اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ قرآن کریم کی تلاوت کے وقت رونا کیسا ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں
السائل: مولانا اسلام رضا گریڈیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب، ارشاد باری تعالی ہے، وَيَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا، اور تھوڑی کے بل گرتے ہیں روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا پڑھتا ہے، کنزالایمان سورۃ البنی اسرائیل آیت ١٠٨، سورۃ البنی اسرائیل آیت ١٠٨/ کی تفسیر میں ہے اپنے رب کے حضور عجزو نیاز سے نرم دلی سے /قرآن کریم کی تلاوت کے وقت رونا مستحب ہے۔صاحب تفسیر آگے تحریر فرماتے ہیں ترمذی و نسائی کی حدیث میں ہے کہ وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا جو خوف الہی سے روئے، کنزالایمان سورۃ البنی اسرائیل آیت١٠٨
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط فقیرمحمد مشاہد رضا حشمتی عفی عنہ پیلی بھیت شریف
(۳) ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۳) اگست ٠٢٠٢ء بروز دوشنبہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں