وہابیہ سے نکاح کرنا کیساہے نیز ملزم کا قول اس کے حق میں کیاہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام

 مسلۂ ذیل میں کہ۱: جس کے اوپر کوئی الزام ہو تو اسکے خود کی گواہی سے وہ بری الذمہ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟۲

:زید دیوبندی ہے اسی کے گاؤں والے شرعی ثبوت دے چکے ہیں اور اسکا


 بایکاٹ کیے ہوئے ہیں زید نے اپنی بیٹی

 کا نکاح بکر (سنّی) سے کیا ہے اب بکر کے گاؤں

 والے یہ مسئلہ اٹھائے

 کہ تم نے ایک دیوبندی کے بیٹی سے شادی کی ہے تو بکر اپنی بچاؤ کے لیے ایک عالمِ دین

 کے پاس گیا تو اُن عالمِ

 دین نے بکر کے سسر سے فون پے بات کیے کی بتا تیرا عقیدہ کیا ہے اس نے کہا کی میں

 سنّی ہوں اسی پے اُن

 عالم صاحب نے یہ مسئلہ حل کر دیا کی زید سنّی ہے تو دریافت طلب یہ ہے کی زید کے

 اس گواہی سے یہ ثابت

 ہوتا ہے کی وہ سنّی ہے ؟ اور خالص زید کے گواہی سے یہ مسئلہ حل کر دینا فیصلہ کر

 دینا کیسا  ہے ؟ 

اور جو عالم ایسا کرے اُس پر کیا حکمِ شرع نافظ ہوگا جبکہ خود بکر که چکا ہے کی

 میری شادی دیوبندی کے

 یہاں ہوئی ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں

مدلّل جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت

 فرمائیں بہت مہر بانی ہوگی
المستفتی : حافظ و قاری اجمیر علی (لکھنوی)
________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب

(١)کسی پر بغیر ثبوت شرعی کے الزام لگانا جائز نہیں اور جب ثبوت شرعی موجود ہو تو


 ملزم کے قول کا اعتبار نہیں۔


(٢)زید کے عقائد اگر مذہب اہلسنت والجماعت کے خلاف ہے اور وہ پیشوان

 دیابنہ کو مسلمان سمجھتاہے 

اور ان کی کفری عبارات سے واقف بھی ہے تو بلاشبہ زید کافر ومرتد ہے صرف اس کے

 کہنے سے اسے سنی نہ 

مانا جائے گا جب تک کہ اپنے عقائد باطلہ سے توبہ کرکے سنی صحیح العقیدہ مسلمان نہ

 ہوجائے

جیساکہ حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان

 تحریر فرماتے ہیں"دیوبندی

 عقیدہ والوں کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ یہ

 لوگ اسلام سے خارج ہیں،

 اور فرمایا:من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر 

جو ان کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ ان

 کی کوئی بات نہ سنی جائے نہ ان کی کسی بات پر عمل کیا جائے جب تک اپنے علماء سے

 تحقیق نہ کرلیں

۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:وایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتونکم 

ان سے دور بھاگو اور انھیں اپنے سے دور کریں۔ کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں

 وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں"

فتاوی رضویہ جلد ٩,ص١٥٦مطبوعہ دعوت اسلامی

بکر کا زید کی لڑکی سے شادی کرنا جائزنہیں البتہ زیدکی

 لڑکی اگر توبہ کرکے سنی صحیح العقیدہ ہوگئی ہے پھرنکاح کی ہے اور وہابیوں سے اس 
کا کوئی تعلق نہیں

 تواس صورت میں نکاح درست ھےاگروہابیت سے توبہ نہیں کی تو وہ وہابیہ ہے اس کے

 ساتھ نکاح جائز نہیں 

حضورفقیہ ملت علیہ الرحمہ تحریرفرماتے فرماتے ہیں "وہابیہ کے ساتھ شادی جائزنہیں

 پھر اگر

 وہابیہ بمعنی مرتدہے تونکاح باطل ہے اوراگرلڑکی صرف گمراہ ہے تواس صورت میں نکاح 

منعقدہوجائے گامگرگمراہ

 لڑکی سے رشتہ ازدواج قائم کرنا جائز نہیں اوروہابی کےیہاں شادی کرنا اس کے یہاں

 بارات جانا

 اورکھاناپینابھی جائزنہیں جن لوگوں نے ایساکیا وہ گنہگار ہوئے توبہ کریں صحیح مسلم 

شریف کی حدیث ہے

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان مرضوا فلاتعودوھم وان


 ماتوا فلاتشھدوھم وان


 لقیتموھم فلاتسلموا علیھم ولاتجالسوھم ولاتشاربوھم ولاتواکلوھم ولاتناکحوھم

 ولاتصلواعلیھم ولاتصلوا معھم ۔

یعنی حضرت ابوھریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ سرکار اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ

 وسلم نے فرمایا کہ

 بدمذہب اگر بیمار پڑجائیں توان کی عیادت مت کرو۔اگرمرجائیں توان کے جنازہ میں

 شریک نہ ہو۔ان سے

 ملاقات ہوتوانھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھو ان کےساتھ پانی نہ پیو۔ ان کے

 ساتھ کھانا نہ کھاؤ۔ ان کے

 ساتھ شادی بیاہ نہ کرو۔ان کی جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔اس 

حدیث کو ابوداؤد ابن ماجہ

 اورعقیل ابن حبان نے کیاہے"

وہابی کی لڑکی بھی وہابیہ بمعنی مرتدہ ہے تونکاح منعقد

 نہ ہوگاجیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلداول مصری صفحہ ٢٦٣میں ہے۔ لایجوزالمرتدان یتزوج 

مرتدۃ ولامسلمۃ 

ولاکافرۃ اصلیۃ وکذالک لایجوز نکاح المرتدمع احدکذا فی المبسوط یعنی مرتدکے لئے 

مرتدہ مسلمہ کافرہ اصلیہ

 کسی سے شادی کرنا جائزنہیں اورایسے ہی مرتدہ کے لئے کسی سے نکاح کرنا جائز نہیں

 ایساہی مبسوط میں ہے اور

 اگروہابی کی لڑکی کا طریقہ کار وہابیوں جیساہے مگروہابیوں کے کفریات قطعیہ کی اسے

 خبرنہیں

  یاباپ وہابی لڑکی سںنیہ ہے توان صورتوں میں نکاح ہوجائے گا مگروہابیوں کے ساتھ

 کسی قسم کا 

رشتہ جائزنہیں کہ سنیوں کے لئے زہر قاتل ہے بہت سے رشتے داریوں کے سبب وہابی

 ہوگئے"

فتاوی فیض الرسول جلددوم صفحہ ٥٢٥

اگر زید کی لڑکی بغیر توبہ کئے نکاح کی ہے اور وہابیوں کے عقائد سے بے خبر ہے تو اسے

 وہابیوں کے عقائد بتائیے

 جائیں تاکہ ان سے اپنے تعلق مکمل ختم کرلے اور اگر وہابیوں کے عقائد سے واقف ہے تب

 تو وہ 

مرتدہ ہے نکاح ہوا ہی نہیں محض زناہے بکر فوراََ اس سے جدا ہوجائے علانیہ توبہ

 واستغفار کرے

رہی بات جس عالم سے بکر نے سوال پوچھا اور عالم نے اس کے سسر سے بات کی سسر

 بولا کہ میں سنی ہوں تو

 عالم پر کوئی حکم نہ ہوگا اس لئے کہ طرز سوال سے ظاہر ہے کہ مسئلہ پوچھنے والے نے

 زید کے بارے میں

 مکمل خبر نہ دی بلکہ صرف یہی کہا کہ وہ سنی ہے لیکن لوگ ایسا کہتے ہیں۔

خلاصہ جو احکام بیان کئے گئے بکر پر لازم ہے کہ اس پر مکمل عمل کرے ورنہ مسلمانوں

 پر لازم ہے کہ اس کا بائیکاٹ کریں

قال اللہ تعالیٰ
واماینسینک الشیطن فلاتقعد بعدالذکری مع القوم الظالمین (سورہ انعام) 


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

 کتبہ فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرامپوری انڈیا/

الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعیل
 خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا 6/2/2021

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...