السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرا ایک سوال ہے۔۔۔۔۔۔
جوعورت بغیر عذر شرعی یہ آپریشن کر لیتی ہیں بچہ نہ ہونے
کے لیے ۔۔۔۔تو ایسی عورت کے بارے حکم شرعی کیا ہے۔۔بحوالہ جواب عنایت
فرماں کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
_____________________________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ الله تعالی وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب
بغیرعذرشرعی آپریشن کروانا کہ بچے نہ پیدا ہوں ناجائز وحرام ہے اگر اس عورت کا
محض اس خوف سے آپریشن کرانا ہے کہ زیادہ بچے ہوجائیں گے تو کون پڑھائے لکھائے
گا کون خرچہ اٹھائے گا اس طرح کا خیال کرنا اور سوچنا حماقت اور جہالت ہے اس
لئے کہ اللہ تعالی سب کو روزی دینے والا ہے اسی کا ارشاد ہے(نحن نرزقکم وایاھم)
پارہ 7 سورہ انعام آیت 151:
اور مذکورہ طریقہ(آپریشن)اپنانے کی صورت میں امت مسلمہ کی زیادتی کو روکنا ہے
حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زیادتی کو پسند فرمایا۔حدیث شریف
میں ہے *تزوجواالودودالولود فانی مکاثر بکم الامم* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مشکوة شریف ص 267)
لیکن اگر جانتی ہے کہ حمل ٹھہرنے کی وجہ سے اس کی صحت خراب ہو جائے گی یا
چھوٹا بچہ ہے جس کی تندرستی دودھ نہ ملنے کی بنا پر خراب ہوجائے گی تو اس قسم
کی مجبوری کے تحت وقتی طور پر حمل نہ ٹھہرنے کی دوا وغیرہ کا استعمال درست ہے
اور ہمیشہ کے لئے بچہ پیدا کرنے کی طاقت ختم ہوجانے کے لئے ایسی چیز کا عمل میں
لانا حرام وناجائز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(فتاوی فقیہ ملت ج 2 ص333 فقیہ ملت اکیڈمی)
واللہ اعلم بالصواب
*فقیر محمدوسیم القادری اترولوی*
*مصباح العلوم نعیمیہ کھمریا*
*الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان *امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری* 10/2/2021

کوئی تبصرے نہیں:
نئے تبصروں کی اجازت نہیں ہے۔