*ولی ﷲ کے مزار جانا اور بوسہ دینا کیسا ہے ؟*
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ
کسی ولی اللہ کے مزار پر جانا اور مزار کوبوسہ دیناکیساہے
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
سائل محمد آفتاب عالم
سیتاپور
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
*باسمہ تعالی وتقدس الجواب:*
مزار ولی اللہ جانا چومنا بوسہ دینا آستانہ بوسی جائز ہے کہ شرع میں اس کی ممانعت نہ آئی اور جس چیز کو شرع نے منع نہ فرمایا منع نہیں ہوسکتی اور اس میں علماء مختلف ہیں، حدیث شریف، و اکابرین صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ثابت ہے فتاویٰ *رضویہ شریف ج، ٩، صفحہ ٥٢٩۔ میں ہے کہ،* فی الواقع بوسہ قبر میں علماءمختلف ہیں ، اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایک امر ہے کہ دو چیزوں داعی ومانع کے درمیان دائر، داعی محبت ہے او رمانع ادب ، تو جسے غلبہ محبت ہو اس پر مواخذہ نہیں کہ اکابرصحابہ رضی ﷲ تعالٰی عنہم سے ثابت ہے۔ اور عوام کے لیے منع ہی احوط ہے، ہمارےعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزارِ اکابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو،پھر تقبیل کی کیا سبیل!
عالمِ مدینہ علامہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ خلاصۃ الوفاء شریف میں جدارِ مزار انور کے لمس وتقبیل وطواف سے ممانعت کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں:
*فی کتاب العلل والمسؤلات لعبد ﷲ بن احمد بن حنبل سألت ابی عن الرجل یمس منبر النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ علٰی الہٖ وسلم تبرك بمسہ وتقبیلہ ویفعل بالقبر مثل ذٰلك جاء ثواب ﷲ تعالٰی فقال لاباس بہ،*
وفاء ا لوفا الفصل الرا بع فی آداب الزیارۃ والمجاورۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۴:
یعنی امام احمد بن حنبل کے صاحبزادہ امام عبد ﷲ فرماتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے پوچھا کوئی شخص نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے منبر کوچھوئے اور بوسہ دے۔ اور ثواب الہٰی کی امید پر ایساہی قبر شریف کے ساتھ کرے، فرمایا، اس میں کچھ حرج نہیں،،
*امام اجل تقی الملّۃ والدین علی بن عبد الکافی سبکی قدس سرہ الملکی شفاءُ السقام،* پھر سیدنورالدین خلاصۃ الوفاء میں بروایۃ یحٰیی بن الحسن عن عمر بن خالد عن ابی بناتۃ عن کثیر بن یزید عن المطلب بن عبدﷲ بن حنطب ذکر فرماتے ہیں کہ مروان نے ایک صاحب کو دیکھا کہ مزار اعطر سید اطہر صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے لپٹے ہوئے ہیں اور قبر شریف پر اپنا مُنہ رکھے ہیں، مروان نے ان کی گردن پکڑ کرکہا جانتے ہو یہ تم کیا کررہے ہو، انھوں نے ا س کی طرف منہ کیا اور فرمایا:
*نَعم اِنِّی لَمْ اٰتِ الْحَجَرَ انما جَئْتُ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سَمِعْتُ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول لاَتَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذِا وَلِیَہۤ اَھْلُہ وَلٰکِنْ اَبْکُوْا عَلَی الدِّیْنِ اِذَا وَلِیْہ غَیْرُ اَھْلِہٖ،*
وفاء الوفا الفصل الثانی فی بقیۃ ادلۃ الزیارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۹
ہاں میں کسی پتھرکے پاس نہ آیا میں رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور حاضر ہواہوں ، میں نے رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا، دین پر نہ رو جب اس کا والی اس کااہل ہو، ہاں دین پر رو جب نا اہل اس کا والی ہو،،
سید قدس سرہ فرماتے ہیں : رواہ احمد بسند حسن امام احمد نے یہ حدیث بسند حسن روایت فرمائی۔،
*شرح حدیث مراۃ المناجیج، الفصل الثانی دوسری فصل حدیث نمبر :56، آخری صفحہ میں ہے کہ ،،* خیال رہے کہ قرآن کریم،سنگ اسود،بزرگوں کے ہاتھ پاؤں،والدین کے ہاتھ پاؤں چومنا ثواب بھی ہے اور باعث برکت بھی۔بعض بزرگ تو اپنے مشائخ کے تبرّکات چومتے ہیں۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا منبر چومتے تھے،،
بوسہ تبّرکات کے ثبوت میں "جاء الحق" میں ہے کہ ،، *شرح بخاری لابن حجر پاوہ ششم صفحہ ۱۵ میں ہے۔ اِسْتَنْبَطَ بَعْضُھُمْ مَنْ مَشْرُوْعِیَّۃِ تَقْبِیْلِ اَلْاَرْکَانِ جَوَازِ تَقْبِیْلِ کُلِّ مَنْ یَسْتَحِقُّ الْعَظَمَۃَ مِنْ اٰدَمِیٍّ وَّغَیْرِہٖ نُقِلَ عَنِ الْاِمَامِ اَحْمَدَ اَنَّہ‘ سُئِلَ عَنْ تَقْبِیْلِ مِنْبَرِ النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلاَمُ وَتَقْبِیْلِ قَبْرِہٖ قَالَ فَلَمْ یُرَبِہٖ بَأسًا وَّنُقِلَ عَنْ اِبْنِ اَبِیْ الصِّنْفِ الْیَمَانِی اَحَدِ عُلَمَائِ مِِلَّۃٍ مِنَ الشَّافِعِیَّۃِ جَوَازَ تَقْبِیْلِ الْمُصَحَفِ وَاَجْزَائِ الْحَدِیْثِ وَ قُبُوْرِ الصّٰلِحِیْنَ مُلَخَّصًا،*
‘‘ارکان کعبہ کے چومنے سے بعض علماء نے بزرگان دین وغیرہم کے تبرکات کا چومنا ثابت کیا ہے امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ حضور علیہ السلام کا منبر یا قبر انور پر چومنا کیا ہے؟ فرمایا کوئی حرج نہیں اور ابن ابی الصنف یمانی سے جو کہ مکہ کے علماء شافعیہ میں سے ہیں منقول ہے۔ قرآن کریم اور حدیث کے اوراق بزرگان دین کی قبر چومنا جائز ہیں ۔‘‘
تو شیخ میں علامہ جلال الدین سیوطی قدسی سرہ فرماتے ہیں ۔
*اسْتَنْبَطَ بَعْضُ الْعَارِفِیْنَ مِنْ تَقْبِیْلِ الْحَجَرِ الْاَسْوْدِ تَقْبِیْلَ قُبُوْرِ الصّٰلِحِیْنَ،،*
حجر الاسود کے چومنے سے بعض عارفین نے بزرگان دین کی قبروں کاچومنا ثابت کیا ہے۔‘‘
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی
٣١ ،جنوری بروز منگل ،٢٠٢٣
الجواب صحیح حضرت علامہ مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی قاضی شرع شہر گوا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں