل (۱) حصّہ دوم (۲) نجاستوں کا بیان ، صفحہ (۳۹۰) المکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی)*


اور غلط فہمیاں اور انکی اصلاح نامی کتاب میں ہے کہ،کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دودھ پیتے بچوں کا پیشاب پاک ہے، حالانکہ ایسا نہیں ، انسان کا پیشاب مطلقاً ناپاک ہے خواہ وہ دودھ پیتے بچوں کا ہو یا بڑوں کا *(ملخصاً  فتاوی رضویہ، جلد ۲ صفحه ۱۴۶۔ بحوالہ غلط فہمیاں اور انکی اصلاح صفحہ (۲۳) مکتبہ اسلامی کتب خانه دھونرہ بریلی شریف (یوپی)*



در مختار شرح تنویر الابصار میں ہے کہ؛ *عن قدر درهم فيجب غسله، وما دونه فيسن وفوقه فيفرض، اھ* ،ترجمہ یعنی، نجاست درہم کے مقدار ہو تو دھونا واجب ہے، درہم سے کم ہو تو دھونا سنت اور درہم سے زیادہ ہو تو دھونا فرض، *(در المختار شرع تنویر الابصار ،کتاب الطهارۃ ، باب الانجاس صفحہ (٤٧) المكتبة دار الكتب العلمیہ بیروت لبنان)*  


 مذکورہ بالا نصوص سے معلوم ہوا کہ چھوٹا بچہ ہو یا بچی دونوں کا پیشاب ناپاک ہے۔ مگر ان کا پیشاب کسی کے جسم پر  کہیں لگ جائے تو پورا آدمی ناپاک نہیں ہوگا بلکہ فقط جسم کا وہی حصہ ناپاک ہوگا جہاں پیشاب لگی ہے لہذا ہاتھ کے جس حصے پر پیشاب نہیں لگی ہے باوضو آدمی اس حصے سے  قرآن شریف کو چھوسکتا ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ مکمل پاک و صاف ہو کر چھوئے ۔ 


واللـہ تعــــالیٰ اعلم بالصـــواب

كتبه : محمد ارباز عالم نظامى تركپٹى كورياں كشى نگر یوپی الهند مقىم حال بريده القصىم سعودي عربية

13/02/2023

الجواب صحیح مفتی محمد ابراہیم خان امجدی خطیب و امام غوثیہ مسجد بھیونڈی مہاراشٹر 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...