السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس میں مسلہ میں
ہماری مسجد مین شہر میں ہے اس کے اردگرد کچھ مزدور رہتے ہیں انکا پانی ختم
ہوجاتاہے تو مجبوری کے تحت پانی بھر کے لے جاتے ہیں کیا انکا پانی لیجا نا ٹھیک ہے یا
نہیں
شکیل احمد جموں کشمیر ضلع راجوری
_____________________________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب
جو پانی مسجد کے ٹنکی یاحوض میں جمع کیا ہے وہ خاص مسجد کی ہی ملک ہے
اوراسے مسجد ہی کے مصارف مثلاً وضو وغیرہ میں ہی استعمال کرنے کی اجازت ہے
اور اسے اپنے گھر کے برتن میں بھر کر لےجانا اوراپنے استعمال میں لانا حرام وگناہ
ہے کہ یہ مسجد کی ملک پر بے جادست درازی اورزیادتی ہے
فتاو رضویہ میں ہے
*المراد بہ الماء المسمل بمال الوقف کماء المدارس والمساجد والسقایات التی تملؤ من اوقافھا فان ھذاءالماء یملکہ احد ولا یجوز صرفہ الا الیٰ جھتہ عینھا الواقف و ھذا ھوحکم الوقف اھ*
(فتاوی رضویہ ج 1 ص 419)
اور مسجد کا موٹر اپنے لئے چلا کر پانی بھرنا اور اپنے استعمال میں لانا اور زیادہ حرام
وگناہ ہے لہذا اگر مکان میں مسجد سے گرم یا ٹھنڈا پانی لے جانا حرام ہے چاہے وضو کے
لئے ہی کیوں نہ ہو کہ یہ بہت بڑی دھاندھلی بھی ہے
*فتاوی مرکزتربیت افتاء ج دوم ص 190 باب المسجد*
٢٤ جمادی الآخر یکشنبہ ١٤٤٢ہجری مطابق ٧ فروری ٢٠٢١ء
واللہ اعلم بالصواب
*کتبہ فقیر محمدوسیم القادری رئیگائیں اترولوی*
*خادم مصباح العلوم نعیمیہ کھمریا*
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری انڈیا 10/2/2021

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں