اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال، کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ننگا پاؤں یعنی ستر کو کھول کر کبھی کبھی پھرتا ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے تو کیا ننگا پیر پھیرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں۔اور نماز میں صرف ایک کرتا یا جبا بہن کرکے بغیر پاجامہ کے نماز پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں
السائل:دلدار حسین پاکستان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بعون الملڪ الوالھاب
ان میں کسی بات سے وضو نہیں جاتا ستر کھُلنے یا دیکھنے سے وضو جانا کہ عوام کی زبان زد ہے محض بے اصل ہے، علماء نے سترِ عورت کو آدابِ وضو سے گنا اگر کشف سے وضو جاتا تو فرائض وضو سے ہوتا، اور اگر صرف ایک جبہ پہن کر نماز پڑھی جس سے گھٹنوں تک رکوع سجود وغیر ہ کسی حالت میں زانو کا حصہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کچھ حرج نہیں، اور اُس کا گریبان اتنا کشادہ ہے کہ گریبان سے اپنے ستر تك نظر جاسکتی ہے اور اس نے دیکھا تو کراہت ہے مگرنماز ہوگئی، گھٹنے یا ستر کھلنے یا اپنا یا پرایا ستر دیکھنے سے وضو نہیں جاتا، وضو کا ادب یہ ہے کہ ناف سے زانو کےنیچے تك سب ستر چھپا کر ہو بلکہ استنجے کے بعد فورًا ہی ستر ہو لینا چاہئے کہ بلا ضرورت برہنگی منع ہے، درمختار میں ہے، الشرط سترھا عن غیرہ لانفسہ بہ یفتی فلورأھا من زیقہ لم تفسد وان کرہ، اسے دوسرے سے چھپانا شرط ہے خود سے نہیں اسی پر فتوی ہے تو اگر گلے کے چاك سے اپنا ستر دیکھا تو نماز نہ جائے گی اگرچہ مکروہ ہے، الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٦٦، فتاویٰ رضویہ جلداول جدید صفحہ۴۷۰، سوال میں آپ نے لکھا ہے ننگے پاؤں ستر کھول کر پھرتا ہے، زید کا ستر کھول کر گھومنا درست نہیں جیسا کہ حضور اعلی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی تحریر فرماتے ہیں لوگوں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے، فتاویٰ رضویہ جلد ٣۔ص٣٠٦، پھرکیونکر سرعام ستر کھول کر گھومناجائز ہوسکتاہے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد اسمعیل خان امجدی قادری رضوری عفی عنہ گونڈہ پوپی
الجواب صحیح والمجیب نجیح
فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری عفی عنہ بلرام پوری
(۱۷) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (۸) اگست ٠٢٠٢ء بروز شنبہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں