السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال کیافرماتےہیں علماءدین ومفتیان شرع متین اس مسٸلہ میں کہ مجھے 15 سال سے پیشاب کے قطرے آتے ہیں اس بماری کا علاج بھی نہیں ہو رہا ہے نماز پڑھتا ہوں اس وقت بھی پیشاب کے قطرے آتے ہیں ۔اب علماٸے کرام رہنمائی فرماٸیں کہ میری نماز اس صورت میں ہوگی یا نہیں تو میں نماز کا کیا کروں حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔
ساٸل۔پرویز احمد
_________________________________
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
وہ شخص کل جسے ہر وقت پیشاب کا قطرہ آنے کی بیماری ہے اگر نماز کا ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کرسکا تو وہ معذور ہے اس کا حکم یہ ہے کہ فرض نماز کا وقت ہوجانے پر وضو کرے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وضو سے پڑھے اس وقت پیشاب کا قطرہ آنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا پھر اس فرض نماز کا وقت چلے جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا ۔
فتاوی عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصری صفحہ ۳۸میں ہے ۔
المستحاضۃ ومن بہ سلس البول اوالستطلاق ثبطن اوانفلات الربع اور عاف دائم اوجرح لایرقا یتوضؤن لوقت کل صلوۃ ویصلون بذالک الوضوء فی الوقت ماشاء وامن الفرائض والنوافل ھکذا فی البحر ۔ ویبطل الوضؤع ند خروج الوقت المفروضۃ بالحدث السابق ھکذا فی الھدایۃ وھو الصحیح ھکذا فی المحیط فی نواقض الوضؤ ۔ اھ
ماخوذ فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ ۱۸۵
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
کتبہ فقیرمحمد مشاہد رضا قادری رضوی عفی عنہ گونڈہ پوپی
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
18/12/2020/جمعہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں