فاتحہ کرنا کہاں سے ثابت ہے




السلام علیکم و رحمت اللہ تعالیٰ برکاتہ
 آپ لوگوں کے بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ فاتحہ کرنا کہاں سے ثابت ہے اور جلوس نکالنا کہاں سے ثابت ہے قرآن حدیث کی روشنی میں جواب دیں 
المستفتی اقبال علی نچلول
__________________________________

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
فاتحہ کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں تفسیر روح البیان میں ہے ۔ عن حمید ابن الاعرج قال من قرا القران ختمه ثم دعا امن علی دعائه اربعة الاف ملک ثم لا یزالون ید عون لہ ویستغفرون ویصلون علیہ المساء اولی الصباح۔حضرت حمید اعرج سے مروی ہے کہ جو شخص قرآن ختم کرے پھر دعا مانگے تو اس کی دعا پر چار ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں پھر اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں اور مغفرت مانگتے رہتے ہیں شام یاصبح تک ۔ یہی مضمون نووی کتاب الاذکار کتاب تلاوت القران میں ہے معلوم ہوا کہ ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے اور ایصال ثواب بھی دعا ہے لہذا اس وقت ختم پڑھنا بہتر ہے سورۂ انعام 115
۔جو ممکن ہو قرآن پڑھے سورۃ فاتحہ بقرہ کی اول آیت اور آیۃ الکرسی اور امن الرسول اور سورۃ یسین اور ملک اور سورہ تکاثر اور سورہ اخلاص 12 یا 11 یا 7 یا تین دفعہ پھر کہے یا اللہ جو کچھ میں نے پڑھا اس کا ثواب فلاں کو یا فلاں لوگوں کو پہنچا دے ۔ فتاویٰ عزیزیہ صفحہ 75۔میں ہے جس کھانے پر حضرت امام حسنین کی نیاز کریں اس پر کل اور فاتحہ اور درود پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا کھانا بہت اچھا ہے۔
اگر دودھ مالیدہ کسی بزرگ کی فاتحہ کے لئے ایصال ثواب کی نیت سے پکاکر کھلاوے تو جائز ہے کوئی مضائقہ نہیں
اس کے علاوہ بہت ساری دلائل ہے
فتاوی عزیزیہ صفحہ 41
ماخوذ جاءالحق 
ولادت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خوشی میں جشن عیدمیلاد النبی خوشی میں جلو سے مصطفی۔ نکالنا سعادت اور برکت ہے حضور اعلیٰ حضرت عظیم البرکت تحریر فرماتے ہیں
یعنی ذکرِ ولادت شریف کے وقت قیام کرنے کو ان اماموں نے مستحسن فرمایا ہے جو صاحبِ روایت و درایت تھے تو خوشی وشادمانی ہو اسے جس کی نہایت مراد و مقصد حضوراقدس صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہے اور خود مجیب لکھنؤ ی حرمین طیبین کی مجالسِ متبرکہ میں اپنا حاضرو شریك ہونا بیان کرتے اور انھیں مجالس متبرکہ لکھتے ہیں حالانکہ بشہادت مجیب ومشاہدہ تواتر ان مجالس ملائك مآنس کا قیام پر مشتمل ہونا یقینی ، مجیب موصوف اسی جلد فتاوٰی صفحہ٥٢ میں لکھتے ہیں:
مولد شریف کی مجالس میں سورہ والضحٰی سے لے کر آخر تك پڑھتے ہیں ہر سورت کے اختتام پر تکبیر کہتے ہیں راقم الحروف مکہ معظمہ، مدینہ منورہ اور جدّہ میں ان مجالس مبارکہ میں شریك ہوا ہے 
مجموعہ فتاوٰی باب القراءۃ فی الصلوٰۃ قراءۃ فاتحہ خلف الامام مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣/٥٢

فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 569 
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی عفی عنہ گریڈیہ جھارکھنڈ۔الجواب صحیح فقیرمحمد ابراہیم خان امجدی قادری رضوی عفی عنہ بلرام پوری
18/12/2020/جمعہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...