السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
حضرات میرا ایک سوال ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا سوال ہوگا یا خون کا ؟ اہل علم جواب دیکر شکریہ کا موقع ضرور دیں ۔
المستفتی : محمد عاطف رضا____۔
__________________________________
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہالجواب بعون الملک الوھاب۔ احادیث مبارکہ میں دو چیزوں کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ جن کے بارے میں قیامت کے دن سب سے پہلے سوال ہوگا ( 1 ) نماز ( 2 ) ناحق خون ۔ جیسا کہ فرمان مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم ہے : قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون بہانے کے متعلّق فیصلہ کیا جائے گا ۔ جبکہ ایک فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم میں ہے : سب سے پہلے بندے سے نماز کا حساب لیا جائے گا عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أول ما يحاسب به العبد الصلاة و أول ما يقضى بين الناس في الدماء " اھ ( السنن الکبری للنسائی ج 3 ص 417 مطبوعہ : مؤسسۃ الرسالۃ ) اور ابن ماجہ میں ہے کہ " أخبرهم أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن أول ما يحاسب به العبد المسلم يوم القيامة، الصلاة المكتوبة " اھ ( سنن ابن ماجہ ج 1 ص 458 مطبوعہ : دار احیاء الکتب العربیہ ) مذکورہ دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض معلوم ہو رہا ہے کیونکہ پہلی حدیث میں ہے کہ قیامت میں سب سے پہلے خون کا سوال ہوگا اور دوسری حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے نماز کا سوال ہوگا ان دونوں حدیثوں کے درمیان تعارض دور فرماتے ہوئے حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " خیال رہے کہ عبادات میں پہلے نماز کا حساب ہوگا اورحقوق العباد میں پہلے قتل و خون کا یا نیکیوں میں پہلے نماز کا حساب ہے اور گناہوں میں پہلے قتل کا " اھ ( مراٰۃ المناجیح ج 2 ص 306 )واللہ اعلم بالصواب
کتبہ کریم اللہ رضوی عفی عنہ
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی الجواب صحیح فقیرمحمد اسماعيل خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی19/12/2020//سنیچر

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں