اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
السوال، کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ اکھاڑا کھیلنا یعنی وہ اکھاڑا اس طرح ہوتا ہے کے اس میں بہت سی عورتیں اکٹھا ہوتی ہے اور پردے کا انتظام نہیں ہوتا اور اس اکھاڑہ میں مرد حضرات بھی بہت ہوتے ہیں باہر سے ٹیم بن کے لوگ کھیلنے آتے ہیں اور کھیل دکھا کر ان لوگوں کو انعام دیا جاتا ہے اور اس کھیل میں تلوار وغیرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے کبھی چوٹ بھی لگ جاتی ہے۔ تو ایسا اکھاڑہ کرنا اور اس میں پیسہ دینا کیسا ہے مہربانی ہوگی جواب عنایت فرمائیں
السائل؛ محمد انصار رضا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب اکھاڑا کھیلنا جس میں بہت ساری عورتیں جمع رہتی ہیں محرم غیر محرم سب رہتے ہیں چاہیے کہ اس کھیل سے پرہیز کریں جس میں ڈھول کے ساتھ کھیلا جاتا ہے حرام ہے۔جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت میں ہے، ڈھول تاشے طرح طرح کے باجے بجانا بجوانا کھیل تماشہ کرنا جلوس میں مرد و عورت کا باہم غلط مسلط ہونا سخت ناجائز و حرام ہے، فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٥٩، حضور سیدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں گنجفہ تاش حرام مطلق ہیں کہ ان میں علاوہ لہوولعب سلامت یہ ہے کہ مطلقًا منع، فتاوی رضویہ جلد٢٤ صفحہ١٤١، لہذا اکھاڑے میں۔لہوولعب ہوتا ہے اکھاڑے میں۔ڈھول بجاناممنوع ہے حرام، اکھاڑے میں غیر محرم بکثرت آتے جاتے ہیں اوروُہ ایسی ہی حالت میں رہتی ہے اور شوہر ان امور پر مطلع نہیں کرتا تو وہ خود دیوث ہے فاسق ہے، فان الدیوث کما فی الحدیث وکتب الفقہ کالدر وغیرہ من لایغار علی اھلہ١، حدیث اور کتب فقہ مثل درمختار وغیرہ کے مطابق دیّوث وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی پر غیرت نہیں کھاتا، درمختار ، باب التعزیر ، مطبوعہمطبع مجتبائی دہلی ، ١/٣٢٨، لہذا ایسے اکھاڑ ے میں جانا حرام جہاں عورتیں بے پردہ ہوتی ہیں فتاویٰ رضویہ میں ہے کھیل تماشے لہو ولعب کی مجلس بھی فسادیوں کے لئے آراستہ کی ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ قبول نہ کرنا واجب ہے کیونکہ گناہ سے روکنے کا عمل ا س کے لئے مقدم ہے، فتاویٰ رضویہ جلد ٢١ص٦٠۹، لہذا اس اکھاڑے میں پیسہ دینا بھی حرام۔جس کھیل سے خون ہوسکتا ہے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیر محمد اسمعیل خان امجدی عفی عنہ گونڈہ پوپی
(۲) ماہ محرم الحرام مبارڪ ہو۔۱۴۴۲ھ مطابق (۲۲) اگست ٠٢٠٢ء بروز سنیچر

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں