مہر شرعی سے مراد ،اور اسکی رقم ؟

شرعی مہر 


 السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ


کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں

مہر شرعی سے کیامراد ہے اور فی زمانہ اسکی کتنی رقم بنتی ہے اگر کوئی شخص مہر شرعی باندھنا چاہے تو کم سے کم کتنا مہر  باندھنا چاہیے جو مہر شرعی ہوجائے

سائل وسیم اختر تحسینی پیلی بھیت

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

 مہر شرعی سے مراد جو احکام شرعیہ سے خالی نہ ہو یعنی کم از کم دس درہم ہے اور زیادہ مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں مہر شرعی میں دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی اس سے کم مہر نہیں ہو سکتا !

سر کار اعلی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان بریلوی رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، مہر شرعی کی کوئی تعداد مقرر نہیں،صرف کمی کی طرف حد معین ہے کہ دس درم یعنی تقرءبقا دو روپے تیرہ آنے سے کم نہ ہوا اور زیادتی کی کوئی حد نہیں،جس قدر باندھا جائے لازم آئے گا۔ اور  حضرت خاتونِ جنّت رضی ﷲتعالٰی عنہا کا مہر اقدس چارسو٤٠٠ مثقال چاندی تھا کہ یہاں کے روپے سے ایک سوساٹھ ۱۶۰ روپے بھر ہے۔،

مہر شرعی جو لوگ یہ سمجھ کر باندھتے ہیں کہ سب سے کم درجے کا مہر جو شریعت میں مقرر ہے تو اس صورت میں دو تولے سات ماشے چار رتی چاندی دینی آئے گی،

(فتاویٰ رضویہ شریف، ج،12، رسالہ باب المہر،)


حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، نکاح میں دس ۱۰ درہم یا اس سے کم مہر باندھا گیا ،تو دس ۱۰ درہم واجب اور زیادہ باندھا ہو تو جو مقرر ہوا   واجب۔

(بہار شریعت ح، ہفتم، ص، ٦٦، مکتبۃ المدینہ کراچی)


البتہ چاندی کا ریٹ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اس لئے قیمت بتانا مشکل ہے جب نکالنا ادا کرنا ہو تو بازار مارکیٹ سے مذکورہ بالا وزن چاندی کا ریٹ معلوم کر کے ادا کر دیا جائے. اس وقت لگ بھگ پورے ملک کے عتبار سے 5000، 4268, 4068، ہے،


شرح حدیث میں ہے ،،

امام اعظم کے ہاں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم کیونکہ دارقطنی نے حضرت جابر سے مرفوعًا روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت کا نکاح ولی کریں،کفو میں کریں،دس درہم سے کم پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں اور دس درہم سے کم مہر نہیں،دار قطنی و بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کی کہ دس درہم سے کم مہر نہیں لہذا دس درہم سے کم کی روایات میں چڑھاوا مراد ہے۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)

(مراۃالمناجیح باب الصداق مہر کا بیان ۱؎ الفصل الاول، ج، 5، ص، 122، حدیث 123)

واللہ اعلم بالصواب

فقیر محمد امتیاز قمر رضوی امجدی حنفی

1/1/2023

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Amjadi group

لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟

  لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں نماز جنازہ کیسے پڑھیں؟ اگر کسی کا لاش ٹکرا ٹکرا ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟  سائل: رونق اختر ثقافی ...