جنّت کن چیزوں سے بنی ہے

    

اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
 الســـــــــــوال ↧* 
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جنت کس شیے سے بنائی گئی ہے* 
السـائــل : واحد قمرگریڈیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
(الجوابـــــ بــعون الملڪ الوالھابـــــ↧↧* 
_جنت کن چیزوں سے بنی ہے_حضرتِ سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ'ہمیں جنت اوراس کی تعمیر سے متعلق بتائیے_توآپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اس کی ایک اینٹ سونے کی اورایک چاندی کی ہے اوراس کا گارا مشک کا ہے اوراس کی کنکریاں موتی اوریاقُوت کی ہیں اور اس کی مٹی زعفران کی ہے_ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم ۲۵۳۴، ج۴ ، ص ۲۳۶*
_حضرتِ سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جنت کی زمین سفید ہے ، اس کا میدان کافُور کی چٹانوں کا ہے ، اس کے گرد ریت کے ٹیلوں کی طرح مشک کی دیوار یں ہیں اوراس میں نہریں جاری ہیں_*الترغیب والترہیب، کتاب صفۃ الجنۃ والنار، رقم ۳۴ ، ج۴ ، ص ۲۸۳*
_حضرت سیدناعبادہ بن صامت  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  روایت__ہیں کہ رحمت ِ کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جنت میں سومنزلیں ہیں اور ان میں سے ہر دو منزلوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین وآسمان کے درمیان ہے_*ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ ، رقم الحدیث۲۵۳۹، ج۴، ص۲۳۸
*جنت کے دروازے*
_حضرت سیدنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جنت کے آٹھ دروازے ہیں_
بخاری ، کتاب بداء الخلق، رقم۳۲۵۷، ج۲، ص۳۹۴
 *ایک دروازہ کتنا بڑا ہوگا*
_حضرت سیدناعُتبہ بن غَزَوان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ سرور ِ کونین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : جنت کے دروازوں_کی چوکھٹوں میں سے ہر دو چوکھٹ کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہے_*
مسلم، رقم الحدیث ۲۹۶۷، ، ص۱۵۸۶
*جنت کے خیمے*
_حضرت سیدنا ابوموسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :مؤمن کے لئے جنت میں کھکلی موتی (یعنی وہ موتی جس کے درمیان میں خالی جگہ ہوتی ہے)کا ایک خیمہ ہوگا جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے_*
بخاری، کتاب بداء الخلق، رقم الحدیث ۳۲۴۳، ج۲، ص۳۹۱
*جنت کے باغات* _جنتی لوگوں کو ایسے باغات عطا کئے جائیں گے جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہوں گی_جیسا کہ سورۃ الکہف میں ہے*اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ  اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ_ترجمہ کنزالایمان"بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ (اجر) ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں ان کے لئے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں_
پ ۱۵*
_ایک روایت میں  ہے کہ جنتِ عدن کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے، ایک یاقوتِ سرخ کی، ایک زَبَرْجَد سبز کی،_اور مشک کا گارا ہے اورگھاس کی جگہ زعفران ہے، موتی کی کنکریاں  ، عنبر کی مٹی جنت میں   ایک ایک موتی کا خیمہ ہوگا جس کی بلندی ساٹھ میل جنت میں   چار دریا ہیں  ، ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا، تیسرا شہد کا، چوتھا شراب کا، پھر اِن سے نہریں   نکل کر ہر ایک کے مکان میں   جاری ہیں وہاں   کی نہریں   زمین کھود کر نہیں   بہتیں  ، بلکہ زمین کے اوپر اوپر رواں   ہیں  ، نہروں   کا ایک کنارہ موتی کا، دوسرا یاقوت کا اور نہروں   کی زمین خالص مشک کی وہاں   کی شراب دنیا کی سی نہیں   جس میں   بدبُو اور کڑواہٹ اور نشہ ہوت ہے اور پینے والے بے عقل ہو جاتے ہیں  ، آپے سے باہر ہو کر بیہودہ بکتے ہیں  ، وہ پاک شراب اِن سب باتوں   سے پاک و منزَّہ ہے۔ جنتیوں   کو جنت میں   ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں   گے_
بہارشریعت حصہ اول صفحہ ١٥٦*
 وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ 
الجواب صحیح فقیــــر محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی صـــاحب قبلـــہ مــدظلـہ العـالی والنـــورانـی گـــونڈہ یـــوپـی* 
الجواب صحیح فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی  عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری 
 (۱۸)  ذی الحجہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۹) اگست ٠٢٠٢؁ء بروز اتـــوار*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...