السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسلہ ذیل کے بارے میں اوریو بسکٹ کا استعمال جائز ہے یا ناجائز کیونکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اسمیں حرام اشیاء ملائ جاتی ہے
سائل ۔ آصف جاوید رضوی
گورکھپور یوپی
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
الجواب بعون الملک الوھاب!
اوریوبسکٹ کا کھانا جائز ہے!
ناجائز حرام تب مانا جائے گا جبکہ کوئی حرام اشیاء کی آمیزش ہو اور اسکی صحیح تحقیق ہو،!
ورنہ کسی کے کہنے پر کوئی چیز حرام نہیں ہوجاتی!
فتاویٰ رضویہ سے چند عبارتیں ملاحظہ فرمائیں!
فی کتب الفقھاء من الحنفیۃ والشافعیۃ وغیرھم ولم ارفیہ مخالفا من احد من العلماء اصلا فاذا شك اوظن فی طھارۃ ماء اوطعام وغیرذلك ممالیس بنجس العین فذلك الشےیئ طاھر فی حق الوضوء وحل الاکل وسائر التصرفات وکذا اذاغلب الظن علی نجاستہ الخ اھ ملتقطا،!
حضور اعلی حضرت۔ الحدیقۃ الندیۃ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ ،
حنفی شافعی اور دیگر فقہا کی کتب میں واضح طور پر مذکور ہے میں نے اس میں علما کا اختلاف بالکل نہیں پایا لہذا جب پانی، کھانے یا اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طہارت میں جو نجس عین نہیں ہے شك پیدا ہو تو یہ چیز وضو کے حق میں پاك ہے اور اس کا کھانا بھی جائز، نیز دیگر تصرفات میں استعمال جائز، اسی طرح جب اس کی نجاست کا غالب گمان ہو (یقین نہ ہو تو بھی پاك ہے الخ اھ ملتقطا! فتاویٰ رضویہ ج،4، ۔ 478، آخری صفحہ
اب جبکہ نجس عین ہونا ثابت نہیں تو اوریو بسکٹ کھانا منع نہیں ،
واللہ اعلم بالصواب
فقیر محمد امتیاز قمر امجدی گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا
21جولائی، 2023، بروز جمعہ
الجواب صحیح مفتی محمد اسمعیل خان امجدی گونڈوی یوپی ،
.jpg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں