السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ زید عمرہ کی نیت سے احرام باندھا اور عمرہ مکمل بھی کر لیا اور اب احرام بھی کھول دیا
زید اگر اب کسی دوسرے شخص کے لیے عمرہ کرنا چاہے تو اب احرام باندھا ضروری ہے یا پھر بغیر احرام باندھے طواف کر لے،
مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائے عین نوازش ہوگی
المستفتی
حافظ حکیم معراج احمد رضوی الہ آباد یوپی ،
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
زید عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیا ، اور پھر دوسرا عمرہ کسی شخص کے لیے کرنا چاہتا ہے تو دوبارہ احرام باندھے،
اور دوبارہ احرام باندھنے کے واسطے مسجد عائشہ جانا ضروری ہے یہ جگہ حد حرم کے قریب تین میل کے فاصلے پر واقع ، جو حدود حرم سے باہر ہے ، !
شرح حدیث میں ہے کہ ،،
تنعیم مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر حدود حرم سے باہر جگہ ہے،اب وہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے،عام حجاج وہاں جاکر نفلی عمروں کا احرام باندھتے ہیں،یہ جگہ قریب ترین حد حرم ہے۔یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت اپنا عمرہ چھوڑ دے اور بعد حج اس کی جگہ دوسرا عمرہ یعنی عمرہ قضا کرے۔الخ،،
(مراۃ المناجیح، ج، ٤، رقم الحدیث ١٧١، )
حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، تَنعیم کو کہ مکہ معظمہ سے شمال یعنی مدینہ طیبہ کی طرف تین میل فاصلہ پر ہے، جاؤ وہاں سے عمرہ کا احرام جس طرح اوپر بیان ہوا باندھ کر آؤ اور طواف و سعی حسب دستور کرکے حلق یا تقصیر کرلو عمرہ ہوگیا۔
(بہار شریعت حصہ ششم ،ص، ١١٥٧، مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
فقیر محمد امتیاز قمر امجدی ،
گریڈیہ جھارکھنڈ انڈیا ،
٢٣، جنوری ٢٠٢٣، بروز، سوموار ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں