السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالی و برکاتہ بعدسلام یے عرض ہے کہ بزرگان دین کی قدم
بوسی کیسی ہیں سائل :عرفان خان قادری پتہ :غیبن شاہ درگاہ روڈ نارائن نگر گھاٹ
کوپر (مغربی) ممبئ مہاراشٹرا الہند 400086
_______________________________________________________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوہاب
بزرگان دین اولیاء کاملین اولیاء اللہ کے ہاتھ پاؤں چومنا بوسہ دینا جائز ہے یعنی قدم
بوسی جائز ہے وعن ذراع وکان فی وفد عبدالقیسی قال لما قدمنا المدینۃ فجعلنا نتبا
در من رواحلنا فنقبل ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ورجلہ ۔
حضرت ذراع سے مروی ہے اور یہ وفد عبد القیس میں تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ
منورہ میں آئے تو اپنی سواریوں میں اترنے میں جلدی کرنے لگے بس ہم حضور صلی اللہ
علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پاؤں چومتے تھے۔مشکوۃ باب الکبائر وعلامات النفاق میں حضرت صفوان ابن عسال سے روایت ہے ۔
فقبلا یدیه ورجليه .، پس انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پاؤں چومے
بحوالہ جاء الحق لہذا بزرگان دین کی قدم بوسی جائز ہےبہار شریعت حصہ شانزدہم میں ہے
والدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے، حدیث میں ہے جس نے اپنی والدہ کا پاؤں
چوما تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کوبوسہ دیا
صفحہ448
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری یوپی انڈیا
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقیرمحمد اسماعیل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی انڈیا
17/2/202/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں