اَلسَّــلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتـُــہ اللّٰہِ وَبَـرْکَـاتُـہْ
الســــــــــــــــوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسلئہ ذیل میں کہ زید مسجد کا مؤذن ہے اور امام کے غیر موجودگی میں امامت بھی کرتا ہے اور امام باڑہ کامجاوری بھی کرتا ہے تو کیا زید پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
السائل: محمد عباس علی برکاتی چیرواں شریف گریڈیہ جھارکھنڈ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ
الجواب بــعون الملڪ الوالھاب
امام باڑہ چوک پر شیر نی یا کھانا رکھ کر فاتحہ کرنا جائز نہیں۔چاہے موذن ہو یا مجاور ہو یا امام۔جیسا کہ فتاویٰ فقیہ ملت میں تحریر ہے*تعزیہ چوک پر کھانا رکھ کر فاتحہ کرکے ایک امر ناجائز میں جاہلوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور سمجھانے پر بھی نہیں مانتا سخت گنہگار مستحق عذاب ہے اس کی اقتدا میں نماز مکروہ تحریمی ہے چاہیے کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں
*فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 53*البتہ اگر عام طور پر کوئی فاتحہ دلواتا ہے اور وہ محرم کا ہی مہینہ ہو اور تعزیہ یاچوک کے قریب ہی کیوں نہ ہو موذن صاحب کا فاتحہ پڑھنا جائز ہے۔اور نماز میں کوئی خلل نہیں اور اگر چوک امام باڑہ کے لیے مخصوص مجاور ہیں مؤذن صاحب تو اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے
وَالــلّٰـہُ اَعْــلَمُ بِـــاالصَّـــــوَابـْــــ( کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ فـقــیـر مـحــمـد امتـیـازقــمـررضــوی امـجـــدی عـفی عنــہ گــریڈیـہ جھـار کھنـڈ
الجواب صحیح والمجیب نجیح*فقیــــر محمـــــد اسمــــاعیـــل خـــان القــــادری الـرضـــوی الامجـــــــدی صـــاحب قبلـــہ مــدظلـہ العـالی والنـــورانـی گـــونڈہ یـــوپـی
الجواب صحیح والمجیب نجیح*فــقیر مــحـمد ابـراہــیم خـان امـجــدی قــادری رضــوی عــفی عــنـہ بـلرامپـــوری
(۲۵) ذی الحجہ ۱۴۴۱ھ مطابق (۱۶) اگست ٠٢٠٢ء بروز اتوار

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں