اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں علما۶ اہلسنت مسلہ۶ میں کہ اذان کا جواب دینا واجب ہے یا سنت
حی علی الصلوت حی علی الفلاح کا بہتر جواب کیا ھے مسجد کے اندر سے یا باہر سے
جواب دینے میں کوی فرق ھے حضرات جواب عطا فرمادیں عین کرم ہوگا محمد
خورشيد رضا ازہری گولا
_______________________________________________________________________
وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اذان کا جواب زبان سے دینا سنت ھے اور قدم سے چل کر مسجد وجماعت کی جگہ
حاضر ہونا ہر مکلف جماعت غیر معذور پر
واجب ہے ۔
جیسا کہ رد المحتار میں ھے
*” و اللذی ینبغی تحریرہ فی ھٰذا المحل ان الاجابة باللسان مستحبة وان الاجابة بالقدم
واجبة الخ“*
رد المحتار علی الدر المختار ج ٢/ ص ٦٩ باب
الاذان زکریا بکڈپو
اور حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ اپنی
کتاب بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں ۔
کہ حدیث شریف میں ابن عسِاکرنے روایت کی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے گروہ
زنان ! جب تم بلال کو اذان واقامت کہتے سنو تو جس طرح وہ کہتا ہے تم بھی کہو کہ
اللہ تعالی تمہارے لیے ہر کلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکی لکھے گا اور ہزار درجے بلند فرمائے
گا اور ہزار گناہ محو کرے گا ۔
اور صحیح مسلم میں امیر المومین حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول کریم
ﷺ فرماتے ہیں ۔ جب مؤذن اذان دے تو جو شخص اس کی مثل کہے اور جب وہ ۔ حی
علی الصلاۃ حی علی الفلاح کہے تو یہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہے جنت میں داخل
ہوگا ۔
ماخوذ بہار شریعت حصہ سوم صفحہ ۴۶۴/ ۴۶۵
واللہ ورسو اعلم بالصواب
کتبہ العبد محمد مشاہدرضا قادری رضوی
عفی عنہ گونڈہ پوپی
الجواب صحیح فقیرمحمد مشاہد رضا
حشمتی عفی عنہ
الجواب صحیح فقیر محمد اسماعیل خان
امجدی عفی عنہ
الجواب صحیح فقیر عتیق اللہ فیضی عفی
عنہ
16/2/2021/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں