اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت آپکی بارگاہ میں سوال ہے
کہ حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نام پاک پر انگوٹھے چومنا اور حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر کھڑے ہو کر سلام پڑھنا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عطا فرمائے بہت مہربانی ہوگی آپکی
ناظر حسین رضوی انڈیا یوپی
__________________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔الجواب بعون الملک الوہاب۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نام پاک سن کر انگوٹھا چومنا مستحب ہے محدثین اس پر متفق ہیں اور صحابہ کرام کا اس پر عمل ہے ۔
حدیث شریف میں ہے ،، روی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انه قال من سمع اسمى فى الاذان ووضع ابها ميه على عينيه فا نا طالبه فى صفوف القيمة و قائده الى الجنة ،،
حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے مروی ہے ،، کہ جو شخص ہمارا نام اذان میں سنے اور اپنے انگوٹھے آنکھوں پر رکھے تو ہم اس کو قیامت کی صفوں میں تلاش فرمائیں گے اور اس کو اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے ۔
تفسیر روح البیان میں ہے ،، وضعف تقبیل ظفری ابھا ميه مسبحيه والمسع على عينيه عند قوله محمد ا رسول الله لانه لم يثبت فى الحديث المر فوع لكن المحديث اتفوا على ان الحديث الضعيف يجوز العمل به فى الترغيب والترهيب ،، . محمد رسول الله کہنے کے وقت اپنے انگوٹھے کے ناخنوں کو مع کلمے کی انگلیوں کے چومنا ضعیف ہے کیونکہ یہ حدیث مرفوع سے ثابت نہیں لیکن محدثین اس پر متفق ہیں کہ حدیث ضعیف پر عمل کرنا رغبت دینے اور ڈرانے کے متعلق جائز ہے۔
فتاوی شامی میں ہے ،، اذان کی پہلی شہادت پر یہ کہنا مستحب ہے ،،صلی اللہ علیک یارسول اللہ،، اور دوسری شہادت کے وقت یہ کہے،، قر۔ۃ عینی بک یا رسول اللہ،، پھر اپنے انگوٹھوں کے ناخن اپنی آنکھوں پر رکھے اور کہے ،،اللھم متعنی بالسمع والبصر،، تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس کو اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے ۔
سنیوں کا عقیدہ ہے تعظیم نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے لئے کھڑے ہوکر سلام پڑھتے ہیں ہیں بلکہ اگر کسی کو اللہ توفیق دے اور ہر ذکر کھڑے ہوکر کرے اور میلاد شریف از اول تا آخر کھڑے کھڑے پڑھا کرے تو ہم منع نہیں کریں گے خواہ ہر وقت کھڑے ہو یا بعض اوقات ہر طرح جائز ہے اعلی حضرت قدس سرہ کتب حدیث کھڑے ہو کر پڑھایا کرتے تھے دیکھنے والوں نے ہم کو بتایا کہ خود بھی کھڑے ہوتے پڑھنے والے بھی کھڑے ہوتے تھے ان کا یہ فعل بہت ہی مبارک تھا مگر چونکہ از اول تا آخر کھڑا ہونا عوام کو دشوار ہوگا اس لئے صرف ولادت کے ذکر کے وقت کھڑے ہو جاتے ہیں نیز بیٹھے بیٹھے بعض لوگ اونگ بھی جاتے ہیں کھڑا کرکے صلاۃ وسلام پڑھ لوں تاکہ نیند جاتی رہے۔
۔ہم لوگ نہ قیام میلاد کو واجب سمجھتے ہیں نہ کسی عالم دین نے لکھا کہ قیام واجب ہے اور نہ تقریروں میں کہا عوام بھی یہی کہتے ہیں کہ قیام اور میلاد شریف کار ثواب ہے پھر آپ ان پر واجب سمجھنے کا کس طرح الزام لگاتے ہیں اگر کوئی واجب سمجھے بھی تو اس کا یہ سمجھنا برا ہوگا نہ کہ اصل قیام حرام ہو جاوے نماز میں درود شریف پڑھنا امام شافعی کے نزدیک ضروری سمجھتے ہیں احناف غیر واجب تو ہمارے نزدیک انکا یہ قول صحیح نہ ہوگا رہا یہ کہ مسلمان اس کو پابندی سے کرتے ہیں اور نہ کرنے والے کو وہابی کہتے ہیں یہ بالکل درست ہے۔
مشکوۃ باب المقصدالعمل میں ہے ،، احب الاعمال الی اللہ ادمھا وان قل اللہ،،۔کے نزدیک اچھا کام وہ ہے جو کہ ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو ہر کار خیر کو پابندی سے کرنا مستحب ہے
بحوالہ جاء الحق
واللہ اعلم
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھار کھنڈ انڈیا 9113471871
الجواب صحیح العبد ابوالفیضان محمد عتیق اللہ فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں