اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال، کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام ومفتیان عظام کہ مسجد دو منزلہ ہے اوپر.اور.نیچے ایک ہی وقت میں دو جما عتیں ہورہی ہیں ایک جماعت اوپر اور ایک نیچے کچھ لوگ امام کے پیچھےنماز نہیں پڑھنا چاہتے ہیں اسی وجہ سے دو جماعتیں ہو رہی ہیں تو کیا ایک ہی مسجد میں ایک ہی وقت میں دو جماعتیں ہو سکتی ہیں یا نہیں بتفصیلی جواب عنایت فرمایٸں نوازش ہوگی اگر حوالہ مل جاۓتو بہتر ہوگا
المستفتی؛ حافظ محمد ارباز عالم نظامی کشی نگر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب ایک مسجد میں ایک فرض کی دو جماعتیں ایک ساتھ قصدا کرنا بلاوجہ شرعی ناجائز و ممنوع ہے جبکہ کوئی اور مسلک کا نہ ہو فتاوی فقیہ ملت میں ہے مسجد کی دوسری یا تیسری منزل پر نماز پڑھنا پڑھانا مکروہ ہے، فتاوی فقیہ ملت جلد اول ١٩٥، حضور اعلی حضرت تحریر فرماتے ہیں.دوجماعتیں ایک مسجد ایک وقت میں بالقصد قائم کرنا ہر گزجائز نہیں، فتاوی رضویہ جلد ٨ صفحہ ٣٢٠
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ گونڈہ پوپی
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی عفی عنہ بلرام پوری
(۱۶) صفرالمظفر۱۴۴۲ھ مطابق (۴) ستمبر ٠٢٠٢ء بروز اتوار

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں