جس کی قراءت صحیح نہیں اس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑھانا کیسا ہے



 السلام علیکم ورحمة الله وبركاته السوال بعد سلام عرض یہ ہےکہ


غیر عالم کے پیچھے جس کی قرأت درست نہیں اس کے پیچھے عالم دین کی نماز ہوگی

 یا نہیں؟ مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں.

سائل شاھد رضا قادری رضوی

_____________________________________________________________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب 

اگر وہ صحیح القراءت نہیں ہے یعنی ایسی غلطی کرتا ہے جس سے معنی بدل جاتا ہے

 مثلا حرف میں تبدیلی جیسے ع،ط ،ص، ح،ظ،کی جگہ ا، ت ،س،ہ،ز، پڑھتا ہے یا

 نستعین کو نستا عین یا انعمتَ کو انعمتُ پڑھتا ہے وعلی ہذاالقیاس تو ایسی صورت

 میں خود اس کی نماز باطل ہے تو جب اپنی نہ ہوئی  تو اس کے پیچھے کسی کی نہ

 ہوگی  

اور اگر ایسی غلطی کرتا ہے کہ کسی وجہ سے حرف صحیح ادا نہیں کرسکتا تب بھی

 یہی حکم ہے کہ اس کے پیچھے صحیح پڑھنے والے کی نماز باطل ہوگی اور اگر

 صحیح پڑھتاہے مگر تجوید کے واجبی امور کو ادا نہیں کرتا کہ جن امور کا ترک گناہ ہے

 جب بھی ایسے شخص کو امام نہ بنایا جائے اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے ۔ 


ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوم میں ہے۔


اور حدیث شریف پاک میں ہے ۔رب قارئ القرآن وھو لا عنہ ۔ اھ 

یعنی بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں جو غلط پڑھتے ہیں توقرآن ان پر لعنت بھیجتا ہے ۔ 


ماخوذ فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ ۱۳۵


لہذا ان حوالہ جات بالا سے صاف ظاہر وباہر ہوگیا کہ جس کا قراءت درست نہیں ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے 



واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


کتبہ العبد محمد مشاہد رضا القادری الرضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا۔


الجواب صحیح

مفتی عتیق اللہ فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ صاحب قبلہ 10/2/2021


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...