اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســــوال ۔۔۔۔۔۔۔
*کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ سیدہ کا نکاح غیر کفو میں کرنا کیسا ہے
السائل...ہدایت علی بلرام پور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
_سیدہ کا نکاح اس اعتبار سے جائز ہےیہ حالت غالبًا اس صورت میں ہوتی ہے کہ عورت جس سے نکاح کرنا چاہتی ہے وہ غیر کفو ہو یعنی مذہب یا نسب یا چال چلن یا پیشہ میں ایسا کم کہ اس سے اولیائے زن کے لیے باعثننگ وعار ہو،ایسا نہ ہو تو اس درجہ بے حیائی کیوں اختیار کرے اور اس صورت میں نکاح باطل محض ہے،جب تك ولی پیش از نکاح اسے غیر کفو جان کر بالتصریح اجازت نہ دے درمختار میں ہے:(ویفتی)فی غیر الکفو(بعدم جوازہ اصلا)وھو المختار للفتوی لفساد الزمان
_غیر کفو میں نکاح کے عدم جواز کافتوٰی دیا جائے گا اور یہی فتوٰی کے لیے مختار ہے کیونکہ زمانہ میں فساد برپا ہوچکا ہے_*((درمختار کتاب النکاح باب الولی مطبع مجتبائی دہلی ١/١٩١))_اولیاء پر لازم ہے کہ جب کفو پائیں تزویج میں جلدی کریں کہ ایسے وقائع سے ننگ وبے حیائی کا در وازہ نہ کھلے_
حدیث میں ہے*↡↡↡
یا علی! لاتؤخر ثلثۃ الصلٰوۃ اذاحانت و الجنازۃ اذا حضرت والایم اذا وجدت لھا کفوا_اے علیؓ عنہ تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو نماز میں جب وقت ہو جائے،جنازہ میں جب حاضر ہوجائے،اور غیر شادی شدہ لڑکی کے نکاح میں جب اس کا کفو مل جائے_
((السنن الکبرٰی للبیہقی باب اعتبار الکفاءۃ دارصادر بیروت ٧/١٣٣))*((فتاویٰ رضویہ جلد ١١/ص/٢٦٤))
وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ
ماشاءاللہ بہت عمدہ جواب*الجوابـــــ صحیح
فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی
(۱) ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۱) اگست ٠٢٠٢ء بروز جمعہ مبارڪ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں