اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
ایک نظر ادھر بھی
سوال، قبرستان کی جگہ پر مدرسہ بنوا سکتے ہیں کی نہیں جواب عنایت فرماٸیں کرم نوازش ہوگی خاکپاۓ اولیا محمداظہار اشرف
۔..............................................................
وعلیکم السلام ورحمت اللہ و برکاتہ
*الجواب بعون الملک الوھاب
قبرستان کی جگہ پر مدرسہ مسجد بنانا جائز نہیں جیساکہ فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے قبرستان جو دفن میت کے لئے وقف ہوا کرتا ہے اسے دوسرے کام میں لانا جائز نہیں (فیاویٰ فقیہ ملت ج 2 ص 185 ) اور فتاویٰ علیمیہ میں اسی طرح کا سوال ہوا ہے کہ قبرستان میں مدرسہ مسجد مکان بنانا درست ہے یا نہیں تو اس کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں کہ وقفی قبرستان میں ان چیزوں کا بنانا ناجائز و حرام ہے اور جو مسجد یا مدرسہ اس پر بن گیا ہے اسے منہدم کردیا جائے کہ یہ تصرفات ناجائز ہیں اور وقف کا اپنے حال پر باقی رکھنا واجب ہے (فتاویٰ علیمیہ ج 2 ص 517 قبرستان کا بیان )
واللہ اعلم باالصواب
کتبہ محمد ریحان رضا رضوی
فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج
ضلع کشن گنج بہار انڈیا موبائل نمبر 6287118487
الجواب صحیح والمجیب نجیح : محمد اختر علی واجد القادری عفی عنہ، خادم شمس العلماء دار الافتاء و القضاء،جامعہ اسلامیہ میراروڈ ممبئی
9/1/2021/

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں