السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذیل کے مسٔلہ میں کہ اگر کویں میں 2 مورنی مر جائے تو اس کویں کا پانی کا کیا حکم ہوگا اور اس کو پاک کرنے کا طریقہ بھی بتایں مہربانی ہوگی
محمد ارباز راجستھان
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر دو مورنی کنویں میں گر مر گئ کنویں کا سارا پانی نکالا جائے گا مگر ابھی پھولا پھٹ نہیں ہے جب بھی کنویں کا مکمل پانی نکالا جائے گا،!
ہاں ایک مور یہ مورنی گر کر مر جائے جو بکری سے چھوٹا ہو مرغی کے حکم میں ہے ،یعنی، چالیس، ٤٠، سے، ساٹھ،٦٠، ڈول تک نکالا جائے ، چونکہ کبوتر سے چھوٹا ہوتا تو چوہے کے حکم میں ہوتا غور کرنے والی بات ہے کہ جب چھے ٦، چوہے کنویں میں مرجاۓ تو کل پانی نکالا جائے گا یہی شریعت کا حکم، اسی طرح دومورنی یہ دو بلی چھے جو ہے گر کر کنویں میں مرجاۓ تو کل پانی نکالا جائے گا،
حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ،،
جو جانور کبوتر سے چھوٹا ہو حکم میں چوہے کے ہے، اور جو بکری سے چھوٹا ہو مرغی کے حکم میں ہے۔دو چوہے گر کر مر جائیں تو وہی بیس ۲۰ سے تیس ۳۰ ڈول تک نکالا جائے اور تین یا چار یا پانچ ہوں تو چالیس ۴۰ سے ساٹھ ۶۰ تک اور چھ ۶ ہوں تو کُل۔دو ۲ بلّیاں مر جائیں تو سب نکالا جائے۔،
(بہار شریعت حصہ دوم ،ص، ٣٣٩،مکتبۃ المدینہ کراچی)
نوٹ جس کنواں کا چشمہ ٹوٹتا ہی نہیں چاہے کتنا ہی پانی نکالیں ، ایسی صورت میں، حکم یہ ہے کہ پہلے یہ معلوم کرلیں کہ کتنا پانی ہے جتنا ہو وہ سب نکال دیا جائے، نکالتے وقت جتنا زیادہ ہوتا گیا اس کا کچھ اعتبار نہیں
اسی طرح مختلف طریقوں سے پانی نکالا جائے حرج ،،
نہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
فقیر محمد امتیاز قمر امجدی ،
١٦، جنوری ، بروز سوموار ، ٢٠٢٣

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں