السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ السوال۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان کرام اس مسلے میں ھندہ کو بچپنے میں دو عورت نے
کبھی، کبھار دودھ پلایا، ہے کوئی اجرت طے نہیں ہوا تھا اب ہندہ بڑی ہو گیی ہے اب
وہ دودھ بخشوانا چاہتی۔ ہے کیا دودھ، بخشوانا ضروری ہے اور وہ عورتیں بغیر کچھ
اجرت لیے بخشنے کو تیار نہیں ہے کیا اجرت دینا ضروری ہے کیا۔ اجرت دیکر دودھ،
بخشوانے سے دودھ، بخشا جاییگا برائے مہربانی مکمل وضاحت ومدلل جواب
سےنوازیں کرم ہوگا
محمد عالمگیر اطہر دمکا جھارکھنڈ موبایل نمبر 7979009970
9572165393
_____________________________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب
دودھ پلانے والی عورت نے اگردوسال کے اندر دودھ پلائی ہے تو اجرت لے سکتی ہے
اجرت کا مطالبہ لڑکی کے باپ سے کرسکتی ہے نہ کہ لڑکی سےاگر لڑکی کا باپ فوت
ہوگیااورکسی وجہ سے اجرت نہ دے سکا تو اس کا مطالبہ لڑکی کے باپ کے وارثین سے
کیاجائے گا اور وارثین پر لازم ہے کہ اسے ادا کریں دودھ پلانے والی کو یہ اجرت جبرا لینے
کا حق حاصل ہے جیساکہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ تحریرفرماتے ہیں"
عورت کو طلاق دے دی اس نے اپنے بچے کو دو برس کے بعد تک دودھ پلایا تو دو برس
کے بعد کی اجرت کا مطالبہ نہیں کر سکتی یعنی لڑکے کا باپ اجرت دینے پر مجبور نہیں
کیا جائے گا اور دو برس تک کی اجرت اس سے جبراً لی جا سکتی ہے۔"فتاوی عالمگیری ،
بحوالہ بہار شریعت حصہ ہفتم
البتہ دودھ پلانے کے بدلے میں اجرت لے سکتی ہے اجرت طۓ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو
اور اگر دودھ پلانے والی بخش دے کے جا تمہیں کوئی اجرت نہیں لگے گا تمہارے بچے
کو بغیر اجرت دودھ پلائی اس کی کوئی اجرت نہ لونگی تو یہ بخشوانا ہوا جو دودھ
پلانے کی اجرت نہیں لے رہی ہے لیکن یہ خیال رہے اجرت دے دینے سے یا بخشوانا
لینے سے ماں کا رشتہ ختم نہیں ہوتا جس بچے یا بچی کو جس عورت نے دودھ پلائی
ہے وہ اس کی ماں ہوئی
بقولہ تعالٰی وامھتکم التی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ ولم یذکر البنت والعمۃ
کما ذکرھما
الله تعالٰی نے دودھ پلانے والی تمھاری ماؤں اور تمھارے رضاعی بھائیوں کو ذکر کیا ہے
اور بیٹی اور پھوپھی کو ذکر نہیں کیا جس طرح ان کو نسب میں بیان فرمایا ہے
فتاویٰ رضویہ جلد جدید11
رسالہ معزز خواتین کو جہنم کے کتوں کے نکاح میں نہ دیتے ہوئے انہیں رسوائی سے
بچانا
عــــہ۱: حیث قال یعنی شیر دہندہ وشوہرش بافرزندان وپدران ومادران وخواہران ایشاں
خویش خوارہ شوند وشیر خوارہ وزنش یا شوہرش بافرزندان خویش شیر دہندہ و
شوہرش شوند ١٢
جامع الرموز للقہستانی کتاب الرضاع مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١/٥٠١
خلاصہ کلام جس نے بچی کو مدت رضاعت میں دو سال کے اندر دودھ پلایا ہے وہ لڑکی
کے باپ سے اجرت کا مطالبہ کرے لڑکی سے نہیں کیونکہ بچی کی ذمہ داری باپ کی ہے
کہ اسے دودھ پلوائے اگرکسی وجہ سے لڑکی کے کاباپ اجرت نہ دے سکا اور وہ انتقال کر
گیا تو اس اجرت کا مطالبہ اس کے وارثین سے کیاجائے اور دودھ پلانے والی کو اختیار
ہے اجرت جبرا لینے کا اور اسے معاف کرنے کا بھی اختیار ہے
واللہ اعلم باالصواب
(کتہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی! عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا!
؛الجواب صحیح فقیر محمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری یوپی!
10/2/2021

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں