السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
السوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٔلہ میں کہ غیر مقلد کا نمازِ جنازہ اگر کسی نے پڑھا دیا جان کر یا انجانے میں تو اُس پر شریعت کا کیا حکم ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
السائل توصیف الرحمن رضا نگر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السـلام ورحـمتہ اللہ وبــرکاتہ
الجــواب اللـهم ہدایة الحـق والصـواب
وہابی دیوبندی بمطابق فتاوی حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ کافر ومرتد ہیں، لہذا بکر سنی اگر وہابی امام کے پیچھے وہابی کی نماز جنازہ کی صف میں یوں ہی کسی کے دباؤ لحاظ یا چاپلوسی میں بلا نیت نماز میں کھڑا ہوگیا تو علانیہ توبہ کرے اور اگر اسے دیوبندی جانتے ہوئے مسلمان سمجھ کر اس کی نماز جنازہ پڑھی تو توبہ تجدید ایمان اور بیوی ہو تو تجدید نکاح بھی کرے اور خدا وند کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے، ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ولاتقم علیٰ قبرہ انھم کفروا باللہ ورسولہ وماتوا وھم فاسقون (سورہ توبہ، آیت نمبر "84، ترجمعہ، اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ انکے قبر پر کھڑے ہونا بیشک یہ لوگ اللہ اور رسول سے منکر ہوۓ اور فسق ہی پر مر گئے(کنزالایمان)بحـوالہ فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ نمبر 266، تو مذکور حوالہ جات سے یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ وہابی دیوبندی کے کفریہ عقائد کے بارے میں جانتے ہوئے مسلمان سمجھ کر اس کی نماز جنازہ کسی نے پڑھی تو اس نے کفر کیا اس پر لازم ہے کہ فوراً توبہ تجدید ایمان کرے اور اگر بیوی والا ہو تو تجدید نکاح کرے اور مرید ہو تو تجدید بیعت بھی کرے اگر ایسا کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ سبھی مسلمان اس سے بائیکاٹ کریں
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبـہ گدائے حضور تاج الشریعہ
محمـد عارف رضوی قادری
الجواب : صحیح فقیر محمد اختر علی واجد القادری عفی عنہ
(۱۲) ماہ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق (۲۸) ستمبر ٠٢٠٢ء بروز سنیچر

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں