اسلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
علماے کرام کی بارگاہ میں عرض ہیکہ
حالت نماز میں گردن کا بٹن نہ بند کرنے سے نماز پوری ہوگی یا نہیں
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت کرکے شکریہ کا موقع دیں
فقط والسلام علیکم
____________________________________
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
نماز میں کرتے کا بٹن جو گردن یا سینے کے پاس موجود ہوتا ہے اس کو بند کرنا ضروری ہے تاکہ سینہ یا شانہ کھلا نہ رہے ایسا کرتے کا بٹن کھلا رکھنا مکروہ ہے۔ اگر کرتے کا بٹن بند ہے سینہ یا شانہ نظر نہیں آتااور اوپر سے شیروانی یا چغہ یا صدری بہنیں ہیں جس کا بٹن کھلا ہے تو کوئی حرج نہیں حضور اعلی حضرت عظیم البرکت امام اہلسنت تحریر فرماتے ہیں
کرتا جس کے بٹن سینے پر ہیں پہننا اور بوتام اتنے لگانا کہ سینہ یاشانہ کھلارہے جبکہ اوپر سے انگرکھا نہ پہنے ہو یہ بھی مکروہ ہے اور اگراوپر سے انگرکھا پہنا ہے یااتنے بوتام لگالئے کہ سینہ یاشانہ ڈھك گئے اگرچہ اوپر کا بوتام نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلارہا یاشانوں پرکے چاك بہت چھوٹے چھوٹے ہیں کہ بوتام نہ لگائیں جب بھی کرتا نیچے ڈھلکے گا شانے ڈھکے رہیں گے توحرج نہیں، اسی طرح انگرکھے پرجوصدری یاچغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں اُن کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے تو اس میں بھی حرج نہیں ہوناچاہئے کہ یہ خلافِ معتاد نہیں
فتاویٰ رضویہ جلد7 صفحہ 386
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ
الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
18/12/2020/جمعہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں