اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســــــــــــــــوال کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلہ کے بارے میں ایک مسلم لڑکی غیر مسلم کے یہاں آنا جانا ہے اور یہی نہیں رہنا کھانا پینا بھی ہوتا ہے اور انکے اطسو میں شریک رہتی ہے ایسی مسلم عورت کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے جواب دیکر شکریا کا موقع دیں
الساںل محمد رفیق اشرفی ضلع شہڈول ام پی
_______________________________
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
حدیث شریف میں ہے*لاتواکلوھم ولا تشاربواھم، نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤنہ ان کے ساتھ پانی پیو۔کنزالعمال حدیث ۳۲۵۲۹ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ /۵۴۰*غیر مسلم چار قسم ہیں کتابی،مجوسی،مشرک،مرتد،کتابی اگر کتابی ہو ملحد نہ ہوتو اس کا ذبیحۃ اور اس کے یہاں کا گوشت بھی حلال ہے اور باقیوں کے یہاں کا گوشت حرام۔اور مرتد ان میں سب سے خبیث تر ہے اس کے پاس نشست برخاست مطلقًا ناجائزہے۔اور ساتھ کھانا ہر کافر کے ساتھ برا ہے۔پھر اگر اس میں بد مذہبی کی تہمت ہوجیسے نصرانی کے ساتھ کھانا مسلمانوں کے لئے زیادہ باعث نفرت ہو تو اس کاحکم اورسخت تر ہوگا ورنہ اس اصل حکم میں کہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ پانی نہ پیو سب برابرہیں فتاویٰ رضویہ جلد ۲۱ص ۶۶۹/۶۷۱*شرع مطہر میں ہر غیر مسلم کافر ہے یہودی ہو یانصرانی یا مجوسی یا مشرک،جو اہل کتاب کو کافرنہ جانے خود کافر ہے
ﷲتعالٰی عزوجل فرماتاہے
اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْرِکِیۡنَ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ*بیشك وہ جو کافر ہیں کتابی اور مشرک،سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے*القرآن الکریم ۹۸ /۶
پھر مسلمان کی لڑکی غیر مسلم کے یہاں کیوں کر جا سکتی ہے اور کیونکر جائز ہو سکتا ہے اس کے یہاں کھانا پینا سخت حرام،، سیدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں، کافر جانتاہے اوراسے کافر کہنا معیوب نہیں جانتا مگر اپنی مصلحت کے سبب بچتاہے تو صرف گنہگار ہے جبکہ وہ مصلحت صحیحہ تاحد ضرورت شرعیہ نہ ہو،اور اگر واقعی کافر کوکافر کہنا معیوب وخلاف تہذیب جانتاہے تو قرآن عظیم کو عیب لگاتاہے اور قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے
کلام فتاویٰ رضویہ جلد۲۱ ص۳۱۶/۳۱۷*قادیانی کافر مرتد ہیں مسلمان نہیں ان کا حکم ہندوؤں سے بھی زیادہ سخت ہے قادیانیوں سے ملنا جلنا حرام ہے جو شخص یہ جانتے ہوئے کہ فلاں قادیانی ہے پھر اس سے ملتا جلتا ہے تو وہ فاسق ہے دیوبندی یا کسی بدمذہب سے مل جل سلام کلام نشست و برخاست خوردونوش حرام ہے حدیث میں روافض کے بارے میں فرمایا نہ ان کے ساتھ اٹھوں بیٹھو نہ کھاؤ پیو نہ ان سے شادی کرو نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو نہ ان کے جنازے کی نماز پڑھو
فتاویٰ شرح بخاری جلد سوم صفحہ۲۸۳*اطسو میں شریک رہتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ ان کے پوجا وغیرہ میں شامل رہتی ہے۔حضور اعلی حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں کافروں کی پوجا میں شامل ہونا کافروں کی جے بولنا،رام لچھمن پر پھول چڑھانا،رامائن کی پوجا میں شریك ہونا،کفر ہے فتاویٰ رضویہ جلد ۶ص ۶۶۰۔لہذا ہندو کی پوجا میں شامل ہونے کی وجہ سے وہ کافرہ ہو گئی اس پر کفرکا فتوی ہےجیسا کہ فتاوی شارح بخاری میں ہے ہندؤں کے پوجا میں شامل ہونا کفر ہے
وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ
شـــــــــــرف قلــــــــــم
فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ
الجوابـــــ صحیح فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری
(۱۰) ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۹) اگست ٠٢٠٢ء بروز اتــوار

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں