حکومت کو دھوکا دینے کی نیت سے بے شمار لوگوں کا اکاؤنٹ کھلوانا کیساہے؟

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں زید سرکاری ملازم ہے پیڑ ویبھاگ میں کام کرتاہے حکومت تنخواہ دیتی ہے 10 ہزار لیکن زید بیشمار لوگوں کا اکاؤنٹ اوپن کروایا سب لوگوں کے اکاؤنٹ پر ہر ماہ 6000 ہزار بھجواتا ہے زید نے حکومت کے یہاں لکھوایا ہے یہ لوگ آکر پیڑ کو پانی دے تے ہیں اور اس کا دیکھ بھال کرتے ہیں لیکن کوئی بھی بندہ نہ پانی دیتا ہے اور نہ ہی کبھی دیکھنے جاتا ہے لیکن ہر مہینہ 6000 ہزار اکاؤنٹ پر آجاتا ہے  زید سب لوگوں کو ہر مہینہ اسی 6000 ہزار میں سے 500 روپیہ دے دیتا ہے اور پچپن پچپن سو روپیہ سب لوگو سے لے لیتا ہے۔  مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ اس طرح سے حکومت کا پیسہ زید کو اور ان کے دوستوں کا کھانا کیسا ہے حرام ہے یا نہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے پیسہ حرام نہیں ہے اور زید کہتا ہے کی اگر حرام ہے تودلیل پیش کرے مفتیان کرام رہنمائی فرمائے سائل نفیس رضا رودولی شریف ایودھیا یوپی،

*..................…...….........................*


و علیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

زید کا ایسا کرنا بالکل درست نہیں ہے ، نا جائز و حرام ہے ۔


حکومت کو دھوکا دینے کی نیت سے بے شمار لوگوں کا اکاؤنٹ کھولنا بھی حرام ہے اور لوگوں کا بغیر کام کئے پانچ سو روپیہ لینا بھی حرام ہے 


حدیث شریف میں ہے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلے کے ڈھیر کے پاس سے گزرے اور آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا تو آپ کی انگلیاں گیلی ہو گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے غلے کے مالک، یہ کیا ہے؟" اُس نے عرض کیا: "یا رسول اللہ، اس پر بارش ہو گئی تھی۔" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو پھر تم نے اس گیلی چیز کو غلے کے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں؟" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے دھوکہ دیا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"


اس کے بعد راوی کہتے ہیں کہ اس باب میں حضرت ابن عمر، حضرت ابو الحمراء، حضرت ابن عباس، حضرت بریدہ، حضرت ابو بردہ بن نیار اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث مروی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ وہ دھوکہ دہی کو ناپسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دھوکہ دینا حرام ہے۔


اور اگر لوگ کام کرتے اس پر زید ان سے مانگ کر کچھ لیتا تو وہ رشوت ہے اور رشوت حرام ہے 


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔ اس حدیث کو ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے، اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔


(حوالہ: صحیح، روایت: ابو داود 3580، ترمذی 1337۔ ترمذی نے فرمایا: "یہ حدیث حسن صحیح ہے")



اگر لوگ ذمہ داری سے کام کرتے اور حوش دلی سے بغیر زید کے طلب کرنے کے کچھ رقم دیتے تو جائز ہے 


زید نے حکومت کو دھوکا دیا اور لوگوں رشوت کے بدلے اس خیانت میں اسکا ساتھ دیا ہے جو کہ نا جائز و حرام ہے 


حضور اعلی حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں کہ،،پرایا مال بے اذن شرعی لینا چوری اور گناہِ کبیرہ ہے،رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں لایسرق السارق حین یسرق وھومومن،   *(صحیح البخاری کتاب الاشربہ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢/٨٣٦)


و اللہ تعالیٰ اعلم ۔

محمد امتیاز قمر امجدی 

خطیب و امام جمع مسجد رضا نگر کھاکھی پیپر گریڈیہ جھارکھنڈ ،

22/ ستمبر 2024/ بروز اتوار/مطابق 18/ ماہ نور شریف 1446ھ،

الجواب صحیح مفتی سید جابر الرحمن صاحب قبلہ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ چنئی انڈیا


الجواب صحیح مفتی محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ گونڈوی یوپی،انڈیا،

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...